کنبے، قبائل اور علاقوں کی طرف انتساب کی مختصر تاریخ

فاروق عبداللہ نراین پوری تنقید و تحقیق

اللہ رب العالمین کا ارشاد ہے:
وَجَعَلْناكُمْ شُعُوباً وَقَبائِلَ لِتَعارَفُوا [سورۃ الحجرات:١٣] اور ہم نے تمھیں کنبے اور قبائل میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔
کنبے، قبائل اور بُلدان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اسلام سے پہلے بھی اہل عرب اپنے آپ کو آباء واجداد اور قبائل کی طرف منسوب کرتے تھے۔ یہیں سے ”علم الانساب“ جیسا ایک اہم علم پیدا ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیکھنے کا حکم بھی دیا ہے، آپ کا ارشاد گرامی ہے:
تعلموا من أنسابكم ما تصلون به أرحامكم (تم اپنے انساب کو سیکھو جس سے صلہ رحمی کر سکو)
[جامع الترمذى، باب ما جاء فی تعلیم النسب:٣/٤١٩ وغیرہ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ صحیح الجامع الصغیر حدیث نمبر:٢٩٦٥]
صحابہ کرام میں ابو بکر صدیق، ابو جہم بن حذیفہ عدوی اور جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہم کو اس فن میں بڑا اونچا مقام ومرتبہ حاصل تھا۔ بلکہ خلفائے راشدین کو علم الانساب کا بڑا ماہر مانا جاتا تھا۔ [دیکھیں: جمہرۃ انساب العرب لابن حزم: ص٥]
اس فن پر متعدد کتابیں بھی لکھی گئی ہیں جن میں سے چند مشہور کتابیں یہ ہیں:
١- جمهرة نسب قريش وأخبارها للزبير بن بكار الأسدي المكي
٢- جمهرة أنساب العرب لابن الكلبي
٣- الأنساب للسمعاني
٤- جمهرة أنساب العرب لابن حزم
اسلام سے پہلے اہل عرب کی عادت تھی کہ وہ خاندان اور قبائل کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا اور گاؤں، دیہات اور شہروں میں سکونت کا سلسلہ بڑھنے لگا تو جگہوں کی طرف وہ اپنے آپ کو منسوب کرنے لگے۔ [دیکھیں: شرح نخبۃ الفكر لملا علي القاري: ص٧٧٠]
اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حافظ عراقی فرماتے ہیں:
وَضَاعَتِ الأَنْسَابُ في البُلْدَانِ … فَنُسِبَ الأَكْثَرُ لِلأَوْطَانِ
[ألفيۃ العراقي: ص١٨٥]
اور علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد كانت العرب إنما تنتسب إلى قبائلها فلما جاء الإسلام وغلب عليهم سكنى القرى انتسبوا إلى القرى كالعجم (اہل عرب اپنے قبائل کی طرف منسوب ہوتے تھے، جب اسلام آیا اور گاؤں میں رہنے کا رواج بڑھا تو عجمیوں کی طرح وہ بھی گاؤں کی طرف منسوب ہونے لگے) [المقنع في علوم الحديث لابن الملقن:٢/٦٧٤]
اگر ہم اسلامی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو نسبت اختیار کرنے کے متعدد طریقے نظر آتے ہیں۔ چنانچہ بعض قبائل کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں، تو بعض ولاء کی طرف، بعض گاؤں اور شہروں کی طرف، تو بعض آباء واجداد کی طرف، اسی طرح بعض حضرات تجارت اور پیشوں کی طرف بھی اپنے آپ کو منسوب کرتے ہیں۔ [تفصیل کے لیے دیکھیں: الانساب للسمعانی:١/١٩]
”وَلاء“ کی طرف نسبت کا مسئلہ ہو سکتا ہے بعض لوگوں کے لیے سمجھنا تھوڑا مشکل ہو۔ اس لیے اس کی تھوڑی سی تفصیل پیش کر دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔
ولاء کی تین قسمیں ہیں:
پہلی قسم: وَلاء العَتَاقَہ: اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کسی غلام کو کسی نے آزاد کیا ہے تو وہ اپنے مُعتِق (آزاد کرنے والے) کے قبیلے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے۔ جب رُوات حدیث کے متعلق “مولی لہم” کہا جاتا ہے تو ولاء کی یہی قسم اکثر مراد ہوتی ہے۔
مثلا: امام ترمذی رحمہ اللہ اعمش کے متعلق فرماتے ہیں:
والأعمش اسمه سليمان بن مهران أبو محمد الكاهلي وهو مولى لهم (جامع الترمذي:١/٦٦)
علامہ مبارکپوری رحمہ اللہ «وهو مولى لهم» کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
أي نسبة الأعمش إلى قبيلة كاهل من جهة أنه مولى لهم لا من جهة أنه هو منهم صلبية (یعنی قبیلہ کاہل کی طرف اعمش کی نسبت ان کے آزاد کردہ غلام ہونے کے اعتبار سے ہے، نہ کہ وہ صُلبًا اس قبیلہ کے ہیں)
دوسری قسم: وَلاء الاسلام: اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کے ہاتھ پہ اسلام قبول کرے تو اس شخص کے قبیلے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کی ایک نسبت “جُعْفِی” بھی ہے، یہ ولاء الاسلام کی نسبت ہے۔ ان کے اجداد میں سے کسی نے (غالبًا انھیں احنف کہا جاتا تھا) مجوسیت سے توبہ کرکے یمان بن اخنس الجعفی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا تھا، جن کی طرف نسبت کرتے ہوئے انھیں جعفی کہا جاتا ہے۔
تیسری قسم: ولاء الحلف: یعنی کسی قبیلے کے ساتھ باہمی نصرت کا معاہدہ ہو تو اس کی طرف منسوب ہونا۔
(تفصیل کے لیے دیکھیں: تحفۃ الاحوذی ١/٦٢، مرعاۃ المفاتیح ١/٤٣)
موجودہ زمانے میں وطن عزیز میں تعلیمی اداروں کی طرف انتساب کا رواج عام ہوگیا ہے، مثلا: فیضی، سلفی، اثری، سنابلی، محمدی، عالی، بخاری، تیمی، ندوی وغیرہ کی نسبت۔
دوسرے ممالک میں ہو سکتا ہے اب تک یہ سلسلہ رائج نہ ہوا ہو سوائے جامعہ ازہر (مصر) کے۔ وہاں کے فضلا کا ازہری نسبت استعمال کرنا معروف ہے۔ یہاں تک کہ جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے بر صغیر کے بیشتر متخرجین عموما ”مدنی“ نسبت استعمال کرتے ہیں، لیکن خود سعودی طلبہ یہ نسبت استعمال نہیں کرتے۔
ماضی قریب تک علماے ہند کی تاریخ میں بھی علاقوں کی طرف انتساب کا ہی سلسلہ ہمیں ملتا ہے، تعلیمی اداروں کی طرف نہیں۔ مثلا: مبارکپوری، عظیم آبادی، دہلوی، امرتسری، صادقپوری، آروی، بنارسی، اعظمی، وغیرہ کی نسبت۔
بہرحال تعلیمی اداروں کی طرف انتساب کا یہ طریقہ اب معروف ومشہور ہے۔ اور اس میں شرعًا یا عُرفًا ان شاء اللہ کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی کسی مدرسے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے تو اس پر نکیر نہیں کی جاسکتی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے یہ علماے متقدمین کی سنت نہیں ہے، ان کی سنت علاقوں کی طرف منسوب ہونا ہی ہے۔ اور اپنے اسلاف کی سنت ہمیں نہیں چھوڑنی چاہیے، بلکہ اسے زندہ رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔

آپ کے تبصرے

3000