حد پرواز

وسیم المحمدی اعتراف

آگ گرمی دیتی ہے اور جلاکر راکھ بھی کردیتی ہے۔ ہوا سفوکیشن سے بچاتی ہے اور توڑ مروڑ کر بھی رکھ دیتی ہے۔ پانی زندگی دیتا ہے اور ڈبوکر مار بھی ڈالتا ہے۔ انسان بھی اللہ کی ان تینوں سہولتوں کا اپنی سمجھ اور ضرورت کے حساب سے غلط اور صحیح دونوں استعمال کرسکتا ہے۔ آگ، ہوا اور پانی کو اللہ نے جو صلاحیتیں دی ہیں اسی سے ملتی جلتی اہلیتیں انسان کو بھی عطا کی ہیں کہ اپنی محدود طاقت کے ذریعے بندہ انھیں اپنے فائدے اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے بھی استعمال کرسکتا ہے۔

علم اللہ کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت ہے، اتنی بڑی نعمت کہ مرنے کے بعد بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔ دنیا میں علم انسان کو متین بناتا ہے، اشیاء کے عرفان سے اللہ کی معرفت تک پہنچاتا ہے، علم جس قدر بڑھتا ہے اتنا ہی یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ اللہ کی دنیا میں موجود تمام علوم کے حدود انسانی زندگی کی ساری حدوں سے پرے ہیں۔ یہ احساس انسان کی طبیعت میں سنجیدگی، گفتگو میں نرمی اور سلوک میں خاکساری کا سبب بنتا ہے۔ کیونکہ علم کی منتہا ہی اللہ کی خشیت ہے۔ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے کہا: أكثركم علما ينبغي أن يكون أشدكم خوفا

علم میں اللہ نے یہی تاثیر رکھی ہے، ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب کے ممدوح کو دیکھ کر اور ان سے بات کرکے یہی تاثر ملتا ہے۔ ولا أزكي على الله أحدا

آگ، ہوا اور پانی کی طرح انسان علم سے مستفید بھی ہوتا ہے اور اس کے ذریعے دوسروں کو نقصان پہنچانے کا کام بھی کرتا ہے۔ اللہ رب العالمین ہم سب کو علم نافع دے اور جادو بیانی بھی۔

صرف جادو بیانی ہو تو بندہ اشراف کی ٹوپیاں اڑاتا پھرتا ہے، علم نافع کے بغیر زبان و قلم کا کرشمہ محض چرب زبانی ہے۔ اور چرب زبانی ہنر ہے علم نہیں۔

زیر نظر مضمون میں جو شخصیت زیر بحث ہے وہ حیرت سے زیادہ برکت کا عنوان ہے۔ ایک دن میں سے آٹھ گھنٹے سونے، دو گھنٹے نماز پڑھنے، دو گھنٹے کھانے پینے نہانے وغیرہ کے نکال دیے جائیں تو بارہ گھنٹے بچتے ہیں۔ تدریس کے کم از کم چھ گھنٹے بھی نکال دیں تو ہر دن چھ گھنٹے کے حساب سے دو ہزار پانچ سو پچپن دن کے پندرہ ہزار تین سو تیس گھنٹے یعنی ٹوٹل چھ سو اڑتیس دن بنتے ہیں۔ مطلب اگر کوئی چوبیس گھنٹے میں اڑتالیس صفحات لکھے تبھی وہ تیس بتیس ہزار صفحات سات سالوں میں لکھ سکتا ہے۔ یاد رہے جو وقت سفر، ملاقات، گفتگو، دعوت، درس، خطبہ، بیماری، سستی، ازواج و اولاد اور والدین کے حقوق کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ میں خرچ ہوتا ہے وہ حساب میں نہیں کاٹا گیا ہے۔ اس کیلولیشن کے بعد صفحات کی تعداد بہتر ہونے کا پورا امکان ہے۔

چالیس سالہ ایک شخصیت کے متذکرہ پہلو کے بیان میں نشانیاں ہیں تمام اہل علم بالخصوص طالبان علوم نبوت کے لیے جو زندگی بھر علم کی تلاش میں یعنی جنت کے راستے پر چلنے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتے ہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو ایسی زندگی گزارنے کی توفیق دے۔

ڈاکٹر وسیم المحمدی صاحب نے ہمیشہ کی طرح نادر‌ موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ یہ انتخاب بھی علم و علماء پسندی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ نرگسیت زدہ معاشرے میں ایسے موضوعات کا انتخاب اور پھر اتنی کشادہ ظرفی کے ساتھ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ ساری لسانی و قلمی آلودگیوں کے باوجود عالمی سماج میں کچھ لوگ ایسے ابھی بھی موجود ہیں جو ہوا کے رخ پر نہیں بہتے، علم اور اہل علم کا جو مرتبہ ہے نہ صرف اس کا کھل کر اعتراف کرتے ہیں بلکہ حسب ضرورت تعریف و توصیف اور حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ (ایڈیٹر)


مدینہ یونیورسٹی کے ٹاپ کلاس پروفیسر صالح بن عبد العزیز سندھی ایک معروف علمی شخصیت ہیں۔ سعودی عرب کی علمی دنیا کا یہ جانا پہچانا نام بن چکا ہے۔ عقیدہ آپ کا تخصص ہے۔ آپ کے علم میں گہرائی، اصالت اور استیعاب ہے۔ ایک بڑی خصوصیت قدیم وجدید عقدی مسائل اور افکار ونظریات پر آپ کی دسترس ہے۔

آج سے تقریبا ساڑھے چار سال پہلے سعودی عرب کے مشہور ریڈیو چینل ’إذاعۃ القرآن الکریم‘ پر بنام ’وعی‘ ایک پروگرام میں آپ نے سلسلہ وار شرکت کی تھی۔ اس کی مختلف نشستوں میں آپ نے نہایت اہم موضوعات پر گفتگو کی تھی۔ آپ نے لوگوں کے اصرار پر ان موضوعات پر نظر ثانی کی، انھیں جمع کیا اور لائق تدوین بنا کر اسی سال تقریبا پانچ ماہ قبل افادہ عام کے لیے اسے ’مراقی الوعی‘کے نام سے نشر کردیا۔

’مراقی الوعی‘ انتہائی اہم کتاب ہے۔ تقریبا چھ سو (600)صفحات پر مشتمل یہ قیمتی کتاب معاصر عقدی مسائل ، فکری انحرافات اور باطل افکار ونظریات کا جس طرح آپریشن کرتی ہے وہ ڈاکٹر صالح سندھی ہی کا خاصہ ہے۔ اس کتاب میں آپ نے نوجوانوں کو درپیش چیلینجوں سے لے کر مختلف فکری گمراہیوں تک؛ عقل، شك ويقين، حريت، مطالعہ میں آوارگی، شبہات، تجریبی علم کے حدود، نظریہ تطور، الحاد، وسوسہ، ابراج اور طاقت وقوت کا فلسفہ جیسے اہم موضوعات پر چشم کشا گفتگو کی ہے۔ بلا شبہ یہ کتاب طلبہ کے لیے کئی اعتبار سے بہت ہی اہم اور عظیم نعمت ہے۔

جن احباب اور طلبہ کو ڈاکٹر صالح سندھی سے پڑھنے یا ان کے دروس ومحاضرات سننے کا موقع ملا ہوگا وہ ان کی اس خصوصیت کو اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ آپ دوران درس وتدریس قواعد وضوابط پر بہت دھیان دیتے ہیں۔ زیر بحث مسئلہ کی تاصیل کرتے ہیں اور پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل دو اور دو چار کی طرح ذہن میں بیٹھا دیتے ہیں۔ آپ کے دروس ومحاضرات یوٹیوب پر متوفر ہیں۔ وہ طالبان علم نبوت جنھیں علم عقیدہ میں دلچسپی ہے اور حقیقی معنوں میں علم حاصل کرنے کا شوق ہے انھیں آپ کے دروس ومحاضرات سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔

گزشتہ دنوں میں نے یہ کتاب اپنے محترم دوست اور ساتھی ڈاکٹر اجمل منظور حفظہ اللہ کو بھی بھیجا۔ اور ان سے گزارش کی کہ وہ اس کا اردو ترجمہ کردیں تاکہ اردو داں طبقہ بھی اس قیمتی کتاب سے فیض یاب ہوسکے۔ آپ نے کہا:اس وقت میرے پاس دو کتابیں انتظار میں ہیں۔ ان سے فارغ ہوکر میں اسے دیکھتا ہوں۔

چند ماہ قبل میں نے اپنی ایک مختصر تحریر میں یہ ذکر کیا تھا کہ ڈاکٹر اجمل اب تک تقریبا اسی کتابوں کا ترجمہ کر چکے ہیں اور مجھے امید ہے کہ 2023م ختم ہوتے ہوتے ان شاء اللہ وہ ترجمہ کے میدان میں اپنی سنچری پوری کر لیں گے۔ مجھے یہ جان کر بے انتہا خوشى ہوئی کہ 2023م ختم ہونے سے پہلے آپ سو (100)کا عدد پار کر چکے ہیں ۔

ڈاکٹر اجمل درس نظامی میں مجھ سے سینئر ہیں۔ جب ہم فارغ نہیں ہوئے تھے تب وہ بحث وتحقیق کے میدان میں پہلا قدم رکھ چکے تھے۔ مگر مدینہ یونیورسٹی میں تاخیر سے داخلہ ملنے کے سبب وہاں دو سال جونیئر ہوگئے۔ وہیں ہماری پہلی ملاقات ہوئی۔ ایک ہی کالج میں ہونے کی وجہ سےہمیشہ ملاقات رہتی۔ مختلف علمی موضوعات پر گفتگو ہوتی۔ ایک دوسرے سے استفادہ کرتے۔ کوئی کتاب پڑھتے تو اس پر تبصرہ کرکے فائدہ پہنچاتے۔ آپ کے بارے میں ہم دوستوں میں مشہور تھا کہ اجمل بھائی یا تو سوتے ہوئے ملیں گے یا پڑھتے ہوئے۔ سرہانے کوئی نہ کوئی کتاب رکھى ہوتی تھی جسے وقت پاتے ہی پڑھنا شروع کر دیتے تھے۔

مدینہ منورہ میں آپ کی تعلیم وتعلم کا معیار بہت عمدہ تھا۔ کلاس کے اچھے اور جینئس طلبہ میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ پہلی پوزیشن سے کامیاب ہوتے۔ اعلى تعلیم کے لیے بھی آپ کا انتخاب ہوا مگر بدقسمتی سے بہت ہی نامعقول سبب کی بنا پر فائنل داخلہ نہیں مل سکا۔ تاہم طبیعت کی جولانی اور تعلیم وتعلم کے تئیں سنجیدگی نے حوصلہ نہیں ٹوٹنے دیا اور بھارت واپس آکر آپ نے عربی زبان وادب میں ایم۔ اے پھر پی۔ ایچ ڈی بھی مکمل کرلی۔

جامعہ محمدیہ منصورہ میں تدریسی خدمات کے دوران دو سال (2017-2019) آپ کی رفاقت رہی۔ تدریس کے علاوہ آپ ہمارے پڑوسی بھی تھے۔ دونوں کا گھر بالکل متصل تھا۔ اس لیے ہمیشہ ملاقات ہوتی رہتی۔ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال ہوتا۔ ایک دوسرے سے استفادہ کرتے۔ ڈاکٹر اجمل کی تالیف وترجمہ کی زندگی میں اصل انقلاب یہیں سے آیا ہے۔ 2017م سے آپ نے مضامین ومقالات لکھنے کے ساتھ ساتھ ترجمہ کا جو نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔

یہیں پر میری نگرانی میں ’القرآن تدبر وعمل‘کے ترجمہ کا کام ہوا۔ جن احباب نے اس ترجمہ میں کلیدی کردار ادا کیا ان میں آپ سر فہرست تھے۔ تقریبا تیس فیصد ترجمہ آپ نے اکیلے کیا۔ زمنی اعتبار سے کام تقسیم کردیا جاتا تھا۔ اکثر آپ سب سے پہلے ترجمہ سے فارغ ہوجاتے۔ جن ساتھیوں کا کوئی حصہ کسی وجہ سے باقی رہ جاتا وہ میں آپ کے حوالہ کردیتا۔ بہت ہی مختصر مدت میں آپ اسے بھی مکمل کردیتے۔ تقریبا پورے پروجیکٹ میں یہی حال رہا یہاں تک کہ ترجمہ کا کام 2019م میں میرے جامعہ چھوڑنے سے پہلے مکمل ہوگیا۔

ایک سے زائد بارمختلف تعلیمی وتدریسی کام آپ کے حوالے کیے گئے۔ لکھنے پڑھنے یا ترجمہ وتالیف کا کوئی بھی کام ہو اس قدر سرعت کے ساتھ انجام دیتے میں نے احباب میں کسی کو نہیں دیکھا۔ اگر تدریس کے لیے آج کوئی کتاب دی جاتی تو ان کی کوشش ہوتی کہ کل ہی اس کے مکمل نوٹس اور متعلقات طلبہ کے لیے تیار کردیں۔ یہ چیز میں بارہا نوٹ کرتا۔ اور لکھنے پڑھنے میں یہ غیر معہود برکت دیکھ کر دنگ رہ جاتا۔

در اصل ڈاکٹر اجمل صاحب کو اللہ تعالى نے بڑی صلاحیت دی ہے۔ پڑھنا لکھنا تو ان کا مشغلہ ہے ہی۔ ذہانت وفطانت اور فراست و معاملہ فہمی میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ کام کرنے کا انداز ایسا ہے کہ برکت کی بارش ہوتی رہتی ہے۔

مزاج ایک دم سادہ اور طبیعت حدت سے بالکل پاک ہے۔ گفتگو کا انداز بالکل عام اور آواز میں دھیما پن ہے۔ انھیں نہ جاننے والا یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ یہ وہی ڈاکٹر اجمل ہیں جو پوری متانت اور تسلسل کے ساتھ باطل افکار پر اس طرح رد کرتے ہیں۔ شخصیت اجتماعی ہے۔ احباب کی مجلس ہو تو بالکل کھل کر گفتگو کرتے ہیں۔ موقع درست اور محل صحیح ہو تو رائے زنی کرتے وقت کسی قسم کی لاگ لپیٹ نہیں رکھتے۔ بالکل واضح اور دو ٹوک بات کرتے ہیں۔ ورنہ خاموشی کو ترجیح دیتے ہیں جیسے کچھ جانتے ہی نہیں۔

حساس مسائل میں کسی سے مشورہ لینا بہت رسکی ہوتا ہے، اس کے لیے سامنے والے کا امین ہونا بہت ہی ضروری ہے۔ ورنہ جس معاشرے میں لوگ پیٹھ پیچھے درس وتحقیق اور حاشیہ وتعلیق کے عادی ہوں وہاں کسی حساس مسئلہ میں مشورہ لینا کتنا سنگین ہو سکتا ہے یہ بتانے کی قطعا ضرورت نہیں۔ یہاں مشکل یہ آن پڑتی ہے کہ نازک اور اہم مسائل میں انسان بنا مشورہ کوئی کام کر نہیں سکتا، اور اس سے بڑی مشکل یہ ہوتی ہے کہ ایسے مسائل میں مشورہ کا رسک کس سے لیا جائے؟ ایسا بہت ہوتا ہے کہ آپ نے کسی اہم مسئلہ میں کسی کو اپنا مخلص جان کر اس سے مشورہ طلب کر لیا تو بدلے میں اس نے اپنی غلطی، حماقت یا خست وکم ظرفی سے آپ کو عمر بھر کا زخم تحفے میں دے دیا، جس کی ٹیسیں بسا اوقات زندگی بھر رہ رہ کر اٹھتی رہیں گی، اور آپ عمر بھر ندامت وپشیمانی کا شکار رہیں گے اور اس گھڑی پر لعنت بھیجیں گے جس گھڑی آپ سے یہ بھیانک غلطی سرزد ہوئی تھی۔

در اصل اللہ تعالى نے انسان کی بلندی کے حدود تو متعین کر دیے ہیں، مگر اس کی پستی کا کوئی حد نہیں مقرر کیا ہے، چنانچہ انسان جتنا چاہے گر سکتا ہے، اور جتنا چاہے قعر مذلت کو اپنا مسکن اور خست ودناءت کو اپنے وجود کا مدفن بنا سکتا ہے۔ پس ہوتا یہ ہے کہ بعض نفوس دنیئہ وقتا فوقتا اس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔

آپ یقین کریں پوری زندگی میں اگر آپ کو دو چار بھی -اگر مبالغہ کا خوف نہیں ہوتا تو کہتا ایک بھی- ایسے امین، مخلص اور عقلمند اصحاب واحباب میسر آجائیں جن سے آپ کسی قسم کا بھی مشورہ لے سکتے ہوں، اپنے ھموم وغموم، اسرار و رموز، عزائم اورپلاننگ بلا جھجھک ان سے شیئر کر سکتے ہوں، تو جان لیں کہ آپ کے پاس اللہ تعالى کی ایک بہت ہی عظیم نعمت موجود ہے۔ ورنہ نفاق سے بھرے اس دور میں عقل ودانش اور صدق وصفا کے دعوےدار تو بہت ملیں گے، مگر جو تلخ تجربات ہوتے رہتے ہیں ان سے آپ کو یہی نہیں سمجھ میں آئے گا کہ کب، کس سے، کون سا مشورہ لیا جائے؟ اور کس پر کس حد تک اعتماد کیا جائے؟

ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالى نے عقل اور سداد رائے سے بھی نوازا ہے۔عقل ودین اور اخلاص ومحبت ناپنے کا ایک بے خطا پیمانہ مشورہ ہے۔ کسی سے مشورہ لے کر آپ اس کے عقل کی پختگی اور آپ کے تئیں اس کے دل میں اخلاص ومحبت اور ہمدردی کا اندازہ بہت حد تک لگا سکتے ہیں۔

آپ بہت ہی عمدہ اور بروقت مشورہ دیتے ہیں۔ ذاتی طور سے مجھےاس سلسلے میں آپ سے بہت فائدہ ہوا۔ آپ نے بہت سارے مشوروں کے ساتھ مجھے دو نہایت اہم مشورے دیے۔ ایک مشورہ مستقبل میں لائحہ عمل طے کرنے سے متعلق تھا۔ اس پر عمل کیا۔ چنانچہ اس سے بھرپور فائدہ پہنچا اور آج تک پہنچ رہا ہے۔ دوسرا بعض قسم کے تعلقات میں حذر و تنبیہ پر مشتمل تھا۔ اس پر میں نے توجہ نہیں دی۔ چنانچہ آج تک اس کے نقصان کی بھرپائی کر رہا ہوں۔ افراد وشخصیات کے بارے میں بھی آپ کی نظر بہت پینی ہے۔ لوگوں کو پہچاننے کا ہنر ہے۔ کسی کے بارے میں جو رائے قائم کرتے ہیں بہت کم ہی ہوتا ہے کہ غلط نکلے۔

اجتماعی زندگی میں ہمیں جو احباب میسر ہوتے ہیں ان کے تعلق سے عموما ہمارا رویہ دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ احباب ہوتے ہیں جو وقت اور تجربے کے ساتھ دھیرے دھیرے ہماری زندگی سے نکل جاتے ہیں یا ہم انھیں نکال پھینکتے ہیں۔ جبکہ کچھ احباب ایسے ہوتے ہیں جو وقت اور تجربے کے ساتھ ساتھ دل سے قریب ہوتے جاتے ہیں۔ ان کی اہمیت بڑھتی جاتی ہے۔ صداقت کھلتی جاتی ہے۔ محبت کا رنگ چڑھتا جاتا ہے۔

غور کریں تو ہماری زندگی میں کثرت پہلی قسم کی ہے۔ دوسری قسم بہت ہی کمیاب اور نادر ہے۔ ارحام و اقارب کے بعد یہی احباب زیست کا وہ خلاصہ ہوتے ہیں جنھیں ہم صحیح معنوں میں دوست کہہ سکتے ہیں۔ بقیہ کے لیے اردو میں دوسرے بہت سارے الفاظ اور دیگر تعبیرات مستعمل ہیں جنھیں ہم ایسے احباب کے مقام ومرتبہ اور ان کی حقیقی قیمت کے اعتبار سے استعمال کر سکتے ہیں۔ بلا شبہ ڈاکٹر اجمل دوسری قسم میں سے ہیں۔ ان سے کسی قسم کی مادی مصلحت کبھی وابستہ نہیں رہی۔ مگر دین کی جو خدمت وہ انجام دے رہے ہیں اس کی وجہ سے دل میں ان کی ایک الگ ہی محبت اور نفس میں ان کا ایک منفرد مقام ہے۔ تعلقات میں سب سے نفیس تعلق وہی ہے جس کی اساس اللہ کی رضا ہو۔ محبت وہی قابل اعتنا ولائق بقا ہے جو اس ذات سے جڑی ہو جو اس لطیف جذبہ کا بھی خالق ہے۔ یہی محبت سعادت کی جڑ اور یہی تعلق کامیابی کی بنیاد ہے۔ ڈاکٹر اجمل نے علم کی خدمت، دین کا دفاع اورباطل افکار ونظریات کے رد کا جو بیڑہ اٹھایا ہے وہ بلا شبہ ان سے اسی محبت کا تقاضا کرتا ہے۔

ڈاکٹر صاحب اس وقت چالیس کی دہائی میں ہیں۔ آپ نے جو علمی کام انجام دیے ہیں ان پر نظر دوڑائیں تووہ اپنے ہم عمروں میں بہت آگے نظر آتے ہیں۔

ڈاکٹر اجمل اب تک سو سے زائد کتابوں کا ترجمہ کرچکے ہیں۔ موضوعات کے اعتبارسے یہ کتابیں تفسیر، حدیث اور عقیدہ پر مشتمل ہیں۔ ان میں اکثر علم عقیدہ ومنہج سلف سے تعلق رکھتی ہیں۔ جبکہ فن تفسیر وحدیث پر مشتمل تراجم کی تعداد بھی معتد بہ ہے۔

ڈاکٹر اجمل کی اردو صاف شفاف اور سادہ ہے۔ ان کا اسلوب بالکل انھی کی طرح ملمع سازی سے پاک، عام فہم اور سادگی سے پر ہے۔

خالص علمی کتابوں کا ترجمہ اسی اسلوب میں ہونا چاہیے۔ خاص طور سے عقیدہ اور منہج کی کتابوں کا ترجمہ ملمع سازی سے پاک اور بے جا ادبی رنگ سے دور رہنا چاہیے، ورنہ مفہوم بدلتے دیر نہیں لگتی۔

البتہ ادبی اور جنرل موضوعات پر لکھی گئی کتابوں کے ترجمہ میں ادب کی چاشنی اچھی لگتی ہے، کیونکہ وہی اس کو پرکشش بناتی ہے۔ جبکہ خالص علمی کتابوں کی بات بالکل الگ ہوتی ہے۔ لفاظی کے چکر میں معانی و مطالب متاثر ہونے لگتے ہیں۔

جن احباب کا تعلق علم سے ہے۔ پڑھنے لکھنے کا شوق ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ یہ عمل کتنا شاق اور مشکل ہے۔ خاص طور سے جب زندگی کی مشغولیات زیادہ ہوں۔ دیگر ذمہ داریاں بھی بوجھل کیے رہتی ہوں۔ لکھنے پڑھنے کا یہ عمل اضافی ہو۔ ایسی صورت میں یہ عمل کس قدر دشوار اور محنت طلب ہوتا ہے یہ وہی جان سکتا ہے جو اسے انجام دیتا ہے۔

عموما تصنیف وتالیف کے عمل کو ترجمہ سے آسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ چیز بہت حد تک درست بھی ہے۔ مگر اولا تو ایسا مطلق نہیں کہا جاسکتا؛ کیونکہ تراجم کے بعض کام تالیف کے بعض عمل سے بلا شبہ مشکل ہوتے ہیں۔ دوسری بات ترجمہ کے عمل میں بوریت کا جو عنصر ہے وہ اس کی مشکل کو بہت حد تک بڑھا کر اس کی صعوبت کو دو چند کردیتا ہے۔

فن ترجمہ بعض اعتبار سے قدرے مشکل کام ہے۔ یہ علم بھی ہے اور فن بھی۔ یہ علمی صلاحیت کے ساتھ ساتھ، ذکاوت، ثقافت کی وسعت اور فنی صلاحیت کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ ایک مترجم کم از کم دو زبانوں (مترجم منہ اور مترجم إلیہ) پر بہت اچھی طرح عبور رکھے تبھی وہ ایک اچھا مترجم بن سکتا ہے۔ ما شاء اللہ ڈاکٹر اجمل اردو، عربی، ہندی، انگریزی، فارسی سمیت پانچ زبانیں جانتے ہیں۔ایک زبان کا علم دوسری زبان کوسمجھنے اور اس کے مختلف اسالیب کو جاننے میں کتنا مددگار ہوتا ہے یہ اہل علم پر مخفی نہیں۔

کسی کتاب کا ترجمہ محض ترجمہ نہیں ہوتا۔ ایک مترجم پہلے ترجمہ شدہ کتاب کے ایک ایک لفظ پر ٹھہرتا ہے۔ ایک ایک ترکیب پر پوری دقت وبصیرت سے نگاہ ڈالتا ہے۔اس کے معانی ومفاہیم اور مقاصد پر غور کرتا ہے۔ اس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ پہلے خود اس کی عبارتوں کو ہضم کرتا ہے، پھر قاری کے لیے اسے کسی دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے۔

کسی بھی کتاب کا کما حقہ ترجمہ کرنے والا اس کتاب کا بہترین قاری ہوتا ہے۔ دوران ترجمہ وہ کتاب کی فکر سےآگہی حاصل کرتا ہے۔ اس سے متاثر ہوتا ہے۔ اس دوران فکر کی دھیمی دھیمی آنچ سے اس کا شعور تپتا اور پکتا رہتا ہے۔ اس کی فکر سیراب ہوتی رہتی ہے۔ یہ عام مطالعہ سے بہت آگے کی چیز ہوتی ہے۔ بسا اوقات ایک انسان مطالعہ کرتے وقت بہت ساری پیچیدہ عبارتوں سے صرف نظر کرجاتا ہے۔ نہ سمجھ میں آئیں تو آگے بڑھ جاتا ہے۔ مگر ترجمہ کرتے وقت وہ ایسا کبھی نہیں کر سکتا۔ اسے ایک ایک لفظ پر ٹھہرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی ایک ایک عبارت کئی کئی دن انتظار کراتی ہے۔ باذوق قاری کے صبر کو آزماتی ہے تب جاکر قارى پر اپنے درست مفہوم کے ساتھ جلوہ افروز ہوتی ہے۔ اس وقت ایک باذوق قاری کو جو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ جس سکون کا احساس ہوتا ہے الفاظ اسے بیان نہیں کرسکتے بس ایک ہم مثل قاری محسوس کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر اجمل نے بھی تفسیر وحدیث اور عقیدہ ومنہج کی ان اہم ترین کتابوں کا صرف ترجمہ ہی نہیں کیا ہے۔ انھیں اچھی طرح سمجھا اور ہضم بھی کیا ہے۔ غور کریں تو ان مبارک اور اہم ترین کتابوں کا مطالعہ وفہم مستقل ایک شرف ہے۔

با بصیرت اور چوکنا مترجم صرف ترجمہ شدہ کتاب کا باریک مطالعہ نہیں کرتا، بلکہ کتاب اور صاحب کتاب دونوں کا مطالعہ ساتھ ساتھ کرتا اور ان کے ساتھ قابل رشک لمحات گزارتا ہے۔ایک امانت دار مترجم مؤلف کے بارے میں ضرور جانکاری حاصل کرتا ہے۔ یہ چیز کتاب کو سمجھنے میں کافی ممد ومعاون ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر تحریر مؤلف کے شعور سے مرتبط اور اس کے فکر سے جڑی ہوتی ہے۔ جڑی نہ ہو تو پھر وہ کتاب نہیں کچھ اور ہوتی ہے جسے کوئی صاحب قلم کسی خاص مقصد کے تحت لانچ کرتا ہے۔

ایک قلم کار اپنی تحریر میں اپنی فکر کو قلم کی روشنائی کے ذریعہ انڈیلتا رہتا ہے اور قاری پڑھتے وقت اسے اپنے ذہن ودماغ میں شعوری ولا شعوری طور پر اتارتا رہتا ہے۔ قاری باذوق ہو اور کتاب عمدہ ہو تو وہ نشہ کی طرح ذہن پر چھا جاتی ہے۔ بعض کتابوں کا خمار کئی کئی دنوں تک قاری کو سرمست کیے رہتا ہے۔ جب کہ بعض کتابیں عمر بھر کے لیے اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں۔ اس لیے بھی سلف صالحین ان کتابوں کو پڑھنے سے منع کرتے تھے جو افکار ونظریات کے بگاڑ اورفساد کا سبب بنیں۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور اہل علم اس سنگینی سے ہمیشہ طلبہ کو خبردار کرتے رہتے ہیں۔

فن ترجمہ مشکل بھی ہے اور صبر آزما بھی۔ جو احباب اس میدان سے تعلق رکھتے ہیں وہ اس فن کی صعوبت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ صلاحیت کے ساتھ ساتھ مزاج میں روانی، طبیعت میں یکسوئی، نفس پر کنٹرول نہ ہو تو بسا اوقات ایک ہی کتاب کے ترجمہ میں آدمی اکتاہٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔ انجام تک پہنچتے پہنچتے ملل کا شکار ہوکر ڈھیر ہوجاتا ہے۔ ایسی جگہوں پر صحیح سے اندازہ ہوتا ہے کہ بندہ کسی عمل کی انجام دہی میں کس قدر توفیق الہی کا محتاج ہوتا ہے۔ بارہا یہ دیکھا گیا ہے کہ ترجمہ کا شاق عمل مترجم کے آگے جیسے بند باندھ دیتا ہے اور وہ آگے نہیں بڑھ پاتا یا اکتا کر اس سے دستبردار ہو جاتا ہے۔کسی ضخیم کتاب کا ترجمہ کرنا ہو تو بسااوقات کمیٹی بنانی پڑتی ہے۔ کئی کئی افراد مل کر کام کرتے ہیں تب جاکر ترجمہ کا عمل انجام کو پہنچتا ہے۔

ایسے میں سو (100)سے زائد کتابوں کا ترجمہ کس بات پر دلیل ہے؟ عام حالات میں اس پر یقین کرنا مشکل ہوجائے گا۔ وہ بھی کون سی کتابیں؟ عقیدہ ومنہج کی وہ کتابیں جو قدیم سے جدید تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں متقدمین کی بھی کتابیں ہیں اور متاخرین ومعاصرین کی بھی۔ اصول علم کی ایسی ایسی ٹھوس کتابیں ہیں جن کو سمجھنے کے لیے زبان کے ساتھ ساتھ علم وفہم کی وافر مقدار میں ضرورت پڑتی ہے۔

حجم کے اعتبار سے بھی یہ کتابیں کچھ کم نہیں ہیں۔ چنانچہ آپ کی ترجمہ شدہ عربی کتابوں کا حجم پچاس (50)سے لے کر ہزار صفحات سے متجاوز ہے۔ ایسی بھی کتابیں ہیں جن کا ترجمہ آپ نے دو یا دو سے زائد جلدوں میں کیا ہے، بلکہ بعض کتابوں کا ترجمہ چار سے چھ جلدوں میں بھی کیا ہے۔

’القرآن تدبر وعمل‘ کا اردو ترجمہ جو تین جلدوں (تقریبا 1500 صفحات)میں مطبوع ہے اس کا آپ نے تقریبا تیس فیصد حصہ اکیلے ترجمہ کیا ہے۔

ڈاکٹر ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کا مشہور حدیثی موسوعہ ’الجامع الکامل‘جو عربی میں بارہ جلدوں میں ہے اس کا تقریبا پچیس فیصد ترجمہ آپ نے تنہا کیا ہے۔

آپ کی ترجمہ شدہ کتابوں میں شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ کی ’محاضرات فی العقیدۃ والدعوۃ‘ کا ترجمہ تین جلدوں میں، شيخ صالح عبد العزيز آل الشيخ حفظه الله کی التمهيد لشرح كتاب التوحيد کا ترجمہ دو جلدوں میں، امام اہل السنۃ امام بربہاری رحمہ اللہ کی معروف کتاب ’شرح السنۃ‘ کی مشہور شرح جو شیخ ربیع مدخلی حفظہ اللہ نے’عون الباری‘ کے نام سے کی ہے اس کا ترجمہ تین جلدوں میں، شیخ احمد نجمی حفظہ اللہ کی ’الفتاوى الجلیۃ عن المناہج الدعویۃ‘ کا ترجمہ دو جلدوں میں، ڈاکٹر فہد الفہید حفظہ اللہ کی کتاب ’الجنایۃ على الإسلام‘ کا ترجمہ دو جلدوں میں،شیخ عبد الکریم حجوری حفظہ اللہ کی کتاب ’الفقہ الأکبر شرح کتاب قطف الثمر ‘ کا ترجمہ چھ جلدوں میں، شیخ محمد رمزان الہاجری حفظہ اللہ کی کتاب ’الکواشف الجلیۃ للفروق بین الدعوات السلفیۃ والدعوات الحزبیۃ‘ کا ترجمہ چار جلدوں میں؛ قابل ذکر ہیں۔

ڈاکٹر اجمل کی ترجمہ شدہ کتابیں صرف عدد کے اعتبار سے بھاری نہیں ہیں۔ اگرچہ اس عدد میں کتابوں کا ترجمہ بذات خود ایک حیرت انگیز عمل ہے۔ تاہم ان کی اصل قیمت معنوی اعتبار سے ہے۔ اور یہی ان کا اصل کمال ہے کہ ترجمہ کے لیے انھوں نے عقیدہ ومنہج کی ان کتابوں کو اختیار کیا ہے جن کی برصغیر کے اردو طبقہ کو اشد ضرورت ہے۔ ایسے وقت میں جب باطل افکار ونظریات پڑھے لکھے اردو داں طبقہ کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں ان کتابوں کی افادیت واہمیت انتہائی درجہ بڑھ جاتی ہے۔

علم وعمل کے میدان میں اگرچہ سرخروئی کے مختلف مجالات اور متعدد پہلو ہیں۔ مگر جو مقام ومرتبہ عقیدہ ومنہج کی اصلاح اور اس کے لیے کی جانے والی جدو جہد سے جڑی ہے اس کی بات اس لیے بھی بالکل الگ ہے کہ یہ براہ راست انبیاء کی بعثت کے مقصد اساسی سے متعلق ہے۔ اور یہی ڈاکٹر اجمل کے اس عمل کی اہمیت وافادیت کا سب سے کلیدی پہلو ہے۔ وہ پہلو جس کا تعلق براہ راست توحید اور یوم آخرت کے دن نجات سے ہے:(یوم لا ینفع مال ولا بنون إلا من أتى اللہ بقلب سلیم)

تفسیر وحدیث اور عقیدہ ومنہج کی یہ کتابیں ان شاء اللہ بروز قیامت ڈاکٹر صاحب کے میزان حسنات میں نمایاں ترین ہوں گى اور ان کے لیے اللہ تعالى کی رحمت ومغفرت کا باعث اور نجات کا ذریعہ ہوں گی۔ یہی اصل کامیابی اور ایک مسلمان کی ساری جدوجہد اور تگ ودو کا خلاصہ ہے۔

برصغیر میں علم سے وابستہ مترجمین کی فہرست بنائی جائے تو ایسے کتنے افراد ہوں گے جنھوں نے سو سے زائد کتابوں کا ترجمہ کیا ہوگا؟ جماعت کی تاریخ میں اس قدر اصولی کتابوں کا ترجمہ کرنے والے کتنے لوگ ہوں گے؟ ہمیں ان کی صحیح تعداد کا علم بالکل نہیں ہے۔ مگر یقین ہے کہ ان شاء اللہ تعالى ڈاکٹر اجمل دونوں قسموں کی فہرست میں ایک معروف مقام کے حقدار ٹھہریں گے۔

ڈاکٹر صاحب ترجمہ کا یہ کام کسی رسمی ادارہ کے تابع ہوکر نہیں کرتے بلکہ یہ گراں قدر اعمال محض آپ کی ذاتی رغبت اور دلچسپی کا نتیجہ ہیں۔ ان کے پیچھے اصل محرک ذاتی دلچسپی اور احباب کے مشورے ہیں۔ یہی چیز کتابوں کے اختیار میں بھی کلیدی ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی ترجمہ شدہ کتابوں کی فہرست پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے جہاں ڈاکٹر صاحب کے علمی ذوق اور فنی دلچسپی کا پتہ چلتا ہے وہیں خوشی بھی ہوتی ہے اور رشک بھی ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے نہ صرف ان عمدہ اور اہم ترین کتابوں کو پڑھا، ہضم کیا، بلکہ انھیں ہم زبان قاریوں کے لیے اردو میں منتقل بھی کردیا۔

الحمد للہ ترجمہ کا یہ مبارک سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ترجمہ کے اس عمل میں ڈاکٹر صاحب کہاں جاکر رکیں گے یہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ہم تو بس اللہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی عمر، علم و عمل سب میں خوب خوب برکت دے۔ انھیں ہر سوء ومکروہ اور شر سے محفوظ رکھے۔ ان کا یہ مبارک عمل جاری و ساری رہے۔رب ذو الجلال اس مبارک عمل کو ان کے لیے ذخیرہ آخرت اور روز قیامت نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین

توفیق الہی بہت ہی نادر اور کمیاب شیء ہے۔ بہت کم بندوں کے حصہ میں یہ چیز آتی ہے۔ مگر جب آتی ہے تو ہر سو اپنے اثرات دکھاتی ہے۔ جب اللہ تعالى کسی محبوب بندہ کو توفیق سے نوازتا ہے تو اس کی زندگی لہلہا اٹھتی ہے۔ اگر بندہ علم دوست ہے تو اس کی زندگی سراپا خیر وبرکت بن جاتی ہے۔

ڈاکٹر اجمل نے محض تراجم پر اکتفا نہیں کیا ہے۔ مختلف موضوعات پر چھوٹی بڑی دس سے زائد کتابیں بھی لکھی ہیں۔ جن میں شیخ ثناء اللہ امرتسری: حیات وخدمات، بریلویت کے افکار ونظریات، مملکت سعودی عرب پروپیگنڈوں کے سائے میں، اخوانی جہاد یا خود کش حملہ، شیعوں کی تاریخی خیانتیں، فلسطینی قضیہ حقائق اور سازشوں کی روشنی میں؛ قابل ذکر ہیں۔

علاوہ ازیں بیس(20)سے زائد وقیع مقالات لکھے ہیں ۔ سلفیت حقیقت کے آئینے میں، انکار حدیث محرکات واسباب، عوام وخواص پر تحریکی جراثیم کے اثرات،کتاب وسنت کے فہم میں عربی زبان کا کردار، مملکت توحید کا تعلیمی ڈھانچہ ایک قابل عمل نمونہ، وغیرہ آپ کے معروف مقالات ہیں جو آپ نے مختلف مواقع پر لکھے ہیں۔ آپ کے مقالات نہایت علمی اور تحقیقی ہوتے ہیں۔جس موضوع پر لکھتے ہیں حق ادا کردیتے ہیں۔

رہے دیگر علمی وثقافتی مضامین تو ان کی تعداد دو سو (200)کے قریب ہے۔ ان میں کچھ ایسے بھی مضامین ہیں جو اپنے حجم واسلوب میں مقالات کی طرح ہیں جو کئی کئی قسطوں پر مشتمل ہیں۔ باقی عام مضامین ہیں جو مختلف موضوعات پر تسلسل کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین کی اکثریت کا تعلق عقیدہ ومنہج،نیز باطل افکار اور گمرہ کن نظریات کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ مشرق وسطى کے معاصر مسائل سےہے۔ سید قطب کو پھانسی کیوں دی گئی؟نہضہ ڈیم کی تعمیر: یہودی سازش اور اخوانی کردار، سید مودودی کا فاسد عقیدہ خود انھی کی تحاریر کی روشنی میں، حاکمیت الہیہ اور ولایت فقیہ کا نظریہ: ایک ہی سکے کے دو رخ، خذ ما صفا ودع ما کدر:ایک مغالطہ کا ازالہ، معالم فی الطریق:جادہ ومنزل، فلسطینیوں کے خلاف صدی کی ڈیل کے پیچھے کون؟؛ یہ آپ کے چندمشہور مضامین ہیں جو اپنے حجم واسلوب اور طبیعت میں مقالات کا درجہ رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کے مضامین ومقالات تحقیقی مزاج رکھتے ہیں۔ اسلوب نہایت سہل اور عام فہم ہوتا ہے۔ آپ کی تحریریں پڑھنے والا آپ کی اس خوبی کو اچھی طرح جانتا ہے۔

علاوہ ازیں آپ کی چھوٹی چھوٹی بے شمار تحریریں ہیں جو وقتا فوقتا آپ حسب ضرورت برجستہ لکھتے اور نشرکرتے رہتے ہیں۔ یہ ان مضامین اور مقالات کے علاوہ ہیں۔

آپ نے آج تک جو ترجمے کیے ہیں ان کے عربی صفحات کی تعداد تقریبا سولہ ہزار پانچ سو (16500) بنتی ہے۔جن میں تفسیر قرآن سے متعلق تقریبا پانچ سو (500)، احادیث سے متعلق تقریبا ساڑھے تین ہزار (3500)، عقیدہ ومنہج سے متعلق تقریبا دس ہزار (10000)، باقی ڈھائی ہزار (2500) دیگر مختلف موضوعات پر ہیں۔ یہ عربی کے صفحات ہیں جو اردو میں تقریبا پچیس ہزار (25000)صفحات بنیں گے۔

جبکہ مؤلفات کے صفحات کی تعداد تقریبا ساڑھے تین ہزار (3500)،اور مقالات کی تقریبا پانچ سو (500) بنتی ہے۔مضامین اس کے علاوہ ہیں۔

سوشل میڈیا پر آپ کی وہ چھوٹی چھوٹی تحریریں جو عموما رد عمل یا الزامی جوابات کا نتیجہ ہیں؛ ان کے علاوہ آپ نے جو تحقیقی مضامین لکھے ہیں ان کے صفحات کی تعداد تقریبا ڈیڑھ ہزار (1500)ہے۔ ان میں ایسے وقیع مضامین بھی ہیں جو اپنے اسلوب ، طبیعت اور حجم میں تحقیقی مقالات کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان مضامین کے ساتھ ساتھ ان چھوٹی بڑی تحریروں کو بھی شامل کرلیا جائے جو آپ وقتا فوقتا نشر کرتے رہتے ہیں تو ایک محتاط اندازے کے مطابق ان کے کل صفحات کی تعداد تقریبا ڈھائی ہزار (2500) بنتی ہے۔

آپ غور کریں:تراجم 25000، مؤلفات: 3500، مقالات: 500، مضامین: 1500، دیگر تحریریں 1000 کل(31500) صفحات بنتے ہیں۔ اگر احتیاطا تیس ہزار (30000) صفحات بھی مان لیے جائیں تو بھی ما شاء اللہ یہ کس قدر عظیم کام ہے۔ تیس ہزار (30000)صفحات کا مطلب پانچ پانچ سو (500)صفحات کی ساٹھ (60)جلدیں۔

اہل قلم اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک جلد کتاب کی تیاری کس قدر مشقت اور جہد مسلسل چاہتی ہے۔ کس قدر تنظیم وترتیب اور دیگر مشغولیات سے زہد کا تقاضا کرتی ہے۔ تب جاکر کہیں ایک جلد کی کتاب منظر عام پر آتی ہے۔

ڈاکٹر اجمل منظور نے تصنیف وتالیف اور ترجمہ کے علاوہ بھی ایک اور زبردست کام کیا ہے۔ اور وہ ہے مختلف موضوعات پر اپنے لیکچرریکارڈ کرانا۔ چنانچہ آئی پلس ٹی وی پر آپ نے سیرۃ النبی صلى اللہ علیہ وسلم پر (100)، اخوانیت پر ساٹھ(60)، خوارج اور ان کے اوصاف پر (60)،خلافت بنی امیہ پراڑتیس (38) ، جبکہ نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی معروف کتاب ’قطف الثمر فی بیان عقیدۃ أہل الأثر‘ کا ترجمہ پچیس (25)ایپی سوڈ میں ریکارڈ کرایا ہے۔ ان میں سے کچھ نشر ہو چکے ہیں جبکہ کچھ نشر ہونے والے ہیں۔ اسی طرح اخوانیت ہی پر مزید پچاسی (85) ایپی سوڈ ریکارڈ کرایا ہے جو صوبائی جمیعت اہل حدیث مالیگاؤں کے یوٹیوب چائنل پر نشر ہوئے ہیں۔

علاوہ ازیں مختلف موضوعات پر آپ کے خطابات اور لیکچر کا ایک سلسلہ ہے جو آپ کے یوٹیوب چینل (Ajmal Manzoor) پر دستیاب ہے۔

ان خطابات اور لیکچرکے علاوہ مزید آپ کے خطب ومواعظ اور مختلف دروس ہیں جو ایک مدت سے آپ دیتے آ رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ آپ کے یوٹیوب چینل پر موجود ہیں جبکہ کچھ ریکارڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متوفر ہیں۔

ڈاکٹر اجمل منظور اصلا ایک استاذ ہیں۔ وہ باقاعدہ تدریس کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔چنانچہ یہ سارے علمی اور دعوتی کام انھوں نے تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے کیے ہیں۔ تدریس کا فریضہ وہ بھی ہندوستانی مدارس میں، کس قدر مشغولیت اور عموما ٹینشن سے بھرا فریضہ ہوتا ہے وہ ایک مدرس اچھی طرح جانتا ہے۔ اس بامشقت اور منظم ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اس قدر علمی و دعوتی کام انجام دینا یہ خصوصی توفیق الہی کا نتیجہ ہے جو بہت کم خوش نصیبوں کے حصہ میں آتی ہے۔ ذلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔
ڈاکٹر اجمل کی زندگی میں جس اہم ترین نکتہ کی تلاش تھی وہ تھی اس حسن توفیق اور اس قدر برکت کے اسباب کی معرفت۔ اس پر میں نے کافی غور کیا کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایک پروفیشنل اور مشغول تدریسی زندگی گزارنے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کی علمی ودعوتی زندگی لہلہا اور چہچہا رہی ہے۔ وہ کون سے عوامل ہیں جن کی بنا پر ترجمہ وتالیف سے لے کر تعلیم ودعوت کے میدان تک وہ اس طرح معرکہ پر معرکہ سر کر رہے؟ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ ایک طالب علم کے لیے آپ کی سیرت میں ان اسباب کا جاننا سب سے اہم ہے۔
ایک مومن کا دل صاف، سینہ پاک اور نفس شفاف آئینہ ہوتا ہے۔ وہ سلامت قلب کا استعارہ اور نقاوت ضمیر کا کنایہ ہوتا ہے۔ دل میں کدورت آنے لگے تو وہ اپنے حسن اخلاق، دعا اور توبہ و استغفار سے اسے دھلتا اور چمکاتا رہتا ہے۔ دل کا صاف رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ دل میں کدورت کا وجود تزکیہ نفس کے اس قدر منافی ہے کہ اللہ تعالى نے جنت میں اس کی صفائی کا خصوصی انتظام کیا ہے۔ جب مومن بندے جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تعالى خصوصی طور سے ان کے سینوں میں موجود حقد وحسد کے جذبات اور کینہ کپٹ کے آثار کو کھرچ کر بالکل جڑ سے نکال پھینکے گا تاکہ جنت میں وہ مکمل سکون سے رہ سکیں۔ اس کی ایک وجہ تو اس کی شناعت و گندگی ہے کہ جنت جیسی پاکیزہ جگہ اس کا گزر نہیں۔ دوسری بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ -واللہ أعلم- یہ ہے کہ ان جذبات کے ساتھ کسی انسان کو مکمل سکون نہیں مل سکتا اور جنت مکمل سکون کی جگہ ہے۔
صفاء نفس کی یہ صفت اور بیاض قلب کا یہ عمل جس قدر ضروری ہے اسی قدر مشکل بھی ہے۔ دل کو مکمل صاف رکھنا، اسے ہوى پرستی، کبر وعناد، کینہ کپٹ اور بغض وحسد جیسی آلودگیوں سے آلودہ نہ ہونے دینا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ حسد تو شر کا منبع اور متعدد برائیوں کا مجموعہ ہے۔ اس کا معاملہ نہایت باریک اور انتہائی سنگین ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے: (ما خلا جسد من حسد، ولکنّ اللئیم یُبدیہ، والکریم یُخفیہ) کہ کوئی جسم حسد کے جذبہ سے خالی نہیں ہوتا۔ تاہم لئیم انسان اس سے مغلوب ہوکر اسے ظاہر کردیتا ہے جبکہ کریم انسان اس جذبہ کو دبا کر اس پر حاوی ہوجاتا ہے اور اپنے حسن خلق نیز حسن تعامل سے اسے ظاہر نہیں ہونے دیتا۔
چونکہ یہ نہایت مشکل ترین امر ہے اس لیے اس کا اجر وثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ بسا اوقات ایک انسان کے پاس بظاہر بہت زیادہ نیک اعمال نہ بھی ہوں تو وہ محض اپنے سینے کی پاکی اور دل کی صفائی کی وجہ سے اللہ کا پسندیدہ بندہ اور اس کی رحمت و جنت کا حقدار بن جاتا ہے۔
میں نے بہت غور کیا کہ آخر ڈاکٹر صاحب کو ملی اس قدر حسن توفیق کے اسباب کیا ہیں؟ مجھے لگا -واللہ اعلم- کہ مبارک اور مفید عمل کے اختیار، اس عمل کے تئیں ان کے اخلاص، اس کی تکمیل کی خاطر پیہم جد وجہد، کے ساتھ ساتھ اس حسن توفیق کا ایک بڑا سبب شاید ان کے دل کی صفائی، ان کا بھولا پن، لوگوں کے تئیں ان کا ہر طرح کی آلودگی سے پاک اور سیدھا سادا رویہ بھی ہے۔ ولا أزکی على اللہ أحدا۔
چنانچہ ڈاکٹر صاحب بہت ہی صاف دل، متواضع، کول مائنڈ، شریف النفس، معاملات میں بھولے پن کی حد تک سیدھے سادے اور نہایت بے ضرر انسان ہیں۔ ساتھیوں کے تئیں کسی قسم کے جلن، حقد وحسد اور بغض ونفرت کا رویہ بالکل نہیں رکھتے۔خیر خواہی، سلامت قلب اور “لا ضرر ولا ضرار” والی زندگی جیتے ہیں۔ لوگوں کے معاملات میں بے جا مداخلت سے بہت دور اور ان کے امور میں بے جا دلچسپی سے بالکل پرے رہتے ہیں۔ جو لوگ ڈاکٹر صاحب سے قریب ہیں، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور ان سے برابر تعامل کرتے ہیں وہ ان شاء اللہ تعالی بلا تردد اس کی تصدیق کریں گے۔
ڈاکٹر اجمل کی زندگی کا ایک گمنام پہلو دار الدعوۃ فریوائی اکیڈمی میں تقریبا ایک سال ترجمہ وتحقیق کا کام اور پھر دو سال قصیم سعودی عرب میں شعبہ جالیات سے وابستگی ہے۔ یہ مرحلہ جامعہ اسلامیہ سنابل سے فراغت کے بعد مدینہ یونیورسٹی آنے سے قبل کا ہے۔ چنانچہ فراغت کے معا بعد پہلے آپ کو دار الدعوہ میں ترجمہ وتحقیق کا کام سیکھنے کا موقع ملا پھر آپ القصیم آکر شعبہ جالیات سے جڑ گئے اور مدینہ جانے سے قبل تقریبا دو سال آپ دعوت وتبلیغ نیز تالیف وترجمہ کا کام انجام دیتے رہے۔ قصیم کے جس جالیات میں آپ رہتے تھے وہاں ایک شاندار لائبریری تھی جس سے آپ نے خوب فائدہ اٹھایا۔ مطالعہ کا شوق تھا ہی یہ لائبریری ان کے لیے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوئی اور خصوصی طور سے آپ نے ابن تیمیہ اور ابن القیم رحمہما اللہ کی متوفر کتابوں کو پڑھا۔ تاریخ سے خصوصی دلچسپی کی بنا پر یہیں آپ نے ابن کثیر رحمہ اللہ معروف کتاب البدایۃ والنہایۃ کی مکمل 14 جلدیں بھی پڑھیں۔

بعد میں ڈاکٹر اجمل منظور کے اندر مطالعہ کا یہ شوق ہم نے مدینہ منورہ میں بھی دیکھا۔ کئی جلدوں پر مشتمل کتابوں سے وہ کبھی نہیں اکتاتے تھے بلکہ پوری دلچسپی سے انھیں ختم کرتے تھے۔ کتاب الحیوان معروف عباسی ادیب جاحظ کا ایک ادبی اورعلمی شاہکار ہے۔ یہ کتاب صحیح معنوں میں حیوانات پر ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ اس کتاب کا طویل مقدمہ ان مقدمات میں سے ہے جنھیں بطور مقدمہ اپنی علمی خصوصیات کی بنا پر خصوصی شہرت حاصل ہے۔ ایک طالب علم کو یہ مقدمہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ یہ کتاب بھی کئی جلدوں میں ہے۔ مدینہ منورہ میں جب آپ اس کتاب کا مطالعہ کر رہے تھے گاہے بگاہے اس کی دلچسپ باتیں ہم ساتھیوں سے شیئر کرتے اور اور ہم ان سے محظوظ ہوتے۔

جس وقت آپ پی ایچ ڈی کی اپنی بحث (النواحی الثقافیۃ للعرب قبل الإسلام فی الشعر الجاہلی) لکھ رہے تھے، بعض علمی ضروریات کی بنا پر ڈاکٹر جواد علی کی مشہور کتاب (المفصل فی تاریخ العرب قبل الإسلام ) جو کہ بیس ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے اور اپنے موضوع پر انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے؛ کی طرف رجوع كيا۔ کتاب پسند آئی تو ان بیس جلدوں کو حرفا حرفا پڑھ ڈالا۔

کتابوں کو مکمل پڑھنا نہ صرف ایک باذوق، با بصیرت اور محنتی طالب علم کا عمل ہے بلکہ علمی اعتبار سے اس کے فوائد بھی بہت زیادہ ہیں۔ مگر اب یہ شوق انتہائی کم ہوتا جا رہا ہے۔ کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں تو چھوڑیے ایک ایک جلد کی کتابیں بھی عموما بس ضرورت بھر پڑھی جاتی ہیں۔ حال یہ ہوگیا ہے کہ کئی جلدوں پر مشتمل کتابوں کی طرف عموما باحثین اپنے موضوع کے اعتبار سے رجوع کرتے ہیں اور مطلوب مسئلہ کو پڑھ کر اسے رکھ دیتے ہیں۔

تاہم ڈاکٹر اجمل کا مسئلہ ایسا نہیں ہے۔ کتاب اہم لگے یا پسند آجائے تو وہ صرف کتاب کی طرف دیکھتے ہیں۔ مجلدات کی کثرت ان کے ذوق مطالعہ کی راہ میں حائل نہیں ہوتی۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی شہرہ آفاق کتاب (منہاج السنۃ النبویۃ 9 جلدیں)، ابن قیم کی سیرت پر منفرد کتاب(زاد المعاد 6 جلدیں)، انھی کا شرعی مسائل اور ردود پر مشتمل موسوعہ (إعلام الموقعین عن رب العالمین 7 جلدیں) ، انھی کا نادر فوائد پر مشتمل علمی تحفہ(بدائع الفوائد4 جلدیں)، اور ان جیسی متعدد کتابیں ایسی ہیں جنھیں آپ اول تا آخر پڑھنے اور ان سے فوائد کشید کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

مدینہ منورہ سےفراغت کے بعد جب میں جامعہ محمدیہ منصورہ آیا تو ڈاکٹر صاحب میرے مشوروں اور کوششوں سے وہاں پہلے ہی پہنچ چکے تھے۔ امریکہ کی اوبامی سیاست اور رافضی ہمنوائی عروج پر تھی۔ یمن کی جنگ اور مشرق وسطى میں رافضی جارحیت کی وجہ سے پورا علاقہ سسک بلک اورسلگ رہا تھا۔ عالم اسلام کے لیے ان موضوعات کی اہمیت کی بنا پر میں نے ان پر مسلسل مضامین لکھے تھے جن کا کچھ حصہ کتابی شکل میں بھی شائع ہوچکا تھا۔ ڈاکٹر اجمل نے انھیں کافی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا تھا۔ تاریخ سے خصوصی دلچسپی اور عالم اسلام کے احوال سے وافقیت کی بنا پر ان موضوعات سے انھیں بھی خصوصی دلچسپی تھی۔ کچھ اسباب کی بنا پر میں ان موضوعات پر لکھنے سے وقتی طور پر رک گیا تھا۔ میں نے ڈاکٹر اجمل کی توجہ اس طرف دلائی تو وہ بخوشی نہ صرف اس پر راضی ہوئے بلکہ فورا عملی طور سے میدان میں آگئے۔ پھر انھوں نے سوشل میڈیا کو اپنا خصوصی ٹھکانہ بنایا۔ اور اس تندہی کے ساتھ ان موضوعات پر لکھا اور آج تک لکھ رہے ہیں کہ رافضیت کے جھوٹے قلعے اور اخوانیت کے ہوائی محل زمیں بوس ہوگئے۔ اخوانیوں اور تحریکیوں کے ساتھ ساتھ اخونچیوں میں بھی بے چینی پھیل گئی اور ایک عالم ان کا دشمن ہوگیا۔ کوئی براہ راست تنقید کرنے لگا تو کوئی گالی گلوج پر اتر آیا۔ کسی نے تحقیر کی راہ اپنائی تو کوئی استہزا پر اتر آیا۔ کسی کو جب کوئی راستہ نہ ملا تو اپنی ناپسندیدگی کے اظہار کے لیے اس نے نام نہاد نصیحت کا راستہ چن لیا۔ غرضیکہ ایک ہنگامہ جو برپا ہوا آج تک برپا ہے۔

مشرق وسطى کے جلتے مسائل پر جب بھی بات چلتی ہے تو گھوم پھر کر بات ایران ترکی قطر اور سعودی عرب کے ارد گرد گھومنے لگتی ہے۔ عموما لکھنے والوں کا حلقہ دو گروہ میں تقسیم ہوجاتا ہے ایک جو سعودی عرب کا دفاع کرتا ہے دوسرا جو ایران ترکی اور قطر کے ساتھ ہوتا ہے۔ تیسرا بھی ایک فریق ہے جو کبھی اس کی کبھی اس کی تائید کرتا ہے۔ اسے محاید اور غیر جانبدار ہونے کا دعوى ہے۔ تاہم اس کا بین السطور اسے پوری طرح جھٹلاتا اور اس کے دعوى کی نفی کرتا ہے۔ شاذ ہی ایسا کوئی شخص ملے گا جسے آپ کہہ سکیں کہ یہ بالکل مجرد اور موضوعیت کا خوگر ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ ہے اور وہ وجہ ہی کلیدی اور مفصلی ہے۔

مشرق وسطى پر لکھنے والے اور ان ممالک پر گفتگو یا شور شرابا کرنے والے عموما کسی خاص فکر کے تابع ہوتے ہیں۔ ان کے شعور یا لا شعور میں کہیں نہ کہیں یہ سب کچھ ان کے عقیدہ، منہج، یا فکر ونظر سے جڑا ہوتا ہے۔ کوئی لاکھ انکار کر لے یہی اس کی اصل حقیقت ہے۔ یہ چیز اگر اس کی مثبت گفتگو میں نہ ظاہر ہو تو منفی گفتگو میں اظہر من الشمس ہوتی ہے۔ بغض ونفرت اور ناپسندیدگی کی کڑواہٹ اس کے بین السطور سے نکل کر اس کے سطور کو کڑوا کردیتی ہے۔ استہزا وتحقیر میں ڈوبے الفاظ وتراکیب، جہالت و لا علمی سے لبریز جملے اور عناد وہوى پرستی سے چھلکتے فقرات، زور زبردستی کی توجیہات، بے سرپیر کے ادلہ،لولی لنگڑی علتیں اور کبر وغرور سے طنطناتی عبارتیں ان علامتوں پر مستزاد ہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے شروعات تو رد ومناقشہ سے کی تھی مگر وہ اس پر رکے نہیں۔ اس رد وقدح نے انھیں جو عقیدہ ومنہج سے پوری مضبوطی سے عملی میدان میں جوڑا تو پھر وہ آگے بڑھتے چلے گئے۔ ان کے اس عمل کی برکت تھی کہ اللہ تعالى نے انھیں اپنی خصوصی توفیق سے نوازا ۔ چنانچہ اس رد وقدح کا جو لازمی نتیجہ تھا وہ وہاں تک پہنچے۔ عقیدہ اور منہج سے متعلق علمی اسفار سے مزید گہرائی سے جڑے اور ان کی بے نظیر خدمت کی۔

درس وتدریس،تصنیف وتالیف، خطب ومواعظ اور ترجمہ کے اس حیران کن عمل کے علاوہ آج سوشل میڈیا کے مختلف وسائل وذرائع پر ڈاکٹر صاحب کے درج ذیل پانچ فعال اکاؤنٹس ہیں جہاں ان کی کتابیں، تراجم، لیکچر، مقالات، مضامین اور جدید موضوعات پر پوسٹیں نشر ہو تی رہتی ہیں اور ہزاروں افراد ان سے استفادہ کر تے رہتے ہیں۔

1- بلاگ (Blog):

https://ajmalmanzoor.blogspot.com/?m=1

2- یوٹیوب چینل (YouTube Chanel):

https://youtube.com/@ajmalmanzoor7192

3- فیس بک (facebook) :

https://www.facebook.com/abdullah.faris.332?=ZbWKwL

https://www.facebook.com/treacherousalliance?

https://www.facebook.com/profile.php?id=61551228992025&mibextid=9R9pXO

4- ٹیلی گرام (Telegram) :

https://t.me/ajmalmanzoor

5- ٹویٹر(Twitter(X)):

https://x.com/ajmal_manzoor

ڈاکٹر صاحب نے جو علمی کارنامے انجام دیے ہیں ان میں کئی خوبیاں ہیں۔ نتائج کے اعتبار سے بھی ان کے کئی مثبت پہلو نکل کر سامنے آتے ہیں۔ تاہم ان کا اصل امتیاز دو چیزوں میں کھل کر سامنے آتا ہے:

پہلا عقیدہ ومنہج کی وہ بے نظیر خدمت جو آپ نے اپنی تحریروں اور تراجم کے ذریعہ انجام دیے۔ چاہے آپ کی تحریریں ہوں یا تراجم ان کا بیشتر حصہ صحیح اسلامی عقیدہ کی نشر واشاعت اور منہج سلف کے دفاع میں ہوتا ہے۔ یہ شرف بھی ہے اور فضیلت بھی اور حسن توفیق کی ایک بڑی علامت بھی کہ انسان فقہ اکبر کی خدمت کرے اور شرعی علوم کے سب سے اہم فن پر اپنی جدو جہد صرف کرے۔ بلا شبہ یہ امتیاز آپ کو اہل علم کی پہلی صف میں کھڑا کردیتا ہے۔

دوسرا آپ کا وہ کارنامہ ہے جو آپ نے سوشل میڈیا پر انجام دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب سوشل میڈیا کے ایک حصہ پر رافضیوں، اخوانیوں ، اخونچیوں ، تحریکیوں اور ان سے متاثر افراد کا غلغلہ تھا۔ سلفیت اور سلفیوں کے یہ دشمن جی بھر کر اپنا بھڑاس نکالتے اور جو چاہتے بکتے تھے۔ سلفیت کی دشمنی میں کذب بیانی اور دروغ گوئی سے لے کر تہمت پردازی تک ہر چیز روا تھی۔ بات سعودی عرب کی چل نکلے تو ’الغایۃ تبرر الوسیلۃ‘ پر عمل کرتے ہوئے یہ فیس بکی ہر حربہ استعمال کرتے تھے۔ سلفیت کے پیروکار اور منہج سلف کے محبین بیک فٹ پر ہوتے تھے۔ پھر ڈاکٹر صاحب آئے اور رد وقدح کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ آپ نے عقلی نقلی الزامی اور تنظیری وتمثیلی ہر طرح کے دلائل سے ان کم علموں اور کم ظرفوں کو نہ صرف پست کیا بلکہ انھیں بیک فٹ پر ڈال دیا۔ سوشل میڈیا کو فالو کرنے والا اور ان موضوعات میں دلچسپی رکھنے والا ہر بابصیرت شخص اسے بخوبی جانتا ہے۔

تاہم ڈاکٹر صاحب کے لیے لکھنا اس قدر آسان نہیں تھا۔ پرنٹ میڈیا والے تو پہلے ہی ہاتھ اٹھا چکا تھے۔ جب غیروں کے ساتھ اپنے بھی معذرت کرنے لگے تب آپ نے صرف سوشل میڈیا کو اپنا مستقل مرکز اور اہم ٹھکانہ بنایا اور اپنے علم کی نشر واشاعت کے لیے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اٹھا رہے ہیں۔

مگر یہاں بھی معاملہ اتنا سیدھا نہیں تھا۔ جن موضوعات پر آپ نے لکھنا شروع کیا تھا بر صغیر کا تحریکی طبقہ اس پر بری طرح بوکھلا اٹھا تھا۔ ایک بھونچال سا آیا اور پھر آپ کو روکنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جانے لگے۔اکاؤنٹس بلاک کرانے سے لے کر مارنے تک کی دھمکیاں دی جانے لگیں۔ گالی گلوج، تہمت، استہزا، تحقیر؛ خست ونذالت کی کون سی ایسی منزل تھی جسے آپ کے مخالفین نے نہ طے کی ہوں۔ غیر تو غیر اپنے بھی اپنے مکدر مزاج کی تسکین کی خاطر کبھی فضیحت تو کبھی نصیحت کی چادر میں لپیٹ کر اپنی ان خواہشات کا اظہار کرنے لگے جو ہوائے نفس کے نتیجہ میں در آتی ہیں اور فکر ونظر کے شرایین میں خون بن کر دوڑنے لگتی ہیں۔

تنقید بہت مثبت چیز ہے۔ یہ ہر معاشرہ کی ضرورت اور ہر تعمیری عمل کی حاجت ہے۔ مگر تنقید جب تنقید کے بجائے استہزا وتحقیر کا روپ اختیار کرلےتو پھر وہ اتنا ہی شنیع عمل بن جاتی ہے۔

’لا یعرف الفضل من الناس إلا ذووہ‘ایک صاحب علم کی قدر وقیمت ایک عالم سے زیادہ بھلا کون جان سکتا ہے؟ لیکن یہی علم سے منتسب شخص اگر کسی تعصب کا شکار ہوجائے۔ معاصرانہ رقابت، بے جا منافست، ہوى پرستی یا مجردنظریات کا اختلاف اسے حق کے اعتراف سے روک دے تو اس سے بڑی شقاوت اور محرومی اس کے لیے کیا ہو سکتی ہے؟

’العلم رحم بين العلماء‘علم اہل علم کو رشتہ داروں کی طرح جوڑ دیتا ہے۔ وہ ایک دوسرےسےمحبت، ان کی عزت و تکریم اور ان کا احترام و تشجیع کرتےہیں۔ ایسا بہت ہوتا ہے کہ علم کا کوئی خادم کسی اور مسلک ومذہب سے تعلق رکھتاہے، مگر علم کی وجہ سے اس سے ایک گونہ انسیت اور محبت محسوس ہوتی ہے، اس کی علمی کاوشوں کا ذکر خیر کرتےہوئےاچھالگتاہے۔

مگر ڈاکٹر اجمل کے اپنے ہی مخالفین بڑے کم ظرف واقع ہوئے۔ انھوں نے غیروں سے شکوہ کا موقع ہی نہیں دیا۔ غیر تو ان کے دشمن تھے ہی۔ کیا رافضی کیا رافضیت زدہ، کیا اخوانی کیا اخونچی، کیا تحریکی کیا تحریکیت زدہ ؛ یہ تو مخالفت کا ہر نسخہ آزما ہی رہے تھے کہ اپنے بھی الگ الگ انداز میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے لگے۔ان میں ایسے بھی لوگ تھے جنھیں علم سے نسبت ہے۔ یہ بڑا ہی تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے جب کوئی عالم کسی عالم کی مخالفت محض کسی بے جا عصبیت یا نظریہ کے اختلاف کی وجہ سے کرے اور اس طرح کرے کہ اس کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرے۔ حالانکہ علم وفن کے وہ تقاضے جو جہد مسلسل کے متقاضی ہوتے ہیں انھیں وہ بخوبی جانتا ہے۔ پھر بھی وہ اس حرکت کا ارتکاب کرے تو اس کی شقاوت کے لیے اور کیا چاہیے؟

طرفہ تماشہ یہ ہے کہ بعض افراد اس میدان میں اس قدر فراخ دل واقع ہوئےہیں کہ بعض علمی خدمات کی بنا پریہود و نصاریٰ، ملحدین و زنادقہ اور بد عقیدہ افراد تک کی عزت افزائی میں کوئی کمی نہیں چھوڑتے، ان کی تشہیر اپنا فریضہ سمجھتے ہیں، بھلے ہی ان کی کتابیں پڑھ کر کچے ذہن کے افراد گمراہ ہی کیوں نہ ہوجائیں۔ علمی خدمات کے نام پر ان گمراہوں کی ایسی پذیرائی ہوتی ہے جیسے وہ سلف صالحین کےسچے وارثین ہوں۔ مگر یہاں آكر ان كامعاملہ بالکل الٹا ہوجاتا ہے ۔

درحقیقت یہ وہ لوگ ہیں جو بوجوہ و اسباب ڈاکٹر صاحب کو پسند نہیں کرتے۔ ان کے دلوں میں ان کے تئیں بغض، حسد، نفرت، کراہت یا نا پسندیدیگی کا ایک جذبہ ہے جسے وہ کسی نہ کسی بہانے ظاہر کرتے رہتے ہیں۔

بہر حال جب چاروں طرف سے حملہ ہو۔ غیروں کے ساتھ ساتھ اپنے بھی دشنام طرازی پر آمادہ ہوں۔ استہزا وتحقیر اور شخصیت کو مسخ کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہوں۔ ایسے ماحول میں لکھنا اور پھر لکھتے رہنا آسان نہیں ہوتا۔ انسان کمزور ہو تو ٹوٹ جاتا ہے۔ ہمت پست ہونے لگتی ہے۔ قلم دھیرے دھیرے ٹھہرنے لگتا ہے۔ مگر ڈاکٹر اجمل کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔یہاں بھی توفیق الہی ان کے ساتھ رہی اور ان کا علمی ودعوتی سفر پورے آب وتاب کے ساتھ جاری رہا۔ بد دل ضرور ہوئے۔ مزاج بھی مکدر ہوا۔ تکلیف بھی محسوس کی کہ یہ طبعی چیز ہے۔ مگر حوصلہ نہیں ہارے۔ مزید آگے بڑھتے گئے اور اپنے مشن میں پوری لگن سے لگے رہے:

سفر میں مشکلیں آئیں تو جرأت اور بڑھتی ہے

کوئی جب راستہ روکے تو ہمت اور بڑھتی ہے

ویسے بھی شخصیت آفاقی ہوجائے تو نقد کرنے والا خود متہم ہوجاتا ہے۔ پانی دو قلہ ہو جائے تو نجاست بھی آسانی سے اثر نہیں کرتی۔ آسمان کی طرف پتھر اچھالا جائے تو جتنی تیزی سے اوپر جاتا ہے اس سے زیادہ تیزی سے پلٹ کر زمین پر ہی دھپ سے گر جاتا ہے۔ چاند پر تھوکنے کی کوشش کی جائے تو الٹا منہ پر آکر گرتا ہے۔ سورج کی طرف منہ بنا کر دیکھنے والے کا منہ اور بن جاتا ہے۔ جس قدر رخ اس کى طرف ہوتا ہے پیشانی پر مزید بل پڑ جاتا ہے۔ سمندر میں کچھ بھی ڈال دیا جائے کچھ دیر کی گڑگڑاہٹ کے بعد اس کی تہہ میں جاکر غائب ہوجاتا ہے اور پانی پہلے کی طرح ایسےپرسکون ہو جاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں:

وإنّا وما تُلقی لنا إن ہجوتَنا

لکالبحر ِمہما یُلقى فی البحر ِیَغرَقِ

چنانچہ آپ نے جو چراغ روشن کیا تھا اسے نہ صرف جلائے رکھا بلکہ اس کو ایک مکمل پاور ہاؤس میں تبدیل کردیا جس سے سوشل میڈیا کا چہار سو روشن روشن ہے۔ لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا اب تو الحمد للہ اہل علم کی ایک پوری جماعت ہے جو سوشل میڈیاپرنہ صرف کتاب وسنت کی نشر واشاعت اور منہج سلف کے دفاع میں مصروف ہے بلکہ باطل عقائد ونظریات کی بیخ کنی میں بھی فرنٹ فٹ پر ہے۔

ہر سلیم فطرت انسان یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے محبت کریں۔ اسے پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھیں۔ بغض وعداوت اور نفرت وناپسندیدگی اس کے حصہ میں نہ آئے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ ہر محبت وپسندیدگی لائق اعتنا اور قابل توجہ ہوتی ہے اور نہ ہی ہر نفرت وعداوت بے اعتنائی کے لائق اور بے توجہی کی مستحق ہوتی ہے۔

جس طرح محبت مطلوب ومقصود ہوتی ہے اسی طرح بعض نفرتیں بھی منشود ہوتی ہیں کہ زندگی میں حقیقی حلاوت وسعادت کے لیے یہ بھی ضروری ہے۔ بسا اوقات تو یہ ایک انسان کے جادہ حق پر ہونے کی علامت اور پہچان بن جاتی ہے۔آج جو بغض و عداوت یا نفرت و ناپسندیدگی ڈاکٹر صاحب کے حصہ میں آئی ہے وہ اسی قبیل سے ہے۔ اہل باطل کی ناپسندیدگی اور گمراہ کن افکار ونظریات کے حاملین کے دلوں میں پنپنے والی نفرت؛ در اصل اہل حق کے لیے تمغہ صداقت اور ان کے جادہ حق پر ہونے کی ایک بڑی حجت اور دلیل ہوتی ہے۔

علم اپنے حصول سے لے کر نشر واشاعت تک مشقت سے پر اور آزمائش سے لبریزعمل ہے۔ اس راہ کے مسافر کی اگر صبر سے آشنائی نہ ہو تو منزل تو دور اس راستہ پر ہی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا۔ جب ایک بندہ علم کو اپنا سب کچھ دے دیتا ہے تب وہ اسے اپنا کچھ دیتا ہے۔ یہ بہت ہی خود دار، بے غرض اورزہد سے بھرپور شیء ہے۔

تاہم جو صعوبت اس کے حصول میں ہے اس سے کہیں زیادہ مشقت اس کی نشر واشاعت میں ہے۔ علم سے حقیقی تعلق رکھنے والا ایک ادنی طالب علم بھی اس چیز کو جانتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ شرف علم اللہ تعالى کی خصوصی عنایت و توفیق کا محتاج ہوتا ہے۔ یہ وہ ربانی شرف وفضیلت ہے جو اس کے خال خال بندوں کے حصہ میں آتی ہے۔ اور نشر کا درجہ اس کے بعد کا ہے جو مزید عزیمت اور صبر کا تقاضا کرتا ہے: (وَالْعَصْرِ ‎﴿١﴾‏ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ ‎﴿٢﴾‏ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ)

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ علم کی دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے۔ اس کا سمندر اپنے اندر بے پناہ اسرار لیے ہوئے ہے۔ اسی طرح علمی دنیا سے حقیقی تعلق رکھنے والے اور اس بحر ذخار کے اصلی شناوروں کی دنیا بھی حیرت انگیز کارناموں سے بھری پڑی ہے۔

جب توفیق الہی ہم رکاب ہو جائے۔ اللہ تعالى کی خصوصی عنایت کسی طالب علم پر نازل ہوجائے تو اس میں اس قدر برکت ہوتی ہے کہ انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ یہی مشقت سے پر، صعوبت سے بھرا، صبرو استقامت سے گھرا راستہ اللہ تعالى اپنے فضل وکرم سے اپنے بعض بندوں پر ایسے آسان کردیتا ہے کہ اس کے ثمرات دیکھ کر انسان حیرت واستعجاب کے سمندر میں ڈوب جاتا ہے۔

سلف صالحین کی سیرتوں کو پڑھیں پھر ان کے اعمال کا اندازہ لگائیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ علم وعمل کے بعض یکتائے روزگار ایسے بھی گزرے ہیں جن کی تالیفات ان کی پوری زندگی پر تقسیم کر دی جائے تب بھی ہر دن کچھ نہ کچھ صفحات بنتے ہیں۔ جیسے پیدائش سے لے کر وفات تک ہر دن انھوں نے کچھ نہ کچھ لکھا ہو۔ ان کی عام زندگی جو پیہم جدوجہد سے عبارت تھی اس سے صرف نظر کر جائیں۔ تعلیم وتعلم سے جڑے باقی اعمال بھی آپ چھوڑ دیں۔ صرف جو کچھ انھوں نے لکھا ہے اس کا یہ حال ہے۔

امام طبری رحمہ اللہ (ت:310ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ چالیس سال تک ان کا حال یہ تھا کہ وہ ہر دن چالیس (40)ورقہ (80 صفحہ) لکھتے تھے۔ ابن عقیل حنبلی رحمہ اللہ (ت:513ھ )نے کتاب الفنون چار سو مجلد ( ایک مجلد دو سو (200)ورقہ پر مشتمل ہوتا ہے)میں لکھی۔ امام ذہبی رحمہ اللہ (ت:748ھ) فرماتے ہیں:دنیا میں کسی نے اتنی بڑی کتاب نہیں لکھی۔ بعض لوگوں نے لکھا کہ یہ کتاب چار سو نہیں بلکہ آٹھ سو مجلدات پر مشتمل تھی۔ ابن الجوزی رحمہ اللہ (ت:597ھ) کی تالیفات کو ان کی زندگی پر تقسیم کردیا جائے تو ہر چوبیس گھنٹے میں نو (9) کاپیاں (ایک کاپی دس ورقہ سے زیادہ ہوتی ہے)بنتی ہیں۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ(ت:728ھ) ایک زمانہ تک روزانہ چار (4) کاپیوں سے زیادہ لکھتے تھے۔ امام سیوطی رحمہ اللہ (ت:911ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ انھوں نے چھوٹی بڑی تقریبا چھ سو (600)کتابیں لکھیں۔ آج جب ہم ان چیزوں کو پڑھتے ہیں تو یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے اور سوچتے ہیں کہ یہ سب کیسے ممکن ہو پاتا رہا ہوگا؟ یہ سب در اصل اللہ کے فضل وکرم اور اس کی توفیق سے ممکن ہو پاتا ہے۔

ڈاکٹر اجمل نے اپنے ان مبارک اعمال کا تقریبا نوے فیصد حصہ 2017م سے اب تک یعنی محض سات (7)سالوں میں انجام دیا ہے۔ اس علمی کساد بازاری کے دور میں جہاں خود ہی لکھنا، خود ہی چھا پنا اور پھر خود ہی تقسیم کرنا پڑتاہے؛ بلا شبہ یہ ایک عظیم اور غیر معمولی کارنامہ ہے۔

کسی بھی میدان کو سر کرنے کے لیے محض اس میدان میں صلاحیت کا ہونا کافی نہیں ہے۔ علم کا میدان بھی ایسے ہی ہے۔ مجرد علمی صلاحیت کسی علمی کارنامہ کو انجام دینے کے لیے کافی نہیں ہوتی ہے۔ کتنے ہی اپنے اپنے میدانوں میں ماہر اور باصلاحیت افراد ایسے ہوتے ہیں کہ جب ان کے پاس بیٹھو تو ان کے علم وصلاحیت پر رشک آتا ہے مگر وہ اپنے میدان میں کوئی قابل ذکر کارنامہ نہیں انجام دے پاتے۔ صلاحیت کے ساتھ ساتھ اور بھی کچھ چیزیں ہوتی ہیں جن کا پایا جانا بہت ضروری ہوتا ہے۔انھی میں ایک اہم چیز ہے ہدف کی تعیین اور حد پرواز کی تحدید۔ پھراس ہدف پر دائمی نگاہ۔ اس حد تک پہنچنے کی تڑپ اور للک۔ اس کے حصول کے لیے درکار امور کی پابندی ۔ ہدف اگرمجہول ہو، حد پرواز طے نہ ہو، تو زندگی کا سفر یوں ہی بھٹکتے بھٹکتے کب ختم ہوجائے گا پتہ بھی نہیں چلے گا۔

اللہ تعالى نے جنھیں صلاحیت دی ہے۔ علم کی نعمت عطا کی ہے۔ قلم کی عظیم قوت سے نوازا ہے ان کے لیے ڈاکٹر صاحب کے ان مبارک اعمال میں ایک مزید نہایت اہم اور خصوصی پیغام پنہاں ہےکہ وقت کبھی نہیں نکلتا۔ انسان مخلص اور پر عزم ہو تو ماضی کی تقصیر شاندار مستقبل کی تعمیر میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ توفیق الہی ہم رکاب ہو تو گزشتہ آئندہ کے راہ کا روڑہ نہیں بن سکتا۔ انسان جب جاگ جائے تبھی اس کا سویرا ہوجاتا ہے۔ بس ہدف محدد کرلے۔ حد پرواز طے کرلے۔ پھر پوری لگن سے اس کے حصول میں لگ جائے۔
بلا شبہ کہ ڈاکٹر صاحب نے اکیلے ایک جماعت کا کام کیا ہے۔ آپ نے کتاب وسنت، سلفیت اور منہج سلف کی جو خدمت کی ہے، اہل بدعت پر جس طرح رد کیا ہے اور باطل افکار ونظریات کی جو بیخ کنی کی ہے وہ کم از کم اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جسے بھی کتاب وسنت، سلفیت اور منہج سلف سے محبت ہے وہ ڈاکٹر صاحب سے محبت کرے، ان کے ساتھ خیرخواہی کا معاملہ کرے، ان کی حوصلہ افزائی کرے اور ان کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھے۔
اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو استقامت عطا کرے، ان کے علم ،عمل، عمر، رزق، ذریت، سب میں برکت دے۔ انھیں ہر سوء ومکروہ اور شر سے محفوظ رکھے۔ ان کے مبارک جہود کو شرف قبولیت سے نوازے۔ ان مبارک اعمال کو ان کی دنیا میں کامیابی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنائے۔ انھیں دنیا وآخرت دونوں میں سعادت بھری زندگی عطا فرمائے۔ آمین

3
آپ کے تبصرے

3000
2 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
Junaid

التمهيد شرح كتاب التوحيد غالبا یہ ڈاکٹر صالح آل الشیخ کی ہے

Ahmed Ali

ڈاکٹر وسیم المدنی حفظہ اللہ کی ڈاکٹر أجمل منظور حفظہ اللہ کے بارے میں لکھی گئی تحریر واقعی ایک حقیقت پسندانہ تبصرہ ہے ۔جو کچھ بھی لکھا ہے ،وہ مبالغہ سے بالکل پاک و صاف ہے۔ اللہ ڈاکٹر وسیم المدنی حفظہ اللہ کو جزائے خیر دے۔
ڈاکٹر أجمل منظور حفظہ اللہ کی علمی کاوشوں میں مزید برکت دے آمین

Aftab Alam

Ameen