جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

حافظ عبدالحسیب عمری مدنی تاریخ و سیرت

مولانا یوسف جمیل جامعی اونچے قد کاٹھ کے ایک خوبصورت، جیدار، سلجھے انسان، منجھے خطیب، شفقت کے پیکر اور جہاندیدہ شخص بلکہ ایک مکمل شخصیت کا نام تھا، آپ کی وفات اپنوں کے لئے ایک بہت ہی زیادہ اپنے کی جدائی کا غم ہے تو امت کے لئے ایک عالم، ایک مدرس، ایک خطیب، ایک ذمہ دار اور ایک شاعر کا نقصان ہے ۔

مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ مجھے

آپ کے نام میں یوسف آپ کی باوقار اورمردانہ وجاہت سے بھرپور شخصیت کا پتہ دیتا ہے تو جمیل آپ کے حسنِ اخلاق کا مظہر ۔۔
جنوبی ہند کے مخصوص ماحول میں میسر امکانات میں جس طرح آپ نے خود کو ابھارا اور اپنی متنوع صلاحیتوں کو نکھارا اور پھر ان متعدد اور متنوع صلاحیتوں کے ذریعے عوامی سطح سے لیکر جمعیت اہل حدیث کی ذمہ داری تک جس طرح قوم و ملت کی خدمت کی ایسی مثالیں خال خال ہی نظر آتی ہیں ۔۔
آج کے بعد آپ جمیل جامعی کو یا تو ان کی اولاد میں دیکھ پائیں گے یا پھر ان کے قطعات میں، لوگوں کے دلوں میں نہ ڈھونڈیں کہ آپ تھک جائیں گے ، کتنوں کے محسن تو کتنوں کے قدردان ، کتنوں کے مربی تو کتنوں کے خیرخواہ ۔۔بعض شخصیات اس قدر ہمہ گیر ہوتی ہیں کہ ان کا احاطہ کوئی ایک تاثراتی تحریر نہیں کرپاتی، جمیل جامعی صاحب ایسی ہی شخصیت کے مالک تھے، سب کی تحریروں میں جھانک لیں شاید ان کے عکسِ جمیل کی جھلک دیکھ پائیں گے یا آپ ذوقِ جمیل کے مالک ہوں تو پھر ان کے اشعار میں ان کے وجود کو محسوس کرلیں گے۔۔

تاثراتی تحریروں میں اکثر ایک روایتی جملہ عام ہے کہ “میں فلاں کی وفات کو اپنا ذاتی خسارہ سمجھتا ہوں” آج اسی جملہ کو مستعار لے کر غیر روایتی انداز میں آپ کو اطلاع دے رہا ہوں کو یہ میرا ذاتی خسارہ ہے اور بہت بڑا خسارہ ہے ، کیوں نہ ہو؟ نفسا نفسی کے اس دور میں آپ اپنا کوئی سچا قدردان کھو دیں جو دستِ شفقت بھی اس قدر مہارت کے ساتھ رکھتا تھا کہ آپ کا خون سوا سیر ہوجائے اور خود آشنا ہوکر بھی آپ خود کے بارے میں ہزار غلط فہمیاں پالنے لگیں تو اسے ذاتی خسارہ نہیں کہیں گے ؟؟ ۔ خوردوں کو نوازنے کی خوئے دلنوا دیکھیں کہ میری تقریر جب بھی سنی بڑے ہی شاندار تبصروں سے نوازا، اکثر کہتے آپ کی تقریر سنتا ہوں تو دل کہتا ہے تقریر ایسی ہوتی ہے ، شہر چترادرگہ کا ایک پروگرام یاد آتا ہے مولانا شریک نہیں تھے لیکن میری تقریر عظمتِ سنت کے عنوان سے کسی کے ذریعے سن لی اور پھر خصوصی طور پر دوسرے دن کال کیا ، دیر تک سراہتے رہے ، الفاظ کیا تھے؟ ایک طرف حسبِ معمول نپے تلے جملوں میں اپنی ذرہ نوازی کا ثبوت دینے والے تو دوسری طرف سنت سے بے انتہا محبت کا پتہ دینے والے۔۔۔۔۔۔
ہم لوگ 1998میں جامعہ دارالسلام عمرآباد میں فضیلت سال آخر میں زیر تعلیم تھے کہ مولوی رفیع عمری کلوری صاحب ایک ترانہ لے کر آئے۔۔ کہنے لگے کرنول والے یوسف جمیل جامعی صاحب کا لکھا ہوا ہے ان کی خواہش ہے جامعہ کی کسی انجمن میں پڑھا جائے ، اس سال انجمن دائرة الأدب کے سالانہ اجلاس میں وہ ترانہ میں نے اپنے دو ساتھیوں عبداللہ مظفر الحسن عمری اور مجاہد احمد خان عمری کی معیت میں پڑھا اور پھر جامعہ کے اس سال کے سالانہ اجلاس میں بھی پڑھا ۔یہ وہی ترانہ ہے جو آج ترانہء اہل حدیث کے نام سے معروف ہے اور اب بھی جماعت و جمعیت کی کئی مجلسوں میں بڑے تزک و احتشام سے پڑھا جاتا ہے ۔۔
شاعر کمال کے تھے سادگی میں پرکاری آپ کی شاعری کی خاص پہچان ہے ، اکثر اپنے قطعات واٹس اپ پر بھیجا کرتے ، میری ہمت افزائی، قدردانی بلکہ ذرہ نوازی یوں بھی کی کہ ایک سے زائد مرتبہ میرے حق میں خاص قطعہ لکھ بھیجا آج افسوس ہے کہ اسے سنبھال کر نہ رکھ سکا۔۔
“ذوقِ جمیل” اور “عکسِ جمیل” کے شاعر کا یہ حق بنتا ہے کہ ان کے بعد ” ذکرِ جمیل” لکھ کر دنیا کو ان کی خدمات سے متعارف کروایا جائے۔
آپ کے تذکرہ کے بغیر نہ صرف جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ ، تاریخی شہر کرنول، جمعیت اہل حدیث جنوبی ہند کی بلکہ جنوبی ہند میں شعر و ادب اور دعوت و تبلیغ کی تاریخ ادھوری ہوگی ۔۔
آپ کی وفات ایک خلا ہے ، ایک عہد کا خاتمہ ہے، ایک سایہ ہے جو کئی سروں سے اٹھ گیا ۔۔

إن العين لتدمع و إن القلب ليحزن ولا نقول إلا ما يرضي ربنا و إنا بفراقك يا يوسف لمحزونون
غفر الله له و أسكنه فسيح جناته آمين۔

آپ کے تبصرے

3000