کیا ہم اہل حدیث ہیں؟

تسلیم حفاظ عالی عقائد

فرد کے مقابلے میں جماعت کی بڑی اہمیت ہے ۔ بسا اوقات اجتماعی طور پر وہ کام ہو سکتا ہے جس کا انفرادی طور پر تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے جماعات و جمعیات اور مراکز و تنظیمات کا قوم و ملت کی تعلیمی ، اقتصادی ،سماجی اور سیاسی ترقی میں ہمیشہ سے اہم کردار رہا ہے ۔ جمعیت اہل حدیث ہند کی داغ بیل بھی ہمارے اسلاف کرام نے اسی لیے ڈالی تھی کہ اس کے تحت تعلیمی و دعوتی کاز کو منظم و منضبط انداز میں انجام دیا جا سکے ۔ اس کے ذریعے عوام میں تعلیمی بیداری لائی جائے۔ صحیح اسلامی عقائد سے لوگوں کو روشناس کرایا جائے ۔ شرک و بدعات اور باطل رسوم و روایات کی مدلل انداز میں بیخ کنی کی جائے ۔ لوگوں کو ضلالت و گمراہی کی دلدل سے نکال کر راہ راست پر گامزن کرنے کی بھرپور کوششیں ہوں ۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق دعوتی و تبلیغی فرائض کو انجام دیا جائے۔اس پلیٹ فارم سے ایسے با صلاحیت دعات و مبلغین تیار کیے جائیں جن کے اندر زمانے کے نت نئے مسائل کا حل پیش کرنے اور اس کے چیلنجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا ہنر موجود ہو ۔ اس کے خلاف کی جانے والی شر انگیزیوں کا دندان شکن جواب دیا جاسکے ۔ ظاہر ہے ان تمام عظیم الشان اہداف و مقاصد کی حصول یابی کے لیے جماعت میں اتحاد و یگانگت کا ہونا اور اس کے امور و معاملات میں شفافیت کا پایا جانا از حد ضروری ہے ۔ذرا سا انتشار اس کے کیے کرائے پر پانی پھیرنے کے لیے کافی ہے ۔ لیکن افسوس! اس کی دہلیز پر انتشار و خلفشار دن بدن اپنا پاؤں پسارتا جا رہا ہے ۔ اس خلفشار کو آب و دانہ مہیا کرنے والے چند ایسے حریصانِ امارت و قیادت ہیں جنھوں نے عالمانہ شان کو گویا گروی رکھ کر دجل وفریب اور رذالت و منافقت کو اپنا وتیرہ بنا لیا ہے ۔ عہدے پر برقرار رہنے کے لیے ان کی پینترے بازیاں اور دسیسہ کاریاں ابلیس کو بھی شرم سار کرنے کے لیے کافی ہیں ۔ ملکی سیاست کے بگاڑ کے سلسلے میں ہم بی جے پی ، کانگریس اور دیگر سیاسی پارٹیوں کی مکاریوں اور فریب کاریوں کا ذکر افسوس ناک لہجے میں اکثر کیا کرتے ہیں کہ یہ پارٹیاں کسی کی نہیں ، بس کرسی کی ہیں۔ انھیں کسی سے کوئی مطلب نہیں ، مطلب ہے تو بس قیادت سے ۔ حصولِ قیادت کے لیے یہ کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ پھر اپنے آپ کو تسلی دے دیتے ہیں کہ چلو ان کے پاس کوئی اخلاقی دستور نہیں۔ اخلاقیات سے انھیں کوئی سروکار نہیں ، اس لیے ضمیر کا سودا کرنا ان کے لیے کوئی بڑی بات بھی نہیں ہے ۔ لیکن دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے والے جب خود بد اخلاقی کا مظاہرہ کرنے لگیں۔ امانت پر گھٹنوں لکچر دینے والے خود خیانت کا ارتکاب ببانگِ دہل کریں۔ منبر ومحراب سے چیخ چیخ کر عہدے اور مناصب سے پرے رہنے کی ترغیب دینے والے ہی خود ان کے حصول کے لیے رذالت و وقاحت کی ساری حدوں کو پھلانگ جائیں۔ معاشرے سے بغض و نفاق کے استیصال کی عظیم ذمہ داری جنھوں نے اپنے کاندھوں پر اٹھا رکھی ہے وہ خود منافقت ،خست و نذالت اور گرگ زدگی کے نت نئے طریقوں سے عملی طور پر لوگوں کو آگاہ کریں۔تو دل پریشان تو ہو گا ہی۔ درد بیچارہ حیران تو ہوگا ہی ۔

ایک دو زخم نہیں سارا بدن ہے چھلنی

درد بیچارہ پریشاں ہے اٹھے تو کہاں سے اٹھے

واقعی عہدہ بڑی ظالم محبوبہ ہے ۔ یہ اپنے عاشق سے کچھ بھی کروا سکتی ہے ۔ فریفتۂ منصب کسی کی بھی چوکھٹ پر جبین فرسائی کر سکتا ہے ۔ حریصِ امارت ضرورت پڑے تو بھنگی تک کی کفش برداری کرنے کو تیار ہوجائے گا ۔ دنیا کا ہر رذالت آمیز کام کر لے گا لیکن عہدے سے مستعفی ہونا گوارا نہیں کرے گا ۔جس طرح ایک بچہ دودھ چھڑانے کے وقت مضطرب و پریشان دکھائی دیتا ہے اور اپنی ماں کو دنیا کی سب سے بڑی ظالم عورت سمجھتا ہے ۔ کچھ اسی طرح کی کیفیت حریصِ امارت کی ہوتی ہے۔ وہ ان لوگوں کو ظالم سمجھنے لگتا ہے جو اسے اس کی نااہلیت کی بنا پر عہدے سے برخاست کرنا چاہتے ہیں ۔ اسے کسی چیز کی کوئی پروا نہیں ہوتی ۔ کوئی اسے خائن کہتا ہے تو کہنے دو ۔ مکار کہتا ہے تو کہنے دو۔ ہر طرح کا لعن طعن اور زجر و توبیخ گوارا ہے ۔ بس گوارا نہیں تو عہدے سے دوری ۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایسا کرنے والا کوئی جاہل آدمی ہو تو اسے معذور سمجھا جا سکتا ہے ۔ اسے حرصِ امارت کے سنگین نتائج سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن ایسی حرکت وہ کرے جس کی زبان ہمیشہ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور دیگر کتبِ حدیث کے ذکر سے مرطوب رہے ، تو اسے سمجھانا بہت ہی مشکل ترین کام ہے ۔ آپ سمجھائیں گے کیا کہ اس نے بخاری کی 7148 نمبر کی حدیث بارہا پڑھی ہوگی۔ اپنے شاگردوں کو اس کا بڑے اہتمام کے ساتھ درس دیا ہوگا ۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ علَى الإمارَةِ، وسَتَكُونُ نَدامَةً يَومَ القِيامَةِ، فَنِعْمَ المُرْضِعَةُ وبِئْسَتِ الفاطِمَةُ.(بخاری:7148)

تم لوگ عنقریب امارت کی حرص کروگے، اور یہ تمھارے لیے قیامت کے دن باعث ندامت و پشیمانی ہوگی، پس کیا ہی بہتر ہے دودھ پلانے والی، اور کیا ہی بری ہے دودھ چھڑانے والی۔

سبحان اللہ!ذرا حریصانِ امارت کی حرص و طمع کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس حدیث پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پیشین گوئی فرمائی تھی اس کا منظر نامہ بالکل ہماری آنکھوں کے سامنے ہے ۔ اس حدیث میں نبی ﷺ نے اس بات کی نشاندہی فرمائی ہے کہ ایک زمانہ ایسا آئےگا کہ لوگ مامور و محکوم بننا پسند نہیں کریں گے، ہر کسی کی دلی حرص و طمع ہوگی کہ اسے حکومت و امارت اور سیادت و قیادت کے اعلی عہدوں پر فائز کیا جائے، اور آج اس بات کا مشاہدہ بخوبی کیا جاسکتا ہے ، ہما شما عہدے اور مناصب کی قطار میں ووٹ کے کٹورے لے کر کھڑے نظر آتے ہیں ، حرص و طمع کا یہ عالم ہےکہ اسلامی سیادت و قیادت کو ان ضمیر فروش لوگوں نے غیر شرعی سیاست کی طرح پلید کرکے رکھ دیا ہے، سوال یہ ہےکہ حصول مناصب کے یہ حریصانہ و طامعانہ جذبات آخر ان شائقینِ امارت کے اندر کار فرما کیوں ہوتے ہیں ، کہیں ذاتی مفاد کو قومی و ملی مفاد پر ترجیح دینا مقصود تو نہیں ؟ اگر ایسا ہے تو ایسے حریصوں کو درج بالا حدیث کے اندر زبان رسالت مآب ﷺ سے ذکر شدہ مثال کو ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے کہ آدمی کو جب امارت ملتی ہے تو اسے بڑی لذت ملتی ہے ، خوب پیسے کماتا ہے اور آناً فاناً غربت و افلاس کے غبار آلود خول سے نکل کرامیرانہ جامہ زیب تن کر کے حقوق و واجبات کی ادائیگی سے غافل ہوکر تنعم و تعیش کی پربہار اور حسین وادیوں میں کھو جاتا ہے، لیکن جب امارت سے دست برداری کا وقت آتا ہے تو اس کی ساری لذتیں حسرتوں سے بدل جاتی ہیں اور اسی دنیا میں اس کے سارے مزے کرکرے ہو جاتے ہیں، ٹھیک اسی طرح جس طرح ایک ماں جب تک اپنے شیر خواربچے کو دودھ پلاتی رہتی ہے بچہ فرحت و انبساط محسوس کرتا رہتا ہے ، لیکن جیسے ہی دودھ چھڑادیتی ہے بچہ لذتِ شِیر کے شیریں احساس سے محروم ہوکر تڑپنے لگتا ہے ،اور روتے بلکتے ہوئے اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرنے لگتا ہے ، اور جہاں تک آخرت کی بات ہے تو حقوق و واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں امارت محض باعث ندامت ہی ہے۔

یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عہدہ و منصب ایک اہم انسانی ضرورت ہے ۔ اس کے ذریعے دین و دنیا کے بہت سارے امور و معاملات کو منظم کیا جاتا ہے اور فتنہ و فساد کو روکا جاتا ہے ۔ عہدے نہ ہوں، لوگ کسی قیادت کے تحت نہ ہوں ، تو فوضویت و لا قانونیت کا بازار گرم ہو جائے گا ۔ اگر سارے لوگ برابر ہوں، ان کا کوئی قائد و سرپرست نہ ہو تو ان کا معاملہ درست ہو ہی نہیں سکتا۔

لا يصلح الناس فوضى لا سراة لهم

اس لیے اجتماعی زندگی کی اجتماعیت و تنظیم کو برقرار رکھنے اور ملک و قوم کو شر و فساد سے محفوظ رکھنے کے لیے کچھ لوگوں کو ذمہ دار مانا جانا بھی ضروری ہے ۔یہاں تک کہ تین آدمی اگر سفر میں نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک کو امیر بنانے کا حکم دیا گیا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ شریعت ایسے اہم کام سے دوری اختیار کرنے کی تلقین کیوں کر رہی ہے۔ تو اس کا جواب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس روایت میں موجود ہے ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:

قُلتُ: يا رَسولَ اللهِ، أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي؟ قالَ: فَضَرَبَ بيَدِهِ علَى مَنْكِبِي، ثُمَّ قالَ: يا أَبَا ذَرٍّ، إنَّكَ ضَعِيفٌ، وإنَّهَا أَمَانَةُ، وإنَّهَا يَومَ القِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إلَّا مَن أَخَذَهَا بحَقِّهَا، وَأَدَّى الذي عليه فِيهَا (صحيح مسلم:1825)

اے اللہ کے رسول ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے کسی جگہ کا عامل(عہدے دار) کیوں نہیں بنا دیتے؟ تو آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھے پر مارا اور فرمایا:اے ابوذر!تو کمزور ہے اور یہ(منصب)ایک اہم امانت ہے۔یہ قیامت کے دن ندامت اور رسوائی کا باعث ہوگا ۔ سوائے اس شخص کے جو اسے حق کے ساتھ(اہلیت کی بنیاد پر)حاصل کرے اور ان ذمہ داریوں کو پورا کرے جو اس کی بابت اس پر عائد ہوتی ہیں ۔

اس لیے عہدہ صرف اور صرف ایسے شخص کو قبول کرنا چاہیے جو اس کا حق صحیح سے ادا کر سکے۔ لوگ جسے پسند کرتے ہوں۔ جس کے اندر عہدے کی حرص نہ ہو ۔ حضرت عبد الرحمن بن سمرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:

لا تَسْأَلِ الإمارَةَ، فإنَّكَ إنْ أُعْطِيتَها مِن غيرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عليها، وإنْ أُعْطِيتَها عن مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إلَيْها(صحيح البخاري:6722)

تو خود کسی منصب و امارت کا سوال نہ کرنا ۔اس لیے کہ یہ منصب اگر تجھے بغیر سوال کیے مل گیا تو اس پر(اللہ کی طرف سے)تیری مدد ہوگی اور اگر سوال کرنے سے تجھے یہ ملے گا تو یہ تیرے سپرد کردیا جائے گا۔ (اللہ تعالیٰ کی مدد شاملِ حال نہیں ہوگی)

بنا بریں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری جمعیت کے انتخابات شریعت کے احکامات کی روشنی میں ہوں۔ جمعیت کا نام جمعیتِ اہل حدیث رکھ کر ہم حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بالائے طاق رکھ دیں گے۔ جمعیت کی تاسیس جس مشن کی تکمیل کے لیے ہوئی تھی، اسے درکنار کردیں گے ۔من مانیاں اور جوڑ توڑ کریں گے ۔فریب کاریوں اور چالبازیوں کے ذریعے اچھے اور دیانت داری کے ساتھ کام کرنے والوں کو اس سے دور کریں گے ۔ ناجائز طور سے اس پر قبضہ جمائے رکھنے کے لیے اوچھی حرکتیں کریں گے تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ حدیث کی علی الاعلان مخالفت کرتے ہوئے ہم اپنے آپ کو اہل حدیث کہیں ۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قوم و ملت کے درد کو اپنا درد سمجھنے اور محاسبۂ نفس کرنے کی توفیق دے ۔ آمین

آپ کے تبصرے

3000