دوسروں کى تعریف کرنے کا شرعى حکم

جمیل احمد ضمیر افتاء

کسى کى تعریف کرنا یااس کى خوبیوں کو بیان کرنا فی نفسہ ممنوع نہیں، کیونکہ خودشارع علیہ الصلاۃوالسلام نے متعدد مواقع پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کى تعریف کى ہے،ان کے فضائل ومناقب سے امت کو روشناس کرایا ہے اور انھیں ان کى بہتر کارکردگى پرخراج تحسین بھى پیش کیا ہے۔
چنانچہ ٹخنے سے نیچے ازار لٹکانے کے متعلق ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
لستَ ممن يصنعُه خُيَلاء
[صحیح بخارى:۵۷۸۴]تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو ایسا تکبر کى وجہ سے کرتے ہیں۔
عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
ما لقيك الشيطانُ قطُّ سالكًا فجًّا إلا سلك فجًّا غيرَ فجِّك
[صحیح بخارى:۳۲۹۴، صحیح مسلم:۲۳۹۶]جب بھى شیطان تمھیں کسى راستے میں ملتا ہے تو تمھارا راستہ چھوڑ کردوسراراستہ اختیارکر لیتا ہے۔
عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا :
أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ
[صحیح مسلم:۲۴۰۱]کیامىں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھى حیا کرتے ہیں ۔
على رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى؟
[صحیح بخاری:۳۷۰۶،صحیح مسلم:۲۴۰۴]کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ میرے لیے تم ویسے ہى ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے۔
یعنى کیا تم اس بات پرراضى نہیں ہو کہ میرے نزدیک تمھارا وہی مقام ومرتبہ ہو جو موسی علیہ السلام کےنزدیک ہارون کا تھا۔
اسى طرح انصار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ
[صحیح بخاری:۴۳۳۰،صحیح مسلم:۱۰۶۱]انصار شعار ہیں اور دیگردوسرے لوگ دثار۔
شعاراس کپڑے کو کہا جاتا ہےجو جسم سے بالکل متصل ہوتا ہے اور دثاروہ کپڑاجو شعار کے اوپر ہوتا ہے۔ [النہایۃ فی غریب الحدیث:۲/۴۸۰]
یہاں مراد یہ ہے کہ انصار میرے خاص اور مقرّب مصاحبین میں سے ہیں ۔ [ فتح البارى لابن حجر :۸/۵۲]
اس سے انصار کى فضیلت اوررفعت شان کا پتہ چلتا ہے۔
علاوہ ازیں کتبِ حدیث میں اس معنى كى بے شمارحديثيں موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر صحابہ کرام کى انفرادى واجتماعى ہر انداز میں تعریف کى ہے اور ان کى خوبیوں کو لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے۔
چنانچہ ان احادیث سےاستدلال کرتے ہوئے اہل علم نے اس بات کى صراحت کى ہے کہ اگر کسى کى تعریف سے مقصود اس کے اچھے اخلاق وکردار اور علم وفضل میں اس کے مقام ومرتبہ سے لوگوں کو روشناس کرانا ہو تو یہ جائز ہے، بلکہ بسا اوقات مستحب بھى ہے۔
علامہ ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يجوز الثناءُ على الناس بما فيهم على وجه الإعلام بصفاتهم؛ لتُعرَف لهم سابقتُهم وتقدمُّهم في الفضل؛ فيُنَزَّلوا منازلَهم، ويُقدَّموا على من لا يُساويهم، ويُقتدى بهم في الخير، ولو لم يَجُزْ وصفُهم بالخير، والثناءُ عليهم بأحوالهم؛ لم يُعلَمْ أهلُ الفضل من غيرهم، ألا ترى أنّ النبيَّ عليه السلام خصّ أصحابَه بخواصّ من الفضائل؛ بانوا بها عن سائر الناس، وعُرِفوا بها إلى يوم القيامة۔
[شرح صحیح البخاری لابن بطال:۹/۲۵۵] لوگوں کے اندر موجود اوصاف (حمیدہ)اور خوبیوں سے دوسروں کو روشناس اور با خبر کرنے کے لیے ان کى تعریف کرنا جائز ہے، تاکہ فضل وکمال میں ان کى اولیت اور فوقیت سے دیگر لوگ آشناہوں پھر انھیں ان کے شایان شان مقام ومرتبہ عطا کریں نیزانھیں ان کے مقام سے فروتر لوگوں پر مقدم رکھیں اور خیرو بھلائی میں ان کى اقتدا کریں ۔ کیونکہ اگر خیر وبھلائى سے ان کو متصف کرنا اور ان کے اوصاف وکمالات بیان کرکے ان کى تعریف کرنا ناجائز ہو تو پھر صاحبان فضل وکمال اورعام لوگوں کے درمیان شناخت نہیں ہو پائےگى؟ یہى وجہ ہے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو کچھ امتیازى اوصاف و فضائل سے متصف کیا جس کى بدولت وہ دوسروں سے ممتاز قرار پائے اور تا قیامت انھیں ان فضائل سے یاد کیا جاتا رہے گا۔
اس سے معلوم ہوتا ہےکہ علماء ومشایخ اور فضلاء امت کے علمى ودینى مقام ومرتبہ کو بیان کرنا اور ان کى علمى ودعوتى جہود اور مساعى جمیلہ سے لوگوں کو روشناس کرانا جائز ہے تاکہ لوگ ان کى قدر وحیثیت کو سمجھیں اور ان سے استفادہ اور رجوع کریں۔
اسى طرح نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر صحابہ کرام کو ان کى حسن کارکردگى پرسراہا ہے، جیسے غزوہ ذات قرد میں ابو قتادۃ اور سلمہ بن الأکوع رضی اللہ عنہما کى بہادرى اور ہمت کی داد دیتے ہوئے فرمایا:
كان خيرَ فرساننا اليوم: أبو قتادة، وخيرَ رجَّالتنا سلمة
[صحیح مسلم:۱۸۰۷]آج کے ہمارے سب سے بہتر شہسوار (گھوڑے پر سوار ہوکر لڑائى کرنے والے) ابو قتادۃ تھے اور پیادہ لڑنے والوں میں سب سے بہتر سلمہ (بن الأکوع) تھے۔
علامہ نووى رحمہ اللہ اس حدیث کى شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
هذا فيه استحباب الثناء على الشجعان وسائر أهل الفضائل، لا سيما عند صنيعهم الجميل؛ لما فيه من الترغيب لهم ولغيرهم في الإكثار من ذلك الجميل؛ وهذا كلُّه في حقّ مَن يأمن الفتنةَ عليه بإعجابٍ ونحوه
[شرح صحیح مسلم:۱۲/۱۸۲]اس حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ صاحبان ہمت وشجاعت اوردیگر خوبیوں کے حامل افراد کى تعریف کرنامستحب ہے بالخصوص جب وه كوئى بہترکام انجام ديں، کیونکہ اس سے خود ان کےاندر اوران کے علاوہ دیگر لوگوں کے اندر اس بہترکام کو زیادہ سے زیادہ انجام دینےکى رغبت پیدا ہوگى، البتہ یہ اس کے لیے ہے جو ممدوح کےخود فریبى اور عجب میں پڑنے کے اندیشہ سے مامون ہو۔
اسى طرح ابو موسى اشعرى رضی اللہ عنہ سے نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر احرام کى نیت کے بارے میں پوچھا ؟ تو انھوں نے کہا: نبى صلی اللہ علیہ وسلم کے احرام كى طرح احرام باندھا ہے، یہ سن كرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«أحسنتَ»(تم نے اچھا کیا) [صحیح بخارى:۱۷۲۴،صحیح مسلم:۱۲۲۱]
نووى رحمہ اللہ اس حدیث کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
وفي هذا الحديث فوائد…ومنها: استحبابُ الثناء على من فعل فعلاً جميلاً؛ لقوله صلى الله عليه وسلم: «أحسنت»
[ شرح صحیح مسلم:۸/۱۹۹] یعنى اس حدیث سے ایک مسئلہ یہ بھى معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئى اچھا کام کرے تو اس کى تعریف کرنا مستحب ہے اس لیے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے ابو موسى اشعرى کے فعل کى تحسین فرمائى۔
لہذا لوگوں کى حوصلہ افزائى کے لیےان کى تعریف کرنا اور ان کے اچھے کاموں کو سراہنا جائز اور مطلوب امر ہے کیونکہ اس سے معاشرہ کے ہونہار اور قابل افراد کى خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہوتى ہیں اور ان کے اندر بہتر کارکردگى انجام دینے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
علاوہ ازیں ابتداءً کسى نیک کام کى ترغیب دینے کے لیے بھى نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ کى تعریف کى ہے جیسے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں فرمایا:
نِعَمَ الرجلُ عبد الله لو کان يُصلِّي من الليل
[صحیح بخاری:۱۱۲۲،صحیح مسلم:۲۴۷۹] عبد اللہ بہت اچھے آدمى ہیں کاش رات میں نماز پڑھا کرتے یعنى تہجد کا اہتمام کرتے۔
علامہ ابن الملقن فرماتے ہیں:
وقوله: فقال: «نعم الرجل عبد الله» فيه: القولُ بمثل هذا إذا لم يخش أن يفتتن بالمدح
[التوضيح لشرح الجامع الصحيح:۹/۲۷] یعنى عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کى مدح میں نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے جو بات کہى ہے اس طرح کى بات کہى جا سکتى ہے بشرطیکہ ممدوح کے فتنہ میں پڑنے کا خدشہ نہ ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے مختلف مواقع پر متعدد مقاصد کے پیش نظر صحابہ کرام کى تعریف کى ہے جو مجموعى طو پر مدح کے جواز کى دلیل ہے۔
البتہ یہ جواز بالکل عام یا على الاطلاق نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ شرائط وضوابط ہیں جیسا کہ دیگر دوسرى احادیث سے پتہ چلتا ہے۔
اوروہ شرائط وضوابط کچھ اس طرح ہیں:
پہلى شرط: تعریف مبنى بر حقیقت ہو، جھوٹ، غلو ، مبالغہ آرائى اور تصنع وتکلف سے پاک ہو۔
یعنى کسى کى تعریف میں صرف وہى خوبیاں ذکر کى جائیں جو فی الواقع اس کے اندر موجود ہوں اوراسے صرف انھی القاب سے نوازا جائے جن کا وہ مستحق ہو نیز اس کى خدمات اورکارناموں پر صرف اتنا ہى خراج تحسین پیش کیا جائے جتنا اس کا حق بنتا ہو۔
کسى کى تعریف میں مبالغہ آرائى سے کام لینا،رائى کو پہاڑ بنادینا،زمین وآسمان کے قلابے ملادینا اور لوگوں کى نگاہوں میں اس کو اس کى حیثیت سے زیادہ بڑا بنا کر پیش کرنا ظلم ہے۔ کیونکہ یہ جھوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو دھوکہ اور غلط فہمى میں ڈالنے کا سبب ہے جو قطعا درست نہیں۔
عام طور پر اس مبالغہ آرائى کا اصل محرک دنیوى مفاد یا احساس کمترى ہوتا ہے جورفتہ رفتہ تملق و چاپلوسى اورجبیں سائى کاروپ دھار لیتا ہےجس کے نتیجے میں انسان کا وقار مجروح، ثقاہت متزلزل اور شخصیت مخدوش ہوجاتى ہے۔
غزالى رحمہ اللہ مدح کى بعض خرابیوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
المادح قد يُفرط فينتهي به إلى الكذب… (و) قد يدخله الرياء؛ فإنه بالمدح مظهرٌ للحب، وقد لا يكون مُضمِرًا له، ولا مُعتقدًا لجميع ما يقوله؛ فيصير به مرائيًا منافقًا
[إحیاء علوم الدین:۳/۱۵۹]تعریف کرنے والاکبھى حدسے تجاوزکرسکتاہےجس کى وجہ سے وہ جھوٹ میں واقع ہوسکتاہے۔اورکبھى اس کےاندردکھاوا پیداہوسکتاہےکیونکہ تعریف کرکے وہ ممدوح سے اپنى محبت کااظہار کرتاہےتاہم ایسا ہوسکتا ہےکہ اس کے دل میں محبت نہ ہو نیزتعریف میں جوکچھ کہہ رہا ہے ممکن ہے ان سارى باتوں کا عتقاد اس کے دل میں نہ ہو چنانچہ نتیجۃً وہ منافق اوردکھاوے والا بندہ بن جاتا ہے۔
مزید برآں کسى کى بے جا ستائش یاتعریف میں مبالغہ آرائى خود اس کے حق میں زہر ہلاہل سے کم نہیں کیونکہ بہت ممکن ہے کہ وہ اپنى بے جا ستائش یامبالغہ آمیز تعریف سن کر کبرو غرور میں مبتلا ہو جائے، خودفریبى وبزرگ بینى کا اسے روگ لگ جائے اور تعلى وخودستائى اس کا شیوہ بن جائے اوریہ سب چیزیں اس کى دینى،اخلاقى اور روحانى موت کا پیش خیمہ ہیں۔
یہى وجہ ہے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے ایسى تعریف کرنے سے سختى سے منع فرمایا ہے اور اسےہلاکت وقتل سے تعبیر کیا ہے۔
چنانچہ ابو موسى اشعرى رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلاً يُثني على رجلٍ ويُطريه في مَدحه، فقال: «أهلكتم -أو قطعتم- ظهرَ الرجل»
[صحیح بخاری:۲۶۶۳،صحیح مسلم:۳۰۰۱]نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دوسرے شخص کی خوب بڑھا چڑھاکر ( مبالغہ آمیز انداز) میں تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا: تم نے اس شخص کو ہلاک کردیا۔ یا فرمایا کہ : تم نے اس کی کمر توڑ دی۔
ابن بطال رحمہ اللہ مہلب بن ابی صفرۃ رحمہ اللہ کےحوالے سے لکھتے ہیں:
وإنما قال هذا -والله أعلم-؛ لئلا يغترّ الرجل بكثرة المدح، ويرى أنه عند الناس بتلك المنزلة؛ فيترك الازدياد من الخير ويجد الشيطان إليه سبيلا، ويُوهمه في نفسه حتى يضع التواضع لله
[شرح صحيح البخارى:۸/۴۸] نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے یہ بات اس لیے کہى مبادا آدمى اپنى زیادہ تعریف سن کر خود فریبى کا شکارہو جائے اور یہ سمجھ بیٹھے کہ لوگوں کى نگاہوں میں اس کا وہى مقام ہے (یعنى جو مادح نے بیان کیا ہے) جس کے نتیجے میں مزید کار خیرسے رک جائے اور شیطان اس پر اپنا حربہ استعمال کرکے خود پسندى میں مبتلا کردے یہاں تک وہ اللہ کے لیے تواضع کرنا چھوڑ دے۔
ایک دوسرى حدیث میں ہے:
إياكم والتمادح؛ فإنه الذبح
[سنن ابن ماجہ:۳۷۴۳، مسند احمد:۱۶۸۳۷، سند حسن ہے]باہم ایک دوسرے کى تعریف کرنے سے بچوکیونکہ یہ ذبح کرنے کے مترداف ہے۔
تمادُح یہ لفظ مدح سے تفاعل کا صیغہ ہے اور یہاں اس سے مراد مبالغہ آمیز تعریف ہے۔ جیسا کہ امام بخارى رحمہ اللہ کى تبویب سے پتہ چلتا ہے ۔چنانچہ انھوں نے اپنى صحیح میں باب باندھا ہے :باب ما يُكره من التمادُح۔ اور اس کے تحت ابو موسى اشعرى رضی اللہ عنہ کى مذکورہ حدیث درج فرمائى ہے جس میں نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے مبالغہ آمیز تعریف کى ممانعت فرمائى ہے۔ چنانچہ اس باب کى شرح کرتے ہوئے ابن حجر لکھتے ہیں:
هو تفاعل من المدح أي المبالَغ[فتح البارى:۱۰/۴۷۶]
علاوہ ازیں نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے خود اپنى ذات ستودہ صفات کى مدح وثنامیں غلو ومبالغہ آرائى سے بالکلیۃ منع فرمایاہے۔ ارشاد نبوى ہے:
لا تُطروني كما أَطَرَت النَّصارى ابنَ مريم؛ فإنما أنا عبدُه، فقولوا: عبدُ الله، ورسولُه
[صحیح بخارى:۳۴۴۵]مجھے حد سے زياده نہ بڑھاؤ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ بن مریم كو حد سے زیادہ بڑھایا دیا۔ میں اس کا بندہ ہوں لہذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔
الإطراءکےمعنى ہیں: کسى کى تعریف میں حد سے تجاوز کرنا اور جھوٹ بولنا۔ [النہایۃ فی غریب الحدیث:۳/۱۲۳]
یعنى میرى تعریف میں حد سے تجاوز نہ کرو اور مجھے ایسے اوصاف سے متصف نہ کرو جو میرے اندر نہیں ہىں جیسا کہ نصارى نے عیسى علیہ السلام کى شان میں غلو کرتے ہوئے انھیں اللہ کا بیٹا قرار دے دیا۔
یہ حدیث اس بات کى دلیل ہے کہ جس نے کسى کو اس کے مقام سے اوپراٹھایا اور اس کو کسى ایسى چیز سےمتصف کیا جو اس کے اندر نہیں ہے تو وہ ظالم وگنہگار ہوگا۔ کیونکہ اگر ایسا کرنا کسى کے حق میں جائز ہوتا تو کائنات میں اس کے سب سے زیادہ مستحق ہمارے پیارے نبى صلى اللہ علیہ وسلم ہوتے۔ لہذا اللہ تعالى نے جس کو جو مقام عطا فرمایا ہے اس کو اسى مقام پر رکھاجائے اس سے آگے نہ بڑھایا جائے۔ [ التوضیح لشرح الجامع الصحیح لابن الملقن:۲۸/۴۰۱]
مزید برآں عملى طور پر بھى نبى صلى اللہ علیہ وسلم نےاپنى تعریف میں مبالغہ آرائى کو کبھى بھى پسند نہیں فرمایا چنانچہ اگر کوئى شخص آپ کى تعریف میں غلو سے کام لیتا تو اس کو فورا منع فرمادیتے اور مبالغہ آرائى پر ٹوک دیا کرتے تھے۔
چنانچہ ایک بار نبى صلى اللہ علیہ وسلم رُبَیِّع بنت معوذ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے اور عین اسى وقت ان کے گھر میں کچھ بچیاں دف بجاکر بدر میں شہید ہونے والے اپنے آباءکے محاسن بیان کرنے لگیں۔ اسى دوران ایک بچى نے یہ کہہ دیا:”وفينا نبي يعلم ما في غد”(ہمارے درمیان وہ نبی موجود ہیں جو یہ بھی جانتے ہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے) یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچى کو فورا ٹوکا اور فرمایا:
دَعِي هذه، وقُولي بالذي كنتِ تقولين
[صحیح بخاری:۵۱۴۷]اسے چھوڑ دواوروہى کہو جو تم پہلے کہہ رہى تھى ۔
آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے اس بچى کو اس لیے ٹوکا کیونکہ اس نے آپ کى مدح میں حد سے تجاوز کرتے ہوئے آپ کو علم غیب کى صفت سے متصف کردیا جب کہ یہ صفت صرف اللہ تعالى کے لیے خاص ہے۔ لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدمى کے منہ پر اس کى تعریف کرنا جائز ہے جب تک حقیقت کے دائرے میں ہو اور مبالغہ سے خالى ہو۔ [فتح الباری لابن حجر:۹/۲۰۳]
اسى طرح جب وفد بنى عامرنے نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى تعریف میں مبالغہ آرائى اور تکلف کا مظاہرہ کیا تو آپ نے انھیں ٹوک دیا۔
چنانچہ عبد اللہ بن الشِّخّیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں:میں بنوعامر کے وفد کے ساتھ نبى صلى اللہ علیہ وسلم کى خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے کہا:
أنتَ سيّدُنا، فقال: «السَّيدُ الله». قلنا: وأفضلُنا فَضْلاً، وأعظَمُنا طَوْلاً، فقال: «قولوا بِقَولكم، أو بعضِ قولكم، ولا يَسْتَجْرِيَنَّكُم الشَيطانُ»
[سنن ابو داود:۴۸۰۶، سند صحيح ہے]
اے اللہ کے رسول آپ ہمارے (سيد) سردار ہیں ۔ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (حقيقى) سردار تو اللہ تبارک وتعالیٰ ہے۔ ہم نے پھر کہا: آپ ہم میں سب سے افضل اور سب سے زیادہ دادودہش کرنے والے ہیں۔ آپ صلى الله علیہ وسلم نے فرمایا: یہ باتیں کہو یا ان میں سے کچھ چھوڑدو، لیکن ديكھو کہیں شیطان تم پر غالب نہ آجائے اورتمھیں اپنا وکیل بنالے۔
جب نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہ لوگ آپ کى تعریف میں مبالغہ اور تکلف سے کام لے رہے ہیں تو اپنى ناپسندیدگى کااظہار فرمایا اور انھیں شیطان کى چال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ جو برجستہ بن پڑے وہ بولو اوراس طرح تکلف سے کام نہ لو گویا شیطان کے چیلے بن کر اسى کى زبان سے بول رہے ہو۔ [شرح سنن أبی داود لابن رسلان:۱۸/۴۸۱]
غور کرنے کا مقام ہے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم کو اپنے بارے میں کسى قسم کے عجب وغرور یا فتنہ میں مبتلا ہونے کا قطعا کوئى اندیشہ نہیں تھااس کے باوجود اگر کوئى شخص آپ کى تعریف میں مبالغہ سے کام لیتا تو اسے برجستہ ٹوک دیتے اور اپنى تعریف میں حد اعتدال سے تجاوز کو قطعا برداشت نہیں کرتے تھے۔
آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے اس طرز عمل سے دوباتیں واضح طور پر معلوم ہوتى ہیں :
پہلى بات یہ کہ تعریف کرنے والا مبالغہ سے کام نہ لے۔
دوسرى بات یہ کہ انسان اپنے حق میں مبالغہ آمیز تعریف سن کر یا دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے اپنى ناپسندیدگى کااظہار کرے اور اگر کسى شر وفساد کا خوف نہ ہو تو تعریف کرنے والے کو ٹوک بھى دے واللہ اعلم۔
دوسرى شرط: ممدوح کے فتنہ میں مبتلا ہوجانے کا اندیشہ نہ ہو۔
چونکہ انسان فطرى طور پر تعریف پسند ہوتاہے لہذا اپنى جائزتعریف سن کر خوش ہونا فی نفسہ کوئى معیوب بات نہیں۔ البتہ معیوب یہ ہے کہ انسان اپنى تعریف سن کر عُجب وغرور کا شکار ہو جائے اور رب کریم کى شکرگزارى میں زمزمہ سنجى کے بجائے دوسروں پر اپنى فوقیت وبرترى کا اظہار کرنا شروع کردے اور اپنے سامنے انھیں ہیچ تصور کرنے لگے۔
اگر کسى کے بارے میں احوال وقرائن سے لگے کہ یہ شخص اپنى تعریف سن کر اس حد تک پہنچ سکتا ہے تو ایسى صورت میں اس کى تعریف کرنا جائز نہیں گرچہ وہ برحق ہى کیوں نہ ہو۔ کیونکہ کبروغرورشریعت میں حرام ہے اور جو چیز حرام میں واقع ہونے کا سبب بنے وہ بھى حرام ہے اور یہاں اس تعریف سے ممدوح کے حرام میں واقع ہونے کا خدشہ ہے۔ [ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ:۳۶/۲۷۹،شرح ریاض الصالحین لابن عثیمین:۶/۵۶۵]
نووى رحمہ اللہ لکھتے ہیں :جس کے بارے میں اندیشہ ہو کہ وه اپنی تعریف سن کر فتنہ میں پڑ جائے گا یعنى عجب وغيره کا شکار ہو جائے گا تو اس کى تعریف کرنا ممنوع ہے۔ البتہ جس شخص کے بارے میں اس کے کمال تقویٰ، پختگی ٔ عقل اور علم ومعرفت کے ناطےاس طرح کا کوئى اندیشہ نہ ہو تو پھراس کے منہ پراس کى تعریف کرنے میں کوئى ممانعت نہیں ہے بشرطیکہ بے بنیاد نہ ہو ۔ [شرح النووی على مسلم:۱۸/۱۲۶]
تیسرى شرط: بکثرت تعریف کرنے سے احتراز کیا جائے۔
کیونکہ بکثرت یا بار بار تعریف کرنے سے مادح (تعریف کرنے والا) کےجھوٹ میں واقع ہونے کا خطرہ زیادہ رہتا ہے اور ممدوح کے یہاں کبر وغرور پیدا ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے لہذا مدح کے شرعى مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے صرف ضرورت کے وقت تعریف کرنے پر اکتفا کیا جائے۔ [ شرح الإلمام بأحادیث الأحکام لابن دقیق العید:۵/۱۰۰]
اس کى دلیل ابو بکرۃ رضی اللہ عنہ کى حدیث ہے جس میں آیا ہے کہ نبى صلى اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے کى تعریف کى تو آپ نے فرمایا:
ويحك قطعت عنق صاحبك، قطعت عنق صاحبك -مرارًا- إذا كان أحدكم مادحًا صاحبَه لا محالة، فليقل: أحسب فلانًا، والله حسيبه، ولا أزكي على الله أحدًا أحسبه، إن كان يعلم ذاك، كذا وكذا
[صحیح بخارى:۲۶۶۲،صحیح مسلم:۳۰۰۰] تمھارا برا ہو، تم نے اپنے ساتھی کی گردن مار دی۔ یہ بات آپ نے کئی بار دہرا ئی۔اگر تم میں سے کسى کو اپنے بھائى کى تعریف کرنى ہى ہو تو وہ یہ کہے:اس کے بارے میں میرایہ خیال ہے۔ حقیقت حال سے تو اللہ ہی واقف ہے۔ میرا گمان یہ ہے۔یہ کہہ کر وہ اس کے بارے میں وہی بات کہے جس سے واقف ہو۔
نبى صلى اللہ علیہ وسلم کے قول: «إن كان أحدكم مادحًا أخاه لا محالة» سے بظاہر یہى پتہ چلتا ہے کہ جب تک گنجائش ہو اس وقت تک کسى کى تعریف کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے واللہ اعلم۔ [المفہم لأبی العباس القرطبی:۶/۶۲۷]
علاوہ ازیں نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے مدّاحین کى مذمت کى ہے اور ان کے منہ پر مٹى ڈالنے کا حکم دیا ہے جیسا کہ مقداد بن الاسود رضی اللہ عنہ کى حدیث میں ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا رأيتم المدَّاحين، فاحْثُوا في وجوههم التراب
[صحیح مسلم:۳۰۰۲]
مدّاحین لفظ مدّاح کى جمع ہے اور یہ مبالغہ کا صیغہ ہے لہذا اس میں کثرت اور تکرار کا معنى پایا جاتا ہے ۔
ابن الجوزى لکھتے ہیں:
المدّاح: الذي يتكرّر منه المدح، وهو الذي قد جعله عادةً له، ومثل ذلك لا يسلم من الكذب
[ كشف المشكل من حديث الصحیحین:۴/۲۷]مدّاح اس کوکہتے ہیں جوبار بار یعنى کثرت سے تعریف کرتا ہواور لوگوں کى قصیدہ گوئى کو اپنا شیوہ بنا لیا ہواور ایسا آدمى جھوٹ سے نہیں بچ سکتا ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بکثرت تعریف کرنا مذموم اور معیوب صفت ہے۔
لہذا افراط وتفریط سے بچتے ہوئے اعتدال کا راستہ اختیار کیا جائے چنانچہ نہ تو کسى کى تعریف میں ہمہ وقت رطب اللسان رہا جائے اور نہ ہى ضرورت کے وقت تھوڑى بہت تعریف کرنے سے گریز کیا جائے۔
علامہ العز بن عبد السلام فرماتے ہیں:
المدحُ المباحُ لا يُكثَر منه، ولا يُتقاعَد عن اليسير منه عند مسيس الحاجة
[قواعد الأحكام فی مصالح الأنام:۲/۲۰۹-۲۱۰] یعنى جائز تعریف بکثرت نہ کى جائے اورضرورت کے وقت تھوڑى بہت تعریف کرنے سے گریزبھى نہ کیا جائے۔
چوتھى شرط: کسى کى تعریف میں قطعیت کے ساتھ ایسى کوئى بات نہ کہى جائے جس کى حقیقت تک رسائى ممکن نہیں۔
جیسے کسى شخص کى تعریف کرتے ہوئے اسے زہد و تقوى خشیت الہى اورصدق ایمان وغیرہ جیسے قلبى اعمال سے متصف کرناکیونکہ ان امور کا قطعى علم اللہ کے سوا کسى کو نہیں۔
نبى صلى اللہ علیہ وسلم نے ابو بکرۃ رضی اللہ عنہ کى حدیث میں اسى بات کى طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہےکہ: اگر کسى کو تعریف کرنى ہى ہو تو وہ کہے کہ: فلاں کے بارے میں میرایہ خیال ہے۔ [ فتح البارى لابن حجر:۱۰/۴۷۸]
لہذا قطعیت کے ساتھ کسى کے بارے میں کہنا کہ وہ زاہد ہے یا متقى ہے یا وہ اللہ کے علاوہ کسى سے نہیں ڈرتا ہے درست نہیں واللہ اعلم۔
خلاصہ کلام یہ کہ مذکورہ بالا شرائط وضوابط کےساتھ کسى کى تعریف کرنے میں کوئى ممانعت نہیں ۔ بلکہ اگر تعریف سےکار خیر میں تشویق وترغیب مقصود ہو یا اسى طرح کوئى اور مصلحت ہو مثلا کسى شخص کى اچھى کارکردگى پر اس کى تحسین کى جائے تاکہ اس کام پر مدوامت برتنے اور اسے پابندی سے انجام دینے كے لیے وہ مزید سرگرم ہو جائےیا دوسرے لوگوں کے یہاں اس کى طرح کام کرنے کا جذبہ پیداہوتو ايسى صورت میں تعریف کرنا مستحسن امرہے کیونکہ یہ تعاون على الخیر میں داخل ہےجوکم ازکم درجے میں مستحب ہے۔ واللہ اعلم[ شرح النووی على مسلم:۱۸/۱۲۶،شرح ریاض الصالحین لابن عثیمین:۶/۵۶۴]

3
آپ کے تبصرے

3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
نسيم سعيد

ماشاءاللہ، مدلل اور منہجی تحریر

عبدالوحيد ذكاء

بارك الله فيك

وحیدالرحمن محمد احمد

ماشاء اللہ
بہت عمدہ تحریر ہے بالکل مدلل
بارک اللہ فیک