دامن دل پہ سبھی رنگ اتر جاتے ہیں

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

آپ کہتے ہیں تو پھر حد سے گزر جاتے ہیں

ہاں مگر دیکھیے جیتے ہیں کہ مر جاتے ہیں


جن کی قسمت میں خدا ہے نہ صنم ہے کوئی

ہائے وہ لوگ زمانے میں کدھر جاتے ہیں


جو تری یاد بنا گزرے کوئی شام نہیں

سرد موسم میں تو ہم اور بکھر جاتے ہیں


تخلیہ لایا ہے وہ عشرت مصروفئ دل

اب تو فرصت کے خیالوں سے بھی ڈر جاتے ہیں


جن بتوں سے ہوئی پامال وفا کی حرمت

کعبۂ دل میں وہی بار دگر جاتے ہیں


وہ مجھے دیکھ کے ہنستا ہے مگر رکتا نہیں

خواب تعبیر سے ملتے ہی مکر جاتے ہیں


جب ملی ان سے نظر تب ہمیں باور آیا

ابر کو دیکھ کے پیاسے کیوں ٹھہر جاتے ہیں


ہجر کی رات گزرتی ہے بڑی مشکل سے

بس اسی واسطے ہم دیر سے گھر جاتے ہیں


ایک لمحے کی رفاقت بھی میسر نہ ہوئی

شہر سے تیرے صنم خاک بسر جاتے ہیں


خون کا رنگ ہو یا رنگ حنائی ہو حسن

دامن دل پہ سبھی رنگ اتر جاتے ہیں

آپ کے تبصرے

3000