عدالتِ صحابہ کا صحیح معنی ومفہوم اور اس کے متعلق بعض غلط فہمیوں کا ازالہ

فاروق عبداللہ نراین پوری تنقید و تحقیق

کسی بھی حدیث کی قبولیت کے لیے محدثین کرام نے درج ذیل چھ شرطیں رکھی ہیں:
۱۔روات عادل ہوں۔

۲۔ضابط ہوں (یعنی غلطیوں اور بہ کثرت غفلت سے پاک ہوں)۔

۳۔سند متصل ہو۔

۴۔ضعف خفیف (مثلًا سند میں خفیف یا خفی انقطاع ہو، یا کوئی راوی مستور ہو) کی صورت میں متعدد طرق سے وارد ہو۔

۵۔۶۔ شذوذ اور علتِ قادحہ سے خالی ہو۔ [ملاحظہ فرمائیں:شرح التبصرۃ والتذکرۃ للعراقی1/177، النکت علی کتاب ابن الصلاح لابن حجر1/493]

جب کسی حدیث کے اندر مذکورہ صفات موجود ہوں تو وہ محدثین کے نزدیک قبولیت کے درجہ پر فائز ہوجاتی ہے۔ اور اگراس میں مذکورہ کوئی شرط مفقود ہو تو وہ درجہ قبولیت سے نیچےگر جاتی ہے۔ اور اسے ضعیف یا مردود کہا جاتا ہے۔

پتہ چلا کہ کسی بھی حدیث کی قبولیت کے لیے محدثین کے نزدیک پہلی شرط یہ ہے کہ اسے روایت کرنے والے تمام طبقوں کے روات عادل ہوں۔ اس لیے کسی بھی حدیث کی تخریج کرتے وقت جمع طرق کے بعد محدثین سب سے پہلے یہی تحقیق کرتے ہیں کہ اس کے تمام طبقوں کے روات (سوائے صحابہ کرام کے طبقے کے) عادل ہیں یا نہیں۔ صحابہ کرام کے طبقے میں وہ یہ زحمت نہیں اٹھاتے کہ ان کی عدالت کے بارے میں بحث وتحقیق کریں، چنانچہ کہتے ہیں:الصحابة كلهم عُدُولٌ(تمام کے تمام صحابہ عادل ہیں)، کیونکہ اللہ رب العالمین اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا تمام صحابہ کرام کی عدالت کی گواہی دی ہے۔ اب اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کسی کی عدالت کی گواہی مل جانے کے بعد کسی امتی کی طرف سے ان کی عدالت کے ثبوت کی چنداں ضرورت نہیں رہ جاتی۔ اسی لیے پوری امت میں سے کسی نے بھی صحابہ کرام کی عدالت کے بارے میں کوئی انگلی نہیں اٹھائی ہے سوائے روافض اور قدریہ جیسے چند خبیث باطل فرقوں اور ان کے بعض نا عاقبت اندیش ہمنواؤوں کے۔ انھوں نے اپنے باطل نظریے کی تائید میں کتاب وسنت کی چند دلیلوں کا سہارا بھی لیا ہے اور سلف صالحین کے فہم کو پس وپشت ڈالتے ہوئے ان کا خود ساختہ مفہوم بھی طے کیا ہے۔ ان شاء اللہ ان کے شبہات کی حقیقت آگے بیان کی جائےگی۔ لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ محدثین کے نزدیک ”عدالت صحابہ“ کا صحیح مفہوم کیا ہے اسے جان لیں۔

محدثین کے نزدیک عدالت ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو تقوی ومروت کی مداومت پر ابھارے۔ اس لیے کسی راوی کی عدالت کی تحقیق کے وقت یہ پانچ چیزیں دیکھی جاتی ہیں:اسلام، بلوغت، عقل اور فسق وخوارم مروت امور سے اجتناب۔ [دیکھیں:المنہل الروی لابن جماعہ:ص۶۳]

”فسق وخوارم مروت امور سے اجتناب“ کا یہ معنی نہیں کہ انسان بالکل معصوم ہو، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کے اندر امانت ودینداری کا پہلو بہت زیادہ غالب ہو، کیونکہ پوری امت میں کوئی شخص ایسا نہیں جو معصوم ہو، صرف فرشتوں کو اللہ تعالی نے معصوم بنایا ہے، ان کے متعلق اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

لَا يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ[سورۃ التحریم:۶]اللہ تعالی نے انھیں یعنی فرشتوں کو جو حکم دیا ہے وہ اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے اور جس کام کا انھیں حکم دیا جاتا ہے اسے وہ بجا لاتے ہیں۔

اس لیے جب محدثین کرام ”عدالت“ کے شرائط بیان کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں وہ ”فسق وخوارم مروت امور سے پاک ہوں“ تو اس کا قطعًا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہی نہ ہوا ہو۔

خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَوْ عَمِلَ الْعُلَمَاءُ وَالْحُكَّامُ عَلَى أَنْ لَا يَقْبَلُوا خَبَرًا وَلَا شَهَادَةً إِلَّا مِنْ مُسْلِمٍ بَرِيءٍ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ قَلَّ أَوْ كَثُرَ لَمْ يُمْكِنْ قَبُولُ شَهَادَةِ أَحَدٍ وَلَا خَبَرِهِ[الکفایہ للخطیب البغدادی:ص۸۰]علما اور حکمراں اگر یہ اصول بنا لیں کہ وہ صرف ایسے مسلمان شخص کی خبر اور گواہی قبول کریں گے جو ہر طرح کے گناہوں سے پاک ہو، چاہے وہ گناہ معمولی ہو یا بہت زیادہ، تو کسی بھی شخص کی گواہی یا خبر کا قبول کرنا ممکن نہ ہوگا۔

صحابہ کرام کے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ ان سے معصیت کا ارتکاب ممکن ہے، وہ گناہوں سے پاک نہیں، شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ صحابہ کرام کے متعلق اہل سنت والجماعت کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

لا يعتقدون أن كل واحد من الصحابة معصوم عن كبائر الإثم وصغائره، بل يجوز عليهم الذنوب في الجملة [العقیدۃ الواسطیہ:ص۱۲۰]اہل سنت والجماعت یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ صحابہ کرام کبیرہ یا صغیرہ گناہوں سے پاک ہیں، بلکہ مجموعی طور پر ان سے گناہوں کا صدورجائز ہے۔

البتہ گناہوں سے معافی کے جو متعدد ذرائع واسباب شریعت نے مقرر کیے ہیں وہ اسباب بہ درجۂِ اتم صحابہ کرام میں موجود ہونے کی وجہ سے وہ مغفور ہیں، جہاں کہیں بھی ان کی کسی معصیت کا ذکر ملتا ہے وہیں پر اللہ تعالی کی طرف سے ان کی مغفرت اور عفو ودرگزر کا بھی تذکرہ ملتا ہے۔

مثلا:غزوۂِ تبوک میں پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ان کی توبہ قبول کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:

وعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ[سورة التوبة:۱۱۸]

غزوۂِ احد میں دوبارہ حملہ ہوا تو بہت سارے صحابہ کرام کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ فرار اختیار کر لیے، اللہ تعالی نے اس پر ان کی سرزنش کی لیکن ان کی معافی کا بھی اعلان کر دیا:

إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ التَقَى الجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ[آل عمران:۱۵۵]

غزوۂِ حنین میں بھی جب اسی طرح میدان جنگ سے فرار کا حادثہ ہوا تو اس پر بھی اللہ تعالی نے ان کی سرزنش کی، لیکن ان کی مغفرت کا بھی اعلان کر دیا:

وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُدْبِرِينَ ۔ ثُمَّ أَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَنْزَلَ جُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَعَذَّبَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَذَلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ۔ ثُمَّ يَتُوبُ اللَّهُ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ عَلَى مَنْ يَشَاءُ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ[سورة التوبة:۲۵۔۲۷]

بلکہ اللہ تعالی نےتو ان سے اپنی رضامندی کاعمومی اعلان کر دیاہے۔ مثلا: اس کا ارشاد ہے:

وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ[سورة التوبة:۱۰۰]

اب اس اعلان کے بعد کسی کے لیے جائز نہیں کہ ان سے صادر بعض معصیتوں کی بنا پر وہ ان کا محاسبہ کرے اور ان کی عدالت کے بارے کلام کرے۔ یہ در حقیقت اللہ تعالی کے فیصلے پر کلام کرنا ہے۔

دوسری بات:جس طرح دوسرے عادل وثقہ رواتِ حدیث کو مجرد کسی معصیت کے ارتکاب کی وجہ سے ساقط العدالہ نہیں قرار دیا جاتا اسی طرح صحابہ کرام کا بھی معاملہ ہے، بلکہ یہ بے شمار اسباب کی بنا پر دوسروں سے کہیں زیادہ مستحق ہیں کہ ان سے حسن ظن رکھا جائے اور انھیں مطلقا عدالت کے مرتبے پر فائز ہونے کا عظیم مقام ومرتبہ عطا کیا جائے۔

اس لیے جو حضرات کسی گناہ کے ارتکاب کی وجہ سےصحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرتے ہیں وہ دراصل محدثین کے منہج سے واقف ہی نہیں۔”عدالت“ کا قطعًا یہ مفہوم نہیں جو انھوں نے اپنے ذہنوں میں بیٹھایا ہوا ہے۔ اگر ان کے خود ساختہ اصولوں پر ”عدالت“ کا مفہوم طے ہونے لگے تو امت میں کوئی عادل نہیں بچےگا۔

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لو كان العدل من لا ذنب له لم نجد عدلًا، ولو كان كل مذنب عدلًا لم نجد مجروحًا، ولكن العدل من اجتنب الكبائر؛ وكانت محاسنه أكثر من مساويه[دیکھیں:الروض الباسم في الذب عن سنۃ أبي القاسم صلى الله عليہ وسلم لابن الوزیر الیمانی:1/ 55]اگر عادل وہ ہو جو گناہوں سے پاک ہو تو ہمیں کوئی شخص عادل ہی نہیں ملےگا، اور اگر ہر گنہگار عادل ہو تو ہمیں کوئی مجروح بھی نہیں ملےگا،حقیقت میں عادل وہ ہے جو کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرے اور اس کی نیکیاں برائیوں سے زیادہ ہوں۔

اور امام سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ليس من شريف ولا عالم ولا ذي سلطان إلا وفيه عيب لا بد، ولكن من الناس من لا تذكر عيوبه؛ من كان فضله أكثر من نقصه[دیکھیں:الکفایہ للخطیب البغدادی :ص۷۹]کوئی بھی ایسا شریف، عالم یا صاحب سلطنت نہیں جن کے اندر کوئی عیب نہ ہو، عیب کا پایا جانا ضروری ہے۔ لیکن جن کے فضائل کوتاہیوں سے زیادہ ہوتے ہیں ان کے عیوب کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔

اور خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

لَا يَكَادُ يَسْلَمُ الْمُكَلَّفُ مِنَ الْبَشَرِ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ[دیکھیں:الکفایہ للخطیب البغدادی:ص۸۰]کوئی مکلف شخص ہر طرح کے گناہوں سے شاید ہی بچ سکتا ہو۔

چنانچہ آپ رحمہ اللہ ”محدثین کے نزدیک عدالت کا مفہوم“سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

إِنَّ الْعَدْلَ هُوَ مَنْ عُرِفَ بِأَدَاءِ فَرَائِضِهِ وَلُزُومِ مَا أُمِرَ بِهِ, وَتَوَقِّي مَا نُهِيَ عَنْهُ, وَتَجَنُّبِ الْفَوَاحِشِ الْمُسْقِطَةِ, وَتَحَرِّي الْحَقِّ وَالْوَاجِبِ فِي أَفْعَالِهِ وَمُعَامَلَتِهِ, وَالتَّوَقِّي فِي لَفْظِهِ مَا يَثْلِمُ الدِّينَ وَالْمُرُوءَةَ, فَمَنْ كَانَتْ هَذِهِ حَالَهُ فَهُوَ الْمَوْصُوفُ بِأَنَّهُ عَدْلٌ[الکفایہ للخطیب البغدادی:ص۸۰]عادل وہ ہے جو فرائض کی ادائیگی، اوامر کے التزام، منہی عنہ امور سے دوری، فواحش سے اجتناب، اپنے افعال ومعاملات میں واجبات و حقوق کی تلاش وجستجو کے بارے معروف ہو، نیز کوئی بھی ایسا لفظ اپنی زبان سے ادا نہ کرتا ہو جو دین ومروت کو داغدار کر دے، جس کی یہ حالت ہو اسے عادل کہا جائےگا۔

یہ ہے محدثین کے نزدیک عدالت کا صحیح معنی ومفہوم۔

جہاں تک صحابی کی بات ہے تو علما نے اس کی تعریف میں کہا ہے:

”جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کی حالت میں ملے ہوں اور ایمان پر ہی ان کی وفات ہوئی ہو، چاہے درمیان میں مرتد بھی ہو جائیں اور وفات سے پہلے پھر اسلام قبول کر لیں تو وہ صحابی ہیں“۔ [نزہۃ النظر للحافظ ابن حجر:ص۱۴۰]

اس تعریف سے ہر وہ شخص صحابی کے زمرے سے خارج ہےجو ایمان کی حالت میں نہیں بلکہ کفر یا نفاق کی حالت میں اللہ کے رسول سے ملا تھا، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کی حالت میں ہی ملا تھا، لیکن اپنی وفات سے قبل مرتد ہو گیا تھا اور حالت کفر میں ہی -نعوذ باللہ- اس کی وفات ہوئی۔

اس لیے منافقین یا مرتدین کو سامنے رکھ کر عدالت صحابہ پر کلام کرنا بھی منہج محدثین سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔

افسوس کہ بہت سارے حضرات جو عدالت صحابہ پر کلام کرتے ہیں وہ ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں جو اسی قبیل سے ہوتی ہیں، یعنی ایسے منافقین جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جن کے نفاق پر دلائل موجود ہیں، یا جو مرتد ہو گئے تھے،ان کے جرائم پیش کرکے صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرنے کا جواز فراہم کیا جاتا ہے۔

ظاہر سی بات ہے کہ یہ جب صحابی کی تعریف میں فٹ ہی نہیں بیٹھتے تو ان کے جرائم کو دلیل بنا کر صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کرنا کہاں کا انصاف ہے۔

جو بھی شخص محدثین کرام کے منہج سے واقف ہوگا وہ کبھی بھی صحابہ کرام کی عدالت کےمتعلق چہ می گوئی کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ در اصل صحابہ کرام کی عدالت کے بارے میں کلام کرنا اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے پر انگلی اٹھانا ہے، کیونکہ خود اللہ اور اس کے رسول نے صحابہ کرام کی عدالت کی گواہی دی ہے۔ ذیل میں چند آیتیں اور احادیث پیش کیے جا رہے ہیں جن میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی عدالت کی گواہی دی گئی ہے:

(۱)اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وكذلك جعلناكم أمة وسطاً لتكونوا شهداء على الناس و يكون الرسول عليكم شهيداً[سورة البقرة:۱۴۳]ہم نے اسی طرح تمھیں عادل امت بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو جائیں۔

وجہ استدلال:اس آیت کے اول مخاطبین صحابہ کرام ہیں، جن کی عدالت کی اللہ نے اس آیت میں خوشخبری سنائی ہے۔

خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وهذا اللفظ وإن كان عاما فالمراد به الخاص،وقيل:وهو وارد في الصحابة دون غيرهم[الکفایہ للخطیب البغدادی: ص۴۶]یہ لفظ اگرچہ عام ہے لیکن اس سے مراد خاص ہے، اور کہا گیا کہ یہ لفظ صرف صحابہ کے بارے وارد ہوا ہے، دوسروں کے بارے نہیں۔

(۲)اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

كنتم خير أمة أخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنهون عن المنكر وتؤمنون بالله[سورة آل عمران:۱۱۰] تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے،تم نیک باتوں کا حکم دیتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔

وجہ استدلال:اس آیت کے اول مخاطبین صحابہ کرام ہیں، جن کے بارے اللہ تعالی نے”خیر امت“ہونے کی گواہی دی ہے، جس وقت یہ آیت نازل ہوئی وہی اس کے مخاطب تھے، اور یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالی انھیں ”خیر امت“ کی صفت سے متصف کریں اور وہ عادل نہ ہوں۔[دیکھیں:الموافقات للشاطبی:4/40-41]

(۳)اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار والذين اتبعوهم بإحسان رضي الله عنهم و رضوا عنه وأعد لهم جنات تجري تحتها الأنهار خالدين فيها أبدا ذلك الفوز العظيم[سورة التوبہ:۱۰۰]

وجہ استدلال:اس آیت میں اللہ تعالی نے صحابہ کرام کو مطلقا اپنی رضامندی اور جنت کی عظیم خوشخبری سنائی ہے، اور یہ محال ہے جن کو یہ شرف وسعادت ملے وہ عادل ہی نہ ہوں۔

قرآن کریم کی طرح احادیث رسول میں بھی ان کی عدالت کی گواہی دی گئی ہے۔ ذیل میں بعض احادیث پیش خدمت ہیں:

۱۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دینے کے بعد صحابہ کرام کے جم غفیر کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب[متفق علیہ:صحیح بخاری، حدیث نمبر۱۰۵، صحیح مسلم، حدیث نمبر۱۶۷۹]تم میں سے جو یہاں حاضر ہیں وہ غائب رہنے والوں تک یہ باتیں پہنچا دے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کرام کو یہ ذمہ داری دی، ان میں سے کسی بھی صحابی کو مستثنی نہیں کیا۔ یہ ان کی مطلق عدالت کی بہت بڑی دلیل ہے، ورنہ یہ لازم آئےگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو دی جو عادل ہی نہ تھے۔

۲۔نبی صلہ اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

لا تسبوا أصحابي فلو أن أحدكم أنفق مثل أحد ذهبًا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه[متفق علیہ، صحیح بخاری:حدیث نمبر۳۶۷۳،صحیح مسلم:حدیث نمبر۲۵۴۰]

نبی صلہ اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ پر سب وشتم سے مطلقا منع فرمایا، اور ان کے حق میں اس سے بڑا سب وشتم اور کیا ہوگا کہ انھیں غیر عادل کہا جائے۔

اس لیے جو لوگ صحابہ کرام کی عدالت پر کلام کر رہے ہیں وہ در حقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

اسی لیے اللہ کے فضل وکرم سے امت میں سے کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی نہیں کی سوائے چند باطل فرقوں اور ان کے ہمنواؤوں کے۔ چنانچہ بے شمار علما نے اس پر امت کا اجماع نقل کیا ہے کہ تمام کے تمام صحابہ کرام عادل ہیں۔

(۱)خطیب بغدادی رحمہ اللہ عدالت صحابہ پر کتاب وسنت کے دلائل پیش کرنے اور ان دلائل سے تمام صحابہ کرام کی عدالت ثابت کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ:

”یہ تمام علما اور معتبر فقہا کا مذہب ہے“۔ [الکفایہ:ص۶۷]

(۲)حافظ ابن الصلاح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

للصحابة بأسرهم خصيصة، وهى أنه لا يسأل عن عدالة أحد منهم، بل ذلك أمر مفروغ منه لكونهم على الإطلاق معدلين بنصوص الكتاب، والسنة، وإجماع من يعتد به في الإجماع من الأمة[مقدمہ ابن الصلاح:ص۱۷۶]

(۳)علامہ عراقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

إن جميع الأمة مجمعة على تعديل من لم يلابس الفتن منهم وأما من لابس الفتن منهم وذلك حين مقتل عثمان رضي الله عنه فأجمع من يعتد به أيضًا في الإجماع على تعديلهم إحسانًا للظن بهم، وحملًا لهم في ذلك على الاجتهاد [التبصرۃ والتذکرۃ:3/13-14]

(۴)حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اتفق أهل السنة على أن الجميع عدول و لم يخالف ذلك إلا شذوذ من المبتدعة[الاصابۃ فی تمییز الصحابہ:1/17]

عقل بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ ان کی عدالت کے بارے میں کسی بحث وتفتیش کے بغیر ان کی احادیث قبول کی جائیں کیونکہ اگر عدالت کی وجہ سے ان کی احادیث رد کی جانے لگیں تو الزامی طور پر یہ اللہ اور اس کے رسول پر طعن ہوگاکہ اللہ تعالی نے نقل شریعت کے لیے ان کا انتخاب کیا جو اس لائق نہ تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کے باوجود ان میں وہ ملکہ پیدا نہ ہوسکا کہ ان کی نقل کردہ باتوں پر اعتماد کیا جاسکے، تو یہ بالواسطہ اللہ تعالی کے انتخاب اور اس کے رسول کی تربیت پر طعن وتشنیع کرنا اور انگلی اٹھانا ہے۔

نیز اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلےگا کہ شریعت صرف عہد صحابہ تک ہی سمٹ کر رہ جائے اور آنے والی نسلوں تک منتقل نہ ہو، کیونکہ جب آپ نے صحابہ کرام کی عدالت کو ہی مجروح کر دیا تو شریعت کن سے قبول کی جائےگی؟ [تفصیل کے لیے دیکھیں:البرہان فی اصول الفقہ:1/242، ارشاد الفحول:1/275]

رہی بات حفظ وضبط کی تودوسرے ثقہ وعادل روات کی طرح صحابہ کرام سے بھی سہو وخطا کا امکان ہے، لیکن جس طرح ہم صرف اس امکان کی وجہ سے دوسرے عادل روات کی احادیث رد نہیں کر دیتے، یا کبھی ان سے کسی حدیث کی روایت میں کوئی چوک ہو جائے تو انھیں عدالت کے درجے سے ساقط نہیں کر دیتے، اسی طرح صحابہ کرام کا معاملہ ہے۔ صرف امکان کی وجہ سے ان کی کسی حدیث کو رد کرنا سراسر ظلم ہے۔ ہاں اگر دلائل سے کسی خاص روایت میں ان سے ہوئی چوک کی نشاندہی ہو جائے تو جس طرح دوسرے ثقہ و عادل روات سے ان کی غلطی قبول نہیں کی جاتی صحابہ کرام سے بھی قبول نہیں کی جائےگی۔ لیکن اس کا فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوگا کہ واقعی ان سے چوک ہوئی ہے یا نہیں، ہوا پرستی کی بنیاد پر ان کی بیان کردہ کسی حدیث کوصرف اس امکان اور احتمال کی وجہ سے رد کرنا جائز نہیں۔ اگر دلائل کی بنیاد پر کسی حدیث کی روایت میں ان کا سہو ثابت ہو گیا تو صرف وہ حصہ غیر قابل قبول ہوگا جس میں ان سے سہو ہوا ہے، لیکن اسے بنیاد بنا کر ان کی عدالت کے بارے میں کلام کرنا غلط ہی نہیں سراسر ظلم ہے۔

مثلا:ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے جب شادی کی تھی تو آپ حالت احرام میں تھے۔ [صحیح مسلم :حدیث نمبر۱۴۱۰]

یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم کے اندر مروی ہے۔لیکن محدثین نے متعدد دلائل کی بنا پر بیان کیا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اسے بیان کرنے میں سہو ہوا ہے۔ [دیکھیں:التمہید لابن عبدالبر:3/158، إعلام العالم بعد رسوخہ بناسخ الحديث ومنسوخہ لابن الجوزی:ص۳۴۷، زاد المعاد لابن القیم:3/329]

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے جب شادی کی تھی اس وقت آپ احرام کا لباس اتار چکے تھے اور حلال ہو چکے تھے۔ خود میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی شادی ہوئی دونوں حلال ہو چکے تھے۔ [صحیح مسلم:حدیث نمبر۱۴۱۱]

تو عدالت صحابہ کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ کسی صحابی سے حفظ وضبط کے باب میں کوئی سہو یا وہم نہیں ہو سکتا، محدثین میں سے کسی نے یہ دعوی نہیں کیا ہے۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وأما الغلط فلا يسلم منه أكثر الناس، بل في الصحابة من قد يغلط أحيانًا[قاعدۃ جلیلہ فی التوسل والوسیلہ لابن تیمیہ:ص۱۶۱]اکثر لوگ غلطی سے پاک نہیں، بلکہ صحابہ کرام میں سے بھی بعض کبھی کبھار غلطی کرتے ہیں۔

مستشرقین نے اس طرح کےبعض دلائل کو پیش کرکے امت کو مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے کہ صحابہ کرام کی مطلقا عدالت کا دعوی کرنا درست نہیں، ان سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں اس لیے ان کی عدالت کے بارے میں بھی ہمیں بحث وتحقیق کی ضرورت ہے۔

تو یہ محض ایک تلبیس ہے اور محدثین کے منہج سے عدم واقفیت کی دلیل۔ اس طرح کے شبہات سے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے اور محدثین کے نزدیک عدالت صحابہ کا صحیح مفہوم کیا ہے اسے جاننے کی ضرورت ہے۔

جب دوسرے روات حدیث سے کبھی کبھار روایت حدیث میں چوک ہو جانے کی وجہ سے ان کی عدالت مجروح نہیں ہوتی اور ایک آدھ غلطیوں کے باوجود وہ بالاتفاق عادل وثقہ ہی شمار کیے جاتے ہیں تو کیا یہ انصاف کا تقاضا ہے کہ اس طرح کی ایک آدھ غلطیوں کو بنیاد بنا کر صحابہ کرام کی عدالت کو مجروح کیا جائے اور انھیں ساقط العدالہ سمجھا جائے؟

صحابہ کرام سے جن بعض احادیث کی روایت میں سہو ہوا ہے ان کی تعداد اتنی کم ہے کہ انھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔اللہ کے فضل وکرم سے کسی بھی صحابی سے اتنے اوہام سرزد نہیں ہوئے جنھیں بنیاد بنا کراس صحابی کی عدالت پر کلام کرنا جائز بلکہ قرین انصاف ہو۔ یہاں محدثین کرام کا عدل وانصاف دیکھیں کہ وہ صحابہ کرام سے بے انتہا عقیدت رکھنے کے باوجود تحفظ شریعت کو مقدم رکھتے ہیں اور خود ان اوہام کی نشاندہی کرتے ہیں جو ان سے سرزد ہوئیں، تاکہ انھیں شریعت کا درجہ نہ دیا جائے۔ کیا محدثین کے علاوہ اس طرح کے انصاف کا تصور کسی بھی جماعت میں ممکن ہے؟

دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں سلف صالحین کے منہج پر قائم ودائم رکھے اور نبیین صدیقین شہدا وصالحین کے ساتھ ہمارا حشر ہو۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
Mohd fahim shaikh

جزاك الله خيرا…