ہمیں تو دید کی دعوت حسیں قبا نے دی

عبدالکریم شاد شعروسخن

کبھی صدا، کبھی شوخی، کبھی حیا نے دی

نمو چراغ محبت کو ہر ادا نے دی


ہمارا شوق تو بدنام ہے یوں ہی ورنہ

ہمیں تو دید کی دعوت حسیں قبا نے دی


لگا کہ جیسے خزاں آ گئی مرے گھر میں

ترے نہ آنے کی جب بھی خبر ہوا نے دی


ہوا چلی تو چراغوں کی لو بھی تیز ہوئی

دفاع کرنے کی ہمت مجھے بلا نے دی


سفینہ کر دیا اللہ کے حوالے بس

جو بے بسی کی خبر میرے ناخدا نے دی


مریض عشق ہے، اس کا علاج ہے بے کار

طبیب کو یہ نصیحت مری دوا نے دی


قبولیت کا سبب ہی نہیں تھا میرے ساتھ

پلٹ کے آتے ہوئے یہ صدا دعا نے دی


کسی امیر کا کردار کیسا ہوتا ہے

’’تمھیں دکھائیں گے توفیق اگر خدا نے دی‘‘


چلا میں چھوڑ کے اے شاد! زیست کی انگلی

کچھ اس طرح کی صدا کان میں قضا نے دی

آپ کے تبصرے

3000