جو آرزو ہو دلوں میں تو آرزوئے رسول

عبدالکریم شاد شعروسخن

فزوں ز شمس فروزاں ہے آبروئے رسول

ہوا کی طرح پریشان ہے عدوئے رسول


کوئی ہے سنگ بہ دست اور کوئی دعا گو ہے

ادھر ہے غیر کی فطرت ادھر ہے خوئے رسول


کوئی بھی ڈوب کے نکلا نہ اس سمندر سے

تمام خیر کے دریا رواں ہیں سوئے رسول


اندھیرے پھر اسی خورشید رو کے طالب ہیں

تمام خلق ہے مصروف جستجوئے رسول


ورق ورق پڑھے دیوان میر و غالب بھی

ملی نہیں کوئی تشبیہ گفتگوئے رسول


مہک اٹھے در و دیوار دل محبت سے

کبھی فضا کو میسر ہوئی جو بوئے رسول


دل سیاہ میں کوثر کی پیاس بھی ہوگی

تو کیسے سر کو اٹھائے گا رو بہ روئے رسول


نظر میں ہو تو مدینے کا شوخ منظر ہو

جو آرزو ہو دلوں میں تو آرزوئے رسول


الہی! کاش ہو منظر نظر میں طیبہ کا

رخ رسول، دیار رسول، کوئے رسول

آپ کے تبصرے

3000