خدا را اب توہوش کے ناخن لیجیے!

تسلیم حفاظ عالی سماجیات

آج پوری امت مسلمہ نہایت ہی نا گفتہ بہ حالات سے گزر رہی ہے۔ حصن اسلام پر چہار طرف سے اعداے دین کی یلغار ہے۔ مسلمانوں کی حالت سمندروں کے جھاگ کی مانند بے وقعت اور اس خس و خاشاک کی طرح بے ثبات ہو چکی ہے جسے آب باراں کی معمولی سی روانی بہا لے جاتی ہے۔مسلمانوں کے خون اس قدر ارزاں ہو چکے ہیں کہ پانی کی طرح بہائے جا رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث دعوت فکر دیتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کی زبوں حالی کا منظر نامہ بڑے ہی درد و کرب کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ چناں چہ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ دیگر قومیں تم پر ایسے ہی ٹوٹ پڑیں جیسے کھانے والے پیالوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ تو ایک کہنے والے نے کہا: کیا اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ تم اس وقت بہت ہوگے، لیکن تم سیلاب کے جھاگ کی مانند ہوگے، اللہ تعالی تمھارے دشمنوں کے سینوں سے تمھارا خوف نکال دے گا اور تمھارے دلوں میں “وہن” ڈال دے گا۔ تو ایک کہنے والے نے کہا: اللہ کے رسول! “وہن” کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دنیا کی محبت اور موت کی نا پسندیدگی ہے۔ (صحیح ابوداود، کتاب الملاحم:٤٢٩٧)
مندرجہ بالا حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشین گوئی فرمائی ہے میرے خیال سے وہ آج سو فیصد صادق آچکی ہے۔ پوری دنیا میں بالعموم اور ہندوستان میں بالخصوص آج مسلمان ذلیل و خوار ہیں، ان کے مال و اسباب اور عزت و آبرو کے ساتھ کھلواڑ عام ہو چکا ہے، ان کے لہو کی ارزانی جگ ظاہر ہے۔ تخریب پسند عناصر نڈر ہوکر بلا خوف مزاحمت مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے انھیں زدوکوب کررہے ہیں۔ کبھی سی اے اے اور این آر سی کے ذریعے اپنے ہی ملک میں مسلمانوں کو خانماں خراب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، کبھی فساد انگیز فلمیں بناکر مسلم قوم کو ظالم اور ہندو کو مظلوم بنا کر پیش کیا جاتا ہے، کبھی شعائر اسلام پر بے جا اعتراضات کرکے مسلمانوں کو پریشان کیا جاتا ہے، کبھی بڑے بڑے دھرم سنسد بلا کر مسلمانوں کے قتل عام اور انھیں خانماں آوارہ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے، کبھی مذہبی جلوسوں کے نام پر ماحول کو نفرت انگیز بنانے کی کھلے بندوں کوششیں ہوتی ہیں، ستم بالاے ستم تو یہ ہے کہ پولیس بے قصور مسلمانوں کو گرفتار کرکے ان کے گھروں پر بلڈوزر چلاتی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ایسی تمام حرکات انجام دینے والے مجرموں کو شاباشی دی جاتی ہے، اور اگر کوئی انصاف پسند اور انسانیت دوست آدمی ان مجرمانہ حرکتوں کے خلاف آواز اٹھانے کی جرات کرتا ہے تو اسے خاموش کرنے کے لیے ہر طرح کے ناپاک حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔
ایسی بھی بات نہیں ہے کہ مسلمان اپنے کشیدہ حالات سے یکسر غافل ہیں، انھیں اپنی زبوں حالی سے بالکل واقفیت نہیں ہے، وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے کسی غیبی امداد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ مرض زبونی کی تشخیص جاری ہے، اسباب و علل کی تحقیق اور علاج کی ترکیب پر غور و خوض کرنے کے لیے بڑے بڑے پروگرام، اجتماعات اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ دانشوران قوم و ملت، اساطین علم و فن اور ارباب بست و کشاد امت کی رہنمائی کرنے کے لیے بڑی مستعدی کے ساتھ میدان دعوت وارشاد میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کے مواعظ حسنہ، لیکچر اور بیانات و مقالات سے راہ حق کے متلاشی مستفید ہوتے ہیں اور جرائد و مجلات کے صفحات کی آراستگی بھی ہوتی ہے۔ لیکن خاطر خواہ فوائد ونتائج اور ثمرات و اثرات سماج پر مرتب نہیں ہوتے۔زمینی حقائق میں خال خال ہی تبدیلی نظر آتی ہے۔ اتحاد و اتفاق، اخوت و بھائی چارہ، تعاون و تناصر، فرائض و واجبات کی پابندی، شرک و بدعات سے اجتناب اور کتاب وسنت کے اعتصام و تمسک پر پیش کردہ بیانات و مقالات بسا اوقات بے سود نظر آتے ہیں۔ دن بدن خود احتسابی کے جذبات عنقا ہوتے جارہے ہیں، زبان و قلم کا استعمال الزام تراشیوں، افتراپردازیوں اور لن ترانیوں کے لیے کرنا ایک طرح کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اتہامات و الزامات کا تبادلہ زوروں پر ہے۔ ہر شخص نے اپنے آپ کو مصلح قوم اور دوسرے کو مفسد، غدار، خائن، گھوٹالہ باز، خود غرض، مفاد پرست اور نہ جانے کن کن بیہودہ القاب سے ملقب کرنے میں پوری انرجی صرف کرنے کو اپنا شغل شاغل بنا لیا ہے۔
جن پر قوم و ملت کو ایک متحدہ پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی ذمہ داری ہے وہ خود تحزب و تشتت کی عمیق کھائیوں میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور امت کو مختلف خانوں میں منقسم کرنے کی سعی نا مسعود میں مصروف ہیں۔ دیکھا جا رہا ہے کہ بعض عاقبت نا اندیش لو گوں نے جنھیں بزعم خویش اپنی قلمی طاقت پر بڑا ناز ہے قلم کے جارحانہ استعمال کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے، وہ محض دوسروں کے عیوب و نقائص نکالنے کے درپے رہتے ہیں، ان کی متجسسانہ نگاہیں دوسروں کی غلطیوں اور فروگزاشتوں پر ٹکی رہتی ہیں اور جب بھی موقع میسر ہوتا ہے اپنے قلم کو کیچڑآلود کرنے سے نہیں چوکتے۔
مثبت تنقید جس کا مقصد اصلاح ہو اور جارحیت سے خالی ہو یقیناً درست ہے۔ بلکہ بسا اوقات ضروری ہوجاتی ہے تاکہ زبان و قلم کی بے ضابطگی عام نہ ہو، کچھ بولنے یا لکھنے سے پہلے آدمی سو بار سوچنے پر مجبور ہو اور شتر بے مہار کی طرح ان دو عظیم نعمتوں کا غلط استعمال کر کے ان کی بے قدری و بے توقیری نہ کرے۔
ملک کے مو جودہ حالات کے پیش نظر ارباب زبان و قلم کی ذمہ داری بنتی ہے کہ آپسی اختلافات و نزاعات کو ہوا نہ دیں۔ ہر ایسے کردار و گفتار سے اجتناب کریں جس سے اختلاف کی خلیج میں مزید وسعت پیدا ہوتی ہے۔ غلط کار کی تغلیط کا مثبت اور غیر جارحانہ انداز اختیار کریں۔ صحیح کام کرنے والوں کی تحسین کرنے میں کنجوسی نہ کریں۔ اپنی صلاحیتوں کا استعمال تعمیر کے لیے کریں اور تخریب سے کوسوں دور رہیں۔ جھوٹی دادطلبی کے لیے بیداد کا ارتکاب ہرگز نہ کریں۔ ورنہ اس امت میں جو کچھ بھی بچا کھچا اتحاد ہے، اس کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ اور شر پسند عناصر اپنے اہداف و مقاصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔ان کی درندگی و خونخواری میں مزید شدت پیدا ہو جائے گی اور وہ اس قوم کی رگوں میں باقی ماندہ خون کے قطروں کو چوسنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔ مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ٹوڑنے کے لیے ابھی انھیں کم از کم سی اے اے، این آرسی، لو جہاد، گئورکشا، گھر واپسی وغیرہ جیسے بے بنیاد ہتھکنڈوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، کل انھیں ان سہاروں کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ آج مسلکی پچ اور فقہی جمود کی وجہ سے انھیں طلاق ثلاثہ میں مداخلت کر نے کا موقع ملا ہے۔ قوم مسلم کے آپسی انتشار کی وجہ سے حجاب، اذان، لاؤڈ اسپیکر، حلال گوشت، اردو، جمعہ یہاں تک کہ نماز تک کو نشانہ بنانے کی جرات ہوئی ہے۔ اگر مسلمانوں نے کتاب و سنت کو اپنا مرجع و ماوی نہیں بنایا، اور مسلکی جکڑبندیوں سے آزاد ہو کر متحدہ پلیٹ فارم قائم نہیں کیا، تو خاکم بدہن کل ان کی پوری شریعت میں مداخلت کی راہیں ہموار ہو جائیں گی۔ دشمن بڑی بے باکی کے ساتھ ان کی شریعت میں دخل اندازی کریں گے اور مسلمان مفترق و منتشر ہونے کی وجہ سے ان کا کچھ بگاڑ نہیں پائیں گے۔
اس لیے وقت کی نزاکت کو سمجھیے۔ اللہ تعالی نے اگر آپ کو زبانی یا قلمی طاقت سے نوازا ہے تو اس کا صحیح استعمال کیجیے، کتاب و سنت کی واضح، صریح اور صحیح ہدایات کی روشنی میں اختلاف کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کیجیے۔ اپنےقلم و زبان کو منفی اور جارحانہ استعمال سے دور رکھیے۔ عوام کو چاہیے کہ صبروتحمل اور دعا سے کام لیں، جذباتیت کا مظاہرہ ہر گز نہ کریں اور مسلم قیادت کی ذمہ داری ہے کہ خواب خرگوش سے بیدار ہوکر ایسے اقدامات کرے جن کا م وقت بڑی شدت کے ساتھ تقاضا کر رہا ہے۔ مصلحت پسندی کے نام پر مزید خاموشی اور گھاتک ثابت ہوسکتی ہے۔

آپ کے تبصرے

3000