ہر دم یہی لگتا ہے یہ آخری دم ہوگا

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

اک قطرہ اگر ساقی پیمانے سے کم ہوگا

مے خانے میں ہنگامہ اللہ قسم ہوگا


کیا خوب من و تو کا سامان بہم ہوگا

کعبے کے صنم ہوں گے اور میرا صنم ہوگا


اس کاکل پیچاں میں اس عارض سیمیں پر

جاں جائے چلی جائے دل جانے کا غم ہوگا


پینے سے کہیں زیادہ چھلکائیں گے لازم ہے

زہاد کے ہاتھوں میں جب ساغر جم ہوگا


بے کیف مناظر ہیں، چھن جائے نہ بینائی

اے صورت فردوسی کب تیرا کرم ہوگا


تھی خط کے لفافے پر اشکوں کی نمی باقی

کہتا ہے بت کافر برسات کا نم ہوگا


پھر بت ہی سکھائیں گے آداب خداوندی

جب جھوٹے خداؤں سے آباد حرم ہوگا


کرتا ہے بیاں واعظ یوں فاصلہ جنت کا

لگتا ہے کہ مسجد سے دو چار قدم ہوگا


آکر وہ سر محفل پہلو میں اگر بیٹھے

کتنوں کے جلیں گے دل کتنوں پہ ستم ہوگا


ڈھک دیتا ہے مژگاں کو مہمانِ سر بالیں

ہر دم یہی لگتا ہے یہ آخری دم ہوگا


ناصح نے بہت چاہا مانا نہ حسٓن نے کچھ

محشر میں غرض اپنا سر شرم سے خم ہوگا

آپ کے تبصرے

3000