یہ کیسے محقق؟

ریاض الدین مبارک

محقق ہو یا عالم, اگر اللہ رب العالمین کی رضا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اس کے پیش نظر نہ رہ جائے تو دیر سویر وہ کسی نہ کسی طاغوت کے چکر میں پڑجاتا ہے – پھر وہ کب کہاں کیا چڑھادے گا یہ اس کی ضرورت پر منحصر ہے – اور ضرورت عبودیت کی طرح ایک ذوق ہے اس کا ذائقہ ایک بار زبان کو لگ جائے تو صرف قلم کی روشنائی ہی نہیں بدرنگ ہوتی دماغ کی روشنی بھی جلنے بجھنے لگتی ہے – مثال کے طور پر یہاں ایک عدد محقق کا حال دیکھ لیجیے –

(ایڈیٹر)



جگر مرادابادی کا ایک مشہور مصرعہ ہے:
تو تو مسجد میں ہے نیت تری میخانے میں

کسی مذہبی شخص یا مذہبی جماعت میں جب یہ شعور پختہ ہوجائے کہ دین کا اصل فہم وادراک اسی کے پاس ہے، باقی لوگ نابلد ہیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ وہ صرف اپنے ہی افکار وخیالات کو صحیح سمجھتا ہے اور دوسرے نظریات کو باطل باور کرنے لگتا ہے۔ ان دنوں جماعت اسلامی کے دانشوروں کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے، انھیں ہر وہ شخص زیادہ عزیز لگتا ہے جو ان کے افکار سے ہم آہنگ ہو، دن میں جہاد کا نعرہ بلند کرے، اسرائیل کو بلغمی گالیاں دے، امریکہ کو بحر الکاہل میں غرقاب کرے، بشار الاسد کو سبق سکھانے کا شور مچائے اور صربیا کو کچا چبانے کا بگل بجائے لیکن شام ڈھلتے ڈھلتے جب تاریکی کی دبیز چادر پورے ماحول کو اپنی پہنائیوں میں جکڑ لے تب یہ رنگ رلیوں میں مصروف ہوجایا کریں، اسرائیلیوں کے ساتھ جام لڑھکائیں، وہائٹ ہاؤس جاکر امریکہ کے گن گائیں، ایک چھور پر بشار گولہ باری کرے تو دوسرے چھور پر یہ شبخون ماریں اور بعینہ امریکی اسلوب میں کردوں کو متہم بنا کر قتل وغارتگری کا بازار گرم کریں اور صربیا کی معیشت کو بڑھاوا دینے کی خاطر عوام کی دولت لٹاتے پھریں!! ہاں اگر کوئی لیل ونہار توحید خالص کی صدا بلند کرے، شرک وبدعات کا قلع قمع کرے، عالم اسلام کے مسلمانوں کو ہر طرح کی امداد دے تو وہ مبغوض ٹھہرے!

رجب طیب اردوان نے ترکی کے حالیہ انتخابات کو جیتنے کے لیے بلقانی ریاست بوسنیا اور یوروپ کے دیگر ممالک میں دورے کیے تاکہ وہاں موجود ترک عوام اور ان کے ہمنواؤں کی حمایت حاصل کرسکیں۔ ہندوستان کی کچھ جماعتیں اور ان کے کچھ ولولہ انگیز ترجمان بھی چشم براہ تھے کہ وہ یہاں آئیں گے اور یہاں بھی سحر طلوع ہوگی، اپنا نام بھی سات سواروں میں درج ہوگا پر شومئ قسمت کہ وہ آ نہ سکے اور ان کی حسرت دھری کی دھری رہ گئی!! اب رجب اردوان الیکشن جیت چکے ہیں اور وہ جشن بھی منا رہے ہیں لیکن یہاں ان لوگوں کی نیندیں ان کی آنکھوں سے غائب ہوگئی ہیں، اس کی وجہ جو کچھ بھی ہو، اصل وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ رجب طیب اردوان مسلمانوں کے زور آور خلیفہ بن کر ابھریں گے، سعودی میں اخوانی اور ان کی ہمنوا تحریکی جماعتوں کو ہوا دیں گے اور اس طرح یہ لوگ اپنی دیرینہ خواہش یعنی دین الہی کے قیام کا عمل تیز تر کردیں گے۔ چونکہ رجب طیب اردوان نے اب تک ایسا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے یہ لوگ مسلسل سعودیہ کو اپنی ملامت کا ہدف بناتے رہتے ہیں اور جو کچھ جی میں آئے اول فول بکتے رہتے ہیں۔

کج فہمی تو دیکھیے کہ ایک ڈاکٹر صاحب جو  (ملک کے عظیم تحقیقی ادارے ’ادارۂ تحقیق و تصنیف اسلامی‘ ( علی گڑھ) سے ایک طویل مدت (۱۹۹۴ء تا ۲۰۱۱ء) تک وابستہ رہے۔ اس وقت جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ تصنیفی اکیڈمی کے سکریٹری اور ہندوستان کے معروف علمی و تحقیقی سہ ماہی مجلہ ’تحقیقات اسلامی‘ کے مدیر معاون ہیں۔) مطلب لکھے پڑھے منوشیہ ہیں انھوں نے حال میں اپنی دیوار گریہ پر ایک ویڈیو نشر کی جس میں کسی بدقماش نے یہ کیپشن لگادیا کہ (ایک سعودی عالم اردوان کو فاسق فاجر کافر اور واجب القتل کہہ رہا ہے)،

 

حیف صد حیف ڈاکٹر صاحب کو اتنی فرصت نصیب نہ ہوسکی کہ وہ اس ویڈیو کو سنتے اور اس کی آتھینٹیسٹی پہ غور کرتے۔ جناب والا کو علم نصب کرنے کی جلدی تھی ویڈیو نشر کردی اور اپنے شاگردوں سے استحسان بھی قبول کرنے لگ گئے! اور تو اور جناب نے پوری جانسوزی کے ساتھ ایک لمبا مضمون بھی دے مارا۔ اس مضمون میں سعودیوں کی ایسی غارت گری کی گئی کہ رجب اردوان بھی دیکھ لیں تو حیرت میں پڑ جائیں اور پکار اٹھیں کہ اس طرح کا قتل وخون میرا شیوہ نہیں اور مبادا ان لوگوں سے اپنی براءت کا اظہار کر بیٹھیں۔

تو یہ جناب جو اس ویڈیو کلپ سے اتنا چراغ پا ہو رہے ہیں شاید کسی بڑے عربی مدرسے کے فارغ التحصیل بھی ہیں، میں سمجھتا تھا کہ عربی زبان تو ان کی باندی ہوگی لیکن حیران ہوں کہ ان کو عربی زبان کی سوجھ بوجھ ذرا کم کم ہے، اگر ہوتی تو ایسی حرکت نہ کرتے! بھائی بات صاف ہے اگر عربی زبان سے واقفیت چاہیے تو کچھ عرصہ سعودی بدووں کے پاس جاکر صحرا کی زندگی جی لیں تھوڑی بہت بداوت سے فیض کشید کریں ہوسکتا ہے عربی کی کچھ شد بد آجائے ورنہ یونہی جا بجا سر بازار رسوا ہوتے رہیں گے۔ لیکن یہ ایسا نہیں کریں گے انھیں زعم بھی تو ہے، یہ وہاں نہ جائیں گے ان کی آنکھوں میں اردوان ہی اردوان کا نشہ جو چھایا ہے۔ اللہ جانے اردوان نے انھیں آگہی کا کون سا جرعہ پلا دیا ہے کہ اس کا اثر زائل ہی نہیں ہورہا۔

تا دم تحریر کسی نے خبر دی کہ موصوف نے ویڈیو کلپ ہٹادی ہے اور تحریر کا حلیہ بدل ڈالا ہے۔ لگتا ہے کچھ نشہ اتر سا گیا
خاک در خاک تری گرمی گفتار پہ خاک

آج کے ترقی یافتہ دور میں جہاں آڈیو اور ویڈیو میں تحریف عام ہے، ایک دوسرے کو زیر کرنے کے لیے کیا کیا گل کھلائے جاتے ہیں، تعجب ہے اتنا بڑا شخص بغیر چھان بین کے یہ حرکت کیسے کرسکتا ہے؟ اور بغیر تحقیق کے لمبا چوڑا مضمون بھی لکھ سکتا ہے! دراصل جو لوگ بغیر تحقیق کے دوسروں پر کیچڑ اچھالتے ہیں یا اپنی تحریروں سے انھیں رسوا کرنا چاہتے ہیں ان کے پس پردہ مختلف نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں، ایک وجہ تو یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ایک ہی نقطے پر مسلسل کام کرنے سے ذہن پیکار ہوگیا ہو اور آدمی ڈپریشن کا شکار ہو البتہ کچھ ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ اس کے اسباب اور ہوں گے مثلاً یہ حضرت اور ان کی جماعت صرف اپنے مسلمان ہونے کے شدت سے دعویدار ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلام سے سچی محبت انہی کو ہے اور شریعت کے تحفظ کی ذمہ داری صرف انہی کی ہے جبکہ دوسروں کے تئیں حسد، دشنام طرازی اور افتراء پردازی ان کا شیوہ ہے۔

ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ان کے نقطہ نظر سے اسلام کا محافظ ترکی اور ایران کے سوا اب کوئی نہیں جبھی تو آئے دن سعودی کی برائی میں اپنے بیاض کو اپنے ہی سیال قلم کی سیاہی سے کالا کرتے رہتے ہیں جیسے ان کے پاس اب دین الہی کے قیام کے لیے پوری دنیا تنگ ہوچکی ہے بس ایک سعودی کا خطہ ہے جہاں یہ اپنی منشا و مرضی کے مطابق اللہ کے دین کو قائم کرسکتے ہیں۔ ان کی تحریر میں تقریر میں سعودی کا ذکر شر نہ آئے ایک امر محال لگتا ہے۔ سعودی عناد تو ان کے ایک ایک لفظ سے خون وپیپ کی مانند رِستا ہے!

ترکی میں کیا کیا خرابیاں ہیں اور وہاں کا معاشرہ کس درجہ بگڑا ہوا ہے اور سعودی کا معاشرہ کس ڈھرے پہ چل رہا ہے یا آئندہ کہاں پہنچ کر دم لے گا یہ کہانی پھر کبھی، سر دست مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ اگر کوئی جماعت اللہ کی زمین پر حکومت الہیہ کا قیام چاہتی ہے تو وہ پہلے اپنے افکار درست کرے اپنے اعمال کو ٹھیک کرے، شروعات اپنے بودوباش کی جگہ سے کرے اور اگر اس جگہ پہ ممکن نہ ہو تو ہجرت کرجائے اور جہاں جگہ زرخیز ملے وہیں سے ابتدا کرے ورنہ میں تو یہی کہتا رہوں گا
شام تک دھول اڑاتے ہیں سحر تک خاموش
خاک در خاک ترے کوچہ و بازار پہ خاک
خون آلود مصلّے ، صفیں لاشوں سے اٹی
خاک در خاک ترے جبّہ و دستار پہ خاک

3
آپ کے تبصرے

3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
رشید ودود

‘ترکی میں کیا کیا خرابیاں ہیں اور وہاں کا معاشرہ کس درجہ بگڑا ہوا ہے اور سعودی کا معاشرہ کس ڈھرے پہ چل رہا ہے یا آئندہ کہاں پہنچ کر دم لے گا یہ کہانی پھر کبھی، مضمون نگار کے سلیقہء اختلاف پر قربان ہونے کو جی چاہتا ہے، اسلوب تو اس قدر البیلا ہے کہ بس مزہ آ گیا لیکن مضمون نگار نے جو وعدہ کیا ہے، اسے جلد پورا کریں، اس لئے کہ اردو میں اس موضوع پر جو مواد ہے وہ یا تو افراط و تفریط سے پُر ہے یا اس پر تعصب کا جامہ چڑھا ہوا… Read more »

عبدالرشید

شاید مضمون نگار بھی ایک عدد سینماحال کھولنا چاہتے ہیں

Rizwan Chaudhary

زبردست