استاذِ گرامی قدر: ایک عبقری، جن کی پہچان انفرادیت تھی

حافظ عبدالحسیب عمری مدنی تذکرہ

’’ تم مستحق تھے جی! بلکہ تم ہی مستحق تھے! مجھے بے انتہا خوشی ہوئی!‘‘۔

میرے لیے یہ محض الفاظ نہیں، ایک باکمال استاذکا لُٹایا اَن مول خزانہ تھا۔ ایک ایسا استاذ جس کی ستایش کے دو بول بسا اوقات زندگی بھر کے لیے ایک ایسا مہمیز بن جاتے تھے، جو ایک بار نہیں باربار تھکے ارادوں کو پھر سے جواں اور رواں دواں کردیتے اور شکستہ جذبات کو سہارا دیتے ہیں۔

یہ موقع تھا جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے میری منظوری آنے کے بعد کا۔ میں اپنی منظوری کی اطلاع دینے اور اساتذہ سے اپنے تعلیمی مستقبل کے لیے دعائیں لینے کے لیے مادر علمی جامعہ دارالسلام پہنچا تھا۔ اساتذۂ کرام نے خوب ہمت افزائی کی اور زادِ سفر کے طور پر بے شمار پند ونصائح سے نوازا۔ استاذ محترم مولانا حافظ حفیظ الرحمن صاحب اعظمی عمری مدنی رحمہ اللہ سے ملاقات فوری نہیں ہوپائی تھی۔ منظوری آنے پر ایک طرف میں خوش تھا تو دوسری طرف بعض حضرات کے دل شکن رویے سے قدرے دل برداشتہ بھی تھا۔ اسی کیفیت کے ساتھ میں ملول اور کبیدہ خاطر مسجد جامعہ کی طرف جارہا تھا کہ دیکھا استاذ محترم سامنے سے کلیہ کی عمارت کی طرف چلے آرہے ہیں۔ میں آگے بڑھا، دور سے ہی سلام کرتے ہوئے آپ کی طرف لپکا تو آپ نے والہانہ انداز سے یہ کہتے ہوئے کہ ’’تم مستحق تھے! بلکہ تم ہی مستحق تھے! مجھے بے انتہا خوشی ہوئی!‘‘ مجھے گلے سے لگالیا۔ ان کے یہ الفاظ صرف الفاظ نہیں اکسیر تھے۔ سارے گلے شکوے دُھل مٹ گئے ۔

بہت سارے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ بات کا بتنگڑ بنانا جانتے ہیں۔ انھیں اپنے الفاظ سے دلوں کو چھلنی کردینا بھی آتا ہے، مگر مخاطب کی کیفیت کو بھانپ کرمحض ایک دو لفظ میں دل جوئی کا سامان مہیا کردینا یہ وصف خال خال کسی کے اندر ہوتا ہے۔ استاذ گرامی اس باب میں بلا مبالغہ اپنی مثال آپ تھے۔

استاذ گرامی کی شخصیت ایک طرف متنوع و متعدد صلاحیتوں اور بے شمار غیر معمولی خوبیوں کا مرقع تھی تو دوسری طرف ہر خوبی میں ایک انفرادیت آپ کی پہچان تھی۔ آپ کی صلاحیتوں کی بات کریں تو بلاشبہ آپ ایک عبقری شخصیت کے مالک تھے۔ اسباب جو بھی رہے ہوں آپ کے طلبہ کے علاوہ دنیا نے آپ سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ ورنہ مجھے اپنے اس دعوے کے لیے کوئی دلیل دینے کی چنداں ضرورت نہ ہوتی۔ عبقری کون ہوتا ہے؟ نبیﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:

فلم أر عبقریا یفري فریہ (بخاری:۳۶۸۲) میں نے عمر جیسا باکمال شخص نہیں دیکھا، جو اپنے کام (خلافت) کو پوری مہارت سے انجام دیتا ہو۔

خلیل بن احمد فراہیدی نے لکھا ہے:

کل جلیل نفیس فاخر من الرجال وغیرھم عند العرب عبقري (معالم التنزیل للبغوي: ۷:۴۵۹) آدمی ہوکہ کوئی چیز عربوں کے نزدیک ہر اس چیز کو عبقری کہا جاتا ہے جو انتہائی عمدہ، اعلیٰ اورنفیس ہو۔

اور ثعالبی نے لکھا ہے:

إذا کان حاذقا جید الصنعۃ في صنعتہ فھو عبقري(فقہ اللغۃ وسر العربیۃ: ۱۱۴) کوئی انتہائی ماہر اور اپنے فن میں یکتا ہو تو اسے عبقری کہتے ہیں۔

استاذگرامی کا یہی معاملہ تھا کہ اللہ نے جو صلاحیت دی چھپر پھاڑ کر دی۔علم وفن، زبان وادب، تحریر وتقریر، شایستگی ولطافت، سنجیدگی وظرافت، جو بھی تھا سب کمال کا تھا۔ عربی زبان پر قدرت ایسی کہ برجستہ تحریر وتقریردونوں آپ کی خاص پہچان تھی۔ عجمی جب عربی بولتے یا لکھتے ہیں تو عام طور پر اجنبیت یا عجمیت کا ایک غیر شعوری احساس انھیں عربی زبان میں تکلف اور تصنع کی طرف لے جاتا ہے۔ استاذ گرامی کی عربی میں بے ساختگی اور آمد کی کیفیت تھی جو فصاحت وبلاغت کا نمونہ تھی۔ تکلف اور تصنع سے پاک، سادگی میں پرکاری کی مثال تھی۔ اردو داں طبقے کو آپ کی اردو تحریر میں جو چاشنی ملتی ہے کچھ یہی کیفیت آپ کی عربی زبان کی تھی۔ ترجمہ، قرآن کریم کا ہو یا کسی اور درسی کتاب کا، ترجمہ کو کبھی ترجمانی بنتے نہیں دیکھا۔ کم سے کم الفاظ میں پورا مفہوم دقت کے ساتھ ادا ہوجاتا، پھر بھی بھاری بھرکم الفاظ سے کلی اجتناب ہوتا تھا۔ معاملہ گفتگو کا ہو یا تدریس کا، اسلوب اس قدر پُرکشش پایا تھا کہ سب آپ کے گرویدہ ہوئے بنا نہیں رہ سکتے تھے۔ شخصیت کے سحر کے ساتھ اسلوب کی یہ جادوگری کمال کی تاثیر رکھتی تھی۔ اس لیے جو ایک بار آپ سے مل لیتا، آپ کو سن لیتا، آپ کو پڑھ لیتا یا آپ سے پڑھ لیتا وہ پھر آپ کا ہی ہو کر رہ جاتا۔

اموی وعباسی دور کے شاعر بشار بن برد نے کہا ہے :

یا قوم أذني لبعض الحي عاشقۃ

فالأذن تعشق قبل العین أحیانا

(میری قوم کے لوگو! میرے کان قبیلے کے ایک محبوب کے عاشق ہوچکے ہیں، کیوں کہ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ نگاہوں سے پہلے کان عاشق ہوجاتے ہیں)

طلبۂ جامعہ کا استاذگرامی کے ساتھ معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ ہمارے دور میں آپ صرف اونچی جماعتوں میں پڑھایا کرتے تھے۔ جن طلبہ نے جامعہ کے احاطے میں مختلف نوعیت کی مجلسوں میں استاذگرامی کے اِکاّ دُکاّ خطاب سنے ہوں، یا بڑے طلبہ کو رطب اللسان پایا ہو وہ مشتاق رہا کرتے تھے کہ کب جماعت پنجم (خامس) میں جائیں اور آپ سے ترجمہ قرآن کا مادہ پڑھیں۔ ہمارے دور میں جامعہ میں یہ ماحول نہیں تھا کہ اتفاقًا کوئی گھنٹی خالی رہ جائے تو طلبہ کسی اور مدرس سے مستفید ہونے کی فکر کریں۔ طلبہ یا تو کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف رہتے یا خوش گپیوں میں مشغول، تاہم دو اساتذہ ایسے تھے کہ طلبہ اگر ان کی گھنٹی پا لیتے تو ایسی صورت میں ضرور ان کے درس میں شریک ہونا پسند کرتے تھے۔ ایک تو شیخ التفسیر مولانا سید عبدالکبیر عمریؒ اور دوسرے انھی کے شاگرد ہمارے استاذ گرامی قدر۔

انفرادیت کی بات کریں تو عالم یہ تھا کہ ہر خوبی آپ میں اپنا ایک الگ اور خاص رنگ اختیار کرلیتی۔ قلم جادو اثر، زبان سحر آفریں، مزاج کبھی عالمانہ تو کبھی مفکرانہ، سادگی اور نفاست پسندی آپ کے شخصی وقار کی آئینہ دار، تحریر اتنی جان دار کہ جو پڑھنے لگتا اس کے سحر میں جکڑ جاتا، اور اسے پتا بھی نہیں چلتا کہ تحریر ختم ہونے تک وہ اس کی قید میں تھا، ہوش تو تب آتا جب تحریر ختم ہوجاتی۔ جادو بیانی ایسی کہ پامال سے پامال موضوع بھی آپ کو دیا جاتا تو ایک ندرت خود بخود اس کے اندر در آتی۔ تحریر ہو کہ تقریر ابتدائی چند لمحوں یا سطروں ہی میں کچھ ایسی بات ہو جاتی کہ پھر کیا قاری اور کیا سامع، سب خود کو آپ کے حوالے کردیتے ۔

سوچتی آنکھیں جن کی گہرائی ناپنے کے لیے بھی جہاں دیدہ آنکھوں کی ضرورت محسوس ہو۔ نگاہوں سے لوگوں کو تولتے بھی تھے اور انھی سے اکثر بولتے بھی تھے۔ گہری نظر ڈال کر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر کو حرکت دیتے تو اشاروں ہی میں بہت کچھ بول جاتے تھے۔ طبیعت میں ایک قسم کی بے نیازی تھی، جو ایک طرف شخصی قابلیت کی غماز تو دوسری طرف اپنی انفرادیت کی پہچان تھی۔ عرب کے قدیم شعرا واُدبا ہوں کہ جدید مصری ادبا وشعرا، یا یہ کہ بر صغیر کے چوٹی کے استاد شعرا، سبھی کو پڑھ رکھا تھا۔ اور پڑھا بھی تو اس طرح اور اس قدر کہ ان کا کلام ہی نہیں، ان کی کتابِ زندگی کے اوراق بھی ہمیشہ آپ کے سامنے کھلے رہتے تھے۔ اس پر مستزاد اشعار کے انتخاب اور تحریر وتقریر میں ان کو برتنے کا ایسا سلیقہ پایا تھا کہ اس کی نظیرکم ہی ملے گی۔ یوں لگتا شعر کا برمحل استعمال نہیں کررہے ہوں، ہیرے کو اس کی صحیح جگہ جڑرہے ہوں۔

ایک استاذ محسوس وغیر محسوس ہر دو طریقے سے اپنا اثر شاگردوں پر چھوڑتا ہے۔ آپ ایک ایسے استاذ تھے جن کی بے پناہ صلاحیتوں کے سبھی معترف تھے، اور یہ اعتراف اکثر مرعوبیت کی حد تک تھا۔ بہت سارے طلبہ آپ کی غیر معمولی خوبیوں کو دیکھ کر یہ مان لیتے کہ ہم آپ کے صرف عقیدت مند بن سکتے ہیں، نقشِ قدم پر چل کر آپ کی طرح بننا ناممکن ہے، بالکل اُن تماش بینوں کی طرح جو کوہ پیماؤں جیسا حوصلہ نہیں رکھتے تو پہاڑ کی بلند چوٹیوں کو دیکھ کر یہ مان لیتے ہیں کہ ان کو سر کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں۔ بعض طلبہ نے اپنے اس استاذ کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی بھی، تاہم کوئی ان جیسا نہ ہوا۔ آپ اگر دیکھنا چاہیں تو بس ان کے شاگردوں کی طویل فہرست میں سے کسی کسی میں ان کی مختلف صفات کی ہلکی سی جھلک محسوس کرسکتے ہیں، پوری طرح نہیں دیکھ سکتے۔

استاذ گرامی سے وابستہ میری شخصی یادیں بہت ساری ہیں۔ ان تمام کا تذکرہ میرے لیے ناممکن ہے۔ کسی کی وفات پر مجھے نہ اتنا رونا آیا جس قدر آپ کے آخری دیدار کے بعد آیا، اور نہ آج سے پہلے اپنے احساسات وجذبات کو زبان دینے میں خود کو میں نے اس قدر بے بس پایا۔ بکھری بکھری چند باتیں اور یادیں قارئین کی نذر ہیں، اس اعتراف کے ساتھ کہ استاذ گرامی کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی سکت مجھ میں نہیں ہے۔ یہ تو بس ان کا کمال تھا کہ وہ کسی شخصیت کا خاکہ کھینچتے تو اس قدر جامع ہوتا کہ لوگ آپ کے دیدۂ بینا اور قلم کی رسائی کے قائل ہوجاتے۔ حتی کہ بعض شاگرد بھی یہ تمنا کرتے کہ ’’کاش! ایسا ہو کہ ہم پہلے دنیا سے رخصت ہوجائیں اور آپ ہمارا خاکہ لکھیں‘‘۔

جامعہ دارالسلام میں میرا داخلہ ۱۹۸۸ء کے اواخر میں معہدالقرآن میں ہوا۔ ظاہر ہے اس وقت میں ان کے لیے ایک عام سا گم نام طالب علم، اور وہ میرے لیے جامعہ کے ایک بڑے استاذ تھے۔ استاذ گرامی اس وقت ناظمِ تعلیمات تھے۔ سب سے پہلی شخصی معرفت کے حوالے سے جو بات ذہن نشین ہے وہ سالانہ امتحان کی ہے۔ شعبۂ تحفیظ میں اس سال سالانہ امتحان کی ترتیب یہ تھی کہ حفظ کا امتحان استاذ اور مدیر معہد القرآن دونوں مل کر لیں گے۔ میری باری آئی اور مدیر صاحب کے دفتر میں امتحان جاری تھا کہ شیخ حافظ حفیظ الرحمن صاحب تشریف لائے اور ایک طرف بیٹھ کر سنتے رہے۔ اللہ کا کرم ہوا کہ شیخ کی موجودگی میں ایک بھی غلطی نہ ہوئی۔ شیخ نے ماشاء اللہ کہا اور واپس ہوگئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب آپ نے مجھے اپنے ہمت افزا کلمات سے نوازا، اور یہ سلسلہ آخری دم تک جاری رہا ۔

میں نے استاذ گرامی سے ترجمۃ القرآن، جامع ترمذی، تاریخ ادبِ عربی، مقدمہ ابن الصلاح پڑھی ہے اور اس کے علاوہ ترمذی کا اجازہ الگ سے حاصل کیا ہے، جس کے بعد میں جامع ترمذی کی تمام احادیث کو خود سے لے کر نبیِ امی صلی اللہ علیہ وسلم تک سلسلۂ سند جوڑ کر روایت کرنے کا مجاز ہوں۔ اس دوران بہت کچھ سیکھا۔ ان متعدد سالوں میں دل میں ان کی شخصی عظمت کا احساس روزافزوں رہا۔ علمی شان، بات کرنے کا قرینہ، کتاب کو پڑھانے کا سلیقہ اور ہر فن کے پڑھانے کا جداگانہ انداز، طالبانِ علومِ نبوت کا احترام، سنجیدگی اور وقار، طلبہ کو کتاب کے ساتھ زمانے کو پڑھنے کا سلیقہ دینا، غرض یہ کہ بہت کچھ تھا اور یہ لینے والے پر موقوف تھا کہ وہ کیا اور کتنا لے پاتا ہے ۔

پانچویں جماعت میں ترجمۃ القرآن کی گھنٹی تھی۔ استاذگرامی سورہ مریم کے ترجمے کے ساتھ چیدہ چیدہ مقامات پر علمی نکات سے بہرہ ور کیا کرتے تھے۔ جب آپ حضرت زکریا علیہ السلام کی اپنے بیٹے کے حق میں دعا کے اس ٹکڑے تک پہنچے: {واجعلہ رب رضیا} تو کہنے لگے : ’’عام طور پر مفسرین نے ’رضي‘ کا معنی ’مرضیا‘ کا لیا ہے، جس کا مفہوم ہوتا ہے کہ اے اللہ! جس طرح میں تیرے فضل سے بیٹا چاہتا ہوں اسی طرح یہ بھی چاہتا ہوں کہ تو اس سے راضی بھی رہے۔ لیکن اس آیت میں ایک اور معنی بھی ہوسکتا ہے ‘کیوں کہ رضي کا وزن فعیل ہے اور فعیل فاعل اور مفعول دونوں کے معنی میں ہوسکتا ہے۔ اس طرح اس کا معنی مرضیا کی طرح راضیا بھی ہوسکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام یہ دعا کررہے ہیں کہ اے اللہ! میں تو اولاد مانگ رہا ہوں، تاکہ وہ میری علمی وراثت کی حق دار بنے، تاہم میری یہ بھی دعا ہے کہ یہ محض میری خواہش نہ ہو، اس کی اپنی پسند اور مرضی بھی بن جائے، اور وہ خود اپنے اس منصب اور مقام سے راضی رہے۔ یہ کہہ کر آپ نے درس روک لیا اور کہنے لگے: آپ لوگ بھی دیکھو، ہوسکتا ہے آپ اپنے والدین کی خواہش پر یا کسی اور کی ترغیب پر مدرسہ چلے آئے ہوں۔ دیکھ لو کہ یہ مولوی والی ذمے داری پسند ہے کہ نہیں، کیوں کہ تم خود اپنے مقام سے آشنا نہ ہوسکے تو تمھارا یہ پڑھنا لکھنا سب بے کار جائے گا۔ خوداحتسابی اور عرفانِ نفس کا ایک عظیم درس تھا جس نے ہمارے وجدان کو جگایا اور ہم میں سے بہت سارے طلبہ کی زندگی کا رخ بدل دیا ۔

استاذگرامی مولانا آزادؒ کے بہت بڑے مداح تھے۔ ہمارے لیے یہ معاملہ دوہری معرفت کا تھا۔ ایک طرف ہم ان کی شخصیت کے سحر میں گرفتار اور دوسری طرف وہ آزاد پر فریفتہ۔ ان کی صحبت میں آزاد کو جاننے اور ان کو پڑھنے کا شوق کچھ اس قدر بڑھا کہ دارالاقامہ کی لائبریری ’’البلاغ‘‘ میں میسرمولانا آزاد پر لکھی گئی سبھی کتابیں اور مولانا آزاد کی لکھی کتابوں میں سے اکثر کتابیں پڑھ ڈالیں۔

استاذ گرامی بڑے وضع دار قسم کے انسان تھے۔ موسمِ گرما میں عمرآباد کی دوپہر بڑی صبر آزما ہوتی ہے۔ پہاڑوں سے گھری اس وادیِ عمرآباد میں تعلیم وتعلم کا سلسلہ جاری رکھنا بہت دشوار ہوجاتا ہے۔ اسی لیے جامعہ میں اکثر موسم گرما میں دوپہر کی تعلیم سے چھٹی دے دی جاتی تھی۔ ایک ایسی ہی گرم دوپہر کے تقریبًا تین بج رہے تھے کہ استاذگرامی درس گاہ میں تشریف لائے۔ گرمی کی شدت، اس پر فَر کی ٹوپی سر پر جمی ہوئی، استاذ اور طلبہ سب کے پسینے چھوٹ رہے تھے، اور درس گاہ میں موجود پنکھا اس گرمی کے احساس کو مات دینے میں خود مات کھارہا تھا۔ آپ پڑھاتے جاتے اور وقفے وقفے سے جیب سے رومال نکال کر پسینہ سے شرابور اپنے سر اور ماتھے کو پوچھتے جاتے۔ بار بار کی اس زحمت کو دیکھ کر ہمارے ایک ہم سبق نے بے ساختہ مولانا کو مشورہ دیا کہ آپ اپنی ٹوپی سامنے میز پر رکھ دیں، اس سے گرمی کی شدت کا احساس بھی گھٹے گا اور ضرورت پر سر پوچھنے میں بھی آسانی ہوگی۔ مولانا کہنے لگے: ’’مجھے یہ بات درس گاہ کے آداب کے خلاف معلوم ہوتی ہے، اس لیے میں ایسا نہیں کرسکتا‘‘۔ ہمیں یہیں سے پتا چلا کہ امام مالک رحمہ اللہ جیسے اسلافِ کرام علم کی قدر اسی طرح کیا کرتے تھے اور اپنے ظاہری رکھ رکھاؤ کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے: أحب أن أعظم حدیث رسول اللہ(میں اس چیز کو حدیثِ رسول کی تعظیم کا باب مانتا ہوں)

ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ نے جب ’’الجامع الکامل‘‘ لکھی اور اس کا اردو ترجمہ کروانا چاہا تو ان کی خواہش ہوئی کہ اس پروجیکٹ کی سرپرستی استاذ گرامی فرمائیں، اس لیے کہ ڈاکٹر صاحب بھی استاذگرامی کے شاگرد تھے، اور ان کے اتنے بڑے قدردان تھے کہ استاذگرامی کو علامہ ہی کہتے تھے۔ مجھے جب پتا چلا کہ استاذگرامی نے یہ کام جامعہ دارالسلام کے تین اہلِ علم وفضل کے حوالے کیا ہے تو میں نے انھی میں سے ایک کے توسط سے استاذ گرامی تک یہ بات پہنچائی کہ میری ایک دیرینہ خواہش رہی ہے کہ حدیثِ رسول کی خدمت کا کوئی قابلِ قدر کام انجام دوں۔ آپ اگر مناسب سمجھیں تو مجھے بھی اس کارِ خیر میں شریک کرلیں۔ استاذ گرامی نے دکتور ضیاء سے مشورے کے بعد یہ نوید سنائی کہ میں بھی شامل ہوسکتا ہوں۔ پھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ جامعہ کے وہ تینوں اہلِ علم تدریسی و دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس کام کو جاری نہ رکھ سکے تو استاذ گرامی نے پوری ذمہ داری میرے حوالے کردی۔ اللہ کا فضل وکرم ہے کہ یہ کام میری نگرانی میں اپنے انجام کو پہنچا۔ جس وقت میں نے خبر دی کہ کام مکمل ہوچکا ہے تو بہت خوش ہوئے اور خوب دعائیں دیں۔ اگلا مرحلہ اس علمی کام کے مراجعے کا تھا۔ دکتور ضیاء کی خواہش تھی کہ یہ کام استاذگرامی خو د فرمائیں، جب کہ بوجوہ یہ ممکن نہ تھا۔ یہ کام ابھی تک ادھورا ہے۔

ضلعی جمعیت اہل حدیث بنگلور کے بعض ذمہ داران استاذ گرامی کے بڑے قدردان تھے۔ آپ کو بھی اس کا علم تھا۔ ضلعی جمعیت اہل حدیث بنگلور نے ۲۹ محرم ۱۴۳۶ھ مطابق۲۳ نومبر ۲۰۱۴ء کو ایک یک روزہ پروگرام بہ عنوان ’’اطاعت رسولﷺ اور مقام ِ حدیث‘‘ منعقد کیا، جس میں استاذگرامی اور شیخ الحدیث مولانا ظہیرالدین اثری رحمانی رحمہما اللہ نے شرکت کی۔ اس پروگرام میں میں نے ’’ہندوستان میں فتنۂ انکار حدیث‘‘ کے عنوان پر خطاب کیا۔ دورانِ خطاب بعض منکرینِ حدیث کا تذکرہ میں نے بار بار ’صیغۂ مفرد‘ سے کیا۔ استاذگرامی نے مجھ سے تو کچھ نہیں کہا، البتہ عمرآباد لوٹنے کے بعد برادرم مولوی محمد رفیع کلوری عمری کے سامنے اس بات پر دکھ کا اظہار کیا۔ خاص طور پر اس لیے بھی کہ جن صاحب کے لیے وہ ’صیغۂ مفرد‘ استعمال کیا گیا تھا ان کے والد بزرگ وار کی بڑی عظیم خدمات تھیں۔ فراغت کے بعد بھی اپنے شاگردوں کی تربیت و اصلاح کی فکر کی یہ ایک ادنیٰ سی مثال ہے۔

جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ سے فارغ التحصیل ہوکر لوٹا تو جن بزرگوں نے مجھے مادر علمی سے جڑنے کی صلاح دی، بلکہ حکم دیا ان میں ایک نمایاں نام استاذگرامی کا بھی تھا۔ میں اپنی ذاتی وجوہات کی وجہ سے مادرعلمی سے نہ جڑسکا اور ادھر استاذگرامی نے باربار ترغیب دی۔ دسمبر ۲۰۰۴ء میں ’پیس کانفرنس‘ بنگلور میں منعقد ہوئی تھی۔ میں بطورِ رضاکار وہاں مصروفِ عمل تھا اور استاذ گرامی ذمہ دارانِ جامعہ کے ساتھ اس کی زیارت کے لیے تشریف لائے تھے۔ جمعرات کا دن تھا۔ رخصت ہونے لگے تو مجھ سے کہا: ’’دیکھو جی! ارادہ ہے تو ابھی بتادو اور ہفتہ سے تدریس بھی شروع کرلو‘‘۔ بنگلور میں میر ے کچھ معاملات ایسے تھے جن کی وجہ سے میں آپ کے مشورے کو قبول کرنے کی سعادت حاصل نہ کرسکا۔ اتنا سب کچھ ہوا مگر میں نے یہ کبھی محسوس نہیں کیا کہ ان کی بات نہ ماننے کا انھوں نے برا مانا ہو۔

مجھے اللہ کی طرف سے خدمت کی جو بھی توفیق ملی ہے اس میں میرے اساتذہ کی ہمت افزائی کا بڑا دخل ہے۔ جن اساتذہ نے مجھے میری حیثیت سے بڑھ کر سراہا اور مجھے آگے بڑھایا ان میں استاذ گرامی کا مقام منفرد ہے۔ جب بھی ملا کوئی نہ کوئی بات ایسی ضرور فرماتے جس سے خوش فہمی کی حد تک میری خود اعتمادی میں اضافہ ہوجاتا تھا۔ مادر علمی جامعہ دارالسلام کے سرپرستوں کی یہ روایت ہے کہ جمعیت ابنائے قدیم کے بینر تلے مرکزی ومقامی سطح پر تذکیری پروگرام منعقد کیا کرتے ہیں۔ یہ میری خوش نصیبی اور ذمے داران اور اساتذہ کی ذرہ نوازی ہے کہ ان میں کے اکثر جلسوں میں مجھے بحیثیتِ مقرر شرکت کا موقع ملتا ہے۔ ان پروگراموں کے ضابطے کے مطابق اسٹیج پر استاذ گرامی کی ہم نشینی کیا کم ہوتی کہ اکثر تقریر کے بعد آپ سب سے پہلے بلند آواز سے کبھی ما شاء اللہ، کبھی بارک اللہ، کبھی أحسنت اور کبھی أجدت وأفدت فرماتے۔ پھر جب واپس آکر اپنی کرسی سنبھال لیتا تو چپکے سے کبھی یہ فرماتے کہ ’’تمھاری بستی لکھنؤ کے قریب ہے یا دہلی کے پاس؟‘‘ اور کبھی کہتے ’ہمیں بھی تقریر کرنا سکھادو جی!‘۔ میں اکثر شرمندہ ہوجاتا اور صدقِ دل سے کہتا کہ ’شیخ شرمندہ نہ کریں، تقریر کرنا تو ہم آپ سے سیکھ رہے ہیں‘۔ اس پر کہتے: ’نہیں جی! ہم کہاں تقریر کر پاتے ہیں‘۔ آپ قارئین یہ سب پڑھ کر میرے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہوں اور نہ اس کو خودستائی پر محمول کریں۔ یہ تو بس ان اساتذہ کا اپنے شاگردوں کو اونچا اٹھانے، بلکہ اڑانے کا ایک انوکھا انداز ہے، بالکل اس جوہری کی طرح جو جانتا ہے کہ پتھر کو ہیرا بنانے کے لیے کس طرح تراشنا چاہیے۔ استاذ گرامی کا یہ انداز تقریباً اپنے سبھی شاگردوں کے ساتھ رہا ہے جس کے گواہ ایک ڈھونڈو ہزار ملیں گے ۔

۲۰۱۰ء اکتوبر کے اختتام اور نومبرکے آغاز کی بات ہے کہ امام حرم شیخ سعودالشریم حفظہ اللہ نے آئی آر ایف ممبئی کی دعوت پر ہندوستان کا مختصر دورہ کیا تھا۔ اس دورے میں انھوں نے کل سات خطاب کیے تھے۔ میں نے ان تمام کو اکٹھا کرکے ان کا ترجمہ بہ نام ’’پیامِ حرم بزبانِ امامِ حرم‘‘ شائع کرنے کا ارادہ کیا۔ ترجمے سے فارغ ہوا تو استاذ گرامی سے ’’پیش لفظ‘‘ لکھنے کی درخواست کی، جس پر آپ نے علالت کے باوجود ’’حرفِ دعا‘‘ کے نام سے تقریظ ارسال فرمائی۔ اس کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اللہ رب العالمین کا شکر گزار ہوں کہ اس دنیا میں میرے شاگرد بے شمار ہیں، اور سب مجھے عزیز ہیں۔ ان میں جو دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ کا کام اور اسلام کا پیغام عام کرنے کے لیے مدارس کی مسند اور مساجد کے منبر ومحراب کی آواز بن کر رشد وہدایت اور وعظ و نصیحت کے نامہ وپیام سے خواص وعوام کو فیضِ عام پہنچانے میں مصروفِ کار ہیں ان کی میرے دل میں بڑی قدر ومنزلت ہے۔ ان میں ایک نام میرے تلمیذِ عزیز مولوی حافظ عبدالحسیب عمری مدنی سلمہ اللہ کا ہے۔ رب العزت نے انھیں علم وعمل، ذہن ودماغ اور حسنِ سمع وطاعت کے ساتھ زبان وقلم پر بھی دسترس بخشی ہے۔ تحریر وتقریر دونوں میدانوں میں ان کی زبان فصیح وبلیغ ہے۔ ان کی تقریر سنتا ہوں، یا تحریر پڑھتا ہوں تو پوچھے بغیر نہیں رہتا کہ آپ کی بستی (ہسکوٹہ) لکھنؤ سے قریب ہے یا دہلی سے متصل؟ عربی سے اردو ترجمے پر بھی انھیں قدرت ومہارت ہے۔ کئی ایک علمی کتابیں ان کے ترجمے کی شاہ کار ہیں۔ اس وقت آپ امامِ حرم کی زبان سے پیامِ حرم کو ان کے اشہبِ قلم سے پڑھ کر ان کی صلاحیتوں کا اندازہ کرسکتے ہیں۔ تحریر، تقریر اور تدریس یہ تینوں الگ الگ میدان ہیں۔ اچھامقرر ، کامیاب انشاء پرداز ہو یہ کوئی ضروری نہیں۔ تدریس میں مہارت رکھنے والے تقریر وتحریر میں اپناجوہر دکھانے میں کامیاب نہیں ہوتے، مگر عزیزم عبدالحسیب کو میں نے دیکھاکہ اللہ تعالیٰ نے ان تینوں میدانوں میں انھیں ملکہ عطا فرمایا ہے۔ انھیں سننے والے، پڑھنے والے فیصلہ نہیں کرپاتے کہ تینوں میدانوں میں وہ کس میدان کے شہ سوار ہیں۔ جوان ہیں، مزید آگے بڑھنے کے مواقع حاصل ہیں اوران میں حوصلہ بھی ہے، اس لیے خواص وعوام کو ان سے بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے حسنِ ظن سے قریب تر فرمائے۔ آمین‘‘۔

یہ سارا ماجرا لاک ڈاؤن کے ایام کا تھا۔ میں نے بذریعۂ فون ’پیش لفظ‘ لکھنے کی درخواست کی تھی۔ کتاب چھپ گئی اور حالات بہتر ہوئے تو میں عمرآباد گیا۔ استاذ گرامی سے ملاقات کی اور شکریہ ادا کیا تو حسبِ معمول ہمت افزائی کے کلمات کہے اور فرمانے لگے: ’’کتاب مختصر تھی جی (تقریبا پچاس صفحات) اس لیے مختصر لکھا۔ کچھ بڑا لکھو تو ہم بھی بھرپور لکھیں گے‘‘۔ پھر گفتگو کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پوچھنے لگے کہ آیات کے بعض ٹکڑوں کا ترجمہ بہت شان دار ہے۔ کہاں سے لیا؟ میں نے کہا کہ معروف تراجم سے استفادے کے ساتھ ساتھ ذاتی محنت سے کیا ہے۔ بہت خوش ہوئے اور بعض اسماے حسنیٰ کا حوالہ دیتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ ترجمہ میرے لیے نیا ہے، مگر بہت جچتا ہے۔ آئندہ میں یہی ترجمہ کیا کروں گا‘‘۔ یہ بھی آپ کا ایک طریقہ تھا شاگردوں کے حوصلے کو بڑھانے کا۔

استاذ گرامی کی زندگی میں ان کے علمی وفکری سفر کا باب بڑا اہم ہے۔ ایک وقت تھا کہ زبان و ادب کے شوق میں طٰہ حسین کو پڑھا تو اس کے افکار ونظریات سے بھی کچھ متاثر ہوئے، تاہم پھر مصطفی صادق رافعی کو پڑھا اور جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ میں شیخ ابن بازؒ، شیخ البانیؒ، شیخ امین شنقیطیؒ وغیرہم کی شاگردی اختیار کی تو ان سارے خرافات سے دست بردار بھی ہوگئے۔ ملک کے کئی ایک مفکرین کی طرح وہ چاہتے تو اپنی جدتِ فکر کے نام پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کرلیتے، مگر اللہ کے فضل وکرم کے بعد خانوادۂ اعظمی کی سنت سے نسبت کی برکت اور استاذ گرامی کی بے نفسی نے انھیں ان پگ ڈنڈیوں کی جھوٹی آن، بان، شان بلکہ پہچان سے بچا کر شاہ راہِ سنت پر گم نامی کو اپنانے پر آمادہ کیا۔ یہ یقینا روشن خیالی یا جدتِ فکر کے باب میں اپنے شاگردوں کے لیے ایک غیر معمولی نمونہ ہے۔ اسی کا ایک مظہر و منظر ہم نے بارہا دیکھا کہ اکثر ترجمۂ قرآن کے درس میں ایسے بعض افکار کا اظہار فرماتے، مگر ساتھ ہی تنبیہ بھی کرتے جاتے کہ’’دیکھو جی! لوگوں نے یہ سب کہا ہے اور لکھا ہے‘‘ اور اکثر یہ لاحقہ بھی جوڑ دیتے: ’’پتا نہیں آپ لوگ ان باتوں کو کتنا سمجھتے ہیں اورکتنا نہیں سمجھتے‘‘۔

استاذگرامی قدر کا ایک خاص وصف متقدم علماء کی عزت وتوقیر تھا۔ اس باب میں بعض نادان طلبہ کی احمقانہ جرأتوں کو دیکھتے تو کہتے: مجھے یہ سب دیکھ کر لگتا ہے کہ حدیث میں وارد: ولعن آخر ھذہ الأمۃ أولھا (اس امت کے بعد کے لوگ امت کے پہلے لوگوں پر لعنت بھیجیں گے) کا مصداق یہی لوگ ہیں ۔(والحدیث أخرجہ الترمذي وضعفہ الألباني)

استاذ گرامی علماے اہل حدیث ہند کی تاریخ کا ایک تابندہ ستارہ تھے۔ ایک لمبے عرصے تک جمعیت اہل حدیث تمل ناڈو کی متعدد ذمے داریوں کا بار بھی اٹھایاہے۔ تاریخ اہل حدیث جنوبی ہند کے ان جیسے جان کار اب خال خال نظر آئیں گے۔ اس سلسلے میں آخری ذمے داری جو آپ نے نبھائی وہ تاریخ اہل حدیث تمل ناڈو کی ترتیب وتہذیب کی فکر تھی۔ ’’ریاست تمل ناڈو میں مسلک اہل حدیث کے علم بردار‘‘ کے مؤلف مولوی محمد إنعام الحق عمری نے مقدمے میں اس کی صراحت کی ہے۔

استاذ گرامی ایسی شخصیت کے مالک تھے کہ کسی بھی حیثیت سے آپ سے نسبت لوگوں کے لیے باعثِ فخر تھی۔ آپ ذہین وفطین بھی تھے اور غضب کا حافظہ بھی رکھتے تھے۔ علمی مسائل تو علمی مسائل ہیں، عرب وعجم کی داستانیں سناتے تب بھی تاریخوں کی تعیین اور واقعات کی جزئیات اور باریکیوں کے ساتھ بتاتے۔ ایک وقفے کے بعد مکرر بھی ذکر آتا تب بھی جزئیات وتفصیلات میں سر مو فرق نہ ہوتا۔

۲۰۲۲ء کا جامعہ دارالسلام عمرآباد کا سالانہ اجلاس آپ کی زندگی کا آخری اجلاس تھا۔ جلسہ اختتام پذیر ہوا تو میں ملاقات کے لیے آگے بڑھا۔ مجھے دیکھ کرکہنے لگے کہ آپ کون ہیں؟ میں ٹھٹک گیا اور عرض کیا کہ مولانا! اگر آپ ہمیں نہیں پہچانیں گے تو پھر ہماری پہچان کا کیا ہوگا؟ کہنے لگے: ’’اور کیا جی! اتنے دنوں بعد نظر آؤگے تو ایسا پوچھنے کا حق تو بنتا ہے‘‘۔ یہ بس استاذگرامی کا اظہارِ محبت کا ایک انداز تھا، ورنہ شکوہ شکایت کا یہ انداز آپ میں نہیں تھا۔ مجھے یا د ہے کہ کوویڈ کے دور میں جب کئی ایک اساتذۂ جامعہ وقفے وقفے سے وفات پاگئے تو مجھے اس بات کا شدید احساس ہوا کہ ہم نے اپنے اساتذہ کے حق میں دعائے خیر کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ نہ خدمت کرپاتے ہیں، نہ حال چال پوچھتے ہیں اور نہ ہی کسی طر ح ان اساتذہ کے کام آتے ہیں۔ احساسِ ندامت اس قدر شدید ہوا کہ میں نے اپنے باحیات اساتذہ میں سے کئی ایک سے بذریعہ فون رابطہ کیا اور ان سے اپنے قصور کی معافی چاہی کہ ہم رتّی بھر بھی آپ کی شاگردی کا حق ادا نہ کرسکے۔ استاذ گرامی سے جب بات ہوئی اور آپ نے میری پشیمانی دیکھی تو نہ صرف یہ کہ میرے دل کا بوجھ ہلکا کردیا بلکہ آگے بڑھ کر میری مصروفیات کا حوالہ دینے لگے اور کہا: ’’ہم تو بس یہ دیکھ کر خوش ہیں کہ جو ہم نہ کرسکے وہ ہمارے شاگرد کررہے ہیں‘‘۔ پھر خلافِ ِمعمول دیر تک مختلف حوالوں سے گفتگو کرتے رہے، تاکہ ہم مطمئن ہوجائیں کہ ان کا دل واقعتا صاف ہے۔ یہی آپ کا انداز تھا، یہی آپ کی پہچان تھی۔ استاذگرامی اپنے مواقف سے کیا کچھ نہیں سکھادیتے؟ یہی دیکھیے! اس واقعے میں کیا کچھ نہیں ہے۔ تواضع، کسرنفسی، انکسار، خورد نوازی، ہمت افزائی، سامنے والے کے احساسات کی قدر کے ساتھ اس کی دل جوئی اور قدر افزائی وغیرہ۔

یہ تحریر محض ایک ادھورا اعتراف ہے۔ جس میں واقعات تو ہیں مگر نہ میرے جذبات کی مکمل عکاسی ہوپائی ہے، نہ استاذ گرامی کی اعلیٰ شخصیت وکردارکا حق ہی ادا ہوسکا ہے۔ مجھے اعتراف ہے؎

ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

4
آپ کے تبصرے

3000
4 Comment threads
0 Thread replies
1 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
4 Comment authors
newest oldest most voted
یاسر اسعد

جزاكم الله خيرا، مولانا مرحوم کی شخصیت کے خصوصی گوشوں سے آگاہ کرنے کے لیے شکریہ۔ ایسی تحریروں سے اہل علم کی قدر ومنزلت کا احساس ہوتا ہے اور حوصلہ بھی بڑھتا ہے۔ شکریہ

سلیم

آپ نے تو ہمیں پھر سے رلا دیا ہے

Md Inamul Haque

ماشاءاللہ،
مکمل مضمون پڑھا، مضمون کا ہرہرسطر استاد محترم کی خدمات سے پُرہے،
کوئی بھی ابنائے جامعہ اس مضمون کو پڑھنا شروع کردے، مجال ہے کہ درمیان میں چھوڑ دے،
مضمون میں حق شاگردی خوب نبھائی ہے، دوران مطالعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ استاد شاگرد کے مابین مقفی و مسجع گفتگو چل رہی ہے۔ زبان و بیان میں شگفتگی و رعنائی، سلاست و روانی بیک وقت موجود ہیں۔
درمیان میں میرا ذکر کرکے مجھے بھی لائق بنا دیا ہے، 😊

أُحِبُّ الصالِحينَ وَلَستُ مِنهُم
لَعَلّي أَن أَنالَ بِهِم شَفاعَه.

جزاك الله خيرا واحسن الجزء.

محمد انعام الحق عمری
21/نومبر22

Hussain Madani

بارك الله فيك شيخنا

رحمه الله وغفر له