وہ داستاں ہو جائے

سراج عالم زخمی شعروسخن

جگر کو آگ لگے یا دھواں دھواں ہو جائے

کسی طرح سے ترا غم یہاں وہاں ہو جائے


میں اس لیے بھی اسے آج تک نہیں بھولا

میں چاہتا ہوں کہ وہ شخص داستاں ہو جائے


ذرا سی خاک ہوں پرواز ہے ثریا تک

مرے خلاف اگر چاہے آسماں ہو جائے


ترے بغیر تو اپنا بھی کچھ وجود نہیں

جو تو ملے تو مکمل مرا جہاں ہو جائے


دیار عشق، رہ شوق، محفل دنیا

یہ ایک جسم ہے آخر کہاں کہاں ہو جائے

آپ کے تبصرے

3000