ماہ صفر اور جاہلی تصورات

محمد اشفاق سلفی عقائد

مذہب اسلام اللہ تعالی کا نازل کردہ صاف ستھرا اور واضح تعلیمات پر مشتمل دین ہے، جو ایمان صحیح اور توحید کامل پر مبنی ہے، اس میں اوہام و خرافات اور بیہودہ افکار ونظریات کے لےو کوئی جگہ نہیں ہے، توہمات کا اصل منشا دین سے جہالت اور عقیدہ توحید کی کمزوری ہے، جو لوگ بفضلہ تعالیٰ دین کا صحیح علم رکھتے ہیں اور جنیں توحید باری تعالی کی معرفت اور تقاضوں کا علم ہے، وہ توہم پرستی کے دلدل میں کبھی نہیں پھنستے، ان کا پختہ ایمان ہے کہ نافع وضار صرف اللہ سبحانہ و تعالی کی ذات ہے، خیر وشر اور صحت و مرض سب کچھ اللہ تعالی کے قضا وقدر کا نتیجہ ہیں، اور جو اسباب شرعى اور حسّى طور پر ثابت ہیں، حصول منفعت کے لےا انیںض بروئے کار لانا اور دفع مضرت کے لیے اسباب شر سے بچنا ضروری ہے، باقی اول وآخر نتیجہ اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے، اسی طرح ان کا ایمان ہے کہ وقت اور زمانہ بذات خود مؤثر نہیں ہوتے، انسان کی خوشی اور غم پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا، کوئی وقت یا مہینہ منحوس نہیں ہوتا، نحوست خود آدمی کے اعمال بد کے سبب حاصل ہوتی ہے، لیکن بد عقیدہ لوگ بجائے اپنا محاسبہ کرنے کے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، بدشگونی و بدفالی نہ صرف اہل جاہلیت کا عقیدہ و نظریہ تھا بلکہ سابقہ امتیں بھی اس مرض میں مبتلا تھیں، قوم ثمود نے حضرت صالح علیہ السلام کو، فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسی کلیم اللہ علیہ السلام کو اور اصحاب القریہ نے داعیان دین و توحید کو منحوس گردانتے ہوئے اپنی شامت اعمال کا انیںل ذمہ دار ٹھہرایا تھا، قرآن مجید میں آیات موجود ہیں۔(ملاحظہ ہو:سورة النمل:۴۷، الأعراف:۱۳۱، يٰسين:۱۸)، کچھ لوگ تو اتنے وہمی اور کمزور عقیدہ کے حامل ہوتے ہیں کہ اگر بلی راستہ سے گزر جائے تو اس کو اپنے لےس باعث خطرہ سمجھتے ہیں، بلا دلیل بعض پرندوں کی آواز کو نیک فالی اور بد فالی سمجھنے لگتےہیں، الو نامی پرندہ کو اپنے گھر اور دیوار پر دیکھ کر موت کا خطرہ محسوس کرتے اور اس کو موت کا پیامبر سمجھتے ہیں۔توہمات کی کوئی حد نہیں ہے، اگر آدمی صحیح عقیدے سے محروم ہو تو ہر آواز پر چونکتا ہے اور ہر چیز کا اپنے حساب سے معنیٰ ومطلب نکالتا ہے۔اسلام میں بدشگونی شرک ہے، ہر وہ چیز جو انسان کو اس کے جائز ارادہ و عمل سے روکے یا ارادہ وعمل کو مہمیز لگائے، بدشگونی ہے۔چنانچہ توہم پرست کبھی اندھے، لنگڑے، کانے لوگوں سے تو کبھی کسی خاص پرندے یا جانور کی آواز سے بدشگونی لیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ سفر پر نکلنے سے پہلے مچھلی کھانا، یا دوران سفر مچھلی دیکھنا نیک شگون تصور کرتے ہیں، مرد کی دائیں آنکھ پھڑکے تو اچھی اور بائیں آنکھ پھڑکے تو بری خبر ملتی ہے، ہتھیلی میں کھجلی ہو تو دولت حاصل ہوتی ہے، یہ اور اس قسم کی تمام بے بنیاد باتیں؛ شرعاً ممنوع اور شرکیہ ہیں،نبی ﷺ کا ارشاد ہے:الطيرة شرك(سنن أبي داود:۳۹۱۰) بدفالی لینا شرک ہے۔
کہتے ہیں کہ ہر قوم کے وارث ہوتے ہیں، بہت سے مدعیان اسلام اپنی جہالت وبد عقیدگی کے سبب توہم پرست ہیں، چنانچہ ماہ شوال، ماہ محرم کے ابتدائی ایام اور ماہ صفر کو خیر وبرکت سے خالی مان کر شادی بیاہ کی تقریبات انجام نہیں دیتے۔ سنیچر اوربدھ کے دنوں کو اور ۱۳ کے عدد کو منحوس خیال کرتے ہیں، اور اس قبیل کی اشیاء بہت ہیں جن کا اعداد و شمار یہاں مقصود نہیں ہے۔
اللہ تبارک و تعالی نے سال کے بارہ مہینے مقرر کیے ہیں، جن میں چار مہینوں کو حرمت والا بنایا ہے، ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم تین پے در پے مہینے ہیں، اور چوتھا حرمت والا مہینہ ماہ رجب ہے، جو جمادی اور شعبان کے درمیان واقع ہے، ان مہینوں میں بطور خاص گناہوں سے پرہیز کرنے کی تاکید ہے، یوں تو ظلم و معصیت کا ارتکاب ہمیشہ ہی حرام ہے، لیکن حرمت والے مہینوں میں گناہوں کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ ماہ رمضان المبارک اور عشرۂ ذی الحجہ خصوصی فضیلت کے ایام ہیں، جیسا کہ دلائل سے ثابت ہے، لیکن اللہ تعالی کی شریعت میں کسی مہینہ اور دن کی کوئی مذمت وارد نہیں ہے۔لہذا بلا دلیل کسی دن یا مہینہ کو خیر و برکت سے خالی سمجھنا، یا اس سے بد شگونی لینا یا اس میں شادی بیاہ اور دوسرے اہم کام انجام نہ دینا، سراسر جہالت اور اللہ ورسول پر افترا پردازی ہے، اور پھر ان ایام میں موہوم مصائب و آلام سے بچنے کے لے خود ساختہ عبادات یا اوراد ووظائف کا اہتمام کرنا مزید شرک و بدعات کو فروغ دینا اور گمراہی کے قعر مذلت میں پڑنا ہے۔گویا ایک نہ شد دو شد۔
اہل جاہلیت اور ان کے ہمنوا بدعقیدہ اور جاہل لوگ ماہ صفر کو، جو اسلامی کیلنڈر کے حساب سے دوسرا مہینہ ہے، خیر و برکت سے خالی، منحوس اور مصائب وآلام کے نزول کا مہینہ سمجھتے ہیں اورخرافی اعمال بجا لاتے ہیں، جن سے ان کے تو ہمات میں اضافہ ہونے کے ساتھ، دین سے ان کی دوری بڑھتی چلی جاتی ہے۔
اہل جاہلیت کبھی تو ماہ صفر کو ماہ محرم کا بدل قرار دے کر جنگ و قتال سے باز رہتے، جس کو قرآن نے ان کے کفر کی جسارت وزیادتی سے تعبیر کیا ہے:
إِنَّمَا النَّسِيءُ زِيَادَةٌ فِي الْكُفْرِ يُضَلُّ بِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا وَيُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللَّهُ زُيِّنَ لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ وَاللَّهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ(سورۃ التوبة:۳۷) مہینوں کا آگے پیچھے کردینا کفر کی زیادتی ہے، اس سے وہ لوگ گمراہی میں ڈالے جاتے ہیں جو کافر ہیں۔ ایک سال تو اسے حلال کرلیتے ہیں اور ایک سال اسی کو حرمت والا کرلیتے ہیں۔
حرمت والے مہینہ محرم کو قتال کے لیے حلال کر لانں، اورجنگ وقتال کے لےح حلال مہینہ صفر کو حرام قرار دے لینے کی جرات وہی کر سکتا ہے، جو کفر میں جری اور اللہ تعالی کی پکڑ سے بے خوف ہو۔
دوسری طرف ماہ صفر کو خیر و برکت سے خالی سمجھتے ہوئے ہر طرح کی تقریبات اور اہم کاموں مثلا شادی ، طویل سفر اور تجارت وغیرہ کے لیے نامناسب گردانتے تھے اسی بدعقیدگی پر رد فرماتے ہوئے رسول گرامی ﷺ نے فرمایا:لا عدوی ولا طيرة ولا هامة ولا صفر(صحيح البخارى:۵۷۵۷،صحيح مسلم:۲۲۲۰) يعنى چھوت لگنا، بدشگونی لینا، الو کا منحوس ہونا اور ماہ صفر کو بے برکت تصور کرنا سب لغو اور باطل خیالات ہیں۔
بيمارى لگنے کے متعلق اہل جاہلیت کا اعتقاد تھا کہ بیماریاں بذات خود اور طبعی طور پر ایک شخص سے دوسرے شخص کو لاحق ہوتی ہیں۔ حدیث کے پہلے جملہ میں اسی اعتقاد کی نفی کی گئی ہے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے صحت مند شخص کا بیمار کے پاس بیٹھنا بسا اوقات بیماری پٹنے کا سبب ہوسکتا ہے اور احتیاط کے پہلو سے ہی حدیثوں میں کوڑھی سے علاحدہ رہنے کی تلقین اور بیمارکو صحت مند کے پاس لانے اور طاعون اور وبائی امراض سے متاثرہ علاقوں میں جانے کی ممانعت آئی ہے۔ شرعی طور پر بندہ اسباب شر سے بچنے کا پابند ہے۔ جس طرح نقصان اور ہلاکت کے اسباب ہیں اسی طرح بیماری کے بھی اسباب ہیں جن سے حفاظت ضروری ہے، اور اگر اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد اور اس کے قضا و قدر پر پختہ یقین ہو تو بیمار سے میل جول رکھنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔
بدشگونی کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ہرزمانہ میں جہلاء اور بدعقیدہ لوگ مختلف اشیاء سے شگون اور بدشگونی لیتے تھے، ایسے لوگوں کے نظریہ باطل پر سخت رد کرنا چاہيے، چنانچہ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ایک پرندہ آواز لگاتا ہوا گذرا، مجلس کے ایک شخص نے کہا :خیر خیر(اچھا ہے، بھلا ہے) تو ابن عباس نے فرمایا :لاخیر ولا شر( پرندہ کی آواز میں کوئی خیر و شر نہیں) گویا غلط اعتقاد پر فوراً ابن عباس نے نکیر فرمائی تاکہ باطل کو پنپنے کاموقع نہ ملے۔ دنیا میں کوئی چیز منحوس نہیں ہے البتہ یہ ممکن ہے کہ کوئی چیز کسی کے لے مسعود ومبارک ہو اور وہی چیز دوسرے کے لےح ناموافق اور نامسعود ثابت ہو، کسی کی صحبت و رفاقت کسی کے لےو باعث خیر و سعادت ہوتی ہے اور دوسرے کے لےا باعث اذیت، جیسے عورت، گھر اور گھوڑا وغیرہ۔ لہٰذا کسی چیز کے ناموافق ہونے اور شرکیہ بدشگونی کے درمیان نمایاں فرق ہے۔ مثلا اگر عورت بدزبان ہو اور مرد کا اس کے ساتھ نباہ ممکن نہ ہو۔ یا کسی کے گھر میں باربار حادثے رونما ہوتےہوں اور بچے ہمیشہ بیمارپڑ تے ہوں، یا سواری خواہ گھوڑا ہو یا گاڑی، اکثر حادثے کا شکار ہوتی ہو تو آدمی کو چاہےش کہ ان چیزوں سے چھٹکارا حاصل کرلے۔ چنانچہ دوسری بیوی کرلے اورگھر اور سواری بدل دے، ممکن ہے وہ الجھنوں سے نجات پاجائے اور بدشگونی کے گناہ سے محفوظ رہے۔
اہل جاہلیت الو نامی پرندہ سے بدشگونی لیتے تھے، حدیث میں اسی خیال خام کی نفی کی گئی ہے۔تمام پرندے ایک جیسے ہیں، ان میں کوئی مبارک یا کوئی منحوس نہیں ۔
اور ’ولا صفر‘ میں جس صفر کی نفی کی گئی ہے اس کے معنی و مراد میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض اہل علم مثلاً امام احمد وامام بخاری رحمہما اللہ کے نزدیک یہ ایک سانپ جیسا کیڑا ہے جو آدمی اور چوپائے کے پیٹ میں پایا جاتا ہے جو عرب کے نزدیک کھجلی سے زیادہ متعدی ہے اور دیگر اہل علم کے نزدیک ماہ صفر مراد ہے۔ مگر مفہوم میں تھوڑا اختلاف ہے۔ کچھ لوگ تو ’نسيء‘ کی حرمت مراد لیتے ہیں، جب کہ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ اہل جاہلیت ماہ صفر کو منحوس اور برکتوں سے خالی مہینہ سمجھتے تھے۔ علامہ ابن رجب حنبلیؒ نے اسی قول کو پسند کیا ہے۔ گویا ماہ صفر کو منحوس اور بے برکت خیال کرنا ممنوع بدشگونی کی جنس سے ہے۔
اس پر طرفہ تماشہ یہ کہ ناعاقبت اندیشوں نے اپنے توہمات کو باور کرانے اور ماہ صفر کی نحوست کو ثابت کرنے کے لے ، جھوٹی روایتوں کا سہارا لیا، چنانچہ ظالموں نے ایک حدیث یہ وضع کر لی:من بشرني بخروج صفر، بشرته بالجنة( جو شخص مجھے ماہ صفر کے اختتام کی خبر سنائے، تو میں اسے جنت کی بشارت سناؤں)
اللہ تعالیٰ واضعین حدیث پر لعنت فرمائے۔
چنانچہ بدعقیدگی کے شکار مرد وزن اس مہینے کو حد درجہ منحوس سمجھتے ہیں اور مصائب وآلام سے نجات پانے کے لےق، ماہ صفر کی ۶ تاریخ کو جانور ذبح کر کے لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں اور آخری بدھ کو چاشت کے وقت یہ ناعاقبت اندیش خود ساختہ چار رکعات نفل، ایک سلام سے اس طرح پڑھتے ہیں کہ ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الکوثر سترہ مرتبہ اور سورۃ الاخلاص پچاس مرتبہ، اور معوذتین (سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) ایک ایک مرتبہ پڑھتے ہیں، اور سلام پھیرنے کے بعد آیت کریمہ:والله غالب علیٰ أمرہ ولکن أکثر الناس لا یعلمون(سورہ یوسف:۲۱) تین سو ساٹھ مرتبہ، جوهرة الکمال تین مرتبہ اور اختتام پر: سبحان ربك رب العزۃ عما یصفون، وسلام علی المرسلین، والحمد لله رب العالمین(سورة الصافات:۱۸۰۔۱۸۲) پڑھتے ہیں۔
مشروع نمازوں کی کیفیات اور اس من گھڑت نماز کی کیفیت کا موازنہ کرنے سے ان کے درمیان مشرق و مغرب کی دوری نظر آتی ہے، اس طرح کی کیفیتوں کے ساتھ کوئی نماز شریعت اسلامیہ میں ثابت نہیں ہے۔ درحقیقت یہ شریعت کے ساتھ کھلواڑ ہے۔ بعض جہلاء، آیات السلام؛ جیسے:’سلام علی نوح في العالمین‘ کو لکھ کر، آخری بدھ کو برتنوں میں رکھتے ہیں، اور دھو کر پیتے اور دوسروں کو وہ گھول بطور ہدیہ ارسال کرتے ہیں، تاکہ بزعم خویش شرور وآلام سے نجات پا جائیں، اسی طرح بتوسل حسن وحسین، وعلی وفاطمہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور بتوسل نبی کریم ﷺ، ہم وغم اور بلا ومصیبت سے سال بھر محفوظ رہنے کی شرکیہ دعا بھی کرتے ہیں۔(خرافات اور بیہودہ اعمال، اور شرکیہ وبدعیہ وظائف وادعیہ سے اللہ کی پناہ)
ایک طرف بدعقیدہ اور وہم پرست لوگوں کے بعض خرافی عقائد واعمال کا کچھ حال اوپر ذکر کیا گیا، دوسری طرف اسلامی تاریخ میں ماہ صفر کے اندر حاصل ہونے والی بھلائیوں کو ملاحظہ کیجےک تو حق وباطل کا فرق نمایاں ہو جائےگا۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ،۱۲ صفر سن۲ ہجری میں، قریش اور بنو ضمرہ سے مقابلہ کے لےب نکلے، جسے غزوہ ابواء کہا جاتا ہے، یہ پہلا غزوہ تها جس میں آپ صلى اللہ علیہ وآلہ وسلم بنفس نفیس شریک ہوئے تھے۔ مؤرخ ابن اسحاق نے لکھا ہے کہ:فتح خیبر ماہ صفر میں ہوا، نبی ﷺ اواخر صفر میں اپنے گھر مکہ مکرمہ سے بغرض ہجرت مدینہ نکلے اورتین دنوں تک غار ثور میں چھپے رہے اور یکم ربیع الاول کو وہاں سے نکل کر ۸ ربیع الاول کو قبا(مدینہ)پہنچے اور ۱۲ کو مدینہ میں قدم رنجہ ہوئے۔ابن اسحاق رحمہ اللہ نےلکھا ہےکہ:حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کی نبی ﷺ سے شادی ماہ صفر میں انجام پذیر ہوئی، اور علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ: فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے شادی سن۲ ہجری ماہ صفر میں ہی انجام پائی، ان کے علاوہ بھی بہت سی حصولیابیاں ہیں، وہم پرستوں کو حقائق کی روشنی میں اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ ہدایت نبویہ سے کس قدر دور کھڑے ہیں، خوشی و مسرت اور آفت و مصیبت سب کچھ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور سب کے نزول وحصول کا وقت بھی اللہ نے ہی مقرر فرمایا ہے، کسی خاص وقت اور مہینہ کو ان امور میں کوئی دخل نہیں ہے، زمانہ اللہ کے حکم کے تابع ہے، رجیع کا دلدوز واقعہ بماہ صفر پیش آیا اور نبی ﷺ کی بیماری کا آغاز بھی ۲۹ صفرکو ہوا اور آپ ﷺ۱۲ربيع الأول كو اپنے رفیق اعلی سے جاملے۔ غرضیکہ بیماری وآزاری لاحق ہونے کا کوئی خاص دن اور مہینہ نہیں ہے، یہ کبھی بھی کسی کو اللہ تعالی کے حکم اور اس کی مشیت سے لاحق ہو سکتی ہے، ایک ہی دن میں کسی کو مصیبت تو کسی کو خوشی ملتی ہے۔ تمام امور کی زمام اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، اللہ تعالیٰ لوگوں کے عقائد واعمال کو درست کردے اور عقیدہ توحید اور اس کے تقاضوں کی تکمیل ہم سب کے لےم آسان فرما دے۔ إنه ولي التوفيق۔

آپ کے تبصرے

3000