“تحفظِ سنت” کے یہ دراز سلسلے۔۔۔۔

حافظ عبدالحسیب عمری مدنی ادیان و مسالک

20 دسمبر 2023 بروز بدھ یوپی کے شہر بہرائچ میں جمعیة العلماء اترپردیش کے سکریٹری حضرت حافظ محمد سعید اختر صاحب نوری کی زیر نگرانی ایک پروگرام بعنوان “رد غیر مقلدیت” منعقد ہوا جس کا مقصد خود ان کے اپنے الفاظ میں ” فتنہ غیر مقلدیت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی روک تھام اور قرآن و حدیث کے صحیح مفہوم کو عام کرنا” تھا۔
اس پروگرام نے 2001ء کی ان کانفرنسوں کی یاد تازہ کردی جو تحفظ سنت کے نام پر منعقد کی گئی تھی اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر فروری 2013ء کو ایک اہم مشاورتی اجلاس دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید میں بھی منعقد ہوا، اسی مشاورتی اجلاس میں کی گئی حضرت مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی گفتگو بھی ماضی قریب میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
راقم نے اس وقت(2013 ہی میں) ایک تحریر لکھی تھی۔ بہرائچ کے پروگرام نے اس کی یاد تازہ کردی، قندِ مکرر کے طور پر اسے ہدیہ قارئین کیا جارہا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
13/ فروری 2013ء مطابق 2/ربیع الثانی 1434ھ بروز بدھ دارالعلوم دیوبند میں ایک مشاورتی اجلاس برائے تحفظِ سنت منعقد ہوا۔ جس کے اختتام پر جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق ’’سنت کو جماعت ِغیر مقلدین سے خطرہ درپیش ہے۔ اور یہ جماعت امت کا رابطہ علماء سے منقطع کرنے میں پیہم مصروف ہے۔ لہذا امت کو اس فتنہ سے بچانے کے لیے مذکورہ اجلاس نے 11 تجاویز پر مشتمل اعلامیہ جاری کیا ہے۔ جس میں حکومتِ سعودی عرب سے باقاعدہ شکایت سے لے کر ہندوستانی عوام کو اس فکری گمراہی سے آگاہ کرنے تک سبھی طریقوں کو بروئے کار لانا طے پایا ہے۔‘‘
قارئین کے علم میں شاید یہ بات پہلے سے ہوگی کہ اہل علم کی ایک جماعت کا ماننا ہے کہ اللہ تعالی نے (إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) ترجمہ: بلاشبہ ہم ہی نے اسے اتارا ہے اور بے شک ہمیں اس کی حفاظت کرنے والے ہیں (سورۃ الحجر :9) کے ذریعے قرآن کریم کی حفاظت کا جو ذمہ لیا ہے اس میں خود سنتِ نبوی کے تحفظ کی ضمانت بھی شامل ہے اور محدثین عظام کی وہ کوششیں جو تاریخِ انسانی کا بے مثال کارنامہ ہیں اس ضمانتِ الہی کا مصداق ہیں۔ سنتِ نبوی و شریعتِ مصطفوی اور نبی کے اقوال و افعال اور تقریرات و احوال سبھی کتب ِحدیث کے اس ذخیرہ کی شکل میں موجود و محفوظ ہیں جو امت مسلمہ کا سرمایہ افتخار ہیں۔ اب امت کی ذمہ داری یہ ہے کہ اس محفوظ سنت کو اپنے جملہ معاملات میں قرآن کے ساتھ مصدر تشریعی کی حیثیت سے اس کا حقیقی مقام دے اور ہر اس بات پر قدغن لگائے جو اس کے مقام کے ساتھ کھلواڑ کرے یا اس کی حیثیت کو گھٹائے گویا ضرورت سنت کے تحفظ کے بجائے سنت کے مقام کے تحفظ کی ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ سنت کے نام پر واویلا مچانے والے اور اتباع ِسنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی داعیوں کو جماعتِ غیر مقلدین کے لقب سے نوازنے والے یہ لوگ وہی ہیں جن کے ہاتھ خود سنت کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، مسلک پرستی اور تقلید کے نام پر جس قدر ظلم انھوں نے سنت اور اہلِ سنت پر ڈھائے ہیں تاریخ میں شاید کسی اور کو یہ حصہ نصیب ہوا ہو۔ چاروں فقہی مسالک میں جس قدر حنفی مسلک نے سنت سے بے اعتنائی برتی اس قدر کسی اور نے نہیں برتی۔ سنت کےانہی محافظین کا یہ کردار رہا ہے کہ جب ایک مسئلہ کے حوالے میں حدیث ِرسول پیش کی گئی تو کہا ’’مارا بحدیث چہ کارگر قولِ امام داری بیار‘‘ (ہمارا حدیث سے کیا لینا دینا اگر امام کا قول ہو تو لاؤ)۔ زاہد کوثری اسی طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت کا نام ہے جس نے مسلکی عصبیت اور مذہبی جنون میں نہ صرف یہ کہ احادیث اور علوم الحدیث کے ساتھ کھلواڑ کیا بلکہ جرأت اس حد تک پہنچی کہ مسلک کے دفاع میں جلیل القدر علماء بلکہ صحابی رسول انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخی کرنے سے بھی باز نہ رہ سکے۔ (دیکھیں:التنکیل للمعلمی) اور اپنے انہی ’’بے مثال‘‘ کارناموں کے لیے مجنون أبی حنیفۃ(امام ابو حنیفہ کے دیوانے) کے لقب سے نوازے گئے۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کے ذریعے نیک نامی کے بجائے تعصب کے نتیجے میں جنون ہی ان کا مقدر ہوا۔ تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ مسلکی تعصب کے جنون میں سنت کے ان محافظوں کے ہاتھوں احادیثِ رسول بھی رد و بدل سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ (دیکھیں:الردودلبکرأبوزید) خود دارالعلوم دیوبند کی تاریخ گواہ ہے کہ حدیثِ نبوی کی تدریس کا اہتمام بھی تحریک ِعمل بالحدیث کے ردعمل میں حنفی مذہب کے دفاع کے طور پر ہوا۔ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ جیسی شخصیت کا اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں یہ اعتراف اس بات کا بین ثبوت ہے ’’ہماری عمر کا، ہماری تقریروں کا، ہماری ساری کدو کاوش کا خلاصہ یہ رہا کہ دوسرے مسلکوں پر حنفیت کی ترجیح قائم کر دیں۔ امام ابوحنیفہ کے مسائل کے دلائل تلاش کریں۔ یہ رہا ہے محور ہماری کوششوں کا، تقریروں کا اور علمی زندگی کا۔‘‘ (وحدت امت از مولانا مفتی محمد شفیع:13)
اور یہ اہتمام بھی اکثر حدیث کی “تلاوت” کے درجے تک ہی رہا اور وہ “تلاوت” بھی تبرک کے لیے نہ کہ تفقہ فی الدین کے لیے۔ علامہ رشید رضا مصری نے دارالعلوم دیوبند کی زیارت کی تھی اور وہاں کے دورہ حدیث کا بھی مشاہدہ کیا تھا اور واپس لوٹنے کے بعد یہ تبصرہ کیا تھا: (الطلاب یدورون حول الحدیث ومایدرون ماھو الحدیث) یعنی طلبہ حدیث کے اس دورے میں صرف حدیث کے اطراف چکر لگاتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ حدیث میں کیا بات بتلائی گئی ہے۔ یہ اور اس جیسے اور کتنے ہی تاریخ کے تاریک اوراق میں درج ’’روشن کارنامے‘‘ تحفظِ سنت کے اس دعوے کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہیں بقول شخصے
رمتني بدائھاوانسلت
ہم الزام ان کو دیتے تھے قصور اپنا نکل آیا
ائمہ أربعہ میں سے بقیہ تین کے مقابلے میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا شمار اہل الرائے کے مدرسے میں ہوتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سنت کے یہ محافظین اگر سنت کے تئیں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے کردار کو ہی اپنا لیں تو شاید سنت خود بخود محفوظ ہو جائے۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مذکورہ مشاورتی اجلاس میں پھر یہ کس سنت کے تحفظ کی بات ہو رہی ہے؟؟؟ اور کس خطرے سے اس کی حفاظت کی جا رہی ہے؟؟ حقیقت یہ ہے کہ یہاں حدیث ِرسول کا تحفظ مقصود نہیں بلکہ سنت کی اصطلاح کی آڑ میں پھر وہی مسلک پرستی کی تعلیم عام کرنا ہے۔ یہ مسلک بچاؤ تحریک ہے۔ بقول شاعر
شراب کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
یہ کوشش دراصل دعوتِ عمل بالحدیث کی ہلکی پھوار سے ہوش میں آتے مستوں کو پھر سے مخمور کرنے کی سعیِ پیہم ہے، پھر سے وہی نشہ طاری کرنے کا ایک نیا عزمِ مصمم ہے۔ ان احباب کی نظر میں سنت حدیث کا ہم معنی لفظ نہیں ہے سنت کا اپنا ایک خاص مفہوم ہے جو نہ حدیث کا ہم معنی ہے اور نہ ہی عقدی اصطلاح میں سنت کا ہم معنی ہے۔ ان کے مطابق حدیث پر براہ راست عمل جائز نہیں ہے، عمل تو سنت پر ہوتا ہے حدیث ہر وہ بات یا کام ہے جس کی نسبت نبی کی طرف کی جائے لیکن نبی کی طرف منسوب کی جانے والی باتوں میں بہت سی ایسی باتیں ہوتی ہیں جو یا تو منسوخ ہوتی ہیں یا نبی کے ساتھ خاص ہوتی ہیں یا ان کا خاص مفہوم مراد ہوتا ہے اس لیے ہر حدیث پر عمل نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح عمل بالحدیث کی طرف دعوت دینا ایک گمراہی ہے البتہ جس حدیث پر کسی مسلک کی مہر لگ جائے وہ قابلِ عمل ہوتی ہے حدیث بذاتِ خود قابل عمل نہیں ہوتی۔ مسلک یہ طے کرتے ہیں کہ کس حدیث پر عمل ہونا چاہیے اور کس پر نہیں اور جس حدیث پر مسلک کی مہر لگے وہی ’’سنت‘‘ ہے۔علامہ جمال الدین القاسمی رحمہ اللہ نے اس فکر کا خوب خوب تیا پانچا کیا ہے۔ (قواعدالتحدیث للقاسمي)
سر دست یہ سمجھ لیں کہ سنت نبوی سے ان کی مراد حدیث نبوی کا حنفی ایڈیشن ہے اور اسی معنی میں وہ اہل سنت بھی ہیں بنا بریں مسلک اہل حدیث کے حاملین کو خوارج کا لقب دینے میں کوئی جھجک بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ اور بعض عوامی مجلسوں اور نجی محفلوں میں قادیانی قرار دینے میں بھی عار محسوس نہیں کیا جاتا۔ (ولایجرمنکم شنآن قوم علی ألاتعدلوااعدلوا ھوأقرب للتقوی واتقواللہ إن اللہ خبیر بما تعملون) ترجمہ: اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس حد تک نہ لے جائے کہ تم انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھو انصاف کرو وہ تقوی سے زیادہ قریب تر بات ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بلا شبہ اللہ خبر رکھتا ہے ان تمام باتوں کی جو تم کرتے ہو۔ (سورۃ المائدۃ:8)
ہماری سمجھ میں یہ بات آج تک نہ آ سکی کہ ان’’ اہل سنت‘‘ کی ’’سنت‘‘ میں وحدت الوجود جیسا کفریہ عقیدہ سما جاتا ہے بلکہ ایسا عقیدہ رکھنے والے بعض حضرات ان اہل سنت کے امام شمار ہوتے ہیں لیکن مسلکِ اہلِ حدیث کے علمبردار سنت کو اس کا حقیقی مقام دینے اور ائمہ کے احترام کے ساتھ ہی ان کے اقوال پر حدیث ِرسول کی بالادستی کو تسلیم کرنے کی دعوت دیتے ہیں تو ’’سنت‘‘ کے دشمن قرار پاتے ہیں اور اہل سنت سے خارج قرار دیے جاتے ہیں، اس دوہرے معیار کے بعد بھی اجلاس کے اختتام پر جاری کردہ تجاویز میں دعوی یہ ہے کہ ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امت مسلمہ کے لیے راہِ ہدایت اہل السنۃ والجماعۃ کا وہ راستہ ہے جسے حدیث شریف میں ما أنا علیہ وأصحابی کے جامع الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے حضرات ائمہ مجتہدین کی بیان کردہ تفصیلات کی روشنی میں(؟؟؟) کتاب و سنت پر عمل کرنا اور ائمہ و اسلاف کے راستے پر مضبوطی سے کاربند رہنا، جسے ہر دور میں امت کے سوادِ اعظم نے اختیار کیا اور جس کی نمائندگی پوری جامعیت کے ساتھ اس دور میں حضرات اکابر ِدیوبند کے ذریعے ہوتی ہے۔‘‘ (تجاویز مشاورتی اجلاس)
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں

مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

معاملہ کا مذکورہ پہلو شاید ایک نظریاتی پہلو ہوتا اور اس پر کچھ کہنے لکھنے کی ضرورت نہ ہوتی کہ تاریخ اس جیسے’’ مشاورتی اجلاسوں‘‘ سے بھری پڑی ہے لیکن اس معاملے کا جو دوسرا رخ ہے وہ بہت خوفناک ہے۔ 2‘3 مئی 2001ء میں جناب اسعد مدنی صاحب نے جب پہلی مرتبہ دہلی میں تحفظِ سنت کانفرنس منعقد کی تو تقریبا 30 کتابوں کا ایک مکمل سیٹ تمام شریکِ اجلاس علماء اور مفتی حضرات کے درمیان تقسیم کیا جس میں اکثر کتابیں مسلک اہل حدیث کے رد میں تھیں پھر کیا تھا دیکھتے ہی دیکھتے ایسا لگا جیسے ان کے تنِ مردہ میں کسی نے جان پھونک دی ہو۔ شمالی ہند کی تو خبر نہیں لیکن جنوبی ہند بالخصوص کرناٹک وآندھرا میں جمعیت العلماء کے جیالوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے اور جس سطح پر اتر کر ’’سنت‘‘ کا تحفظ کیا اسے تاریخ شاید اپنے سیاہ صفحات میں بھی جگہ دیتے ہوئے شرمائے۔ مدن پلی آندھرا پردیش میں اہل حدیثوں کے ذریعے نو تعمیر شدہ مسجد دارالسلام ڈھا دی گئی۔ آندھرا ہی کے ایک اور شہر گنٹور میں مسلک اہل حدیث کے لوگوں کی جانب سے نو تعمیر شدہ مسجد گرا دی گئی پھر ان لوگوں نے قانونی چارہ جوئی کے ذریعے مسجد تعمیر کرلی تو ماضی قریب میں اسی مسجد کے سامنے منعقد ہونے جا رہے ایک پروگرام میں لوگوں کی ایک بھیڑ پہنچ گئی اور مسجد پر تالا لگا دیا‘‘۔ آندھرا پردیش ہی کے پرکاشم ضلعے کے ایک قصبہ پودلی میں مسجد کی تعمیر کی کوشش کی گئی تو وہاں بھی مسائل پیدا کیے گئے نوبت مارپیٹ تک آئی اور اسی ضلع کے ایک اور قصبے کنگری میں مسجد کی تعمیر کا پروگرام بنا تو یہی لوگ اپنے لاؤ لشکر کے علاوہ پولیس کے ساتھ آدھمکے اور دھمکیاں دیں۔ کرناٹک کے ضلع چکبالا پور کے ایک قصبہ باگے پلی میں مسلک اہل حدیث کے متبعین نے مسجد تعمیر کرنی چاہی تو وہاں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ پولیس اسٹیشن میں کچھ افراد کے خلاف یہ شکایت درج کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ لوگ عورتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے والے لوگ ہیں اور جب اس مقصد میں کامیابی نہ ملی تو متعدد لوگوں کو مارا پیٹا اور الٹا انہی کے خلاف مظلوم بن کر پولیس میں شکایت درج کروا دی۔ ایسے اور نہ جانے کتنے معاملات ہیں۔
’’سنت‘‘ کے تحفظ کے لیے مساجد گرانے یا ان کو آباد ہونے سے روکنے کی اس ’’سنت‘‘ کے علاوہ مختلف مقامات پر غنڈوں کے ذریعے یا غنڈہ گردی کے ذریعے دھونس جمانے کے جو واقعات ہیں سو الگ۔ واضح رہے کہ مسلکی اختلاف کی بنیاد پر کبھی کبھار لوگوں کا آپس میں ٹکرا جانا اس ملک ہندوستان کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن یہاں جو واقعات بیان کیے گئے ہیں وہ بلا اشتعال یک طرفہ کاروائیاں ہیں اور ان سیاہ کاریوں کی اس فہرست کا ایک نمونہ ہیں جن کو جمعیت العلماء نے اپنے “معصوم” و غیر معصوم مفتیوں کی رہنمائی میں یا ان کے اشارے پر ایک مشن کے طور پر انجام دیا ہے(ظلمات بعضھا فوق بعض۔۔۔۔۔۔)
بہت سے لوگوں کے لیے اس مسئلہ کا ایک حیرت انگیز پہلو یہ بھی تھا کہ تحفظِ سنت کے نام پر یہ ساری کاروائیاں اب تک جمعیت علماء انجام دیتی آئی ہے اور جمعیت علماء کی یہ تاریخ ہے کہ اس جمعیت کو مختلف مسالک کے علماء نے ملتِ اسلامیہ ہند کے مشترکہ پلیٹ فارم کی حیثیت سے قائم کیا تھا (جس میں خود مسلک اہل حدیث کے ترجمان عالم ِدین مولانا ثنا اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے مرکزی کردار ادا کیا تھا) اس جمعیت کا یہ ملی کردار ہی ختم کر دیا گیا اور اسے ایک ہی مسلک کا ترجمان بنا دیا گیا اور عملا ایک ہی خاندان کا تسلط اس پر قائم ہوگیا اور ملی مقاصد کے ساتھ ساتھ مسلکی مقاصد کی تکمیل کے لیے اس کو استعمال کیا جانے لگا۔ جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ان سے مذکورہ بالا قسم کی کاروائیوں کی توقع کی ہی جا سکتی ہے مگر حیرت ہے دارالعلوم دیوبند کے اکابرین پر کہ اس مشن کی سرپرستی کرنا انھوں نے کیسے منظور کر لیا؟ اور کیسے مسجد رشید میں باقاعدہ یہ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا؟ کیا سنت کے ان محافظوں نے توبہ کر لی؟یا اکابرین کو جمعیت العلماء کی چھتر چھایہ میں انجام پانے والے ان کارناموں کی خبر نہیں؟ یا پھر اکابرین یہ سند دے رہے ہیں کہ مذکورہ بالا حرکتیں سب بجا تھیں؟یا پھر ہم ہی خوش فہمی کا شکار تھے؟ قوم کے عقلمند، قوم کے نادانوں کے ہاتھ پکڑنے کے بجائے انھیں شہہ دینے پر آجائیں تو پھر اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دلائل کی روشنی میں اپنی بات کہنے یا اپنے موقف کو واضح کرنے اور دوسرے کے موقف کی تردید کرنے کا حق سبھی کو حاصل ہے لیکن اکثریت اور سوادِ اعظم کے زعمِ باطل میں کسی بھی حرکت کے لیے سند ِجواز فراہم کر لینا نہ شرعا درست ہے اور نہ قانونا۔ دلی کے اسٹیجوں سے اتحاد امت کا نعرہ لگانا اور پھر دیوبند یا کسی اور مقام پر بیٹھ کر ایسے مشاورتی اجلاس طلب کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟؟؟ اور یہ کیسا تضاد ہے؟؟ امت کے وہ احباب جو اتحاد امت کے تئیں فکر مند ہی نہیں بلکہ ہر دم کوشاں بھی رہتے ہیں اس صورتحال میں شاید یہ مشورہ دیں کہ امت کے وسیع تر مفاد میں اس معاملہ کو نظر انداز کر دیا جائے لیکن صورتحال ہی کچھ ایسی ہے کہ ہوش مند انسان بھی زبان حال سے یہ کہنے پر مجبور ہے۔
ان کے بے حجاب ہونے تک
ہم بھی شامل تھے ہوش والوں میں
ہاں اتنا یقین ہے کہ اللہ کے بعد یہی یقین متبعین ِسنت کا سہارا ہے کہ جب تک نیتوں میں اخلاص ہو، شریعت کے احکام کی پاسداری ہو اور پیہم جدوجہد کا ایک جذبہ اور جہدِ مسلسل کا ایک دریا دلوں میں موجزن ہو تو ایسے سارے مشورے اور مشاورت دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ واللہ متم نورہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

3
آپ کے تبصرے

3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
محمدثوبان بیگ

اللہ رب العزت علمائے ربانیین کی حفاظت فرمائے۔آمین

عبدالحكيم بن عبدالرحمن عمري

جزاكم الله خيرا على التوضيح شيخنا

Nayeem Akhtar

ما شاء الله ممتاز