اہل زبان و صاحب دستار چپ رہیں

سراج عالم زخمی شعروسخن

اہل زبان و صاحب دستار چپ رہیں

محو کلام ہم ہیں کلہدار چپ رہیں


بولیں گے صرف اہل جنوں بارگاہ میں

دربار عشق ہے یہاں ہوشیار چپ رہیں


ہم خود ہی اپنا دام بتائیں گے سوچ کر

یہ شہر دل ہے اس میں خریدار چپ رہیں


بربادیوں پہ میرے کوئی تبصرہ نہ ہو

سب چارہ ساز چپ رہیں غمخوار چپ رہیں


مجرم بنا دیا مجھے دے کر صفائیاں

للٰہ اب تو میرے طرفدار چپ رہیں


جی بھر کے پہلے زخم کے تحفے عطا ہوئے

پھر حکم یہ ہوا ہے کہ بیمار چپ رہیں


کیسے بھلا چھپائے کوئی ماجرائے دل

آنکھیں نہ بولتی ہوں تو سو بار چپ رہیں


اتنا کرم تو حال پہ کر دیجئے حضور

سچ بولنا نہیں ہے تو سرکار چپ رہیں


زخمی یہ میری موت کوئی سانحہ نہیں

کہہ دو نہ روئیں میرے عزادار چپ رہیں

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
سحر محمود

بہت عمدہ