علم میں بھی سرور ہے لیکن

تسلیم حفاظ عالی تعلیم و تربیت

دینی علم کی اہمیت وفضیلت ہر صاحب ایمان واسلام کے نزدیک دو دو چار کی طرح واضح اور روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ توحید، رسالت، نماز، روزہ، زکات، حج اور معاشرت کے دیگر اسلامی آداب و احکام کا ضروری و بنیادی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ایک مسلمان کو اگر توحید کا معنی و مفہوم اور اس کے تقاضوں کا علم نہ ہو، شرک کی حقیقت اور اس کے فسادات و نقصانات کی معرفت نہ ہو، معاشرت کے اسلامی آداب و احکام سے آشنائی نہ ہو، اس کے اخلاق و عادات اور اطوار و کردار سے اسلامی تعلیمات و ہدایات کے اثرات ظاہر نہ ہوں، اس کے معاملات سے اسلام کی مطلوبہ شفافیت مترشح نہ ہو، تو اس کے مسلمان ہونے کا دعوی محض دعوی ہی رہ جائے گا۔
ایک مسلمان کی اولین ترجیح اخروی زندگی میں کامیابی و کامرانی کا ابتغا ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی ساتھ اسلام کے عطا کردہ سنہری ضابطۂ حیات کی روشنی میں دنیاوی زندگی کی بہتری بھی اس کا مطمح نظر ہونا چاہیے۔ مذہب اسلام نے جہاں فکر آخرت پر زور دیا ہے وہیں دنیاوی نصیب و حظ کے نسیان وفراموشی سے بھی منع کیا ہے۔ اس نے جہاں توحید و شرک اور عبادات کے احکام ومسائل کو کھول کھول کر بیان کیا ہے وہیں معاملات اور آداب معاشرت کے کسی بھی باب کو تشنۂ وضاحت نہیں چھوڑا ہے۔
ایک مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ پہلے اسلام کے عطا کردہ دستور زندگی کا علم حاصل کرے اور پھر اس کی روشنی میں اپنی زندگی گزارے۔ اس کے سفر حیات کا آغاز پیغام ربانی ‘اقرأ’ پر عمل سے ہو اور اختتام رب کی خوش نودی کے حصول پر۔ یہی ایک مسلمان کی زندگی کا خلاصہ ہے۔
اسلام کے پیغام نخستین کا تقاضائے اولین معرفتِ رب العالمین ہے۔ ایک مسلمان پر فرض ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے رب کو پہچانے، دین کو جانے اور اس کی روشنی میں دنیاوی امور و معاملات سر انجام دے۔
مدارس و جامعات اور مساجد و مکاتب دین کی تعلیم و تفہیم کے بنیادی مراکز ہیں۔ ہند و بیرونِ ہند میں دینی علوم کے نشر و ذیوع میں مدارس و جامعات ہی کا بنیادی رول رہا ہے۔ ہمارے ملک ہندوستان میں دینی تعلیمات کی نشر و اشاعت اور نسلِ نو کو اسلامی آداب و اخلاق سے روشناس کرانے میں مدارس ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مدارس اسلامیہ کے زوال کا مطلب نئی نسل کے دینی و اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔ کھلے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اسلام کی بقا مدارس کی بقا پر منحصر ہے۔ اگر مدارس زندہ رہیں گے تو اسلام اپنی اصلی شکل میں زندہ رہے گا۔ ایسے میں دینی علوم کے ان قلعوں کی حفاظت کی فکر کرنا اور دینی تعلیم کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہر صاحب ایمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ مدارس دن بدن زوال کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ تعلیمی معیار حد درجہ انحطاط پذیر ہے۔ اچھے اچھے اساتذہ مادیت کی ستم رانیوں اور قہر سامانیوں کے سامنے بے بس ہو کر حصولِ معاش کے دوسرے ذرائع و میادین کی تلاش میں ہیں۔ کئی ایک باصلاحیت فارغینِ مدارس سول سروسز کے اعلی ترین امتحانات میں کامیابی حاصل کرکے دوسری جگہوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح فارغین مدارس کی ایک بڑی تعداد سرکاری ملازمتوں کے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ فارغین کا جو گروپ نکل چکا ہے یا مستقبل میں نکلنے والا ہے، اس کے زبردست اثرات طلبۂ مدارس کے ذہن و دماغ پر مرتب ہونے والے ہیں۔ زمانۂ طالب علمی میں اب ہر طالب علم کا نصب العین عمدہ سے عمدہ سرکاری ملازمت کا حصول ہی ہوگا۔ مجبوری میں کچھ طلبہ مدارس میں پڑھائی کریں گے بھی، لیکن ان کے ذہن و دماغ کے کسی بھی گوشے میں بہتر معلم بن کر مدارس میں تدریسی خدمات انجام دینے کا خیال تک نہیں ہوگا۔ یہ کوئی ہوائی تیر نہیں ہے کہ مدارس کا مستقبل اس کی زد پر نہ آئے۔ بلکہ اس تیر کا براہ راست نشانہ مدارسِ اسلامیہ کا مستقبل اور اس کا معیار تعلیم و تدریس ہے۔ ارباب مدارس کو میرے خیال سے اس کا احساس بھی ہے۔ اس سلسلے میں لکھنے کو تو بہت کچھ ہے اور کئی احباب نے لکھا بھی ہے۔ سردست ذیل کے چند منتشر خیالات پر نگاہ ڈالنا فائدے سے خالی نہ ہوگا۔
مدارس کی زبوں حالی پر سب سے پہلے نظمائے مدارس کو غور و خوض کرنا چاہیے۔ کیوں کہ جہاں وہ ان کے سرد و گرم کو جھیلتے ہیں، وہیں الطاف و عنایات سے محظوظ بھی وہی ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ مدارس و جامعات کے ذمہ داران اپنے اساتذہ کو مہینے میں کم از کم دو تین بار میٹنگ کرکے اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض منصبی کو انجام دینے کا درس ضرور دیتے ہیں۔ آپ اساتذہ اپنے اندر اللہ کا خوف پیدا کریں۔ اخلاص کے ساتھ پڑھائیں۔ جتنی تنخواہ مل رہی ہے اس پر قناعت کریں۔ قناعت پسندی اللہ تعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب ہے۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں مہینوں تک چولہا نہیں جلتا تھا۔ آپ اللہ کا شکر ادا کریں کہ آپ کے گھر میں روزانہ چولہا جلتا ہے۔ ہمارے اسلاف کرام مہینوں کا سفر پیدل طے کیا کرتے تھے آپ کے پاس تو ماشاء اللہ سائیکل ہے، موٹر سائیکل ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
مادیت کے اس دور میں یہ باتیں بڑی اہم اور حوصلہ بخش ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ان باتوں کا انطباق مدرائے مدارس و جامعات پر بھی تو ہونا چاہیے۔ انھیں بھی تو سلف صالحین کے زہد و تقشف کے سبق آموز واقعات سے نصیحت و عبرت حاصل کرنا چاہیے۔ ایسا تو نہیں ہے کہ اخلاص اور قناعت پسندی کا باب صرف اساتذہ کے ساتھ خاص ہے۔ مدرائے مدارس کو اللہ تعالی نے اس سے آزادی کا پروانہ عطا کر دیا ہے۔ وہ شاہانہ طرز بود و باش سے محظوظ ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک لگژری گاڑیاں ان کے عالی شان محلوں کی چمچماتی ڈیوڑھیوں میں قطار در قطار کھڑی ہوں۔ عیش و عشرت کا ہر سامان ان کے پاس میسر ہو۔ ایک استاد کو پورے مہینے میں جتنی سیلری ملتی ہے، ان کے بچوں کا اتنا یومیہ جیب خرچ ہو۔ اور وہ اساتذۂ قناعت شعار کو مزید قناعت پسندی اور مفلسی پر قانع ہونے کی تلقین کریں، تو ظاہر ہے کہ یہ بات عقل و منطق سے بالکل پرے ہی مانی جائے گی۔ باتیں ذرا تلخ ہیں، لیکن حقیقت بھی یہی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ آٹے میں نمک کے برابر کچھ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ اور واقعی وہ محنت و لگن سے کام بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اکثریت آپ کو ایسے ڈکٹیٹر ذمہ داران کی ملے گی جو ہر طرح کے خوف اور احساسِ محاسبہ سے آزاد ہیں۔ ان کا کام بس اپنے اساتذہ کے اخلاص کو ناپنا رہ گیا ہے۔ ایسے مطلق العنان مدرائے مدارس کو چاہیے کہ اپنے آپ کو وقت رہتے ہوئے سدھار لیں۔ اپنے اندر اللہ کا خوف پیدا کریں۔ فرمان رسول « وعن ماله من أين اكتسبه وفيما أنفقه» کو ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھیں۔ پہلے اپنے آپ کو مخلص بنائیں۔ پھر اس کے بعد جب وہ اپنے اساتذہ کو اخلاص کا پاٹھ پڑھائیں گے تو اس میں اثر ہوگا۔
صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ
حقیقت خود کو منوا لیتی ہے مانی نہیں جاتی
تنخواہ کا معیار بلند کیا جائے:
ہر زمانے کا اپنا ایک خاص تقاضا ہوتا ہے۔ مادیت کے اس زمانے کا تقاضا یہ ہے کہ ادنی سے ادنی استاد کی ماہانہ تنخواہ کم از کم ایک مزدور کی ماہانہ مزدوری کے برابر ہو۔ ایک مزدور اگر ماہانہ بیس پچیس ہزار کما لیتا ہے تو ایک استاد کی تنخواہ کم از کم پچیس ہزار ضرور ہونا چاہیے۔ لیکن ہماری حیرت اس وقت دو چند ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ اب بھی ہم نے مکتب کے اساتذہ کو پانچ سے آٹھ اور مدارس کے اساتذہ کو لگ بھگ دس سے بیس کے درمیان محصور کر رکھا ہے۔ مہنگائی کے اژدہے کا منہ دن بدن کشادہ ہوتا جارہا ہے، لیکن اساتذہ کے مشاہرے ہیں کہ انجماد کا شکار ہیں۔ بے چارے اساتذہ بنیادی ضروریات تک کی تکمیل کے لیے پریشان رہتے ہیں۔ آخر ان کے پاس بھی ضمیر ہے۔ ان کے سینوں میں بھی دل دھڑکتا ہے۔ اپنے اوپر ہو رہے ظلم کا احساس انھیں بھی ہے۔ کبھی نہ کبھی لب کُشائی تو کرنی ہی پڑے گی۔ ویسے بھی:
کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتاہے اعجازِ سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
معیار تنخواہ کی گراوٹ ہی کا نتیجہ ہے کہ اچھے اچھے اساتذہ سے مدارس و جامعات اب دن بدن خالی ہوتے جارہے ہیں۔ سابقہ سطور میں گزرا کہ اساتذہ مختلف میادین کا رخ کر رہے ہیں۔ امسال فضلائے مدارس کی ایک معتد بہ تعداد کو سرکاری جاب ملی ہے۔ ایک اچھی خاصی تعداد مختلف امتحانات کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ذہنی انتشار کے ساتھ بھلا کون ہے جو فریضۂ تدریس سے کما حقہ عہدہ بر آ ہو سکے گا۔ تدریس کے رخ زیبا کی آراستگی تو ایسے ہی اساتذہ کے ذریعے ممکن ہے جو فکر معاش سے بالکل آزاد ہو کر یکسوئی کے ساتھ طلبہ کو زیور تعلیم سے مزین کرنے میں منہمک ہوں۔
معیاری تعلیم کے لیے معیاری اساتذہ کی ضرورت ہے۔ اور معیاری اساتذہ کے لیے آپ کو اچھی تنخواہوں کا انتظام کرنا پڑے گا۔ کھوکھلے لفظوں سے اب کچھ نہیں ہونے والا۔اب وقت آگیا ہے کہ مدارس کے اساتذہ کو اس لائق بنایا جائے اور انھیں اتنا مضبوط بنایا جائے کہ طلبہ انھیں اپنا آئیڈیل سمجھنے اور ان کی طرح بننے میں فخر محسوس کریں۔ دینی تعلیم کی ترغیب دینے اور مدارس میں معلمی کا پیشہ اختیار کرنے کی تلقین کرنے میں اساتذہ کے اندر کسی بھی طرح کی سبکی کا احساس پیدا نہ ہو۔ اساتذہ کے بارے میں طلبہ کے ذہن کے کسی بھی گوشے میں یہ تصور بھی نہ پھٹک سکے کہ آپ نے کیا کر لیا ہے۔ آپ نصیحت تو کر رہے ہیں لیکن آپ خود ژولیدہ خاطری کے شکار ہیں۔ لہذا ہمیں اگر مدارس کے مستقبل کو تابناک اور اس کے معیارِ تعلیم کو مضبوط بنانا ہے تو اساتذہ کے معیارِ تنخواہ کو لا محالہ بلند کرنا ہی ہوگا۔ تاکہ پڑھائی کے زمانے ہی سے ایک طالب علم کے اندر مدرسے کا معلم بننے کی خواہش ہو۔ جب کسی معیاری مدرسے کا معلم بن جائے تو سر اٹھا کر وہ کہہ سکے کہ میں فلاں مدرسے کا معلم ہوں۔ اسے بھی مبارک باد کا مستحق سمجھا جائے۔ اس کے لیے بھی لیٹر پیڈ پر تہنیت نامہ لکھ کر نشر کیا جائے، اور اسے بھی بطورِ مثال ذکر کیا جائے۔
کوانٹٹی پر نہیں کوالٹی پر توجہ دیں:
عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر مدرسے والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے ادارے میں باصلاحیت اساتذہ کی ایک بہت بڑی ٹیم ہے۔ کبھی کبھار یہ بات کسی حد تک درست بھی ہوتی ہے۔ لیکن بیشتر اوقات اس دعوے کا کھوکھلا پن بالکل ظاہر ہوتا ہے۔ اس لیے کوانٹٹی سے زیادہ کوالٹی پر دھیان دینا چاہیے۔ پچاس اساتذہ نہ رکھ کر آپ چالیس ہی رکھیں، لیکن حقیقی معنوں میں وہ اساتذہ ہوں۔ اس سلسلے میں ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بہت سارے اہلِ مدارس صرف مدنی فارغین کو اپنے ادارے میں اکٹھا کرنے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ قابلیت سے قطع نظر مدنیت کا لاحقہ ہی ان کے نزدیک ترجیح کا معیار ہوتا ہے۔ ان کے یہاں ہندوستانی فارغین قابلِ اعتنا نہیں۔ حالاں کہ ہونا یہ چاہیے کہ نئے اساتذہ کی بحالی کے وقت اہل مدارس اپنے یہاں ٹسٹ کا ایک معیار رکھیں۔ جو اس معیار پر اتر جائے اسے اس معیار کی مقررہ تنخواہ ضرور دیں۔ خواہ وہ کہیں کا بھی فارغ ہو۔ ایسا کرنے سے ان طلبہ کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی جن کی بیرونی جامعات سے منظوری نہیں آئی ہے اور انھوں نے محنت کر کے اپنے آپ کو کسی لائق بنا لیا ہے۔
اساتذہ اپنے اندر اخلاص پیدا کریں:
دینی تعلیم کے حصول اور اس کی نشر و اشاعت کے لیے اخلاص نہایت ہی ضروری ہے۔ اخلاص کے بغیر نہ علم میں برکت ہوگی اور نہ ہی اس کی نشر و اشاعت کے صحیح مواقع آپ کو میسر ہوں گے۔ مشاہرے کی بڑھوتری کے لیے دانش مندانہ اقدام کرنا اور جائز طریقہ اختیار کرنا آپ کا بنیادی حق ہے۔ آپ اپنے حقِ محنت کا مطالبہ کسی سبکی اور ذلت کے احساس کے بغیر سر اٹھا کر کیجیے۔ جائز اور منافقت سے پاک راستہ اختیار کیجیے۔ چاپلوسی اور ضمیر فروشانہ رویہ اختیار کرنا ایک معلم کے شایانِ شان ہر گز نہیں ہو سکتا۔ ایک حقیقی معلم مر جانا گوارا کرے گا لیکن منافقت اور چاپلوسی کی ہوا کو بھی اپنے قریب سے گزرنے نہیں دے گا۔ آپ کی تقرری اگر کہیں آپسی گفت و شنید کے بعد کسی مخصوص تنخواہ پر ہوگئی ہے اور آپ نے ذمہ داری قبول کر لی ہے، تو اخلاص کے ساتھ اسی تنخواہ پر قانع ہوکر اپنی مفوضہ ذمہ داری کی ادائیگی آپ پر شرعی و اخلاقی طور پر فرض ہے۔ تنخواہ کے کم ہونے کی وجہ سے تدریس میں خیانت کرنا کسی بھی طور پر آپ کے لیے درست نہیں ہو سکتا۔ میں یہ باتیں اس لیے لکھ رہا ہوں کہ چودہ سالہ تدریسی عرصے میں بہتوں کو میں نے اس مرض خبیث کا شکار پایا ہے۔ اب بھی کچھ لوگ آپ کو ایسے ضرور مل جائیں گے جو اپنی ذمہ داریوں کو صحیح سے ادا نہیں کرتے اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ اتنی معمولی تنخواہ میں اس سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ بنا مطالعے کے کلاس میں چلے جاتے ہیں اور ادھر ادھر ٹائم پاس کر کے آجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں جو بھی تنخواہ آپ کو مل رہی ہے، اس کی حرمت کے سلسلے میں مجھ جیسے کم علم کو بھی کسی طرح کا کوئی شبہ نہیں ہے۔
بلا شبہ تعلیم و تدریس پیغمبرانہ مشن ہے۔ اس مشن سے جڑنے کے لیے اخلاص اولین شرط ہے۔ مادیت کی قہر سامانیوں کا مجھے اعتراف ہے۔ لیکن انبیائی وراثت کا حقیقی وارث ہونا ہر کسی کے نصیب میں کہاں ہوتا ہے۔ یہ عنایت اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں پر ہی کرتا ہے۔ اگر آپ کو اللہ تعالیٰ نے دینی علم کی نشر و اشاعت کے لیے منتخب کر لیا ہے تو آپ بڑے ہی خوش نصیب ہیں۔ اخلاص کے ساتھ اس پیغمبرانہ مشن کی تکمیل اور دینی علوم و معارف کی نشر و اشاعت میں وہ لطف و سرور ہے جو دنیا کی بڑی سے بڑی جاب میں نہیں۔ سچ کہا ہے علامہ اقبال رحمہ اللہ نے:
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حور نہیں

آپ کے تبصرے

3000