پیمبر نہ ہو سکے

سراج عالم زخمی شعروسخن

اب تک حصار ذات سے باہر نہ ہو سکے

آنکھوں کے خواب دید کے منظر نہ ہو سکے


توڑے بغیر سنگ تراشے نہ جائیں گے

وہ دل ہی کیا جو ٹوٹ کے پتھر نہ ہو سکے


اے غم بتا کہ ہم سے ترا واسطہ ہے کیا؟

ہم تجھ سے دور واقعی پل بھر نہ ہو سکے


آنکھیں وہ ٹوٹ ٹوٹ کے برسی ہیں ہجر میں

صحرا تھے ہم کہ اب بھی سمندر نہ ہو سکے


کیا ہمسری کی ہم سے تمنا کرے کوئی

ہم خود بھی اپنے قد کے برابر نہ ہو سکے


ہجرت، معاش، درد، محبت، وفا، فراق

کچھ ایسے معرکے تھے کبھی سر نہ ہو سکے


وہ ساتھ تھا تو ساتھ رہی کائنات بھی

بچھڑے تو پھر کسی کو میسر نہ ہو سکے


مانا کہ زندگی میں تھے غم اور بھی کئی

لیکن غم فراق سے بہتر نہ ہو سکے


پیری میں چل پڑے ہیں خدا ڈھونڈنے سراجؔ

جب تک تھے طور پر تو پیمبر نہ ہو سکے

آپ کے تبصرے

3000