آئنے دان کر رہا ہوں میں

عبدالکریم شاد شعروسخن

مشکل آسان کر رہا ہوں میں

خود کو نادان کر رہا ہوں میں


لینے والا کوئی نہیں ملتا

آئنے دان کر رہا ہوں میں


آئنہ دیکھ کر جو نکلا ہوں

سب کو حیران کر رہا ہوں میں


ایسے عالم میں سانس لیتا ہوں

جیسے احسان کر رہا ہوں میں


کچھ تو زلفوں کی ہے پریشانی

کچھ پریشان کر رہا ہوں میں


یہ جو خوشیاں اکٹھی کرتا ہوں

غم کا سامان کر رہا ہوں میں


دلِ ناداں کو بات سمجھا کر

اور نادان کر رہا ہوں میں


عشق ہے کھیل کی طرح پھر بھی

دل کو میدان کر رہا ہوں میں


ہائے امید! پھر حقیقت کو

ایک امکان کر رہا ہوں میں


کیسے مجھ کو سکوں کی نیند آئے

قبر کا دھیان کر رہا ہوں میں


اپنا چہرہ بدل بدل کر شاد!

اپنی پہچان کر رہا ہوں میں

آپ کے تبصرے

3000