پروفیسر حافظ عین الباری عالیاوی: حیات اور نقوشِ عمل

اشفاق سجاد سلفی تاریخ و سیرت

سال ۲۰۲۰ء علماء ومشائخ اور دعاۃ ورجالِ اسلام کی وفات کا سال رہا۔ اس سال جن عظیم ہستیوں اور نابغہ روزگار شخصیات کی وفات ہوئی، اُن میں نہایت بزرگ عالمِ دین، مغربی بنگال کے داعیِ کبیر، کئی کتابوں کے مولف ومترجم، بنگلہ زبان کے درہ نایاب، مجلہ اہل حدیث (بنگلہ) کے بانی، مدیر ومستقل کالم نگار، صوبائی جمعیت اہل حدیث، مغربی بنگال، مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند اور جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم)، بنارس سمیت کئی تعلیمی ودعوتی اور رفاہی مراکز وجمعیات کے ایک اہم رکن اور جماعت اہل حدیث کے ایک فعال ومتحرک خدمت گار پروفیسر مولانا وحافظ عین الباری عالیاوی؍ رحمہ اللہ بھی ہیں، جن کی وفات ۱۵؍ مئی ۲۰۲۰ء کو شام چھ بج کر دس منٹ پر ہوئی، انا للہ وانا الیہ راجعون!
مولانا وحافظ عین الباری عالیاوی بن شیخ حسین بن شیخ عین الدین کی پیدائش ۱۹۴۵ء میں کولکاتہ کے ریڈی میڈ کپڑے کے صنعتی علاقہ مٹیابرج میں ہوئی۔ آپ کے دادا شیخ عین الدین ایک عالم دین اور شیخ الکل علامہ سید نذیر حسین محدث دہلوی؍ رحمہ اللہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ آپ پانچ بھائیوں میں چوتھے نمبر پر تھے، آپ کے منجھلے بھائی عبدالنور بھی ایک عالم دین تھے۔
آپ نے مٹیا برج میں حافظ عبدالرشید سے ناظرہ قرآن پڑھا اور پھر اُنہی سے قرآن کریم حفظ کیا۔ اس وقت آپ کی عمر صرف دس سال تھی۔ آپ بہت ذہین تھے۔ ایک ہی سال میں پورا قرآن حفظ کرلیا۔ ابتدائی درجات کی تعلیم دھوباپارہ، مٹیابرج پرائمری اسکول میں حاصل کی، اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لےت مدرسہ عالیہ، کولکاتہ (موجودہ عالیہ یونیورسٹی) میں داخل ہوئے، اور دینیات میں عالم، فاضل اور ممتاز المحدثین کی ڈگریاں امتیازی نمبرات سے حاصل کیں۔ مدرسہ عالیہ سے فراغت ۱۹۶۷ء میں ہوئی۔ اس کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں داخلہ لیا اور عربی میں ایم اے کیا۔ آپ نے ڈھاکہ یونیورسٹی، بنگلہ دیش میں بھی تعلیم پائی تھی۔
۱۹۷۵ء میں آپ نے عملی زندگی کی شروعات کی اور مدرسہ عالیہ(عالیہ یونیورسٹی)کولکاتہ میں مدرس بحال ہوئے، اور ۲۰۰۹ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ آپ نے بھر پور تدریسی زندگی (چونتیس سال) گزاری۔
عالیہ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ہونے کے باوجود آپ نے دعوت وتبلیغ اور جمعیت وجماعت سے ہمیشہ وابستگی رکھی، اور بڑھ چڑھ کر دینی ورفاہی اور انسانی خدمات سر انجام دیں۔ مولانا مختار احمد ندوی؍ رحمہ اللہ کے تعاون اور ادارہ ’اصلاح المساجد‘ ممبئی کی نگرانی میں آپ نے مغربی بنگال کے مختلف اضلاع (ہوڑہ، چوبیس پرگنہ، ہگلی، ندیا، مرشدآباد، دیناجپور، مالدہ، بیربھوم) وغیرہ کے مختلف قریہ جات اور مواضع میں پچاس سے زائد مسجدیں بنوائیں۔ سرکاری ملازمت میں ہونے کی وجہ سے دعوتی اسفار کے لےب چھٹیاں نہیں ملا کرتی تھیں، پھر بھی آپ نے مغربی بنگال کے مختلف اضلاع کے علاوہ بہار، جھارکھنڈ، اڈیشہ، سکم اور آسام وغیرہ ریاستوں میں دعوتی دورے کیے، اجلاسوں میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ بنگال کے اکثر دینی وعلمی جلسے اور کانفرنسوں میں آپ کو بحیثیت خطیب اور صدر مدعو کیا جاتا۔ آپ چوں کہ ایک بلند پایہ خطیب تھے۔ اس لےج آپ کا نام اشتہار نامہ پر دیکھتے اور سنتے ہی آپ کے مواعظِ حسنہ وشیریں خطابات کو سننے کے لےے عوام وخواص کی ایک بڑی بھیڑ جمع ہوجاتی تھی۔
بنگلہ زبان کے حلقے میں آپ مقتدیٰ وپیشوا کی حیثیت رکھتے تھے۔ لوگ آپ کی بات سنتے اور مانتے تھے، اور آپ کے حکم اور اشارے کو سر آنکھوں پر رکھتے تھے۔ لسانی اتحاد کی بنیاد پر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کے کئی جماعتی اجتماعات اور کانفرنسوں میں آپ نے شرکت کی اور وہاں کی جماعت کو مستحکم کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ اسی طرح عالمی اہل حدیث کانفرنس، لندن منعقدہ ۲۰۰۰ء میں مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند کی جانب سے شرکت اور خطاب کیا تھا۔
آپ تبلیغِ دین کی بے پناہ تڑپ رکھتے تھے۔ اہلِ علم کو اس راہ میں لگانے کے ساتھ ساتھ اُن کی بڑی حوصلہ افزائی کرتے تھے اور ہر طرح کی مدد بھی کرتے تھے۔ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ مٹیابرج کے علاقے کی ایک مسجد اہل حدیث میں مولانا شوکت علی اثری (گریڈیہہ، جھارکھنڈ) ہر ہفتہ درسِ قرآن وحدیث دیا کرتے تھے۔ ایک دن اُن کا درس کے لےپ جانا ہوا تو ماحول بدلا ہوا پایا، مسجد کے سکریٹری نے انھیں نہ صرف درس دینے سے روک دیا بلکہ بنگلہ زبان میں برا بھلا بھی کہا۔ مولانا نے حافظ عین الباری عالیاوی سے ملاقات کی اور پورا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی بتلایا کہ پتہ چلا ہے کہ ایک تبلیغی مولوی کے کہنے پر مسجد کے ذمہ داران نے یہ حرکت کی ہے۔ حافظ عین الباری عالیاوی صاحب نے کہا، گھبرائیے نہیں، آپ آئندہ ہفتہ حسب معمول درس دینے جائیے، ان شاء اللہ میں عینِ وقت حاضر ہونے کی کوشش کروں گا۔ آئندہ ہفتہ ایسا ہی کیا، اور اس بار بھی مسجد کے سکریٹری منع کر ہی رہے تھے کہ آپ وہاں پہنچ گئے اور بنگلہ زبان میں جوش سے بھری تقریر کی اور دورانِ تقریر کہا کہ یہ مسجد اہل حدیثوں کی ہے اور یہاں کے سارے مصلیان کتاب وسنت کے متبع اور پیروکار ہیں، اس میں کسی گانجا خور کی تبلیغ نہیں چلے گی۔ اس خطاب کا اثر یہ ہوا کہ تبلیغی وہاں سے بھاگ نکلا اور آئندہ دوبارہ اس مسجد کی طرف رخ کرنے کی جسارت نہیں کی۔
آپ نے صوبائی جمعیت اہل حدیث، مغربی بنگال کے ناظم اعلیٰ اور امیر رہ کر وہاں کی جمعیت وجماعت کی شیرازہ بندی میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا۔ آپ مغربی بنگال کی جمعیت وجماعت کے سرپرست کی حیثیت رکھتے تھے۔ گاؤں گاؤں اور علاقے علاقے کے دورے کیے اور اصلاح وتعمیر کے فرائض وذمہ داریاں بحسن وخوبی سر انجام دیں۔
آپ نے مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند کے لےء مغربی بنگال کی جماعت اہل حدیث کی جانب سے فعال قیادت ونمائندگی فرمائی۔ لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہندکے پروگراموں اور خصوصی وعمومی نشستوں میں شرکت کی اور تمام چھوٹے بڑے پروگراموں کو کامیاب بنانے میں مخلصانہ کردار ادا کیا۔
آپ کا جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم) بنارس سے گہرا لگاؤ وتعلق زندگی بھر رہا۔ ۱۹۸۰ء سے ۲۰۱۷ء تک آپ جامعہ کی مجلسِ شوریٰ کے ایک اہم ممبر رہے، اور تمام ہی شورائی مجلسوں میں شرکت کرتے رہے اور اپنی گراں قدر آراء وتجاویز سے نوازتے رہے۔ جامعہ سلفیہ کے کولکاتہ پہنچنے والے نمائندوں کی اہلِ ثروت حضرات سے ملاقات کراتے اور تعاون دلواتے تھے۔
جامعہ سلفیہ والے آپ کی بڑی قدر کرتے تھے۔ جامعہ میں ۲۴؍ اکتوبر ۲۰۱۹ء، جمعرات کو ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس میں سعودی عرب کی تین بڑی یونیورسٹیوں کے اعلیٰ ذمہ داران (مدیر جامعۃ الامام محمد بن سعود، ریاض، وکیل جامعہ ام القریٰ، مکہ مکرمہ، وکیل الجامعۃ الاسلامیۃ، مدینہ منورہ) نے شرکت کی تھی، اس میں ملک کی اہم شخصیات بھی مدعو اور شریک تھیں، جن میں آپ بھی تھے۔ پروگرام دس بجے دن شروع ہوا۔ سیمینار ہال بھرا ہوا تھا۔ میں نے دیکھا کہ آپ ہال میں تشریف لائے اور سامعین کی کرسیوں کی طرف بڑھے اور کسی ایک کرسی پر بیٹھنے ہی جا رہے تھے کہ ناظمِ جامعہ مولانا عبداللہ سعود سلفی نے آپ کو اسٹیج پر مدعو کیا اور عرب مہمانوں کے ساتھ بیٹھایا۔
ہمارے علاقہ جھارکھنڈ، یہاں کے علماء وعوام، دعاۃ ومدرسین اور مدارس وجامعات سے آپ کے گہرے دعوتی وتعلیمی تعلقات استوار رہے۔ جھارکھنڈ میں قائم مدارس وجامعات کے دورے کیے۔ اُن کے لےا تعاون اور امداد کے خصوصی سفارشی خطوط صوبائی جمعیت اہل حدیث، مغربی بنگال کے لیٹرپیڈ پر لکھ کر دیے۔ جامعہ رحمانیہ، مدھوپور، دیوگھر ریاستِ جھارکھنڈ کا ایک تعلیمی ودعوتی ادارہ ہے۔ اس کی تاسیس ۱۹۸۶ء میں علم ودعوت کے فروغ واشاعت کے ساتھ ساتھ مدھوپور شہر اور اس کے مضافات سے فتنہ انکارِ حدیث کا خاتمہ کرنے کے لےو عمل میں آئی تھی۔ اس ادارہ کے لےپ ۲؍ فروری ۱۹۸۹ء کو ایک سفارشی خط لکھ کر دیا تھا، جس میں آپ نے لکھا ہے:
’’برادرانِ اسلام وہمدردانِ ملت!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مدھوپور (ضلع دیوگھر، بہار [حال جھارکھنڈ]) ایک مشہور شہر اور مرکزی مقام ہے۔ اقتصادی لحاظ سے یہ علاقہ پسماندہ ہے۔ اس علاقے میں جماعتِ اہلِ حدیث کے افراد کمزور اور منتشر ہیں۔ اس کے مقابل اہلِ بدعت ومنکرینِ حدیث منظم اور طاقتور ہیں۔
ایسی حالت میں چند حساس بزرگوں اور نوجوانوں نے علاقہ کی نئی نسل کو اس فتنہ سے محفوظ رکھنے کے لیے درس وتدریس اور دعوت وتبلیغ کا ایک ادارہ ’جامعہ رحمانیہ‘ کے نام سے تقریباً پانچ بیگھے قطعہ اراضی پر قائم کیا ہے، فللہ الحمد، جس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم بھی ہوتی ہے۔ بیرونی طلباء کے لیے طعام وقیام کا بھی انتظام ہے۔ فی الحال چھ کمروں کی تعمیر ہوسکی ہے، جو نا کافی ہے۔ اس کے علاوہ چہار دیواری، کنواں وغیرہ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ نیز مرحلہ وار تعمیری منصوبے زیرِ عمل ہیں۔ ادارہ کی بقا وترقی کے لیے اہلِ خیر حضرات سے ہم پُر زور اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کارِ خیر میں زیادہ سے زیادہ حصہ لے کر عنداللہ ماجور اور عندالناس مشکور ہوں۔ إن اللہ لا یضیع أجر المحسنین۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
خادمِ جمعیتِ اہلِ حدیث
عین الباری عالیاوی
ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث، مغربی بنگال‘‘
[تعارف: جامعہ رحمانیہ، ص: ۳۴]
آپ کا ایک اہم کام یہ ہے کہ آپ نے مٹیابرج سیوا سدن، اسلامیہ میڈیکل ریسرچ سنٹر (کولکاتہ)، اقرا گرلس ہائی مدرسہ، مٹیابرج، بردوان المامون فاؤنڈیشن، مولانا ابوالکلام آزاد ہاسٹل، ہگلی، فُرفُرہ ہاسٹل، کولکاتہ، اقرا ماڈل اکیڈمی، چابدانی وغیرہ اداروں کو جدہ اسلامک بینک سے امداد دلائی تھی۔ مدرسہ رحمانیہ، دھولیان، مرشدآباد [تاسیس: ۱۹۸۴ء۔۱۴۱۴ھ] کے آپ بانیوں میں سے تھے، اور پوری زندگی اس کے جنرل سکریٹری رہے، اور ادارہ کو ترقی دلانے میں اہم خدمات پیش کیں۔ مدرسہ ان کی نگرانی میں مرحلہ فضیلت تک پہنچا۔
اس مدرسہ کے سالانہ جلسوں کو بڑے اہتمام سے منعقد کیا کرتے تھے، اور اُن میں ملک کے بڑے بڑے واعظین وخطباء اور مقررین کو مدعو کیا کرتے تھے۔ ۵؍ دسمبر ۱۹۹۲ء کو منعقد ایک پروگرام میں معروف مقرر مولانا مختار احمد ندوی؍ رحمہ اللہ کو مدعو کیا تھا۔ Findglocal نامی ویب سائٹ پر مولانا شیر خان جمیل احمد عمری کاایک سفرنامہ اپلوڈ ہے، جس میں انھوں نے مولانا مختار احمد ندوی اور مولانا عین الباری عالیاوی؍ رحمہما اللہ کے ساتھ ویسٹ بنگال کے فرکہ بارڈر کے قریب ’دھولیان‘ گاؤں میں واقع مدرسہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کا ذکر کیا ہے، البتہ انھوں نے مدرسہ کا نام ’مدرسہ محمدیہ‘ لکھا ہے، جو مدرسہ رحمانیہ ہونا چاہےں۔ یادگار مجلہ اہل حدیث، دہلی کے صفحہ نمبر: ۳۱۲ پر اس مدرسہ کا نام ’جامعہ رحمانیہ‘ لکھا ہوا ہے۔ میں نے حافظ عین الباری عالیاوی؍ رحمہ اللہ کے ایک قریبی عالم مولانا شوکت علی اثری سے اس کی تحقیق کی تو اُنھوں نے بتلایا کہ ادارہ کا نام ’مدرسہ رحمانیہ‘ ہی ہے۔
آپ نے ترجمہ وتصنیف اور صحافت میں بھی گراں قدر کارنامے انجام دیے۔ آپ نے مجلہ ’اہل حدیث‘ بنگلہ زبان میں جاری کیا، اس میں ہمیشہ اداریے، دروسِ قرآن وحدیث اور مقالات ومضامین لکھے،اسی طرح اس کے ذریعہ ملکی وبین الاقوامی سطح پر سلفیت اور توحید وسنت کے خلاف اٹھنے والے تمام تر فتنوں اور پروپیگنڈوں کا جواب کتاب وسنت اور منہجِ سلف کی روشنی میں دیتے رہے۔ آپ نے پچاس سے زائد علمی، دینی ودعوتی کتابیں تصنیف کیں۔ بیشتر کتابیں بنگلہ زبان میں ہیں۔ آپ کی ایک کتاب ’مسائل قربانی مع توضیحات عینی‘ جامعہ سلفیہ، بنارس سے شائع ہوئی ہے۔ آپ کا سب سے اہم تصنیفی کام قرآن کریم کا بنگلہ زبان میں ترجمہ اور تفسیر ہے۔ آپ کی بعض کتابیں مغربی بنگال کے اکثر وبیشتر مدارس وجامعات اور مکاتب میں داخل نصاب ہیں۔ آپ نے ابتدائی درجات کے طلبہ وطالبات کے لیے بنگلہ زبان میں ’سلفی قاعدہ‘ نامی کتاب لکھی ہے، جو لگ بھگ ہر جگہ پڑھائی جاتی ہے۔ آپ نے دو جلدوں میں ’آئینہ تحفہ صلاۃ مصطفی‘ نامی ایک اہم کتاب تصنیف کی ہے، جس کی مقبولیت وپذیرائی کا عالم یہ ہے کہ بنگلہ زبان جاننے اور بولنے والے علماء ومناظرین اسے علمی گفتگو اور بحث ومناظرہ میں اہم مرجع کے طور پر پیشِ نظر رکھتے ہیں۔
آپ مختلف موقعوں پر مختلف اعلیٰ عہدے ومناصب پر فائز کیے گئے۔ جامعہ سلفیہ، بنارس کی مجلس شوریٰ کے ممبر (۱۹۸۰ تا ۲۰۱۷)، جامعہ محمدیہ، منصورہ، مالیگاؤں کی مجلس شوریٰ کے ممبر (۱۹۸۲ تا ۱۹۸۶)، نائب ناظم مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند (۱۹۹۰ تا ۱۹۹۵، اور ۲۰۰۶ تا ۲۰۱۱)، نائب امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث، ہند (۲۰۱۲ تا ۲۰۱۷)، ناظم اعلیٰ صوبائی جمعیت اہل حدیث، مغربی بنگال (۱۹۸۹ تا ۱۹۹۸)، امیر صوبائی جمعیت اہل حدیث، مغربی بنگال (۱۹۹۹ تا ۲۰۱۷)، اور رکن جدہ اسلامک بینک برائے پوربی وشمالی ہند (۱۹۸۵ تا ۲۰۰۱) رہے۔ آپ نے ان جلیلِ قدر عہدوں اور مناصب پر رہ کر گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔
آپ ایک بہت بڑی ہستی تھے اور بلند اخلاق وکردار کے مالک انسان تھے۔ میں نے جھارکھنڈ کے ایک معروف عالمِ دین، جامعہ امام ابن باز الاسلامیہ، گریڈیہہ کے شیخ الجامعہ شیخ عبداللہ محمد سلیمان مدنی سے آپ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے ایک تاثراتی تحریر لکھ کر دی، جس میں انھوں نے حافظ عین الباری عالیاوی رحمہ اللہ کی شخصیت کا ایک جامع تعارف کرایا ہے، لکھتے ہیں کہ:
’’۱۹۷۴ء کے کچھ مہینے اور ۱۹۸۰ء کے کچھ مہینے اور ان دونوں کے بیچ کے سال جامعہ سلفیہ، بنارس میں میری طالب علمی کا زمانہ ہے۔ اس دوران مولانا وحافظ عین الباری عالیاوی؍ رحمہ اللہ سے بارہا ملاقاتیں ہوئیں۔ جامعہ سلفیہ سے ان کو قلبی لگاؤ تھا، جو بالکل بجا تھا۔ جامعہ کی تعریف میں رطب اللسان رہتے تھے۔ غالباً آپ جامعہ سلفیہ کے ممبر تھے۔ لہٰذا اکثر وہاں آپ کی آمد ہوتی رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی بار جب دارالحدیث ہال میں میری ملاقات اُن سے ہوئی تو اتنی بڑی شخصیت کو سامنے دیکھ کر میرے اندر کچھ گھبراہٹ تھی کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ مجھے لائقِ اعتنا نہ سمجھیں۔ یا ایسا سوال کر دیں کہ میرا ناطقہ بند ہوجائے۔ لیکن ایسا کچھ نہ ہوا، بلکہ آپ بڑی توجہ وتواضع سے ملے اور احترام کا جواب شفقت وپیار سے دیا۔ عربی زبان میں گفتگو کی، اور یہ میرا محبوب مشغلہ تھا۔ مجھے بڑی خوشی ہوئی اور میرے اندر جو خوف اور ڈر تھا، وہ ختم ہو گیا۔ اب بڑی بے تکلفی سے بات ہوتی تھی اور اکثر اپنے تجربات کی روشنی میں بڑے نیک اور مفید مشوروں سے نوازتے تھے۔ عربی زبان میں گفتگو پر بہت زور دیتے تھے۔ آپ کے بارے میں میری رائے کچھ اس طرح ہے:
آپ بڑے خلیق اور ملنسار تھے۔ جامعہ سلفیہ اور اس کے اساتذہ وطلبہ سے محبت تھی۔ جماعت وجمعیت سے والہانہ عقیدت تھی۔ زندہ دل اور متحرک آدمی تھے۔ تصنیف وتالیف سے بھی شغف رکھتے تھے۔ جو بھی لکھتے تھے، پوری تحقیق کے ساتھ لکھتے تھے۔ ان کی رحلت سے خصوصاً مغربی بنگال کی سرزمین میں کئی اعتبار سے ایک خلا پیدا ہوگیا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت جلد اس خلا کو پُر کر دے، ان کا نعم البدل عطا کر دے، ان کی ینکیوں کو قبول فرما لے، لغزشوں کو در گزر کر دے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرما دے!
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے‘‘
یہ عظیم انسان، بے لوث داعی ومبلغ اور خادمِ قوم وملت اور ملک ووطن اب ہمارے بیچ نہیں رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے اعمال وکارناموں کو قبول فرمائے، اور جنتِ بریں میں داخل کرے، آمین!

آپ کے تبصرے

3000