کیا تقدیر کا مکتوب ہونا عمل سے روکتا ہے؟

عبدالعلیم عبدالعزیز

قرآن وسنت میں متعدد مقامات پر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اللہ علیم و خبیر ہے، اس کا علم ازلی اور ابدی ہے، کوئی بھی شیء اس کے علم سے باہر نہیں، اس کا علم موجود ومعدوم اور ممکن و مستحیل سب کو محیط ہے، جو کچھ ہوچکا ہے اور جو ہونے والا ہے سب سے باخبر ہے؛ بلکہ جس کا وجود ہی نہیں اگر وہ ہو تو کس طرح ہوگا اس کا بھی علم اللہ تعالیٰ کو ہے، رب کا فرمان ہے:

{عٰلِمِ الۡغَیۡبِ ۚ لَا یَعۡزُبُ عَنۡهُ مِثۡقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ وَ لَاۤ اَصۡغَرُ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرُ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡن} (سبا:3)

غیب جاننے والا ہے اس سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز مخفی نہیں ہے، نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی، مگر وہ ایک واضح کتاب میں مرقوم ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے ان بچوں کے بارے میں پوچھا گیا (جو بلوغت سے پہلے فوت ہوگئے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو بھی وہ عمل کرنے والے تھے۔ (بخاری:1384، مسلم:2659)
امام نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ: “اس حدیث میں اہل حق کے مذہب کا بیان ہے کہ اللہ ان سب چیزوں کو جانتا ہے جو ہوچکا ہے، جو ہونے والا ہےاور جو نہیں ہوگا اگر ہوتا تو کیسے ہوتا”۔ (شرح مسلم للنووی: 16/ 211)
نیز اللہ نے اپنے علم کے مطابق جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے اسے ایک کتاب میں لکھ رکھا ہے، کون بدبختی کی راہ اختیار کرے گا اور کون سعادت کی شاہراہ پر چلے گا سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے، اور اسی کے مطابق اس کا ظہور ہوگا، اللہ کا فرمان ہے:

{وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰهُ فِیۡۤ اِمَامٍ مُّبِیۡنٍ} (یس:12).

“اور ہم نے ہرچیز کو ایک واضح کتاب میں ضبط کر رکھا ہے”۔
ایک دوسری آیت میں فرمایا:

{وَ لَقَدۡ کَتَبۡنَا فِی الزَّبُوۡرِ مِنۡۢ بَعۡدِ الذِّکۡرِ اَنَّ الۡاَرۡضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوۡنَ} (الأنبياء:105)

اور ہم نے ذکر کے بعد زبور میں لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے (ہی) ہوں گے۔
حافظ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: ذکر سے مراد أم الکتاب _لوح محفوظ_ ہے، اور یہ اس آیت کے سلسلے میں سب سے صحیح قول ہے۔ ( شفاء العلیل ص:39)
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

{“كتب الله مقادير الخلائق قبل أن يخلق السماوات والأرض بخمسين ألف سنة، قال : وکان عرشه على الماء “}.(مسلم:2653)

“کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیر لکھی اور اللہ کا عرش پانی پر تھا”۔
اور اللہ نے تقدیر پر ایمان لانے کو واجب قرار دیا کہ یہ ان چھ(6) ارکان ایمان میں سے ایک ہے جس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوسکتا۔ فرمان الہی ہے:

{ وَ کَانَ اَمۡرُ اللّٰہِ قَدَرًا مَّقۡدُوۡرَۨا} (الأحزاب:38)

“اور اللہ تعالٰی کے کام اندازے پر مقرر کیے ہوئے ہیں”۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: “اللہ کے مقدر کردہ امور ہو کر ہی رہتے ہیں، وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا”۔ (تفسیر ابن کثیر 3/ 775)
اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کی وضاحت فرمادی ہے کہ تقدیر پر ایمان ضروری ہے، چنانچہ جب جبریل علیہ السلام نے ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا:

{“أن تؤمن بالله، وملائكته، وكتبه، ورسله، واليوم الآخر، وتؤمن بالقدر، خيره وشره “.}

“ایمان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھو، اور تقدیر کے خیر و شر ہونے پر ایمان رکھو”۔ (مسلم:8)
تو اب ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ عقیدہ -کہ ہر چیز مکتوب ہے اور اس کا ظہور اور وقوع ویسے ہی ہوگا- کیا ہمیں عمل پر ابھارتا ہے، یا سستی و کاہلی کی طرف دعوت دیتا ہے، اس سلسلے میں جب نصوص شرعیہ کا مطالعہ کرتے ہیں، سیرت سلف صالحین کی ورق گردانی کرتے ہیں اور حقیقت پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ذہن و دماغ میں گردش کر رہے سوالوں کے جواب قطار میں صف باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ تقدیر پر ایمان اور عقیدہ عمل پر ابھارنے، چستی و پھرتی دکھلانے اور ہر عمل خیر میں پیش قدمی کا سبب ہے؛ کیونکہ کسی کو اس بات کی خبر نہیں کہ اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہوا ہے، لہذا وہ ہر نیک کام میں پیش پیش رہتا ہے تاکہ اس کا خاتمہ عمل بالخیر پر ہو…
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمارے لیے ہمارے دین کو واضح کریں گویا کہ ہمیں ابھی پیدا کیا گیا ہے، آج ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہے؟ کیا اس سے متعلق جنھیں لکھ کر قلم خشک ہوگیا اور تقدیر جاری ہوچکی ہے، یا اس چیز سے متعلق جو ہمارے سامنے آتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “بلکہ اس سے متعلق جسے لکھ کر قلم خشک ہوگیا اور تقدیر جاری ہوچکی ہے”، تو سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے پوچھا:پھر ہم کیوں عمل کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: “اعملوا فكل ميسر “۔ عمل کرتے رہو، ہر ایک لیے اس کے عمل کو آسان کردیا گیا ہے۔ (مسلم: 2648)
تقدیر کے مکتوب ہونے کی وجہ سے سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہوا کہ اب عمل کی کیا ضرورت ہے جب وہی ہوگا جو تقدیر میں لکھا جاچکا ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت ہی لطیف انداز میں ایمان بالقدر اور عمل میں مجاہدہ کے درمیان توافق کو بیان فرمادیا، اور واضح کردیا کہ تقدیر عمل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا جنتی جہنمیوں سے پہچانے جا چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“، انھوں نے کہا: پھر عامل کیوں عمل کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

” كل يعمل لما خلق له “. أو : ” لما يسر له “.

ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جو اس کے لیے آسان کر دیا گیا ہے۔ (صحیح بخاری:6596)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بندے کو انجام کی خبر نہیں ہے، لہذا اس پر واجب ہے کہ مامورات پر سختی سے عمل پیرا رہے اور مجاہدہ نفس سے کام لے؛ کیونکہ اس کا عمل ہی غالبا اس کے اچھے یا برے انجام کی نشانی ہوتی ہے…… اور تقدیر پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائے ورنہ مامور کے ترک کرنے پر ملامت سے دوچار ہوگا اور سزا کا مستحق بن جائے گا۔ (فتح الباری 11/ 493)
نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی جس سے زمین کرید رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھاکر فرمایا: 

“ما منكم من نفس، إلا وقد علم منزلها من الجنة والنار “۔

تم میں سے ہر ایک کا مقام جنت یا دوزخ میں معلوم ہے، صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر ہم کیوں عمل کریں، کیا اسی پر بھروسہ نہ کرلیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عمل کرو، اس لیے کہ ہر ایک کے لیے انہی کاموں کو آسان بنایا جاتا ہے جس کے لیے اس کی تخلیق کی گئی ہے، اور ان آیتوں کی تلاوت کی:

{فأما من أعطیٰ واتقیٰ وصدق بالحسنیٰ} إلى قوله:{فسنيسره للعسري}

“جس نے (اللہ کی راہ میں) دیا اور (اپنے رب سے) ڈرا، اور نیک بات کی تصدیق کی، تو ہم بھی اس کو آسان راستے کی سہولت دیں گے، لیکن جس نے بخیلی کی اور بے پرواہی برتی، اور نیک بات کو جھٹلایا، تو ہم بھی اس کی تنگی و مشکل کے سامان میسر کر دیں گے”۔ (مسلم:2647)
ان تمام آیات واحادیث سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ تقدیر پر ایمان عمل پر ابھارنے والا، اور اس پر مددگار ہے، یہی وجہ ہے کہ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان احادیث کو سنا تو ان کے عمل کی رفتار میں اضافہ ہوگیا، سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

“فلا أکون أبدا أشد اجتهادا في العمل مني الآن”.

میں اس سے پہلے عمل میں اس قدر محنت اور مجاہدہ نفس نہیں کرتا تھا۔ (موارد الظمآن للھیثمی 6/ 44، “1809”)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! ہمارا عمل کس چیز کے مطابق ہوتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے متعلق جو لکھا جا چکا ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: پھر کیوں عمل کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عمر! اس کو عمل کے ذریعہ ہی پایا جاسکتا ہے۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول_صلی اللہ علیہ وسلم_ پھر ہم خوب عمل کریں گے۔ (موارد الظمآن للھیثمی 6/ 42، “1807” شیخ حسین سلیم اسد الدارانی نے حسن کہا ہے)
یہی نہیں کہ تقدیر پر ایمان صرف عمل خیر کی ترغیب دلاتا اور اس پر ابھارتا ہے بلکہ عمل میں اخلاص اور دل میں خشیت الٰہی پیدا کرتا ہے، کیونکہ جب انسان کو اس بات کا یقین ہوگا کہ عطا کرنے والی اور چھیننے والی ذات صرف رب کی ہے تو وہ کسی کی مدح سرائی اور مذمت کی پرواہ نہیں کرے گا بلکہ ہر کام رب کی خوشنودی اور رضا کے حصول کے لیے انجام دے گا، اس کا عمل ریا کاری سے محفوظ ہوگا، اور دل ہمیشہ رب کے خوف سے معمور ہوگا کیونکہ اسے یہ خبر نہیں کہ کس حالت میں روح پرواز کرجائے، عطاء خفاف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: جب بھی میں نے سفیان ثوری _رحمہ اللہ_ سے ملاقات کی تو آپ کو روتا ہوا ہی پایا، تو میں نے پوچھا: کیا بات ہے _آپ ہمیشہ روتے رہتے ہیں_؟ تو سفیان ثوری رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے اس بات کا خوف لاحق رہتا ہے کہ لوح محفوظ میں مجھے بدبخت لکھ دیا گیا ہو۔ (سیر أعلام النبلاء 7/ 266)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ تقدیر کا مکتوب ہونا عمل پر ابھارتا ہے نہ کہ سستی وکاہلی پر؛ کیونکہ کسی کو اس بات کی خبر نہیں کہ اس کی تقدیر میں کیا لکھا ہوا ہے، ہاں، عمل سے روکنے والا اس وقت ہوتا جب ہر ایک کو اس کی تقدیر کے بارے میں علم ہوتا۔
اللہ ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔ آمین

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
ڈاکٹر عبدالکریم سلفی علیگ

ما شاء اللہ. موضوع اہم ہے بارک اللہ فیک