کارِ جہاں دراز ہے

وسیم المحمدی تعارف و تبصرہ

دنیا میں اکثر کام اکثریت ایک ہی طرز پر کرتی ہے۔ عوام و خواص دونوں اسی اکثریت کا حصہ ہیں۔ خواص میں جو اہل علم ہوتے ہیں وہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ تقریر ہو یا تحریر، ایک ہی طرح کی سرگرمیوں سے دنیا پاٹ دیتے ہیں۔

اکثریت بے راہ روی کی عادی ہوتی ہے۔ یہ بے راہ روی خواص پیدا کرتے ہیں۔ علم والے برانڈنگ کی راہ پر چل کر بھیڑ کو ہر ممکن طریقے سے انٹرٹین کرتے ہیں اور مال والے اسراف و تبذیر کے ذریعے اپنی نعمتوں کا اظہار کرکے معاشی آلودگی پیدا کرتے ہیں۔

دھول مال سے اڑے یا علم سے ایک دن بیٹھ جاتی ہے، ہواؤں سے چاہے جتنے پتے جھڑ جائیں موسم بدلتا ہے برسات ہوتی ہے تو بہار آجاتی ہے۔ بھیگنے کے بعد دھول مٹی بن جاتی ہے۔ نیکیوں کے سوا ہر چیز کی قسمت میں یہی آخری ہیئت ہے، مٹی ہی سے انسان بنا ہے مٹی کی قبر تک ہی دنیا میں اس کے جسم کی آخری رحلت ہے۔

کسی کے بیان میں کیسا ہی جادو کیوں نہ ہو، اللہ کے کلام میں جو اثر ہے، ہمارے نبی ﷺ کے قول میں جو کشش ہے اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں زندگی اسی بیان کو ہے جو اس اثر یا کشش کے بکھان میں ہے۔ یہ بکھان اقلیت کا نصیبہ ہے۔ چودہ سو سالہ تاریخ بھی اسی نریٹیو کی دلیل ہے۔ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ / قَلِيلٗا مَّا تَذَكَّرُونَ / قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ

آج بھی اکثریت وہی کرتی ہے جو نہیں کرنا چاہیے۔ خطیب ہو یا قلم کار اپنی جادو بیانی کا خود ہی اسیر ہے۔ کلام اللہ کی عظمت کا جسے ادراک ہو، اقوال نبی ﷺ کی حکمت کا جسے شعور ہو وہ ان دونوں احساسات سے بے نیاز ہوسکتا ہے نہ بے پروا۔ ادراک و شعور کی یہ منزلیں مومن کو ہر لمحہ سب سے اچھے حال میں رکھتی ہیں۔ جو یہاں سے چھوٹا اسے نہ کوئی فکر بچا سکتی ہے نہ فلسفہ۔ جو تپسیا اللہ اور رسول سے جوڑے وہ مبارک اور جو کارنامہ حیرت و استعجاب میں مبتلا کرے، آہ اور واہ جیسی وادیوں کی سیر کرائے، کیا کہہ دیا کیا لکھ دیا جیسے ایکسپریشن جنم دے وہ بھٹکا دے گا۔ اس نکتے کو دو موٹے موٹے نقطوں کی مدد سے دل و دماغ میں انڈیلنے والا یہ مضمون ایک نشست میں پڑھا جائے گا۔ پڑھنے والے بہت ہیں مگر پڑھنے لائق لکھنے والے کم۔ لکھنا بولنے سے مشکل‌ کام ہے۔

دنیا میں ہر طرح کے کام کے قاعدے ہیں۔ مگر کچھ کام اصولوں کو اپڈیٹ کرتے ہیں، جیسے رفیع صاحب کی کتاب مولانا عبدالسلام مدنی: حیات و خدمات۔ سوانح لکھنے کے اصولوں کو اپڈیٹ کرنے والی کتاب ہے۔

زیر نظر مضمون بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ مضمون نگار اپنی ہر نئی تحریر سے قارئین کو چونکا دیتے ہیں۔ اس مضمون کو جس خانے میں رکھا جائے گا یہ اس خانے کے اصولوں کو اپڈیٹ کرنے والا مضمون ہے۔

ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے کار جہاں کی درازی کو اپنے اس مضمون میں جس نظر سے دیکھا اور دکھایا ہے وہ آن ٹاپ آف د‌ ورلڈ ہے۔ یہی ایک نقطہ نظر ہے جہاں سے ہر چیز صاف صاف دکھائی دیتی ہے۔ (ایڈیٹر)


بروز قیامت اللہ تعالى کے حضور ایک ایسا کنگال شخص بھی پیش ہوگا جس کے نامہ اعمال میں بظاہر سوائے گناہوں کے کچھ نہ ہوگا۔ صحیفہ نیکیوں سے خالی اور دامن حسنات سے عارى ہوگا۔ ایک طرف یہ حال ہوگا تو دوسری طرف گناہوں کا انبار لگا ہوگا۔ برائیوں کا عالم یہ ہوگا کہ ننانوے رجسٹر اس کی کرتوتوں سے بھرے ہوں گے۔ رجسٹر بھی ایسا کہ جہاں تک نگاہ جائے وہی نظر آئے۔

اتمام حجت کے لیے اس بندے سے کہا جائے گا کہ یہ اعمال نامے کسی انکار کے قابل ہیں؟ بندہ کہے گا:میرے رب ایسا بالکل نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالى کہے گا:کیا میرے فرشتوں نے لکھنے میں کوئی زیادتی کردی ہے؟ بندہ کہے گا:نہیں میرے رب ایسا بھی نہیں ہے۔

خوف وگھبراہٹ سے اس بندے کی حالت یہ ہوگی کہ جب اس سے پوچھا جائے گا کہ تمھارے پاس کوئى عذر ہے؟ کیا کوئی نیکی بھی تمھارے دامن میں ہے؟ تو کہے گا نہیں۔ میں بالکل کنگال ہوں۔

یہ سب کچھ ہوگا مگر بندے کی خوبی یہ ہوگی کہ وہ امت محمدیہ کا ایک موحّد شخص ہوگا۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا دل سے معترف ہوگا۔ کفر وشرک سے دور اور اور نواقض توحید سے پاک ہوگا۔

چنانچہ جب وہ بندہ گھبراہٹ میں کہے گا کہ میں بالکل کنگال ہوں۔ میرے پاس کوئی نیکی نہیں ہے تو اللہ تعالى کہے گا:نہیں۔ ایسی بات نہیں ہے۔ ہمارے پاس تمھاری کچھ نیکیاں ہیں۔ تم پر آج بالکل ظلم نہیں ہوگا۔ پھر ایک کارڈ نکالا جائے گا جس میں ’أشھد أن لا الہ الا اللہ واشھد أن محمدا عبدہ ورسولہ‘ لکھا ہوگا۔

وہ بندہ حیرت واستعجاب سے کہے گا:میرے رب!اتنے بڑے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں جن کی تعداد ننانوے ہے اس ایک کارڈ کی بھلا کیا حیثیت ہے؟ اللہ تعالى فرمائے گا: تم پر ظلم نہیں ہوگا۔ چنانچہ میزان کے ایک پلڑےمیں ننانوے رجسٹر رکھ دیے جائیں گے اور دوسرے پلڑے میں وہ کارڈ رکھ دیا جائے گا۔ نتیجہ یہ نکلے گا کہ رجسٹروں والا پلڑا ہلکا ہو کر اوپر اٹھ جائے گا اور کارڈ ولا پلڑا باوزن ہوکر نیچے جھک جائےگا۔

کلمہ توحید کی اہمیت و فضیلت اور عظمت میں متعدد احادیث وارد ہیں۔ اس کلمہ کی عظمت کا خلاصہ یہی ہے کہ جس نے بھی صدق دل سے اس کا اعتراف کیا، اس کے تقاضوں کو پورا کیا، اس کے نواقض سے بچا تو اس کے گناہ چاہے آسمان تک پہنچ جائیں،سمندر کو ڈھک لیں، مزید ایک نیکی بھی اس کے پاس نہ رہے۔ تب بھی اللہ تعالى اپنے فضل وکرم سے کبھی نہ کبھی اسے جنت میں ضرور داخل کرے گا۔

کلمہ توحید جس قدر عظیم ہے اسی قدر اس کے تقاضے بھی ہیں۔ ایک مومن جب اس عظیم کلمہ کا اعتراف کرتا ہے تو وہ خود کو بہت ساری چیزوں کا پابند کر لیتا ہے۔ بہت ساری قربانیوں کے لیے خود کو تیار کرلیتا ہے۔ بہت سارے اعمال کو بجالاتا اور اور بہت سارے منہیات سے اجتناب کو ضروری سمجھتا ہے۔

اس کلمہ کی جس قدر عظمت وفضیلت ہے اسی قدر اس کے کہنے والوں میں باعتبار علم ویقین، اعتراف وانقیاد، صدق واخلاص فرق واختلاف بھی ہے۔ یہ فرق واختلاف اس کلمہ کے لفظی مفہوم سے لے کر اس کے تقاضوں اور نواقض تک علِماً وعَملا ً پھیلا ہوا ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ توحید کا اقرار کرنے کے بعد علانیہ کفر وشکر اور الحاد وزندقہ کا ارتکاب کرنے والے بھی خود کو اس کی فضیلت وعظمت کا حق دار سمجھتے ہیں۔

سلف صالحین کا طرز عمل ایسا بالکل نہیں تھا۔ وہ نہ صرف اس کلمہ کے صحیح مفہوم سے آگاہ تھے بلکہ اس کے تقاضوں کو عملا پورا کرتے اور اس کے نواقض سے خود کو پورى طرح محفوظ رکھتے تھے۔

معلوم ہوا اس کلمہ توحید کے تقاضے بھی ہیں اور نقائض بھی۔ سب کی پاسداری کما حقہ ضروری ہے تاکہ اس کلمہ کے اقرار کی واقعیت باقی رہے۔ تاہم اس کے نقائض بہت ہی سنگین ہیں۔ تقاضوں کا مسئلہ یہ ہے کہ بعض تقاضے ایسے بھی ہیں جن کی ادائیگی میں تھوڑی بہت کوتاہی ہوجائے تو اللہ تعالى ممکن ہے اپنے فضل وکرم اور اپنى رحمت بے پناہ سے اسے در گزر کردے۔ مگر نواقض کا مسئلہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ کیوں کہ یہ اس اعتراف کی نقیض ہیں۔ دونوں ایک جگہ جمع ہی نہیں ہو سکتیں۔ ادھر بندے نے کسی نقیض کا ارتکاب کیا ادھر کلمہ توحید کے مضبوط بندھن سے آزاد ہوگیا۔

علم اللہ تعالى کی نعمتوں میں سب سے عظیم نعمت ہے۔ علم سے جڑے ہوئے سچے لوگ سعادت کی ایسی راہ کے مسافر ہوتے ہیں جس میں منزل کے حصول کی تمنا نہیں کی جاتی۔ بس یہ خواہش ہوتى ہے کہ راستہ کبھی نہ ختم ہو تاکہ سعادت کی ہم رکابی برقرار رہے۔ وہ لوگ بہت نادان یا بدقسمت ہوتے ہیں جو علم کے کسی بھی سفر سے اکتاہٹ کا شکار ہوتے اور اس راہ سے خود کو الگ کرنے کے متمنى ہوتے ہیں۔

البتہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ’شرف العلم تابع لشرف المعلوم‘علم کا شرف معلوم کے شرف کے تابع ہے۔ یہ علم جس قدر اللہ تعالى سے قربت کا ذریعہ ہوگا یہ شرف وسعادت اسی قدر ہمرکاب ہوگی۔ اسی طرح-نعوذ باللہ -یہ علم جس قدر اللہ تعالى سے دوری کا باعث ہوگا اسی طرح اس شرف وعظمت سے دوری اور سعادت سے محرومی ہاتھ آئے گی۔ علوم وفنون کی اہمیت وفضیلت ان کی عظمت و بلندی کا معیار متعین کرنے کے لیے یہ ذہبی قاعدہ ایسا آئینہ ہے جس میں آپ پوری صفائی سے اسے دیکھ پرکھ اور پھر چھان پھٹک سکتے ہیں۔

علم حاصل کرنا یہ بذات خود شرف عظیم ہے۔ اللہ تعالى کی یہ نعمت اللہ کے بہت ہی خاص بندوں کو ملتی ہے۔ چنانچہ اگر کسى کو اللہ تعالى نے علم کے راستہ پر گامزن کر رکھا ہے تو وہ بہت ہی خوش نصیب ہے۔ تاہم علم حاصل کرکے اسے بندوں تک پہچانا اس سے بڑا شرف ہے۔ اللہ کے بندوں کو علم کی نعمت سے بہرہ ور کرنا، انھیں اس سے سیراب کرنا، ان کی جہالت کو دور کرنا یہ اللہ کے بندوں کو کھلانے پلانے سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ عظیم عمل ہے۔ یہ شرف فوق الشرف ہے۔

نشر علم کے دو معروف طریقے ہیں:تعلیم وتدریس اور تصنیف وتالیف۔ یا اسے وسیع مفہوم میں یوں کہہ لیں:تکلم وخطاب اور تحریر وکتابت۔

پہلا طریقہ نسبتا آسان جبکہ دوسرا قدرے پیچیدہ،مشکل اور مشقت طلب ہے۔ جو فرق بولنے اور لکھنے میں ہے اور جو امتیاز خطاب کرنے اور تالیف کرنے میں ہے وہی فرق یہاں ملحوظ ہے۔ لکھنے والا جہد مسلسل کا ایک مرحلہ طے کرتا ہے۔ ایک مؤلف ایک کتاب تالیف کرنے کے لیے مختلف مراحل میں اپنا خون پسینہ بہاتا ہے۔ ایک مصنف ایک کتاب کی تصنیف کے لیے کئى منازل طے کرتا ہے۔ تب کہیں جاکر ایک کتاب معرض وجود میں آتی ہے۔ موضوع کے انتخاب سے لے کر کتاب کی طباعت، اس کی نشر واشاعت تک ہر مرحلہ ایک الگ ہی جد وجہد کا طالب ہوتا ہے۔ اس جد وجہد کا درست اندازہ صرف وہی کر سکتے ہیں جو اس میدان سے تعلق رکھتے ہیں کہ کسی موضوع کا حق ادا کرکے اسے ضابطہ تحریر میں لانا کس قدر دشوار ہوتا ہے۔ پیشانی کے پسینے سے لے کر فکر کا لہو کس طرح قلم کی سیاہی بن کر اوراق پر پھیلتا ہے تب قارى کو کوئی اچھی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے۔

پھر بھی ضبط وتحریر کا یہ عمل اور تالیف وتصنیف کے یہ مراحل محض پیہم جدو جہد سے طے نہیں ہوتے۔ اس میں توفیق الہی کا بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ یہ توفیق الہی درحقیقت سب پر بھاری ہوتی ہے۔ یہی فکر کو روشنی دکھاتی، یہی راستہ ہموار کرتی، یہی ارض فکر کو سرسبز و شاداب کرتی اور یہی اسے ثمر آور کرتی ہے۔

جو عمل جس قدر عظیم ہوتا ہے اسی قدر اللہ کی توفیق کا محتاج ہوتا ہے۔ بظاہر مشکل نظر آنے والا عمل اگر اللہ تعالى کے یہاں بہت زیادہ قدر وقیمت نہیں رکھتا تو وہ بہت زیادہ توفیق الہی سے واسطہ نہیں رکھتا۔ مگر جو عمل اللہ تعالى کے یہاں اہم اور قیمتی ہوگا، اس کی ایک شان ہوگی اسی قدر وہ توفیق الہی سے جڑا ہوگا اور اسی قدر وہ اس کے چنندہ بندوں کے حصہ میں آئے گا۔

بسا اوقات کوئی عظیم عمل بظاہر مشکل نہیں ہوتا۔ ایسا واضح طور سے محسوس ہوتا ہے کہ بہت سارے افراد اسے انجام دے سکتے ہیں۔ تاہم عظمت سے جڑے ہونے کے سبب سب کو اس کی توفیق نہیں ملتی۔ اس کام کے لیے اللہ تعالى اپنے خاص بندوں کو اختیار کرتا ہے۔ ذکر الہی بظاہر کتنا آسان عمل ہے۔ آپ أستغفر اللہ، سبحان اللہ، والحمد للہ، واللہ اکبر جیسے مبارک کلمات راہ چلتے کتنی آسانی سے زبان سے ادا کر سکتے ہیں۔ مگر کتنے لوگوں کو اس کی توفیق ہوتی ہے؟ یہی توفیق الہی کا عملی مفہوم ہے۔

سو عظمت علم وعمل کا حصول توفیق الہی کا ہر ہر مرحلہ میں محتاج ہوتا ہے۔ اب آپ مختلف میدان کے شہسوار سلف صالحین کی سیرتوں پر نظر دوڑائیں۔ معاصر اہل علم اور قلم کاروں کو دیکھیں۔پھران کے علم کا ان کے عمل سے موازنہ کریں؛ توفیق الہی کا یہ کرشمہ کہیں آپ کو چمکتا دمکتا تو کہیں ٹمٹماتا ڈمڈماتا نظر آئےگا۔ کتنے ہی علم وفن کے شہسوار سارے اسباب کی فراہمی کے باوجود وہ کام نہیں کرپاتے جو ان سے کم علم والے بے سروسامانی کی حالت میں کر جاتے ہیں۔ یہ در اصل توفیق الہی کا معاملہ ہوتا ہے۔ جس قدر مطلوب عظیم ہوگا اسی قدر توفیق الہی کا محتاج ہوگا۔ اسی قدر توفیق الہی نادر اور معدوم سی ہوگی اور اسی قدر توفیق الہی خال خال لوگوں کے حصہ میں آئےگی۔ چنانچہ اگر کسی کو اللہ تعالى نے کسی عظیم اور مبارک عمل کی توفیق دی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس پر اللہ تعالى کی خصوصی عنایت ہے۔ وہ اگر چاہتا تو اسے اس اپنی توفیق سے محروم کردیتا ۔ کسی اور کے حصہ میں یہ خوش نصیبی ڈال دیتا۔ چنانچہ یہ حسن توفیقایک موفق بندہ سے اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ وہ اپنے رب کا خصوصی شکریہ ادا کرے اور بے جا کبر وغرور یا ہوائے نفس کا شکار نہ ہو۔

تصنیف وتالیف کی دنیا میں ایک طریقہ ایسا بھی رائج ہے جسے متن کہا جاتا ہے۔ اسے اصول علم کو ضبط وتحریر کرنے اور اس کے حفظ وفہم کو آسان بنانے کی خاطر ترتیب دیا جاتا ہے۔ کسی بھی علم وفن یا موضوع کے اصول کو ضبط کرنے کے لیے متن کی شکل دینا ایک مشکل کام ہے۔ کیونکہ متن تحریر کرتے وقت اس بات کو یقینی بنانا پڑتا ہے کہ موضوع کے تئیں کوئی بھی اہم بات فوت نہ ہوسکے۔ اور اس سے مشکل یہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی کلمہ حشو نہ ہو۔ چنانچہ ایک کامیاب جامع ومانع متن حشوو خلل دونوں سے پاک ہوتا ہے۔ اس کے لیے علم کے ساتھ ساتھ اخّاذ ذہن اور ثاقب نظر کی ضرورت پڑتی ہے جو اصول وضوابط کو اچھی طرح کلکولیٹ کرکے اسے چند صفحات پر محرر کرکے پھیلا دیتا ہے۔جس طرح متن کو حفظ کرنا ذہنی ریاضت کہلاتی ہے اس سے زیادہ اسے تیار کرنے میں ذہنی ریاضت کی ضرورت پڑتی ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نراین پوری برصغیر کی علمی دنیا میں ایک جانا پہچانا نام بنتا جا رہا ہے۔ آپ نے عالم اسلام کی عظیم سلفی درسگاہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے فقہ حدیث میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ زمانہ طالب علمی ہی سے علم سے لگاؤ، اس کے تئیں سنجیدگی، اس کے حصول میں پیہم جد وجہد ، مختلف طریقوں سے اس کی نشر واشاعت میں معروف رہے ہیں۔ پڑھنا لکھنا آپ کا مشغلہ ہے۔ بحث وتحقیق کے شہسوار ہیں۔ مزاج تحقیقی اور قلم سیال ہے۔

اللہ تعالى نے آپ کو علم کے ساتھ ساتھ تقوى اور ورع سے بھی نوازا ہے۔ صلاحیت اور صالحیت دونوں ناحیے سے ممتاز طالب علم رہے ہیں۔ اس وقت جامعہ اسلامیہ نور باغ کوسہ ممبرا ممبئی میں بحیثیت استاذ اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔دروس ومحاضرات،دعوت وتبلیغ مزاج میں رچا بسا ہے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی بھی کما حقہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہذا ما نعرف ولا نزکی على اللہ أحدا۔ اللہ تعالى آپ کی جدو جہد کو قبول فرمائے۔ آپ کے علم، عمل، عمر سب میں خصوصی برکت عطا فرمائے۔ آپ کو ہر سوء ومکروہ اور شر سے محفوظ رکھے۔ صحت وعافیت سے نوازے۔ اپنے دین کی عظیم خدمات آپ سے لے اور دنیا وآخرت دونوں میں آپ کو سعادت سے لبالب بھری زندگی عطا فرمائے۔

آپ نے اس بار کلمہ توحید کی شرح وتوضیح پر قلم اٹھایا ہے۔ اور عربی زبان میں (کلمۃ لا إلہ إلا اللہ:فضلہا ومعناہا وأرکانہا وشروطہا ونواقضہا) نامی ایک نہایت قیمتی اور مبارک رسالہ متن کی شکل میں ترتیب دیا ہے ۔

اس رسالہ میں پہلے کلمہ توحید کے فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ پھر اس کے صحیح معنى کى تعیین کی گئى ہے۔ اس کے بعد اس کے ارکان و شروط اور نواقض کا ذکر کیا گیا ہے۔

جیسا کہ ہر متن کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ جامع کلمات پر منحصر ہونے کی وجہ سے شرح وتوضیح اور بیان کی محتاج ہوتی ہے یہ متن بھی شرح وتوضیح کی محتاج ہے۔ اسے اس شکل میں اسی لیے تیار بھی کیا گیا ہے کہ طلباء اسے بآسانی حفظ کرلیں ۔ اس کی شرح وتفصیل کو اچھی طرح جان لیں تاکہ وہ نہ صرف اس کے حق کی ادائیگی کر سکیں بلکہ لوگوں تک اس عظیم کلمہ کا صحیح مفہوم ، اس کے ارکان و شروط اور نواقض جیسی اہم باتیں پہنچا سکیں۔

در اصل کلمہ توحید یہ اسلام کا مدخل اور ایمان کا مرکز ہے۔ اس کی فضلیت کے لیے یہی کافی ہے کہ اللہ تعالى نے اس کلمہ کے قائل کو جنت کی بشارت دی ہے۔

مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا محض زبان سے اس کلمہ کی ادائیگی جنت کے حصول کے لیے کافی ہے؟ کیا ہر وہ شخص جو زبان سے لا الہ الا اللہ کہہ دے جنت کا مستحق قرار پائےگا؟ یا پھر اس کے کچھ تقاضے بھی ہیں جنھیں اس کلمہ گو کے لیے پورے کرنے ضروری ہیں۔ کچھ موانع احترازات اور نقائض بھی ہیں جن سے ایک اللہ کا اقرار کرنے والے کو بچنا ضروری ہے؟ ظاہر ہے اتنی بڑی فضیلت محض ایک زبانی اقرار سے تو نہیں مل سکتی۔ ورنہ کیسے کیسے لوگ جنت کے دعویدار بن جائیں گے۔ وہ بھی جو دین کے مخلص ہیں اور وہ بھی جو دین کے دشمن ہیں۔ اس رسالہ میں انھی امور کو ٹو دی پوائنٹ جمع کر دیا گیا ہے۔ پوری کوشش کی گئی ہے کہ رسالہ جامع ومانع اور ایک متن کی خصوصیات سے متصف ہو۔ ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے اس کی تیاری میں بڑی عرق ریزی سے کام لیا ہے۔ آپ خود ذی علم شخص ہیں۔ محققانہ مزاج رکھتے ہیں۔ لکھنا پڑھنا آپ کی ہابی ہے۔ تاہم اس رسالہ کو مزید محرر اور وقیع بنانےکے لیے اسے اہل علم کی ایک بڑی جماعت سے چیک کروایا ہے۔ جن اہل علم نے اس کا مراجعہ کیا ہے ان کی تعداد چھبیس (26) تک پہنچتی ہے۔

اس رسالہ میں آپ نے ’لا الہ الا اللہ‘ کی فضیلت، اس کا معنى، اس کے ارکان بیان کرنے کے بعد ان سات مشہور شرطوں-علم، یقین، قبول، انقیاد، صدق، اخلاص، محبت- کا ذکر کیا ہے جنھیں حافظ حکمی رحمہ اللہ نے اپنی مایہ ناز کتاب (سلّم الوصول) میں ذکر کیا ہے۔ جبکہ نقائض کے بیان میں شرک سے لے کر اعراض عن دین اللہ تک ان دس نقائض کا ذکر کیا ہے جن کا لوگ بکثرت ارتکاب کرتے ہیں۔انھی نقائض کے ضمن میں آپ نے ان دو اہم نقائض کا بھی ذکر کیا ہے:

۱۔دین کے جملہ احکام میں سے کسی حکم کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھنا بھلے ہی ایسا کرنے والا شخص اس حکم پر عمل کرے:چنانچہ اس کی یہ کراہیت و ناپسندیدگی کلمہ توحید کے مناقض ہے۔ یہ ایک نہایت سنگین موضوع ہے۔ دانستہ و نادانستہ بہت سارے مسلمانوں کو دیکھا اور سنا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے بعض احکام کو نہ صرف نا پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے بلکہ اس کا برملا اظہار بھی کرتے ہیں۔ کبھی ہوائے نفس تو کبھی معاشرتی رسوم ورواج اس کا سبب بنتے ہیں۔ہمارے یہاں معاشرہ میں پھیلے غیر شرعی رسوم ورواج نے ایک ماحول بنا دیا ہے۔ ان کے خلاف دین کے احکام بیان کیے جائیں تو اچھے بھلے لوگ کھل کر کراہت وناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ کراہت اور یہ ناپسندیدگی بلا شبہ اس میں داخل ہے۔ عوام تو عوام پڑھے لکھے بلکہ بعض اہل علم تک کو اس کا ارتکاب کرتے دیکھا جاتا ہے۔

اس ضمن میں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ کراہیت کا تعلق دل سے ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کا اظہار زبان سے بھی ہو۔ ایک شخص جب کسی چیز سے دلی کراہت کرتا ہے تو عموما اس کا اثر چہرے پر ظاہر ہوجاتا ہے۔ آدمی چالاک ہو تو اس اثر کو حسب مصلحت چھپا لیتا ہے اور منجھا ہوا گھاگ ہو تو عین کراہت کے وقت چہرے پر مسکراہٹ سجا لیتا ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ مجرد دل سے کراہت توحید کا مناقض ہے بھلے ہی وہ اس حکم پر عمل کرے۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص کسی دینی حکم سے کراہت نہیں کرتا ہے۔ جملہ دینی امور کی طرح اسے بھی مانتا اور اس سے محبت کرتا ہے، مگر اس پر عمل نہیں کرپاتا تو اس کی یہ مجرد بد عملی توحید کی مناقض نہیں ہے۔ اس کا حکم دوسرا ہے اور متروکہ عمل کی نوعیت کے اعتبار سے اس پر حکم لگایا جائے گا۔

۲۔ اللہ، اس کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم، یا دینی امور میں سے کسی چیز کا استہزاء کرنا:

عموما ایک عام مسلمان اللہ اور اس کے رسول کا مذاق تو نہیں اڑا سکتا، لیکن دینی امور کا مذاق اڑانا دھیرے دھیرے عام ہو رہا ہے۔ یہ چیز مذاق میں بھی جائز نہیں کہ کسی دینی امر کا استہزاء کیا جائے۔ اس کی تحقیر کی جائے۔ اس کا جوک بنایا جائے۔ اسے اس انداز سے پیش کیا جائے کہ لوگوں کے نزیک اس کا وزن ہلکا ہو۔ اس کی اہمیت کم ہو۔ اس کی ہیبت اس کا رعب اس کا اہتمام پھیکا پڑے۔

در اصل ایک بندہ جب شارع کی مقرر کردہ کسی چیز کا مذاق اڑاتا ہے تو درحقیقت وہ اس شارع کا مذاق اڑاتا ہے جس نے اس حکم کو نازل کیا یا اس دینی امر کو بتلایا یا سکھایا ہے۔ اس سے نہ صرف دینی امور کی ہیبت لوگوں کے دلوں میں کم ہوتی ہے بلکہ غیر محسوس طریقہ سے دین اور دین دار طبقہ کے تئیں ایک منفى رویہ بھی معاشرہ میں پنپتا پھر زور پکڑتا ہے۔

یہ ایک نہایت ہی سنگین مسئلہ ہے۔ بسا اوقات بعض لوگ غیر شعوری طور سے اس کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں اور انھیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ سبب ہوائے نفس، عقلانیت اور دین کے اصول سے ناواقفیت ہوتا ہے۔

ضروری ہے کہ اجتماعی سطح پر اس طرح کے دروس ومحاضرات اور لیکچر بکثرت ہوں جو دین کے اصول واہم مبادیات لوگوں کے سامنے رکھیں۔ اس کی وضاحت کریں۔ بلاد عرب میں یہ چیزیں عام ہیں۔ اس لیے یہاں اس طرح کے تناقضات کا تصور یا تو بالکل نہیں ہے یا بالکل ہی کم ہے جس کا سبب عموما جہالت ہوتا ہے۔ جبکہ بر صغیر میں تو یہ معاملہ حدّث ولا حرج کے درجہ تک پہنچ چکا ہے۔ عوام تو عوام علم کے بعض مدعیان تک میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔ ضرورت ہے کہ لوگوں کے دینی شعور کو مزید بیدار کیا جائے۔ درس وتدریس،دروس ومحاضرات ، خطب ومواعظ میں ان اصول علم کا خاص اہتمام کیا جائے۔ دین کے اہم مبادیات سے طلبہ کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی روشناس کرایا جائے۔ اس سلسلہ میں یہ رسالہ بلا شبہ ایک مبارک کاوش ہے۔

جب یہ طے ہو گیا کہ شرف علم شرف معلوم کے تابع ہے تو اس رسالہ کی اہمیت بھی بخوبی واضح ہوگئی۔اس رسالہ کی اہمیت کے لیے بس یہی کافی ہے کہ یہ’لا الہ الا اللہ‘کے حقوق وواجبات بیان کرتی ہے۔ جس کلمہ کے مخلص معترف کو جنت کی ضمانت ہو۔ اس ضمانت کو اللہ تعالى نے اپنے اوپر حق سے تعبیر کیا ہو۔ اس کلمہ کے اعتراف، حقوق وواجبات کی ادائیگی، نواقض ومحترزات سے بچنے کے ساتھ ساتھ اس کی شرح وتوضیح کرنا، اس کی تعلیم دینا، درس وتدریس میں اس کا خصوصی اہتمام کرنا،اسے لوگوں تک پہنچانا کتنے بڑے شرف و اجر کا کام ہوگا یہ اللہ تعالى ہی بہتر جانتا ہے۔ مگر اس کلمہ کی اہمیت وفضیلت اور عظمت سے اس کا ایک اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔

یہاں پر ایک بات کی تذکیر مناسب معلوم ہوتی ہے کہ جن افراد کو اللہ تعالى نے علم جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ انھیں لکھنے پڑھنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ انھیں چاہیے کہ اپنے اولیات طے کرنے میں ذرا بھی سستی یا لا پرواہی سے کام نہ لیں۔ ان اعمال کو مقدم کریں جو اللہ کی رضا اور ان کی آخرت کے لیے زیادہ سود مند ہوں۔ صحیح معنوں میں چالاک وہ ہے جو اپنی آخرت کے لیے چالاک ہو۔ عقل مند اور حکیم وہی ہے جو دنیا سے پہلے اپنی آخرت کے لیے عقلمندی دکھائے اور دنیا اس کے اعتبارات میں کبھی حاوی نہ ہو۔

جب کوئی با صلاحیت شخص جسے اللہ تعالى نے مختلف قسم کی صلاحیتوں سے نواز رکھا ہے وہ علم کى ایسی وادی کا انتخاب کرتا ہے جہاں کفر وشرک کے کانٹے دار درخت ہوں۔ الحاد وزندقہ کے کڑوے کسیلے پھل ان پر لٹک رہے ہوں۔ تو بلا شبہ یہ مقام افسوس کا مقام ہوتا ہے۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھتی ہے۔ تکلیف کا ایک احساس ہوتا ہے۔ خاص طور سے جب وہ اس بات پر قادر ہو کہ اپنی صلاحیت سے اپنی آخرت کو سنوارتا جائے۔ یہ افسوس اس لیے بھی سوا ہوجاتا ہے کہ اس کی عقل ودانش، اس کی حکمت ودانائی، اس کی چالاکی وچترائی ایسے وقت میں کہاں چلی جاتی ہے؟

ہم خود غور کریں کہ قیامت کے دن جب ساری مخلوق کے سامنے نامہ اعمال پیش ہوں گے اس وقت ہماری کیا خواہش ہوگی کہ کس طرح کے اعمال ہمارے اعمال نامہ میں ظاہر ہوں؟ فرض کریں اعمال ناموں کی ایک قسم ایسی ہو جس میں اللہ اور اس کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم سے ملی علمی وراثت کی خدمت ہو۔ توحید کی دعوت ہو۔ دین کی خدمت ہو۔ اسلام اور مسلمانوں سے سچی ہمدردی ہو۔ جبکہ دوسری قسم ایسی ہو جہاں علم کے نام پر موشگافیاں ہوں۔ عقلانیت ہو۔ من گھڑت قصے ہوں۔ جھوٹی کہانیاں ہوں۔ اوہام وخیالات ہوں۔ ہوائے نفس کا غلغلہ ہو۔ کفر وشرک کی باتیں ہوں۔ الحاد و زندقہ سے متعفن گفتگو ہو۔ شریعت سے متصادم افکار ونظریات ہوں۔ ایسے وقت میں جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا۔ ایک مسلمان اس وقت کون سى قسم کے نامہ اعمال کی تمنا کرے گا؟

میں یہ اکثر سوچتا ہوں کہ اہل علم کا وہ طبقہ جو ملحدوں اور زندیقوں کا تعارف کراتا ہے۔ ان کی کتابوں کا ترجمہ کرتا ہے۔ وہ کتابیں جن میں شرک ہے، کفر ہے، الحاد ہے، زندقہ ہے۔ ان پر تبصرہ کرکے قارئین میں ان کی اہمیت اجاگر کرتا ہے۔ اس طرح بالراست لوگوں کی گمراہی کا سبب بنتا ہے۔ کیا وہ قیامت کے دن اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو قرآن کی تعلیم دیتا ہے۔ لوگوں کو صحیح عقیدہ سکھلاتا ہے۔ سلف صالحین کی کتابوں کا ترجمہ کرتا ہے۔ ان کی سیرتوں پر گفتگو کرکے ان کی محبت وعظمت لوگوں کے دلوں میں بیٹھاتا ہے۔ اس طرح وہ براہ راست اور بالراست لوگوں کی ہدایت کا ذریعہ بنتا ہے۔

ہم چاہیں تو اس کو ذرا اور قریب کرکے اور اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں وہ اس طرح کہ ہم میں سے بھلا کون ہوگا جو قیامت کے دن یہ پسند کرے گا کہ جب وہ اللہ کے حضور پیش ہو تو اس کے نامہ اعمال میں علم کی خدمت کے نام پر قصے کہانیاں اور اہل کفر وشرک یا اہل الحاد وزندقہ کی کتابوں کی خدمت ہو؟ باطل افکار کے چربے اور گمراہ کن نظریات کے پلندے ہوں؟ وہ کتابیں جن میں کسی بھی بہانے سے ان خرافات کو بھر دیا گیا ہے جو دین کے اصول سے متصادم ہیں۔ وہ اوراق پریشاں جو فکر آوارہ کا ملجا و ماوى ہوں؟ اور ہم میں سے بھلا ایسا کون ہوگا جو یہ نہ پسند کرے کہ جب وہ قیامت کے دن اللہ کے حضور پیش ہو تو اس کے نامہ اعمال میں علم کی خدمت کے نام پر قرآن وسنت کی خدمت ہو۔ سلف صالحین کے علم کی نشر واشاعت ہو۔ اللہ کے دین کی افہام وتفہیم پر مشتمل اوراق ہوں؟

یاد رکھیں پڑھنا اور لکھنا دونوں امانت ہے۔ آپ اختیاری طور سے کیا پڑھتے ہیں؟ کون سی کتابیں اور کون سے نظریات آپ اپنے ذہن میں انڈیلتے ہیں؟ کس قسم کے افکار آپ باختیار ہوکر اولیات کے طور پر قبول کرتے ہیں؟ اور کون سے نظریات وافکار یا علم کے شعبے آپ قدرت رکھتے ہوئے بھی نظر انداز کرتے ہیں؟ ان سب کے تئیں آپ بروز قیامت مسؤول ہوں گے۔ یہی حال لکھنے کا ہے۔ علم کے نشر کرنے کا ہے۔ مگر ظاہر ہے نشر علم مطالعہ علم کے تابع بلکہ اسی پر منحصر ہے۔

ایک ذی علم مسلمان جب کچھ لکھتا ہے چاہے وہ کتابی شکل میں ہو یا مجرد افکار وخواطر ہوں تو اسے ایک بار ہی سہی یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ کل قیامت کے دن جب وہ ملک الملوک جبار عظیم کے سامنے پیش ہوگا تو ان کلمات کے ساتھ اس کا سامنا کر پائے گا؟ اللہ نہ کرے اگر اس کی تحریر میں ایسی کوئی بات ہوئی جس میں نعوذ باللہ خود ذات الہی پر تنقید ہو، یا اس کے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی ذات زد میں آتی ہو، یا اس کی نازل کردہ شریعت کا کوئی جزء اس کا نشانہ بنتا ہو، تو بھلا ایسی صورت میں وہ شخص اس عظیم اور سخت ترین دن اس ملِک دیّان اللہ جل جلالہ کا سامنا کیسے کر پائے گا؟ ہر لکھنے والے کو اس بات کی ضرور فکر ہونی چاہیے کہ کل بروز قیامت جب اس کا صحیفہ اسے دیا جائے گا اور اس میں اس کی تحریریں بھی ہوں گی تو کیا وہ شکر واعتزاز اور سرور و سعادت سے یہ پکار سکے گا :(ہاؤم اقرءوا کتابیہ إنی ظننت أنی ملاق حسابیۃ)؟ یا پھر وہ تمنا کرےگا کہ کاش یہ باتیں اس نے نہ لکھی ہوتیں؟ اور ان سے کسی طرح بچ گیا ہوتا؟ چونکہ لکھنے کا تعلق پڑھنے سے ہے اس لیے پڑھتے وقت ہی ایک بابصیرت مسلمان کو چوکنا رہنا چاہیے اور اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر اپنی مطالعاتی زندگی کو بہت سلیقہ سے ترتیب دینی چاہیے۔

ایک چھوٹا سا معلم، ایک چھوٹے سے مکتب کا استاذ جس نے چند چھوٹے چھوٹے بچوں کو سورہ فاتحہ یاد کرائی ہوگی۔ نماز کا طریقہ سکھایا ہوگا۔ دعائیں حفظ کرائی ہوں گی بروز قیامت بلا شبہ اس علم کے دعویدار سے خود کو زیادہ خوش نصیب محسوس کرے گا جس نے بڑی بڑی ایسی پوتھیاں نشر کی ہوں گی جن میں اوہام وافکار کا ایسا ملغوبہ ہو جو اصول دین سے متصادم یا اس کو چیلنج کرنے والے ہوں۔ شریعت کے خلاف ان میں گفتگو ہو۔ دین سے محارب ومتضارب ان میں نظریات ہوں۔ چاہے وہ کسی بھی نام پر ہوں اللہ کی بارگاہ میں مردود ہوں گے۔

انسانی زندگی میں ایک چالاک انسان باطل نظریات وافکار کے لیے سو بہانے ڈھونڈ سکتا ہے۔ ستر چالیں چل کر مقابل کو مات دے سکتا ہے۔ دسیوں حیلے تلاش کر اپنی نفس مریضہ کی وقتی تسکین کر سکتا ہے۔ مگر بروز قیامت جب (یوم تشھد علیھم ألسنتھم وأیدیھم وأرجلھم بما کانوا یعملون) کا عالم ہوگا کسی قسم کی چالاکی، چرب زبانی اور حیلہ سازی کام نہیں آئے گی۔

آپ خود سوچیں کہ بروز قیامت آپ اللہ کے سامنے کسی آیت کی تفسیر، کسی حدیث کی تشریح، کسی عقدی مسئلہ کی توضیح ، کسی شرعی مسئلہ کی تحقیق، کسی باطل نظریہ کی تنقید پر مشتمل اعمال لےکر پیش ہونا چاہیں گے؟ یا آپ کی خواہش یہ ہوگی کہ جب آپ اللہ کے روبرو ہوں تو آپ کے ہاتھ میں موضوع روایات اور اوہام وخیالات کا کوئی پلندہ ہو؟ کوئی ایسی کتاب ہو جس میں اسی رب کی مرضی کے خلاف باتیں ہوں جس کے سامنے آپ ایسے نازک دن ایسی نازک پوزیشن میں کھڑے ہوں گے؟ کس پوزیشن میں آپ زیادہ سعادت محسوس کریں گے؟ جس پوزیشن میں آپ مطلق سعادت یا زیادہ سعادت محسوس کریں گے اس کا فیصلہ ابھی کرلیں۔ خاص طور سے ایسی حالت میں جب مسئلہ اختیاری ہے اور آپ دونوں پر قادر ہیں۔ یہ وہ کلیدی نکتہ اور مفصلی موڑ ہے جہاں مسئلہ دو اور دو چار کی طرح واضح اور صراط مستقیم بالکل روشن ہوجاتا ہے:(إنا ہدیناہ السبیل إما شاکرا وإما کفورا)۔

در اصل اس میں ایک اہم ترین اور کلیدی مسئلہ توفیق الہی کا ہوتا ہے۔ جو انسان کے دل کی پاکیزگی اور حسن نیت سے براہ راست جڑا ہوتا ہے۔ اللہ تعالى کی نعمت جس قدر عظیم وشریف ہوتی ہے اللہ تعالى اس کی خدمت کے لیے اپنی حکمت وقدرت سے اسی قدر صاف ستھرے نفوس کو اختیار کرتا ہے۔ اور ایک انسانی نفس جب کجی اختیار کرتا ہے۔ سیدھی اور روشن شاہراہ ہوتے ہوئے بھی باطل کی پگڈنڈی پر چلنے میں اسے مزہ آتا ہے۔ اپنے اعمال سے اپنے دل کو گندہ اور دماغ کو پراگندہ کر لیتا ہے۔ حق کے ہوتے ہوئے باطل پر اصرار کرتا ہے تو اللہ تعالى کی حکمت عالیہ اس کے لیے وہی راستہ آسان کردیتی ہے:(فلما زاغوا أزاغ اللہ قلوبہم)۔

کلمہ توحید کی شرح وبیان پر مشتمل یہ مختصر سا رسالہ دیکھ کر ہم اور آپ سبھی یہ سوچ سکتے ہیں کہ یہ تو بہت آسان عمل ہے۔ مصادر ومراجع کی مدد سے ہم بھی اس طرح کا رسالہ بہت آسانی سے ترتیب دے سکتے ہیں۔ یہ سوچ ایک طبعی امر ہے۔ ممکن ہے صاحب رسالہ نے بآسانی یہ کام کیا بھی ہو۔

مگر درحقیقت یہ کام اس قدر آسان ہوتا تو بہت سارے احباب کر چکے ہوتے۔ اس طرح کے کاموں میں اصل رکاوٹ توفیق الہی بنتی ہے۔ موضوع کے اختیار سے لےکر کتاب کی نشرواشاعت تک یہی توفیق الہی آگے آگے چلتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالى سے ہمیشہ حسن توفیق کی دعا کرتے رہنی چاہیے۔ اگر توفیق الہی شامل حال ہے تو بڑے بڑے کام بآسانی انجام تک پہنچ جاتے ہیں اور اگر توفیق الہی ساتھ نہ ہو تو ہم نے ایسے ایسے علمی کارنامے بھی دیکھے ہیں جو سالوں سے لکھے رکھے ہوئے ہیں مگر ان کے نشر واشاعت کی نوبت نہیں آئی۔

سلف صالحین کی سیرتوں میں آپ نے بہت پڑھا ہوگا کہ فلاں کی فلاں کتاب ضائع ہوگئی۔ فلاں کی فلاں کتاب کے آثار فلاں کی کتاب میں ملتے ہیں مگر اصل کتاب ناپید ہے۔ جبکہ فلاں کو جیل میں ڈالا گیا۔ اس کی کتابیں جلا دی گئیں مگر آج اہل اسلام کے یہاں اس کی امامت مسلم ہے۔ اس کی کتابوں کے نسخے دریافت ہو رہے ہیں۔ بڑے بڑے علمی مراکز،بڑے بڑے اسکالر ان کی کما حقہ تحقیق کرکے انھیں منظر عام پر لا رہے ہیں۔

صرف شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی مثال لے لیں۔ زندگی کا تقریبا ہر چودہواں دن جیل میں گزرا۔ جیل ہی میں قید وبند کی حالت میں وفات ہوئی۔ ان کے خلاف علمائے دنیا اور فقہائے وقت نے سازش کی۔ ان کی کتابوں کو جلایا گیا۔ مگر آج ان کی کتابیں مصدر معرفت الہی اور مرجع معرفت سنن ہیں۔ کسی محقق اور اسکالر کے لیے یہ شرف مانا جاتا ہے کہ اس نے ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کوئی کتاب تحقیق کی ہے یا اس پر کوئی کام کیا ہے۔

اتنی تکلیف دہ اور نا مساعد حالات کے باوجود ایک نظر صرف ان کے ان شاگردوں پر ڈال لیں جو تن تنہا علم کے سمندر اور معرفت کے پہاڑ ہیں۔ معرفت و شناسائی کی راہ کے نہ تھکنے والے یہ مسافر خود سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ابن قیم،یہ ابن کثیر، یہ امام ذہبی، یہ امام مزی، یہ ابن عبد الہادی، یہ ابن الوردی،یہ برزالی، یہ صفدی وغیرہم رحمہم اللہ ایسے ایسے جبال علم ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔

یہ سب در اصل توفیق الہی کا نتیجہ ہوتا ہے جو دلوں کی پاگیزگی اور نیت کی صفائی کے نتیجہ میں ہاتھ آتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالى اپنے عظیم کاموں کے لیے عظیم انسانوں کا خصوصی اختیار کرتا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اللہ تعالى کی خصوصی توفیق اور اس کا خاص فضل وکرم ہے کہ اس نے ڈاکٹر فاروق عبد اللہ وفقہ اللہ کو اس مبارک اور نہایت اہم کام کی توفیق دی۔ اس پر وہ جس قدر بھی اللہ تعالى کا شکر ادا کریں کم ہے۔ ان شاء اللہ قیامت کے دن ان کے لیے یہ بڑی سعادت کی بات ہوگی کہ ان کے صحیفہ میں اسی کلمہ توحید کی شرح وبیان پر مشتمل کلمات موجود ہوں جو نہ صرف انبیاء کی دعوت کا مقصد اور اس کا خلاصہ ہے:(ولقد بعثنا فی کل أمۃ رسولا أن اعبدوا اللہ واجتنبوا الطاغوت) بلکہ بنی نوع انسان کی نجات کے لیے أوجب الواجبات اور اصل الأصول ہے:(قولوا لا إلہ إلا اللہ تفلحوا)۔

اس مختصر سے رسالہ میں ہم سب کے لیے یہ واضح پیغام بھی موجود ہے کہ ہم اپنے علمی اولویات کیسے ترتیب دیں۔اس وسیع دنیا میں، علوم وفنون کی اس کثرت میں اور اس دراز کارِ جہان میں کس عمل کو آگے اور کس عمل کو پیچھے کریں۔ کس چیز کو لازم پکڑیں اور کس چیز کو کو ہاتھ تک نہ لگائیں۔ مختصرا یہ کہ اپنی آخرت کے تئیں ہم کس قدر چوکنا رہیں اور رضائے الہی کی خاطر کس طرح چالاکی وہوشیاری بلکہ حکمت ودانائی سے کام لیں۔

أسأل اللہ أن یرزق ہذہ الرسالۃ المبارکۃ القبول،وینفع بہا الإسلام والمسلمین، ویجعلہا صدقۃ جاریۃ للمؤلف،ولکل من ساہم فی إخراجہا ونشرہا،ووفقہ للمزید، إنہ سمیع مجیب، وولی التوفیق۔

4
آپ کے تبصرے

3000
4 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
4 Comment authors
newest oldest most voted
فاروق عبد اللہ نراین پوری

علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتابوں میں تخریج حدیث کے ساتھ ساتھ جو جانبی فوائد ملتے ہیں وہ کسی انمول موتی سے کم نہیں، ہزاروں صفحات کے مطالعہ کے بعد بھی شاید کوئی طالب علم یہ فوائد حاصل نہ کرسکے جو علامہ البانی کی کتابوں میں بلا اضافی تلاش وجستجو کے اسے مل جاتی ہیں۔ خود علامہ البانی کے مطالعہ کا یہ طریقہ تھا کہ کسی خاص کتاب کی تلاش میں مکتبہ ظاہریہ دمشق کی چھان مارتے، جو کتابیں ہاتھ کی رسائی سے اوپر ہوتیں ان کے لیے سیڑھی کا استعمال کرنا پڑتا۔ شیخ سیڑھی پر چڑھتے،… Read more »

توفیق عالم

ماشاءاللہ ماشاءاللہ
“دراز کار جہاں” ٹائٹل دیکھ کر پڑھنا شروع کیا۔ اور آخری پیرا میں جب یہ لفظ ملا تو اندازہ ہوا کہ مضمون کو مکمل پڑھنا کتنا ضروری ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہمارے جید علماء کرام کا سایہ ہم پر تادیر رکھے! آمین

جزاکم اللہ خیرا وأحسن الجزاء
نفع اللہ بکم وبارک فیکم

عبدالمعین محمودعالم،جھارکھنڈ،جامتاڑا

بارک اللہ فیکم
الحمدللہ یہ اللہ بڑا فضل ہےاس شخص کےاوپرجس کےنصیبےمیں توحید جیسی گراں قدرنعمت آئ،اوراس سےبھی زیادہ خوش بخت ہےوہ انسان جس کےتوسط سےاس توحید کی کوئ قلمی،توضیحی،تشریحی،تعریفی خدمت بنی نوع انسان تک پہنچی۔
اللہ تعالی ہم سب کو توحید پر قایم رکھے،ہمارےوالدین،اورجملہ اہل خانہ کو مرتےدم تک توحید پر ثابت قدمی عطاء فرمائے آمین تقبل یارب العالمین

MUBARAK RAIN

جزاك الله خيرا وأحسن الجزاء