کتنے جنگل کو میں نے شہر کر دیا
سینہ دھرتی کا چیرا نہر کر دیا
اور پہاڑوں کو کاٹا ڈگر کر دیا
ندّی نالوں پہ بھی رہ گزر کر دیا
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
آڑی ترچھی لکیروں کو تصویر دی
کتنے دھندلے خیالوں کو تنویر دی
خواب کوئی بُنے میں نے تعبیر دی
تاج جیسی حسیں میں نے تعمیر دی
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
آسماں چومتے جو محلّات ہیں
قمقموں سے سجے جو خرابات ہیں
زندگی رولتے یہ جو باغات ہیں
میری محنت کی ساری کرامات ہیں
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
وہ بسیں ہوں یا ہوں ریل کی بوگیاں
شاہراہیں ہوں یا ریل کی پٹریاں
بکھرے باغات ہوں پھیلی شادابیاں
میرے ہاتھوں اُگی ہیں یہ سب کھیتیاں
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
کتنے صحرا کو گلزار میں نے کیا
کتنے اوسر کو ہموار میں نے کیا
کتنے بنجر کو سرشار میں نے کیا
کتنے جنگل کو بازار میں نے کیا
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
خوں پسینہ بہایا چمن کے لیے
بھٹکا بھٹکا پھرا ہوں وطن کے لیے
کیا ملا پھر مجھے جان و تن کے لیے
اب تو لالے پڑے ہیں کفن کے لیے
ہاں میں مزدوہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
جس محل کو سنوارا ہمارا نہیں
شاہراہوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
اب ٹرینوں کا کچھ بھی سہارا نہیں
اور فضاؤں میں اڑنے کا یارا نہیں
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
قہر توڑا گیا ظلم ڈھایا گیا
در بدر میں ہوا اور رلایا گیا
ہر طرح سے مجھے ہی ستایا گیا
اف یہ کس موڑ تک مجھ کو لایا گیا
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
آبلہ پا چلا پا پیادہ چلا
بستی بستی چلا جادہ جادہ چلا
چھپتے چھپتے چلا بھاگا بھاگا چلا
اپنے کاندھوں پہ لے کے اثاثہ چلا
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
میری غربت مرا جرم کیوں ہو گئی
صبحِ پُر نور بے نور کیوں ہو گئی
مجھ سے سرکار بیزار کیوں ہو گئی
میری جمہوریت بھی کہاں سو گئی
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
پیر و مجبور پہ کچھ رحم تو کرو
ماں کے لختِ جگر پہ کرم تو کرو
بیوہ مزدور پہ چشم نم تو کرو
بے سہارا ہوں میں کوئی غم تو کرو
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
بات میری کوئی سننے والا نہیں
جس سے کہرام ہو میرا نالہ نہیں
بھوک سے جاں بلب ہوں نوالہ نہیں
مَن کی باتوں میں میرا حوالہ نہیں
ہاں میں مزدور ہوں ہاں میں مزدور ہوں
کل بھی مجبور تھا اب بھی مجبور ہوں
آپ کے تبصرے