ہر ایک موڑ پہ کوئی تماش گاہ ملی

عبدالکریم شاد شعروسخن

تری نگاہ سے کچھ اس طرح نگاہ ملی

کسی بھٹکتے مسافر کو جیسے راہ ملی


اڑاتے پھرتے رہے خاک سب خرد والے

دیارِ عشق میں مجنوں کو ہی پناہ ملی


ہر ایک طرح سے پہلو بدل کے دیکھ لیا

جہاں خراب ملا زندگی تباہ ملی


کہیں بھی جاؤں کسی بھی طرح سے چھپ جاؤں

تمھاری یاد بہ انداز مہر و ماہ ملی


وہ انجمن نہ رہی اہلِ انجمن نہ رہے

ہر ایک موڑ پہ کوئی تماش گاہ ملی


پتا چلا کہ نصیحت ہے کس قدر آسان

جنابِ شیخ کو جب مہلتِ گناہ ملی


نہ مجھ کو وسعت دنیا کا کچھ سراغ ملا

نہ ان کو دشت نوردی کی کوئی راہ ملی


ہمارے شوق کو اتنی وسیع دنیا میں

ملی تو موت کی آغوش میں پناہ ملی


اُسی سے زیست منور ہوئی ہماری شاد

وہ روشنی جو درونِ دلِ سیاہ ملی

آپ کے تبصرے

3000