کیا توہم پرستی ہماری زندگی کا حصّہ ہے؟

محمد اشرف یاسین عقائد

توہم پرستی اس دنیائے آب و گِل میں تبھی سے پائی جاتی ہے جب سے یہ دنیا بنائی گئی اور توہم پرستی ہر دور میں اپنے چولے بھی بدلتی رہی۔ ابتدائی ادوار میں ہر طرح کے مافوق الفطری عناصر کے لیے مختلف اور الگ الگ توہمات رائج تھیں، لیکن موجودہ دور میں “ننگا بابا” سے لے کر “سوامی چمیانند” تک توہم پرستی کے بہت سارے سربراہ ہیں۔

بڑے بڑے پہاڑ، طوفانی ہوائیں، بجلی کی کڑک، شعلہء آتش فشاں، جھرنے اور آبشار ہر ایک کے بارے میں الگ الگ توہماتی اساطیر (Mith) وضع کرلی گئیں تھیں۔

انسانی تاریخ اور عمرانیات سے معمولی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ اس توہم پرستی نے دنیا کے الگ الگ حصّوں میں کیا کیا گُل کھلائے ہیں؟؟؟ مصری تہذیب کی مشہور علامت “اہرامِ مصر” (ابوالہول) اور موہن جوداڑو کی یادگار میں “گائے” اور “آگ” کا تقدس اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جبکہ مغربی تہذیب وثقافت میں”بوم” (اُلُّو) کی اہمیت سے انکار ناگزیر ہے۔

زمانہ جاہلیت میں بیوہ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا تھا، عِدت کے ایام گزر جانے تک اُنھیں اپنی جسمانی صاف صفائی اور نہانے تک سے ممانعت تھی، پھر عِدت سے نکلنے سے عین قبل ان کی شرمگاہوں سے پرندوں کو رگڑا جاتا تھا چنانچہ اس زہریلی گندگی کی تاب نہ لاکر عموماً پرندے مرجایا کرتے تھے۔ (واضح رہے کہ اُردو ادب کے دو اہم ناولز “ایک چادر میلی سی”: راجندر سنگھ بیدی[1962] اور “اندھیرا پگ”: ثروت خان[2005] کا موضوع بھی یہی ہے۔)

ماضی بعید میں نجد کے قریب واقع شہر درعِیَّہ میں کجھور کے “نر درختوں” کی کنواری لڑکیاں اس بھرم میں عبادت کیا کرتی تھیں کہ اُنھیں بھی اسی درخت کی طرح بالکل سیدھا سادھا شوہر ملے گا، ہمارے یہاں ہندو مت میں شیو جی کی “لِنگ” پوجا اس کی ایک بدلی ہوئی شکل کہی جاسکتی ہے۔

سچ بات تو یہ ہے کہ توہم پرستی ہم ہندوستانیوں کی معمولاتِ زندگی کا جزوِ لاینفک بن چکی ہے، ہماری پیدائش سے لے کر موت تک (زائچہ، جنم کنڈلی، کریہ کرم وغیرہ) ادا کی جانے والی مختلف رسومات کسی نہ کسی طرح اسی توہم پرستی سے تعلق رکھتی ہیں۔

یہ اکیسویں صدی سائنس اور ٹیکنالوجی کی بہتات اور فراوانی والی صدی کہی جاسکتی ہے لیکن اس عہد میں بھی ہم اپنے سماج اور معاشرے میں پائے جانے والے مختلف قسم کے توہمات سے چھٹکارا نہیں حاصل کرسکے ہیں۔

ہندوستانی معاشرے میں توہمات کو فروغ دینے میں سیاسی شخصیات نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔ چند نجومیوں کی یہ بے ہودہ پیشین گوئی کہ “3/فروری 1962ء/ کو ساڑھے پانچ بجے دنیا فنا ہوجائے گی” اس بات کا سبب بنی کہ کئی ٹن گھی”ہون” کرنے میں برباد کردی گئی۔ 1999ء/ میں بھی ایک سرپھرے نے اسی طرح کی ایک لایعنی پیشین گوئی کرکے عوام اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور آج بھی ہمارے حکمراں ہمیں “کرونا” جیسی مہلک بیماری سے لڑنے اور بچنے لیے”شنکھ”، “گھنٹا”، “گھنٹی”، “تالی” اور “تھالی” بجانے کی تلقین کرتے ہیں۔(کرونا کی مدافعت کرنے والے لوگوں کے لیے آبھار وِیکت کرنے کے لیے) اور کمال کی بات یہ بھی ہے کہ ناخواندہ عوام کے علاوہ اچھے خاصے پڑھے لکھے ڈاکٹرز اور دانشور قسم کے لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حالیہ دنوں میں عالمی منظرنامے کے اس عظیم بُحران (معاشی، فضائی اور وبائی) سے بھی ہم کچھ نہیں سیکھنا چاہتے؟؟؟
ألیس منکم رجلٗ رشید !!!

آپ کے تبصرے

3000