گلی میں شور بپا ہے کہ پھر سے آئی عید
نشاط و لطف کا سامان ساتھ لائی عید
دلوں سے کرتی ہے ہر داغ کی صفائی عید
سو مومنوں نے بڑے شوق سے منائی عید
یہ روزِ انس و اخوت ہے آ گلے لگ جا
کہ روز روز نہیں آتی میرے بھائی! عید
ہر ایک بچے کے چہرے پہ شادمانی ہے
نہ جانے دیتی ہے کس طرح کی مٹھائی عید
امیر ہو کہ غریب آج سب برابر ہیں
چھپا کے رکھتی ہے لوگوں کی خود نمائی عید
کسے پتا کہ میسر ہو اگلے سال بھی تو
گیارہ ماہ ستائے تری جدائی عید
بہ طور ہدیۂ رمضان شاد ہوں بندے
اس اہتمام سے اللہ نے بنائی عید
سبھی کو ایک ہی دھن ہے کھلانے کھانے کی
نہیں ہے فاصلِ فیاضی و گدائی عید
برس رہی ہیں گھٹائیں فیوض و الفت کی
چہار سمت فضاؤں پہ شاد! چھائی عید
آپ کے تبصرے