ہندوستان – سعودی عرب تعلقات

عزیر احمد سیاسیات

’’تعلق‘‘ انسانی زندگی کے لیے ناگریز امر ہے۔ اللہ تعالی نے انسانوں کو کچھ اس طرح بنایا ہے کہ کوئی بھی شخص اس کائنات میں تنہا زندگی نہیں گزار سکتا ہے، نہ ہی وہ اپنی انسانی ضرورتوں کو اکیلا پورا کرسکتا ہے، اسے ہر قدم ، ہر موڑ پر دوسروں کی ضرورت ہے، کھانے سے لے کر پہننے تک ، اوڑھنے سے لے کر بچھانے تک، رشتوں سے لے کر غیروں تک غرضیکہ ہرقسم کی روحانی،بدنی، مالی، تجارتی، انفرادی، اجتماعی اور معاشرتی معاملات میں انسان دوسروں کا محتاج ہے۔
اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے جس طریقے سے’’دوسروں سے تعلق رکھنا ‘‘ ہر ’’فرد‘‘ کی ضرورت ہے، بعینہ اسی طرح مختلف افراد کا مجموعہ چاہے وہ ’’گائوں ‘‘ کی شکل میں ہوں، یا’’ قصبہ‘‘ ،’’ شہر ‘‘یا پھر ایک ’’ریاست ‘‘ دوسروں سے تعلقات رکھناہر ایک کی ضرورت ہے، اور جب وہ تعلقات آزاد و خودمختار ریاستوں کے درمیان ہوں تو اسے ’’عالمی تعلقات‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
یہاں میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جب ’’آزاد و خود مختار ریاستوں‘‘ کے درمیان ’’تعلقات‘‘ کی بات ہو تو اس سے سمجھ لیجیے کہ موجودہ دور کے نیشن -اسٹیٹ کے درمیان تعلقات کی بات ہورہی ہے، موجودہ عالمی نظام میں ہر ملک کی سرحدیں متعین ہیں، یہ نظام قدیم دور کے نظام سے قدرے مختلف ہے جب مختلف ریاستیں ہمہ وقت جنگ کی حالت میں رہتی تھیں، دوسری ریاست کو فتح کرنا کسی ریاست کے لیے سب سے اہم اور اعلی مقصد ہوا کرتا تھا، جس کی وجہ سے ریاستوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت ـ’’تعاون‘‘ کم اور’’دشمنی ‘‘زیادہ ہوا کرتی تھی۔جب کہ موجودہ دور میں ایسا نہیں ہے، گلوبلائزیشن کے اس دور میں ـزیادہ سے زیادہ ’’تعاون‘‘ کے راستوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ لوگ ’’امن وسکون‘‘ کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔
جنگ عظیم دوم کے خاتمے اور مختلف ممالک کے استعماری طاقتوں کے چنگل سے آزاد ہونے کے بعد دنیا کے نقشے پر جدیدملک کی حیثیت سے ظہور پذیر ہونے، نیزعالمی تنظیموں کے وجود میں آنے کے بعد ’’تعاون‘‘ اور ہر تنازعات کے حل کے لیے ’’بات چیت‘‘ کے طریقے کو اپنانے، اور ـ’’جنگوں‘‘ کی لعنت سے چھٹکارا پانے کی کافی کوششیں ہوئیں تاکہ آنے والی نسل کو بھی انہی چیزوں کا سامنا نہ کرنا پڑے جنھیں دنیا دیکھ چکی ہے، لیکن کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے ، اسی وجہ سے گاہے بگاہے ایسی ریاستیں یا حکومتیں سر اٹھاتی رہتی ہیں جو اپنی ’’خارجہ پالیسی‘‘ کی بنیاد’’تعاون‘‘ کے بجائے ’’توسیع پسندانہ عزائم‘‘ پر رکھتی ہیں جس کی وجہ سے ’’عالمی تعلقات‘‘ میں اتار چڑھائو آتے رہتے ہیں، دوست اور دشمن وقت کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں، ضروری نہیں کہ اگر آج دو ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں تو وہ کل بھی رہیں گے، یا آج ’’دشمنی‘‘ ہے تو کل بھی رہے گی۔
یہی وجہ ہے کہ ’’عالمی تعلقات ‘‘ کے ماہرین کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ ’’ماڈرن اسٹیٹس‘‘ یعنی ’’جدیدریاستوں‘‘ کی فطرت کیا ہے، کیا اسٹیٹس کا نیچر ’’تعاون‘‘ ہے الا یہ کہ’’ دشمنی ‘‘کی کوئی وجہ پائی جائے ؟ یا ’’دشمنی ‘‘ ہے الا یہ کہ ’’تعاون‘‘ کی کوئی وجہ پائی جائے؟اگر ہم علاقائی تناظر میں بات کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ـاکثر یا بسا اوقات علاقائی ریاستوں میںایک دوسرے کے تئیں ’’Rivalry‘‘ ہی پائی جاتی ہے جیسے کہ ’’ایران اور سعودی عرب ـ‘‘ کا معاملہ ہے یا پھر ’’ہندوستان -پاکستان ‘‘ کا، کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ ان دو افراد کے درمیان آپسی چپقلش زیادہ رہتی ہے جو ایک ہی سطح پر ہوں، برخلاف دوسروں کے، یہی وجہ ہے کہ ’’ہندوستان اور سعودی عرب‘‘ میں کبھی کوئی ایسی چپقلش سننے میں نہیں آتی ہے جو دونوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ پر اتار دے۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دو ملکوں کے درمیان تعلقات کی بنیاد ’’قومی مفاد‘‘ پر رکھی جاتی ہے، یعنی دونوں ملکوں میں کسی ایسے چیز کا پایا جاناضروری ہے جو دونوں ملکوں کے لیے نفع بخش ہو، نیشنل انٹرسٹ خارجہ پالیسی کی بنیاد ہوتی ہے، انٹرسٹ کی تبدیلی کے ساتھ تعلقات میں بھی تبدیلی ہوتی رہتی ہے، کوئی بھی اسٹیٹ کسی اسٹیٹ کا نہ ہی مستقل دشمن ہوتا ہے، اور نہ ہی مستقل دوست، اپنے برابر کے اسٹیٹ سے ریس اور مقابلے کی دوڑ ہمیشہ لگی رہتی ہے، اور اپنے سے بڑے اور طاقتور کے قریب ہر اسٹیٹ آنا چاہتا ہے، خارجہ پالیسی میں مذہب کا رول کم ہوتا ہے، ’’نیشنل انٹرسٹ‘‘ ہی سب سے ’’اہم مقصد ‘‘ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ایک ملک کو دوسرے ملک کے اندرونی مسائل سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے الا یہ کہ اس ملک کی اندرونی سیاست دوسرے ملک کے مفاد یا عالمی نظام کو نقصان پہنچائیں۔
اتنی لمبی چوڑی تمہید کا مقصد قارئین کو تھوڑا سا ’’عالمی تعلقات‘‘ کی ’’واقعیت‘‘ کے تئیں آگاہ کرانا ہے تاکہ سعودیہ اور ہندوستان تعلقات پر کوئی صاحب ناک بھوں نہ چڑھائیں کہ ایک اسلامی ملک دوسرے اسلامی ملک سے تعلقات رکھنے کے بجائے ایک سیکولرملک سے تعلقات استوار کر رہا ہے، یاایک کافر کو اپنے یہاں بلا کر انھیں سب سے ’’اعلی سویلین ایوارڈ‘‘ سے نواز رہا ہے۔
ہندوستان -سعودی عرب تعلقات پر تو ہم آنے والے صفحات میں گفتگو کریں گے ، اس سے پہلے یہ عرض کردینا مناسب سمجھتا ہوںکہ سعودی عرب برصغیر کے بعض حضرات کے نظر کرم پر کچھ زیادہ ہی رہتا ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ایک ملک کے سربراہ کو اس کی حیثیت کا اعتبار کرتے ہوئے اس کی عزت افزائی کی جاتی ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات استوار ہوسکیں تو یاران باصفا کی محفلوں میں ہنگامہ مچ جاتا ہے، الزامات و بدتمیزیوں کی وہ برسات کی جاتی ہے کہ الامان والحفیظ، یہ بھی نہیں خیال کیا جاتا کہ یہ دو ملکوں کے سفارتی معاملات ہیں،اگر کسی شخص کی عزت افزائی کی جارہی ہے تو صرف اس وجہ سے کہ وہ ایک ملک کا سربراہ ہے، جس کے ساتھ ذرا سی بھی اونچ نیچ ’’تعلقات‘‘ میں کھٹاس کا سبب بن سکتی ہے۔ کیا اگر اس کی وہ حیثیت نہ ہوتی تب بھی اتنی ہی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا جاتا؟
ہندوستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی اور سماجی و تاریخی تعلقات اس وقت سے ہیں جبکہ دونوں ملک ’’جدید اسٹیٹ ‘‘ کے طور پر دنیا کے نقشے پر نہیں ابھرے تھے، یوروپی سامراجی طاقتوں کے عروج سے قبل عرب تاجر ہندوستان اور یوروپ کے مابین گرم مسالوں کی تجارت پر اجارہ داری کر رہے تھے، سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’عرب و ہند کے تعلقات ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستان اور عرب دنیا کے وہ ملک ہیں جو ایک لحاظ سے ہمسایہ اور پڑوسی کہے جاسکتے ہیں ، یہ دونوں ملک ایک سمندر کے دو آمنے سامنے کی خشکی کے کنارے ہیں ، اس جل تھل سمندر کا ایک ہاتھ اگر عربوں کے ارض حرم کا دامن تھامے ہے تو اس کا دوسرا ہاتھ ہندئوں کے آریا ورت کے قدم چھوتا ہے، دریا کنارے کے ملک فطرتا تجارتی ہوتے ہیں، یہی پہلا رشتہ ہے جس نے ان دونوں قوموں کو باہم آشنا کیا، عرب تاجر ہزاروں برس پہلے سے ہندوستان ساحل تک آتے تھے اور یہاں کے بیوپار اور پیداوار کو مصر اور شام کے ذریعہ یوروپ تک پہنچاتے تھے، اور وہاں کے سامان کو ہندوستان، جزائر ہند، چین اور جاپان تک لے جاتے تھے۔(عرب و ہند کے تعلقات: ص ۵)
ہندوستان تیسری سعودی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کرنے والا پہلا ملک تھا، ۱۹۳۰ کی دہائی کے عرصے میں ہندوستان نے نجد کو مالی امداد دی تھی۔(اردو ویکیپیڈیا)
دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات آزادی ہند کے بعد ۱۹۴۷ میں قائم ہوئے ، اس کے بعد دونوں ممالک کے رہنمائوں اورتجارتی وفود نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کیا،موجودہ دور میں دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو پیش رفت عطا کرنے میں دوروں کی بہت اہمیت ہے۔ شاہ سعود رحمہ اللہ نے ۱۹۵۵میں ہندوستان کا دورہ کیا، سعودی عرب کی جغرافیائی اہمیت ، مسلم امہ کے دلوں میں اس کی عظمت اور اس کے اسٹریٹجک پوائنٹ کی وجہ شاہ سعود رحمہ اللہ کے دورے کو کافی اہمیت دی گئی، بیان کیا جاتا ہے کہ شاہ سعود رحمہ اللہ نے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ میری نظر کسی مندر پر نہ پڑے ، ان کی خواہش کے احترام میں جدھرسے ان کا قافلہ گزرتا تھا، اس راستے میں پڑنے والے مندروں پر کپڑا ڈال دیا گیا تھا، اسی واقعہ کو ایک شاعر نے اپنے لفظوں میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے:
گزرا تھا بنارس سے ادنی سا غلام ان کا
منہ اپنا چھپاتے تھے کاشی کے صنم خانے
دونوں ملکوں کے سربراہان نے ’’پر امن بقائے باہمی کے پانچ اصولوں پر مبنی تعلقات ‘‘کی صورت پر اتفاق کیا تھا، یعنی ’’ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت اور حاکمیت کا اعتراف، طرفین کی جانب سے عدم جارحیت، ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت، مشترکہ فوائد کے لیے ایک دوسرے کو برابر سمجھنا اور آپس میں تعاون کرنا،نیز پرامن بقائے باہم‘‘۔(ویکیپیڈیا، انگریزی)
شاہ سعود رحمہ اللہ کے دورے کے بعد جواہر لال نہرو نے ۱۹۵۶ میں مملکت کا دورہ کیا تھا، جہاں ان کے استقبال میں ائیرپورٹ پر تقریبا سینکڑوں لوگ کھڑے تھے، دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق لوگ ــ’’مرحبا، اے امن کے پیغامبر‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے،برقعہ پوش عورتوں کی ایک بڑی تعداد بھی جواہر لال نہرو کو دیکھنے کے لیے گھروں سے نکل کر ٹرکوں میں سوار ائیرپورٹ آئی تھی۔(دی ہندو، ۲۶ ستمبر، ۱۹۵۶)
ہندوستانی وزرائے اعظم کی جانب سے کیا جانے والا دوسرا دورہ ۱۹۸۲ میں اندرا گاندھی نے کیا تھا، جب دونوں ملکوں کے درمیان پاکستان-سعودی تعلقات، اور ہندوستان -سوویت تعلقات کی وجہ سے رشتوں میں کھٹاس آگئی تھی، واضح رہے کہ افغان جنگ کے دوران ہندوستان پہلا جنوب ایشیائی ملک تھا جس نے ’’سوویت اتحاد‘‘ کے ذریعہ پشت پناہی کی جانے والی حکومت ’’جمہوریہ افغانستان ‘‘ کو تسلیم کرلیا تھا، جب کہ اس وقت سعودی عرب افغان مجاہدین جو روس کے خلاف لڑ رہے تھے ان کابہت بڑا مالی معاون اور پاکستان کااتحادی تھا۔
اس دورے کے اہم مقاصد میں سے کچھ یہ تھے کہ سعودی ذہنوں میں ہندوستان کے تئیں غلط خبروں کے ذریعہ جڑ پکڑ جانے والی اس سوچ کا خاتمہ کیا جائے کہ ہندوستان میں مسلم اقلیت کو کسی قسم کی امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی وجہ سے محترمہ اندرا گاندھی نے اپنے ساتھ جانے والے وفد میں دو مسلم وزیر اور چار مسلم سکریٹری کا انتخاب کیا تھا، اس کے علاوہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہتھیاروں کی خریداری کے لیے سعودیہ کی جانب سے پاکستان کو جانے والا پیسہ چھوٹے ہتھیاروں ، بکتر بند گاڑیوں یا ٹرکوں کی خریداری میں ہی استعمال کیا جائے، نہ کہ اس کا استعمال بھاری بھرکم ہتھیاروں کی خریداری یا اس کے بنانے میں کیا جائے کیونکہ اگر ایسا کیا گیا تو اس ’’علاقے ‘‘ میں ہتھیاروں کی ایک نئی ریس شروع ہوجائے گی۔
اسی طرح ایک ’’غیر سرکاری‘‘ معاہدہ بھی ہوا کہ جب محترمہ اندرا گاندھی ماسکو، سوویت دارالحکومت کا دورہ کریں گی تو وہ سعودیوں کی جانب سے ماسکو تک یہ پیغام پہنچائیں گی کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں دخل اندازی رک سکتی ہے اگر سوویت یونین افغانستان سے اپنی فوجوں کو واپس بلانے پر راضی ہوجائے، نیز ریاض ماسکو کے ساتھ دوبارہ سفارتی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند ہے۔
اسی طرح سعودیہ عربیہ اس بات پر بھی راضی ہوگیا کہ ہندوستان میں خام تیل کی سپلائی کا جو ایڈہاک سسٹم ہے اسے ریگولراور طویل مدتی سپلائی نظام سے بدل دیا جائے۔
۲۰۰۶ میں یوم جمہوریہ کے موقع پر شاہ عبداللہ ہندوستان دورے پر تشریف لائے، اسی طرح وہ ۵۱ سال بعد ہندوستان کا دورہ کرنے والے پہلے بادشاہ تھے، جہاں شاہ عبداللہ نے ہندوستان کو اپنا دوسرا گھر قرار دیا، وہیں دوسری طرف دونوں ملکوں کے سربراہان نے ’’دہلی ڈکلیریشن‘‘ پر سائن کیا جو اپنی نوعیت کا پہلا ’’مشترکہ دستاویز‘‘ تھا جو ’’انرجی پارٹنرشپ ‘‘ اور دیگر فیلڈ میں تعلقات کے لیے جامع روڈمیپ فراہم کرتا ہے۔
موجودہ دور میں ہندوستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت ہی مضبوط اور مستحکم ہیں، سعودی عرب میں ہندوستانی ملازمین کی اچھی خاصی تعداد آباد ہے جو نہ صرف ہندوستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہورہے ہیں بلکہ خود سعودیہ عربیہ کی تعمیر و ترقی میں اہم رول ادا کر رہے ہیں، دونوں ملکوں کے مابین بہت سارے مشترکہ پہلو ہیں جو دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے پرآمادہ کرتے ہیں، مشرق وسطی میں سعودی عرب امریکا کا حلیف ہے، یہ الگ بات ہے کہ اب ’’حلیف‘‘ اس معنی میں نہیں رہ گیا ہے جیسا کہ کچھ عرصہ پہلے ہوا کرتا تھا، دیگر ممالک سے بھی تعلقات استوار کیے جارہے ہیں، گزشتہ کچھ سالوں میں سعودی عرب نے روس ، چین اور جاپان سے مضبوط تعلقات کی سمت میں اچھی پیش قدمی کی ہے،جب کہ جنوبی ایشیا میں ہندوستان خود ایک ابھرتا ہوا نئی عالمی طاقت ہے، اس کا جغرافیائی محل وقوع، اس کی آبادی، اس کا مارکیٹ دنیا بھر کے ممالک کے لیے اہم حیثیت کا حامل ہے۔ یہاں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ رشتوں کے اس الجھے دور میں تعلقات کی گتھی سلجھائی کیسے جاتی ہے؟ایک دوسرے کے تئیں یقین کو برقرار کیسے رکھا جاتا ہے؟ ایک طرف سعودی عرب کے ہندوستان سے بھی اچھے تعلقات ہیں، دوسری طرف پاکستان اور چین سے بھی ہیں، جو کہ خطے میں ہندوستان کے ’’دشمن‘‘ تصور کیے جاتے ہیں، دوسری جانب ہندوستان کے ’’سعودیہ عربیہ ‘‘ سے بھی تعلقات ہیں، وہیں ایران اور اسرائیل سے بھی ہیں، جنھیں سعودی عربیہ ’’دشمن‘‘ شمار کرتا ہے،عرب ملکوں کے تئیں ایران کی ’’توسیع پسندانہ پالیسی‘‘، ان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی، مختلف عرب مملکتوں میں اپنی پراکسی حکومت قائم کرنے کے لیے ملیشیائوں کا قیام، یمن میں حوثیوں کی حمایت، شام میںسفاک بشار الاسد کی معاونت و مدد، عراق میں سنیوں کو حکومت میں مشارکت کے حقوق سے محروم رکھنے کی سازش، اپنی آئیڈیالوجی کی ترویج و اشاعت کے لیے اربوں ڈالر کاخرچ، یہ سب وہ معاملات ہیں جن کی وجہ سے سعودیہ اور ایران میں ہمیشہ ٹھنی رہتی ہے،یہاں تک کہ گزشتہ کچھ سالوں سے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات بھی منقطع ہوچکے ہیں، اسی طرح ’’اسرائیل‘‘ کا معاملہ ہے، سعودی عربیہ نے ابھی تک بطور ملک اسے تسلیم نہیں کیا ہے، عالمی سطح پر سعودی عرب اسے فلسطینیوں کے حقوق کا غاصب سمجھتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ہندوستان اور سعودی عرب دونوں کے لیے تعلقات کو برقرار رکھنا بہت ہی مشکل امر ہے،ذرا سا بھی ’’عدم توازن‘‘ معاملات کو بگاڑ دینے کا سبب بن سکتا ہے، لیکن جیساکہ میں نے پہلے ہی عرض کیا کہ ’’دو ملکوں کے درمیان تعلقات مشترکہ مفاد کی بنیاد‘‘ پر طے پاتے ہیں، جب تک مشترکہ مفاد پایا جائے گا، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات رہیں گے، بھلے ہی دونوں ملک ایک دوسرے کے دشمن کے دوست کیوں نہ ہوں،ہاں اگر ایسا ہو کہ دشمن ملک سے تعلقات اس حد تک پہنچ جائیں کہ وہ مشترکہ مفاد کو نقصان پہنچا رہے ہوں، تو اس صورت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کھٹاس آسکتی ہے۔ اگر صرف اسی بنیاد پر تعلقات رکھنے بند کردیے جائیں کہ دوسرے ملک کے تعلقات پہلے ملک کے’’Rival‘‘ سے بھی ہیں تو اس دنیا میں کسی ملک کے کسی سے تعلقات ہی نہ ہوں، کیونکہ ہر کوئی ’’طاقت کے توازن‘‘ کو اپنے حق میں کرنے کے لیے کوشاں ہے، یہی وہ چیز ہے جو اکثر ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ آرائی ، دشمنی یا ایک دوسرے کے خلاف مختلف وسائل و ذرائع کے استعمال پر آمادہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اختلافات کے مقامات پائے جانے کے باوجود اتفاق کے مقامات کو نظر انداز نہیں کیا جاتا ہے ، یہی صورت حال ہندوستان اور سعودی عرب تعلقات میں بھی ہے، کشمیر، پاکستان ،اسرائیل اور ایران وغیرہ پہلوئوں پر اختلاف کے باوجود مختلف اقتصادی، سماجی و معاشرتی میدانوں میں دونوں کے درمیان نہایت ہی مضبوط تعلقات ہیں۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ذریعہ ۲۰۱۷میں شائع شدہ رپورٹ ’’ہندوستان – سعودی عرب تعلقات‘‘ کے مطابق اس وقت سعودی عرب ہندوستان کا چین، امریکہ اور متحدہ عرب امارات کے بعد چوتھا سب سے بڑاٹریڈ پارٹنر ہے، ۱۷-۲۰۱۶ کے درمیان ہندوستان سعودی عرب دو طرفہ تجارت کی ویلیو 25.079 بلین ڈالر تھی، جو کہ ۱۶-۲۰۱۵ کے 26.71 بلین ڈالر کے بالمقابل تھوڑاکم ہے، جوپٹرولیم کے عالمی ڈیمانڈمیں کمی کی وجہ سے ہے، اس عرصے میں سعودی عرب سے ہندوستان میں19.94 بلین ڈالر کی امپورٹ ہوئی ہے، جب کہ ہندوستان سے سعودی عرب میں5.13 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ ہوئی ہے۔
سعودی عرب ہندوستانی ایکسپورٹ کے لیے دنیا کی آٹھویں بڑی مارکیٹ ہے، ہندوستان اپنی گلوبل ایکسپورٹ کا 1.86% (۱۷-۲۰۱۶) حصہ سعودی عرب کو ایکسپورٹ کرتا ہے، وہیں دوسری جانب ہندوستان اپنی عالمی امپورٹ میں سے5.19% سعودی عرب سے درآمد کرتا ہے، ۲۰۱۶ کے ڈیٹا کے مطابق ہندوستان سعودی عرب کے لیے چوتھی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، سعودی عرب میں امپورٹ کے اعتبار سے ہندوستان ساتویں پوزیشن پر ہے، اور سعودی عرب کے ٹوٹل امپورٹ میں سے3.7پرسنٹ کااہم ذریعہ ہے۔
ہندوستان سعودی عرب کو باسمتی چاول ، ٹیکسٹائل، کپڑے اور مشینری وغیرہ ایکسپورٹ کرتا ہے، جب کہ سعودی عرب سے ہندوستان نامیاتی و غیر نامیاتی کیمیکل، دھات، چمڑے اور سوناوغیرہ امپورٹ کرتا ہے، ہندوستان کو خام تیل کی سپلائی دو طرفہ تجارت کاسب سے اہم جزو ہے، سعودی عرب ہندوستان کوخام تیل سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے،اس سلسلے میں دو نوں ملک اکثر مختلف میٹنگیں اور میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ وغیرہ سائن کرتے رہتے ہیں، ابھی ۱۱ اپریل ۲۰۱۸ کی خبر ہے، دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی تیل کمپنی آرامکو نے ہندوستان کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق ہندوستان کی مغربی ساحل پر ۴۴ بلین ڈالر کی لاگت سے ایک تیل ریفائنری اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ایک فیکٹری قائم کی جائے گی، مفاہمتی یادداشت پر سعودی عرب کی آرامکو کمپنی اور ہندوستان کی ’’رتنا گری ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکل کمپنی‘‘ نے سائن کیا ہے،آرامکو کے چیف ایکزیکٹیو امین الناصر کے مطابق ہندوستان معیشت کی اعلی شرح نمو رکھنے والا ملک ہے جہاں کی منڈی میں دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں کام کرنے کی خواہش مند ہیں، یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرے گا، اور اس سے بھارت کے لیے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہوگا، اس ریفائنری میں ۵۰ فیصدحصہ آرامکو کا ہوگا۔
ہندوستان اور سعودی عرب دونوں ہی ترقی پذیر ممالک ہیں، انفراسٹرکچر اور ڈیولپمنٹ کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے، سعودی عرب ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنے والے اہم ممالک میں سے ایک ہے۔
www.indianembassy.org.sa کے مطابق ۱۹۹۱ میں ہندوستان کے ذریعہ لبرالائزیشن کی پالیسی کو اپنانے کے بعددو نوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، سعودی عرب ہندوستان میں اگست ۱۹۹۱ سے لے کر دسمبر ۱۹۹۹ تک 6.1 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، اور اپریل ۲۰۰۰ سے مارچ ۲۰۱۶ تک 64.19 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، یہ سرمایہ کاری مختلف فیلڈ میں کی گئی ہے جیسے ورق سازی، کیمیکل، کمپیوٹر سافٹ وئیر، گرینائٹ پروسیسنگ، صنعتی پروڈکٹس، مشینری، سیمینٹ اور دھات وغیرہ ہیں، جب کہ وہیں دوسری جانب جب سے سعودی قوانین میں تبدیلی کی گئی ہے اور جوائنٹ وینچر پروجیکٹس (Joint Venture Projects) قائم کیے گئے ہیں ، ہندوستانی کمپنیاںسعودی مارکیٹ میں اپنا انٹرسٹ دکھارہی ہیں، سعودیہ عربین جنرل انوسٹمنٹ اتھارٹی (SAGIA) کے مطابق وہ اپریل ۲۰۱۵ تک ہندوستانی کمپنیوں کو ۴۲۶ لائسنس جاری کر چکی ہے جن کے ذریعہ سعودیہ عربیہ میں 1.6 بلین ڈا لرکے انوسٹمنٹ کی امید کی گئی ہے، یہ لائسنس مختلف فیلڈ میں پروجیکٹس کے لیے جاری کیے گئے ہیں جیسے مینیجمنٹ، کنسلٹنسی سروسز (مشاورتی خدمات)، تعمیراتی پروجیکٹس، ٹیلی کمیونیکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دوا سازی وغیرہ۔ مختلف ہندوستانی کمپنیاں سعودی کمپنیوں کے تعاون کے ساتھ سعودی عرب میں ڈیزائننگ، مشاورت، مالیات اور سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ وغیرہ پر کام کر رہی ہیں۔
ہندوستان اور سعودی عرب تعلقات کی ایک کڑی سعودیہ کا مسلم ملک ہونا اور ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کا آباد ہونا بھی ہے، پوری دنیا کے مسلمان سعودی عرب سے ایک جذباتی تعلق رکھتے ہیں، اور رکھیں بھی کیوں نا، آخر وہی تو ان کی آرزئووں کا مرکز اور ان کی امیدوں کا محور ہے، ہر مسلمان کی سب سے بڑی تمنا اپنی زندگی میں ایک بار خانہ کعبہ کی زیارت کرنا ہے، ہندوستان میں تقریبا تیس کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں، یہ تعداد کئی مسلم ممالک کی مجموعی آبادی سے بڑھ کر ہے۔ ہر سال ہندوستان سے لاکھوں لوگ حج اور عمرہ کرنے کے لیے جاتے ہیں، جن کا انتظام و انصرام دونوں ملکوں کی حکومتی سطح پر انجام پاتا ہے۔ اسی طرح اکثر خانہ کعبہ کے امام و شیوخ حضرات ہندوستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی و مذہبی تعلقات میں کافی مضبوطی حاصل ہوتی ہے ، انفرادی سطح پر مسلمانوں کے سعودیوں سے بہت اچھے تعلقات ہیں، وہ اپنے دینی اداروں کو چلانے کے لیے سعودی عرب سے فنڈ بھی حاصل کرتے ہیں، ہرسال کروڑوں سے زائد روپیہ ہندوستانی مدارس میں آتا ہے جس کا استعمال نہ صرف مساجد اور مدارس کے لیے کیا جاتا ہے بلکہ عوام الناس کے ویلفیئر میں بھی خرچ کیا جاتا ہے جن میں یتیموں اور بیوائوں کے راشن کا انتظام کرنا، غریبوں اور محتاجوںمیں کمبل اور کپڑوں کی تقسیم کرنا، جگہ جگہ نل لگوانا، یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کرنا اور بلوغت پر ان کی شادی کرانا وغیرہ جیسے امور شامل ہیں۔
دہشت گردی ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے سعودی عرب گزشتہ کئی دہائیوں سے جوجھ رہا ہے، کئی عشروں سے اس پر دہشت گردی کی مالی معاونت و مدد کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی میں جب کچھ عرب نوجوانوں کا نام آیا تو سعودیہ الزامات کی برسات میں بھیگنے لگا، اپنے ہوں یا غیر ہر کوئی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگا، مسلکی عصبیت میں اندھے لوگ غیروں کی ہاں میں ہاں ملانے لگے، بڑے بڑے سیمینار اور کانفرنسیں کی گئیں، سلفی اسلام کو دہشت گرد اسلام کے طور پر متعارف کروایا گیا، وہابیت کو انسانیت کا دشمن قرار دیاگیا، وہ تو بھلا ہو سعودی حکمرانوں کا کہ کمال احتیاطی کے ساتھ اپنے ملک کی ساکھ کو بگڑنے سے بچاتے رہے بلکہ دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لیے مختلف فورم پر آوازیں بھی اٹھاتے رہے، اور مختلف ممالک کے ساتھ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے پلان بھی تیار کرتے رہے،ہندوستان بھی دہشت گردی سے نمٹنے کو تمام امور پر ترجیح دیتا ہے، اس شعبہ میں دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اشتراک کی امید پیدا ہورہی ہے، یہ پہلو حکومتی سطح پر ترجیح کا حامل ہے۔
ہندوستان پاکستان کو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ تصور کرتا ہے، ہندوستانی اخبارات اکثر یہ الزامات بھی لگاتے رہتے ہیں کہ وہ جماعتیں جو ہندوستان میں دہشت گرد تصور کی جاتی ہیں جیسے ’’جماعت الدعوہ، لشکر طیبہ اور انڈین مجاہدین‘‘ وغیرہ ، ان سب کی فارین فنڈنگ سعودیہ سے ہورہی ہے، یہاں تک کہ کشمیر میں بھی جہاد کے لیے پیسہ سعودیہ کے کچھ ’’نامعلوم افراد‘‘ کی جانب سے آرہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے سربراہان ان تمام ذرائع کے خاتمے کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بگاڑنے والے ہوں، گزشتہ کچھ سالوں میں سعودی عرب نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نہایت ہی قابل تعریف اقدام کیے ہیں جیسے ان تمام افراد اور جماعتوں کو ملکی و غیر ملکی سطح پرہائی لائٹ کرنا اور ان پر لگام کسنا جو دوسرے ممالک میں ’’انارکی و بدامنی‘‘ پھیلا رہے تھے، یا نوجوانوں کو موجودہ حکومتوں کے خلاف بھڑکا کر ’’انقلاب‘‘ کے نام پر لاکھوں لوگوں کی تباہی کا سبب بنتے تھے۔
۲۰۱۰ میں جب پرائم منسٹر منموہن سنگھ نے سعودی عرب کا دورہ کیاتھا، اس وقت دونوں ممالک کے رہنمائوں نے ’’Riyadh Declaration‘‘ پر سائن کیاتھا جس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ’’مشترکہ اسٹریٹجی‘‘ اپنانے کی بات کی گئی تھی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک دونوں ممالک نے اس جہت میں مختلف پہلوئوں پر کام کیا ہے جیسے دہشت گردی سے متعلق معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنا، ہندوستانی قانون کو مطلوب لوگوں کوڈی پورٹ کرنا، دہشت گردانہ فنڈنگ کے ذرائع پر پابندی لگانا وغیرہ ۔
۲۰۱۶ میں جب پرائم منسٹر نریندر مودی نے سعودی عرب کا دورہ کیا ،اس وقت بھی دونوں ملکوں کے درمیان ’’سیکورٹی تعاون‘‘ اور ’’دہشت گردی و تشدد پسند افکار و نظریات ‘‘سے مقابلے کا ایجنڈہ سب سے اہمیت کا حامل رہا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ہندوستان اور سعودی عرب تعلقات کثیر جہتی ہیں، سعودی عرب میں 2.96 ملین سے زائد ہندوستانیوں کا آباد ہونا، دونوں ممالک کے درمیان تجارت و اقتصاد کے وسیع و عریض مواقع کا پایا جانا، عسکری و سیکورٹی میدانوں میں ’’تعاون کی گنجائش‘‘ کا موجود ہونا، ثقافتی ومذہبی معاملے میں دونوں حکومتوں کا ایک دوسرے کے ساتھ تعاون و ربط وغیرہ سب ایسے مسائل ہیں جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو ایک نئی پرواز عطا کرتے ہیں اور دونوں ممالک کو لانگ ٹرم میں ایک دوسرے کو بہترین ساتھی کی شکل میں پیش کرتے ہیں، تعلقات کی بہتری کے ساتھ نہ صرف ’’ترقی ‘‘ کے زینے کو طے کیا جاسکتا ہے بلکہ ساتھ مل کر مختلف عالمی مسائل کو حل بھی کیا جاسکتا ہے۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
سعد

واہ شیخ، بہت اچھا لکھا ہے آپ نے۔