“بنو امیہ” طعنِ صحابہ کا ایک معاصر رمز

حافظ عبدالحسیب عمری مدنی ادیان و مسالک

موجودہ دور کے بعض واقعات کو دیکھتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ شریعت اسلامیہ کی روشنی میں تاریخ اسلام کی دو حقیقتوں کا عصر حاضر میں تذکرہ علمی دلائل اور حوالوں کے ساتھ مکرر ہوتا رہنا چاہئے۔
(1) آل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شایان شان محبت اور اہل بیت کے دشمن نواصب سے براءت اہل سنت کے متفقہ اصولوں میں سے ایک ہے جو اہل سنت کے نزدیک مفصل، مدلل اور مبرہن ہے جس میں مزید کسی جدت کی ضرورت نہیں۔
(2) اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری جماعت میں ایک بھی ایسے نہ تھے جو ناصبی تو کجا آل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی سے آل بیت کی حیثیت سے کسی قسم کی رنجش یا ناراضگی دل میں رکھتے ہوں۔

اہل سنت کے نزدیک یہ دو مسلمہ حقیقتیں ایسی ہیں جن پر تاریخی شواہد بکثرت ملتے ہیں۔

اس بات کے بھی متعدد شواہد موجود ہیں کہ بعض صحابہ (اہل بیت و غیر اہل بیت) کے درمیان فقہی یا سیاسی اختلاف اور اسی تناظر میں رد و قدح کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے ایمان اور نیک نیتی کے قائل تھے۔

عصر حاضر میں یہ دیکھا جارہا ہے کہ بعض لوگ آل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کے نام پر “بنو امیہ” کے “جرائم” کے تذکرہ اور ان سے براءت کو اپنا مشغلہ بنائے ہوئے ہیں اور یہ باور کروانے میں لگے ہیں کہ یہی دراصل حبِ آل بیت کا طریقہ ہے، اور ایسا نہ کرنا ناصبیت ہے۔

لیکن وہ لوگ بنوامیہ کے نام پر درپردہ صحابہ کو نشانہ پر رکھے ہوئے ہیں، رافضیوں کی طرح صراحت کے ساتھ صحابہ کرام کو آل بیت کے فریق اور مخالف بتلاکر ان کے مد مقابل کھڑا کر نہیں سکتے تو بنو امیہ کے نام کو بطور علامت استعمال کرتے ہیں۔ یہ لوگ دوہری غلط فہمی کا شکار ہیں یا دوہرے مغالطے سے کام لیتے ہیں۔
(1) ایک مغالطہ یہ کہ وہ حبِ آل بیت کے تقاضے کے طور پر ان کے “مخالفین” پر طعن و تشنیع کررہے ہیں۔
(2) دوسرا مغالطہ یہ کہ وہ “بنوامیہ” کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سیاسی اختلاف اور اسی تناظر میں آپسی رد و قدح کی وجہ سے حضرت معاویہ اور عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان مدعیانِ حبِ آل بیت کے نشانہ پر ہیں۔ مگر انہوں نے بڑی چالاکی کے ساتھ ان کی صحابہ والی شناخت کے بجائے ان کی خاندانی شناخت بنوامیہ کے رمز کو سہارا بنایا ہوا ہے۔

ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ علی رضی اللہ عنہ کی تائید کے جذبے میں ان صحابہ کے باہم اختلاف کی نوعیت کو سمجھے بنا اور خود ان صحابہ کی نظر میں ان اختلافات کی حیثیت کو جانے بنا اور اہل سنت کے محقَّق اور علمی موقف کو پہچانے بنا جن خودساختہ بنیادوں پر وہ معاویہ و عمرو بن عاص -رضی اللہ عنہم اجمعین- وغیرہ کی جرح کررہے ہیں۔اور بعض روایتوں کی شخصی فہم اور ذاتی توجیہ و تشریح کی بنیاد پر انہیں متہم کرتے اور انہیں دشمنان آل بیت میں سے تصور کرتے ہیں کل اگر کوئی انہی بنیادوں پر دیگر صحابہ کو بھی تولنا چاہے تو ہو بہو یہی اتہام و الزام اصحابِ جمل عائشہ وطلحہ و زبیر -رضی اللہ عنہم اجمعین- پر بھی لگ سکتے ہیں۔ جو کہ زبان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے مبشرین بالجنة میں سے ہیں۔

پھر اگر کوئی اہل جمل اور اہل صفین میں فرق کرنے کی بات کرے تو یہ اس کا دوہرا معیار یا دوغلاپن قرار پائیگا کیونکہ دونوں کا موقف ایک تھا فرق صرف یہ ہوا کہ اہل جمل کو شکست ہوئی اور صفین میں معاملہ برابری پر رک گیا۔

اور اگر کوئی یہ جرأت کرے کہ ہاں اہل جمل اور اہل صفین دونوں میں کوئی فرق نہیں تو پھر یہی رافضیت ہے۔

اور جب آدمی اس نتیجہ تک پہونچ جائے تو پھر یہ بات مزید آگے بڑھتی ہے اور مقام رسالت پر بالواسطہ جرح و قدح تک پہنچتی ہے بلکہ اور آگے بڑھے تو زبانِ رسالت کی تردید یا تکذیب تک جا پہنچتی ہے۔
یہاں ایک مقدمہ پر دوسرا مقدمہ بنتا ہے۔ اسی لئے جو جرح صحابہ -چاہے کسی ایک صحابی کی- اس راہ پر چلے منطقی طور پر جلد یا بدیر اسے رافضی انجام تک پہونچنا پڑے گا۔

اسی منطقی انجام کا تذکرہ شیعی عالم نعمة الله الجزائري (1112ھ) نے بڑی جرات کے ساتھ کیا ہے اور لکھا ہے:
(إنا لا نجتمع معهم – أي أهل السنة- على إله ولا على نبي ولا على إمام وذلك أنهم يقولون أن ربهم الذي كان محمد نبيه وخليفته بعده أبو بكر – ونحن نقول لا نقول بذلك الرب ولا بذلك النبي بل نقول إن الرب الذي خلق خليفة نبيه أبو بكر ليس ربنا ولا ذلك النبي نبينا)

ہم اہل سنت کے ساتھ کسی بنیادی نکتہ پر متفق نہیں ہیں نہ معبود، نہ نبی، نہ امام۔ کیونکہ اہل سنت کا یہ کہنا ہے کہ ان کا رب جس کے نبی محمد تھے ان کا خلیفہ اور جانشین ابوبکر تھا۔ ہم نہ اس رب کے قائل ہیں نہ اس نبی کے۔
ہمارا کہنا یہ ہے کہ جس رب نے ابوبکر کو اپنے نبی کا خلیفہ بناکر پیدا کیا نہ وہ رب ہمارا رب ہے اور نہ وہ نبی ہمارا نبی ہے۔
(الأنوار النعمانية في الجزء الثاني صفحة 278.)

یہ وہ منطقی انجام ہے جس تک جرح صحابہ کے یہ رافضی اصول پہونچاکر چھوڑتے ہیں۔ اسی لئے اگر کوئی اس راہ کی آخری منزل تک نہیں پہونچنا چاہتا اور اس کے منطقی انجام اور نتیجہ سے بچنا چاہتا ہے تو اسے پہلے مقدمہ پر ہی رک کر اپنا بیانیہ درست کرلینا چاہئے اور اس کا جائزہ لے لینا چاہئے۔

یہ سلف صالحین کی فقہ، سمجھ اور دور اندیشی تھی کہ وہ اس طرز فکر کے نقصان سے آگاہ تھے جو غلط ہونے کے ساتھ ساتھ دوررس نتائج کی حامل تھی ۔
وہ بخوبی جانتے تھے کہ نام چاہے جو دیں اور بنیاد چاہے جس مسئلہ کو بنائیں معاویہ رضی اللہ عنہ سے ہونے والے اس آغاز کا انجام کبھی اچھا نہیں ہوسکتا۔

تم نے بھی سُنی ہوگی بڑی عام کہاوت ہے
انجام کا جو ہو خطرہ، آغاز بدل ڈالو

یہ دیکھیں، افراد الگ ہیں تعبیر جدا ہے اور سیاق مختلف مگر سب کا تفقہ ایک ہے ۔ سب کے سب اس آغاز پر ٹوک رہے ہیں جس کا انجام وہ اپنی دوربین نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں:

(1)خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد (1/209) میں ربیع بن نافع(241ھ) کا یہ قول نقل کیا ہے:
(معاوية بن أبي سفيان ستر أصحاب النبي (صلى الله عليه وسلم) فإذا كشف الرجل الستر اجترأ على ما وراءه)
“معاویہ بن ابی سفیان صحابہ کا پردہ ہیں جو پردہ چاک کرے گا وہ پردے کے پیچھے والوں کے حق میں بھی جرئ ہوگا۔”

(2) عبد الله بن مبارك فرماتے ہیں:
(معاوية عندنا محنة فمن رأيناه ينظر إلى معاوية شزرا اتهمناه على القوم أعني على أصحاب محمد (صلى الله عليه وسلم)۔
“معاویہ ہمارے نزدیک (حبِّ صحابہ) کا معیار ہیں، جس کسی کو ان کی طرف ترچھی نظر سے دیکھتے ہوئے پائیں گے ہم سارے صحابہ کے معاملہ میں اسے متہم کریں گے۔” (البداية والنهاية 8/139 )

(3) وكيع بن جراح فرماتے ہیں:
(معاوية بمنزلة حلقة الباب من حركه اتهمناه على من فوقه).
“معاویہ دروازے کی کنڈی کی طرح ہیں، جس کو اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتے دیکھیں گے ہم (اس کو چور ہی سمجھیں گے) سارے صحابہ کے معاملہ میں اسے متہم کریں گے”. (تاریخ دمشق 59/210)

(4)امام احمد بن حنبل سے پوچھا گیا:
(سئل عن رجل انتقص معاوية وعمرو بن العاص أيقال له رافضي؟ قال:إنه لم يجترئ عليهما إلا وله خبيئة سوء)
“امام احمد سے پوچھا گیا ایک شخص ہے جو معاویہ و عمرو بن عاص کی تنقیص کرتا ہے (ان کی حیثیت گھٹانے کی کوشش کرتا ہے) کیا ایسے شخص کو رافضی کہیں گے؟
امام احمد نے جواب دیا: ان دونوں کے معاملے میں جرأت وہی کرے گا جس کے دل میں کھوٹ ہوگا۔” (السنة للخلال 1/447)
(امام احمد کے اس جواب میں یہ پہلو بھی صاف ہے کہ یہ طرز فکر حب آل بیت کے اظہار کا طریقہ اور اس کی جانچ اور پرکھ کامعیار نہیں ہے)

اسی لئے جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم “صحابہ” پر نہیں صرف معاویہ و عمرو بن عاص پر بات کرتے ہیں۔
وہ ایسے لوگ ہیں جنہیں نہ رافضیوں کی جاہلانہ و ظالمانہ جرأت نصیب ہوئی اور نہ سلف صالحین کی عالمانہ بصیرت۔
مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا.
“بیچ میں ڈگمگارہے ہیں نہ اِدھر کے نہ اُدھر کے اور جسے اللہ گمراہ کرے تو اس کے لیے کوئی راہ نہ پائے گا” (سورة النساء: ١٤٣)

لہذا جو شخص ان اختلافات کو آل بیت اور بعض اصحاب رسول بنام بنو امیہ کے باہمی ٹکراؤ کی نظر سے دیکھنا اور باور کروانا چاہتا ہے اس کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ جانے انجانے رافضی فکر کی ترویج میں لگا ہے۔

اللهم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعه وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه.. آمين

حضرت معاویہ رضی الله عنہ کا مقام و مرتبہ 1
حضرت معاویہ رضی الله عنہ کا مقام و مرتبہ 2

حضرت معاویہ رضی الله عنہ کا مقام و مرتبہ 3

سلف صالحین کے اقوال حضرت معاویہ رضی الله عنہ کے متعلق

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
مطرف بن خالد

بارك الله فيكم ونفع بكم الإسلام والمسلمين يا شيخنا