ہندوستان کے سیاسی حالات اور مسلمان

عبدالرحمن عالمگیر سیاسیات

ہندوستان جب انگریز سامراج کے پنجۂ استبداد میں کراہ رہا تھا۔ ان کا دین و مذہب، عزت و عصمت اور جان و مال یرغمال بن گیا تھا۔ بھارت کی سرزمین پر غلامی کے سیاہ بادل مکمل طور پر قبضہ جما چکے تھے تو آزادی کے متوالوں نے ظلم و جبر کی بیڑیوں کو توڑنے کا عہد لیا اور فرنگیوں کے ظلم و زیادتی پر قدغن لگانے کے لیے اپنی حیات و زیست کو مادر وطن کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ اس حوصلہ افزا قدم سے انگریز کے حواس باختہ ہوگئے۔ عداوت و دشمنی کے خلاف چہار جانب ایک طوفان اٹھ گیا۔ آزادی کی آگ پورے آب و تاب کے ساتھ بھڑک اٹھی اور ان کی مخالفت میں مسلمان، ہندو، سکھ، عیسائی سب کے سب سیسہ پلائی دیوار بن گئے؛ خصوصاً ہندوؤں اور مسلمانوں نے اپنی حب الوطنی کا سچا ثبوت دیا۔ دونوں نے محبت و اتحاد کے ساتھ باطل طاقتوں کا مقابلہ کیا۔ ہندوستان کے ہر خطے سے مسلمانوں نے آزادی کی خاطر اپنا تن من دھن اور گھر بار سب لگا دیا کیوں کہ آزادی کا خمیر مسلمانوں کے خون میں شامل ہے۔ بایں طور کہ اسلام نے جہاں اپنے متبعین کو امر بالمعروف ونہی عن المنکر اور حلال وحرام کی تعلیم دی وہیں غلامی کی ذلت و نکبت اور طوق اسیری کو پاش پاش کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کائنات میں تشریف لائے۔ ارشاد ربانی ہے:
ٱلَّذِینَ یَتَّبِعُونَ ٱلرَّسُولَ ٱلنَّبِیَّ ٱلۡأُمِّیَّ ٱلَّذِی یَجِدُونَهُۥ مَكۡتُوبًا عِندَهُمۡ فِی ٱلتَّوۡرَىٰةِ وَٱلۡإِنجِیلِ یَأۡمُرُهُم بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَیَنۡهَىٰهُمۡ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَیُحِلُّ لَهُمُ ٱلطَّیِّبَـٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیۡهِمُ ٱلۡخَبَـٰۤىِٕثَ وَیَضَعُ عَنۡهُمۡ إِصۡرَهُمۡ وَٱلۡأَغۡلَـٰلَ ٱلَّتِی كَانَتۡ عَلَیۡهِمۡۚ
(الاعراف:۱۵۷)
ترجمہ: دین و دنیا کی بھلائی اور فلاح ان لوگوں کے لیے ہےجو ہمارے رسول نبی امی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں۔ جس کا ذکر اہل کتاب تورات وانجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں جو لوگوں کو بھلائی کا حکم، برائی سے منع، پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں کو ان کے لیے حرام قرار دیتے ہیں، اور بارہائے گراں اور بندشوں کو ان سے ہٹاتے ہیں۔ جن میں وہ پہلے سے جکڑے ہوئے تھے۔
لیکن افسوس کہ بعض ہندوستانی مؤرخین نے عداوت و بغض میں تاریخی حقائق سے دانستہ طور پر چشم پوشی کرتے ہوئے تحریک آزادئ ہند میں مسلمانوں کی قربانیوں کو فراموش کر دیا۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی ہندوستانی اشفاق اللہ خان کی قربانی کو ٹھکرا سکتا ہے، جب ان کو فیض آباد کی جیل میں پھانسی کے پھندے کے پاس لے جایا جا رہا تھا تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کی کوئی آخری خواہش؟ کوئی آخری تمنا؟ تو انھوں نے برملا جواب دیا تھا؎
کچھ آرزو نہیں ہے، بس آرزو ہے اتنی
رکھ دے کوئی ذرا سی خاک وطن کفن میں
کیسے کوئی مؤرخ ٹیپوسلطان، تحریک ریشمی رومال اور تحریک شہیدین وغیرہ جیسے تاریخ کے ناقابل فراموش اجزاء کو سرد خانے میں رکھنے کی جرأت کر سکتا ہے۔ مگر حیف صد حیف غیروں نے بہت منصوبہ بندی اور منظم طریقے سے مسلمانوں کے کارناموں کے سنہرے نقوش کو تاریخی اوراق سے اتیت کے دھندلکوں میں دبا دیا اور اس پر شکایت کرنے والوں کو یہ کہہ کر خاموش کردیا گیا کہ یہ ہندو راشٹر ہے یہاں کی آزادی اور سیاست، ترقی اور خوشحالی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ ان کا حصہ پاکستان کی صورت میں برسوں پہلے دیا جا چکا ہے بلکہ ملک کی خستہ حالی کے اصل ذمہ دار دار یہی لوگ ہیں جو پاکستان کے اشارے پر چلتے ہیں،خوف و دہشت گردی کو ترویج دیتے ہیں، دھماکے کرواتے ہیں اور یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں کہ ایک اور پاکستان بنوا سکیں۔ باوجودیکہ مسلم دشمنی میں فرقہ پرست عناصر نے ایسی تنظیمیں تشکیل دیں جس کی بنیاد ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے، ان کے تعلق سے جھوٹے اور مسموم پروپیگنڈہ پھیلانے پر قائم ہے کہ مسلمان دوسرے ممالک سے آکر ہندوستان پر جبراً قابض ہوگئے تھے، انھوں نے اپنے دور اقتدار میں ہندوؤں پر بدترین مظالم ڈھائے، ان کے ہندوانہ عقائد و نظریات کی دھجیاں اڑائی، ان کے آباء و اجداد کو بزور شمشیر مسلمان بنایا، ان کی عورتوں کو بے آبرُو کیا۔ مندروں کو لوٹا اور مسمار کیا اسی لیے اب وقت انتقام آگیا ہے کہ انھیں بھی بزور شمشیر ہندو بنایا جائے، ان کی جائیداد کو لوٹا جائے، ان کی عورتوں کی بے ردائی کی جائے، مساجد کو مندروں میں تبدیل کردیا جائے۔ ان مذموم مقاصد کے حصول کے لیے سوشل میڈیا پر آئی ٹی سیل تیار کیے گئے جو شب و روز اشتعال انگیز اور مبالغہ آمیز، جھوٹے اور بے بنیاد قصے مشتہر کرے تو دوسری طرف زمینی سطح پر ان تنظیموں کی شاخیں شہر شہر، قریہ قریہ اور چپہ چپہ نوجوانوں اور طلبہ کو جارحیت پسند بنانے، ان کو لاٹھی چلانے، مہلک اسلحہ استعمال کرنے کی تربیت دینے کا کام کرے۔ ان کے ذریعے ایسی ایسی افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اور جذباتیت سے پر تقاریر کی جاتی ہے کہ بھولی بھالی عوام ہی نہیں اچھے خاصے سمجھ بوجھ رکھنے والے افراد، پولیس اور زعماء و سربراہان بھی وقتی طور پر اپنا دماغی توازن کھو بیٹھتے ہیں اور ان کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ بسا اوقات ان کی تقسیم کردہ لٹریچر، مشتہر بیانات اور افواہوں میں ایسی اثر انگیزی ہوتی ہے کہ مسلمان اور سیکولر ذہن کے حامل غیر ہندو بھی ان کے ہم پیالہ وہم نوالہ بن جاتے ہیں۔ پھر ہندوستان کی شر پسند اور فاشسٹ پارٹیاں اپنے مقاصد اور مفاد کے لیے ان لوگوں سے توڑ پھوڑ، ہنگامہ آرائی، ہجومی تشدد اور فسادات کی آگ لگواتی ہے تاکہ اس کی روشنی میں وہ مسند اقتدار تک پہنچ سکیں کیونکہ ان لیڈران کو ہندومت کی ترویج واشاعت سے کوئی سروکار نہیں ہے بلکہ وہ اسے محض سیاسی زینہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے ان لوگوں نے دھرم کو پوجا پاٹ تک سمیٹ دیا، اخلاقیات، امن اور بھائی چارگی دیومالائی قصوں کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے۔ جس مذہب کا سِدھانت اہنسا، جس کا بنیادی اصول گوشت خوری اور جانوروں کے ذبیحہ کے خلاف تھا؛ اسی مذہب کے پیروکار تشدد کے عادی، جان، مال اور آبرو کے دشمن، حیوانیت کے پرستار اور خون کے پیاسے بن گئے۔ جن کے نزدیک انسانوں سے زیادہ چوپائے کی زندگی پیاری ہوگئی جنھیں معصوم بچوں کی چیخ، بے قصور عورتوں کی کراہ اور بڑے بوڑھوں کی آہ سے لذت ملنے لگی، انھیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ ان حرکتوں سے پوری دنیا میں ہندوستان کی شبیہ بگڑ رہی ہے۔ ملک میں غنڈہ گردی، اشتعال انگیزی، رشوت خوری، بد عملی، بد کرداری اور زنا بالجبر کو بڑھاوا مل رہا ہے۔ قانون و ایڈمنسٹریشن کے پرخچے اڑ رہے ہیں۔ بدترین آمریت اور دہشت انگیز انارکی کی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں۔ اگر مبادا ان زیادتیوں کی کھلے پھر رہے غنڈوں کو لت پڑ جائے تو پھر کیا مسلمان اور کیا ہندو، ان کے ظلم و جبر کی زد میں سے صرف اقلیت ہی نہیں بلکہ ’باوقار جاتیوں‘ کے معصوم بھی آئیں گے۔ اس کی حالیہ ابتدائی جھلکیوں سے ملک کے آئندہ منظرنامہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے؎
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
یہ حضرات بے خبر ہیں کہ ان کی کارروائیوں سے اقلیت بے زار اور اکثریت کنٹرول سے باہر جارہی ہے۔ حمایتی ممالک کے تعلقات میں دراڑ آ رہے ہیں۔ اور جس مذہب کی ترویج کا یہ دم بھرتے ہیں اس کی تہذیب کا ستیاناس ہو رہا ہے، لوگ اس سے قریب آنے کے بجائے متنفر ہو رہے ہیں کیوں کہ کسی بھی فکر کی اشاعت محبت سے ہوتی ہے نہ کہ تشدد سے لگائے جانے والے مخصوص نعرے اور دنگا و فساد سے۔ آج پورا ہندوستان اسی گرد و غبار سے آلود ہے تو وہیں صحافت کی صداقت کا سوداگر زرخرید میڈیا ان کی پشت پناہی کا پاپ کر رہا ہے اور اپنی تلون پسندی میں ہندوستان کی دبی کچلی اقلیت جو سیاسی، سماجی، معاشی، تعلیمی چہار جانب سے پست ہے۔ جس کی حالت زار پر سچّر کمیٹی کی رپورٹ منہ چڑھا رہی ہے۔ اُس جماعت کو میڈیا دہشت گرد کہہ رہی ہے جو قوم اتنی بد حال ہو کہ اپنے سفید دامن پر لگے پرانے دھبوں کو صاف کرنے کی تاب نہ رکھتی ہو اس پر نئے نئے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ یہی میڈیا جو جمہوریت کا چوتھا ستون کہلاتا ہے اس نے ہندوستانی ڈیموکریسی کی بنیادوں کو کھودنے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔ برادران وطن کے سامنے مسلمانوں کی ایسی ڈراؤنی تصویر پیش کی کہ جس کے نوکیلے دانت سے خون رس رہا ہے، بارود کی مہک اور دہشت کی بو آرہی ہے۔ یہ تمام کھیل حکومت کے اشاروں اور انتظامیہ کے ناک تلے جاری ہے۔ جب تک یہ خبر رساں ایجنسیاں خود کو حق و صداقت کا پاسبان نہیں بنائیں گی، اپنی ذمہ داری اور معنویت کا ادراک نہیں کریں گی، عوام کا ذہن بھگوائی یلغار سے مفلوج ہوتا رہے گا۔ اس لیے ارباب نشر و اشاعت اور تمام شعبہ ہائے اطلاعات کی ذمہ داری ہے کہ خبر گیری اور نامہ نگاری کو جانبداری سے پاک کر کے دوبارہ جرنلزم کی روح بحال کی جائے۔ اسی طرح حکومت کو چاہیے کہ وہ اقلیتوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرے، دنگائیوں کے خلاف سخت ایکشن لے، تشدد پھیلانے والی تنظیموں پر کاروائی کرے۔
موجودہ حالات اور آئندہ کے خدشات کے باوجود مسلمانوں کو ہندوستان کے اسی سیاسی ماحول میں گزر بسر کرنا ہے۔ اسی لیے انھیں مستقبل کے تئیں منصوبہ بندی کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کہ جو بھی طریقہ کار اختیار کیا جائے وہ اسلامی اصول و قوانین سے معارض نہ ہو کیوں کہ ان پر پیش آمدہ مسائل کا تعلق ان کی اسلام سے نسبت کی بنیاد پر ہے۔ بایں طور سے اگر کوئی بھی حل وقتی بیانیہ کے لحاظ سے صدہا مؤثر و کارآمد ہو لیکن وہ اسلام کی رو سے غیر موافق ہو تو یہ طرز عمل مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے بجائے اسلام سے ان کی جڑیں کاٹنے کا کام کرے گا کیوں کہ کسی کو دشمنی مسلمان سے نہیں بلکہ صرف مذہب اسلام سے ہے۔ انھیں خالد و ماجد نام والے سے بیر نہیں بلکہ ایمان و توحید پر قائم افراد سے ہے۔ ان کی تو خواہش ہے کہ آپ مسلمان رہیے مگر اسلام سے بیگانہ ہو کر، دین داری مقدس کتابوں میں محفوظ رہے لیکن آپ کا تشخص و امتیاز دوسروں میں ضم ہوجائے۔ سوچنے کا مقام ہے کہ ہم پر مصائب و آلام کے بادل صرف اس لیے منڈلا رہے ہیں کہ ہماری نسبت اسلام سے ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے اسلامی بھائیوں کو اسلامی عقائد و معاملات ’فرسودہ نظام‘ معلوم ہوتے ہیں۔ ہمیں جس ’جرم ایمانی‘ کی سزا دی جا رہی ہے اس کے بنیادی اصول سے بھی وہ ناواقف ہیں۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہمارے عروج و زوال اور شکست و ریخت کو اللہ نے قرآن کے ابدی اصول ’ولا تھنو ولا تحزنوا وانتم الاعلون ان کنتم مؤمنین‘ (آل عمران:۱۳۹) سے جوڑ دیا ہے۔
ترجمہ: تم نہ مایوس ہوگے، نہ غم زدہ بلکہ برسر و اعلی رہو گے؛ اگر تمھارے ہاتھ میں ایمان کی دولت ہو۔
اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا:
وإنا كنا أذل قوم فأعزنا الله بالإسلام فهما نطلب العزة بغير ما أعزنا الله به أذلنا
(الترغيب والترهيب للمنذري:۴/۳۵، صححه الألباني في السلسلة الصحيحة:۱/۱۱۷)
ترجمہ: اور ہم سب سے ذلیل ترین قوم تھے، تو اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت بخشی اور جب بھی اسلام کے علاوہ کسی اور نظام حیات میں عزت تلاش کریں گے تو اللہ ہمیں ذلیل و خوار کر دے گا۔
بے شک ان نقوش پر گامزن افراد امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سہارے خیر امت کے بام فلک تک پہنچ سکتے ہیں۔ امت دعوت کے فرائض بخوبی نبھا کر اپنی اخلاقی قوت سے عددی و مادی طاقت کو مات دے سکتے ہیں، اقلیت و اکثریت کے وضعی قانون کو افسانوی حکایت بنا سکتے ہیں۔ اپنے اسلاف کے سنہرے ایام کو روح افزا کر سکتے ہیں اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم اسلام کو قول و عمل میں زندہ اور اسے روزمرہ کے معاملات میں ہر شے پر مقدم رکھیں گے، اللہ کی رضا مندی اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کو اپنا اصولِ زندگی بنائیں گے، خدمت خلق اور اخلاق حسنہ کو معمول بنائیں گے، جب ہمارے دل خلوص و للہیت سے معمور اور خوف الہی سے لرزنے لگیں گے تو ہمارے حالات حیرت انگیز طور پر تبدیل ہو جائیں گے۔ جو ہماری بدعملی و بدکرداری، رشوت خوری، زناکاری، کذب بیانی اور قرآن و سنت سے دوری کے نتائج میں وجود پذیر ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی ہمیں برائیوں سے بچنے اور نیک اعمال کی توفیق دے ۔آمین

آپ کے تبصرے

3000