تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی

طارق اسعد تاریخ و سیرت

تاریخ اہل حدیث ہند

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر قوم کی تاریخ اس کے لیے سرمایہ افتخار ہوا کرتی ہے۔ تاریخ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو ایک امت کے ماضی اور حال کے درمیان رابطہ اور اس کے اچھے برے مستقبل کا ضامن ہے۔ جملہ اقوام عالم احوال گذشتہ کے تجربات کی روشنی میں اپنے مستقبل کے خطوط متعین کرتی ہیں، ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتی ہیں اور ان کے اعادہ سے باز رہتی ہیں-

اسلاف کے کارنامے اور ان کی جدو جہد کی داستانیں افراد ملت کے جوش وولولے کو ہمہ وقت مہمیز لگاتی رہتی ہیں، ان کے نقوش پا کی پیروی کی دعوت دیتی ہیں اور ان کے جلائے ہوئے چراغوں سے روشنی حاصل کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔ دوسری طرف تاریخ ہمیں خود شناسی کا ہنر سکھاتی ہے، ہمیں اپنے آپ سے متعارف کراتی ہے اور ہمارے دلوں میں ہمہ وقت یہ احساس پیدا کرتی رہتی ہے کہ ہماری نسبت کن لوگوں سے ہے؟ ہم کس کے مقتدی اور پیرو ہیں اور ہمارا راہبر و راہنما کون ہے؟
اگر کسی قوم سے اس کا یہ عظیم سرمایہ چھین لیا جائے یا اس کے بڑے حصے سے محروم کر دیا جائے تو اس کا وجود من حیث القوم اس سرزمین سے مٹ جائے گا، وہ ایک زندہ لاش کی طرح ہو جائے گی جس کا جسم تو بظاہر حرکت کرتا ہوا نظر آئے گا مگر اس کے اندر روح نہیں ہوگی، اس کی عظمت کی داستانیں، فتوحات کے فسانے، علمی وفنی ترقیات کے زمزمے، سیاسی وتمدنی عروج کے ترانے جب اس کے پاس نہیں ہوں گے تو وہ اپنی موت آپ ہی مر جائے گی۔ کیوں کہ اب اس کے پاس اپنا کوئی مستقل وجود باقی نہیں رہا، وہ اب ہر معاملے میں دوسروں کی محتاج نظر آئے گی، اس کی نگاہیں ہمہ وقت اغیار کے کارناموں پر مرکوز ہوں گی اور پھر احساس کمتری کا موذی مرض سرطان کی طرح اس کے جسم وروح میں سرایت کر جائے گا اور رفتہ رفتہ اس کی قوت فکر وعمل فنا ہو جائے گی۔
بد قسمتی سے برصغیر کے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے تاریخی سرمایے سے بے خبر یا غافل ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی کیا تاریخ رہی ہے؟ اس ملک میں ان کی حکومت و فاتحین کے کیا کارنامے ہیں؟ علمی وفنی ترقیات میں ان کی کیا حصہ داری ہے؟ جنگ آزادی میں ان کا کیا کردار رہا ہے؟ دینی علوم کی نشرواشاعت اور ترویج وتبلیغ میں کن کا ہاتھ ہے اور وہ کون لوگ تھے جن کے ہاتھوں نے جہاد بالقلم والسیف کی وہ تاریخ رقم کی جو آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے؟ ان میں سے اکثر سوالوں کا جواب شاید ہمارے پاس نہیں ہوگا!
ہم یہاں خصوصی طور پر اس طائفہ حقہ اور جماعت منصورہ کا ذکر کرنا چاہیں گے جو ہمیشہ سے اغیار کے نشانے پر رہی ہے اور جس کے عظیم الشان کارناموں پر ”بہی خواہوں“ نے ہمہ وقت پانی پھیرنے کی سعی مذموم کی ہے اور یہ کوشش کی ہے کہ اس جماعت کے کارناموں پر پردہ ڈال کر اس کی آنے والی نسلوں کو ماضی کے تسلسل سے کاٹ دیا جائے، اس ضمن میں تاریخ نویسی کے بجائے تاریخ سازی کی وہ مثالیں قائم کی گئیں کہ وضاعین وکذابین کی دروغ گوئیاں تازہ ہوگئی۔ اغیار نے جو کھیل کھیلا وہ اپنی جگہ پر لیکن سوال یہ برقرار رہتا ہے کہ ہم نے اپنی تاریخ کو بچانے اور اپنے ماضی کی حفاظت کے لیے کتنی کوششیں صرف کیں؟
چھوڑا نہیں غیروں نے کوئی ناوک دشنام
چھوٹی نہیں اپنوں سے کوئی طرز ملامت
ہندوستان کی سیاسی، علمی، سماجی اور مذہبی تاریخ کا ہر ورق جماعت اہل حدیث کی گوناگوں خدمات کے ذکر کے بغیر ادھورا ہے۔ ہندوستان کی مختلف تحریکات میں اس جماعت کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے۔ مولانا عبدالحمید رحمانی لکھتے ہیں:
”شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ کی حریت فکر کی خاطر قلمی کاوشوں، حضرت علامہ فاخر زائر الہ آبادی رحمہ اللہ کی علمی جرأتوں، بطل جلیل حضرت شاہ محمد اسماعیل شہید رحمہ اللہ کی رسوم وبدعات کے خلاف علمی وعملی جد وجہد اور جذبہ سرفروشی نیز عملی جہاد اور مجدد عصر شیخ الکل فی الکل میاں نذیر حسین محدث دہلوی کی انتھک ساٹھ سالہ تدریسی وتبلیغی تجدیدی مساعی نیز نواب صدیق حسن خان صاحب رحمہ اللہ کی تصنیفی، تالیفی اور علوم ومعارف اسلام کی نشر واشاعت سے پیدا شدہ روح حریت فکر کی روشنی میں نشوونما پائی ہوئی جماعت اہل حدیث نے نہایت اخلاص کے ساتھ پروپیگنڈہ اور تشہیر سے بے پروا فکری، علمی، تبلیغی، سیاسی، اور عملی خدمات کا جو ڈیڑھ سو سالہ تاریخی اور عظیم الشان کارنامہ انجام دیا ہے اور اس سلسلے میں جتنی جانی ومالی قربانیاں اس جماعت نے پیش کی ہیں، کوئی دوسری جماعت اس کا عشر عشیر بھی نہیں پیش کرسکتی۔
ہند و پاک کی کوئی بھی دینی علمی، قومی یا سیاسی تحریک ان کے مؤثر کردار سے خالی نہیں! یہ حقیقت ہے جس کا اعتراف منصف مزاج مؤرخین مولانا سید سلیمان ندوی، شیخ محمد اکرام آئی سی ایس و مولانا غلام رسول مہر وغیرہ سب نے کیا ہے۔“
مولانا مزید لکھتے ہیں:
”کیا تحریک خلافت اور کانگریس سے مولانا عبدالقادر قصوری رحمہ اللہ، مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم، مولانا سید محمد داؤد غزنوی رحمہ اللہ، مولانا محمد ابوالقاسم سیف بنارسی رحمہ، خواجہ عبدالمجید اور مولانا محمد اسماعیل سلفی وغیرہم کے نام محو کیے جاسکتے ہیں؟
اور کیا ندوۃ العلماء کی تاریخ شیخ الاسلام علامہ امرتسری رحمہ اللہ، جنید وقت علامہ محمد ابراہیم آروی رحمہ اللہ، مولانا عبدالجبار عمرپوری اور علامہ قاضی سلیمان منصور پوری رحمہ اللہ نیز دوسری منزل میں شمس المحدثین امام وقت علامہ شمس الحق ڈیانوی رحمہ اللہ، مصلح وقت علامہ ابو سعید محمد سلیمان بٹالوی اور مولانا سید داؤد غزنوی، نیز علمی حیثت سے فخر المتاخرین مولانا حفیظ اللہ صاحب اعظمی شارح تصریح علامہ تقی الدین ہلالی، حضرت نواب سید صدیق حسن خان کے خاندان، آپ کے فرزند نواب علی حسن خان رحمہ اللہ مہتمم ندوۃ العلماء اور آپ کے عظیم کتب خانہ کا نام لیے بغیر مکمل ہو جائے گی؟“ (ترا نقش قدم دیکھتے ہیں از سید ابوبکر قدوسی، ص:۸۶،۹۶)
برصغیر کی سیاسی، دینی، علمی اور قومی تحریکات میں جماعت اہل حدیث کا کیا حصہ رہا ہے اس کی ایک ہلکی جھلک مندرجہ بالا اقتباس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان میں سے متفرق موضوعات پر علمائے کرام کی مستقل تحریریں بھی موجود ہیں اور مختلف قسم کے مواد بھی جا بجا بکھرے ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ ہماری بے حسی اور تاریخ فراموشی نے ہمیں خود اپنے اس عظیم ورثے سے دور رکھا ہے۔ ہماری خواب غفلت کا فائدہ اٹھا کر کتنوں نے اپنے ستاروں کو آفتاب بنا ڈالا، کتنے خورد کلاں ہو گئے، کتنے معمولی حضرات ائمہ وقت کے خطابات سے نوازے گئے اور کتنے ناخدا خدائی کے دعویدار نظر آئے!
اس تحریر کا مقصد کسی کی خدمات کو کم دکھانا یا کسی پر نیش زنی نہیں ہے، بلکہ مقصود خواب غفلت سے بیدار کرنا اور تاریخ کے تئیں ہماری بے حسی کو دور کرنا ہے۔ آج کیا بات ہے کہ عوام کو چھوڑیے مدارس دینیہ سے منسلک بہت سارے افراد(معذرت کے ساتھ) اپنی تاریخ کے ایک بڑے حصے سے ناواقف نظر آتے ہیں۔ ان کے سامنے سید نذیر حسین، نواب صدیق حسن خان، شمس الحق ڈیانوی، عبدالعزیز رحیم آبادی، محمد حسین بٹالوی کے نام آتے ہیں تو ان کے چہروں پر ناشناسائی کے آثار نظر آتے ہیں، ”حسن البیان“، ”معیار الحق“، ”تقویۃ الایمان“، ”حل مشکلات بخاری“ کے ناموں سے اجنبیت کا اظہار کرتے ہیں۔تحریک شہیدین، صادقان صادق پور اور تحریک مجاہدین سمیت دیگر مجاہدین کے تعلق سے واجبی سی معلومات کے آگے اور کچھ نہیں۔ تحریک آزادی ہند میں لے دے کے مولانا ابوالکلام آزاد کا نام یاد رہ جاتا ہے اور یہیں تک معلومات منتہی ہو جاتی ہیں ؎
کیوں اپنی تاریخ سے نالاں ہیں اس شہر کے لوگ
ڈھہ دیتے ہیں جو تعمیر پرانی ہوتی ہے
تاریخ کے اس عظیم الشان سرمایے سے ہماری یہ بے گانگی اور اجنبیت نہایت ہی تکلیف دہ ہے۔ ہماری اس عدم واقفیت کی وجہ سے تاریخ سازی کی بڑی بڑی داستانیں رقم ہو رہی ہیں اور فسانوں کو حقیقت کا روپ دیا جارہا ہے۔ تمام قسم کی سیاسی، ملی خدمات کو ایک مخصوص طبقے کی جھولی میں ڈالا جا رہا ہے اور ہمیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تاریخ اہل حدیث کے تعلق سے کچھ انقلابی اقدام کیے جائیں، طلبہ وطالبات کو اپنی روشن تاریخ سے متعارف کرایا جائے، اس کے لیے وسیع پیمانے پر پروگرام منعقد کیے جائیں، علمی مسابقات کا اہتمام ہو، بطور خاص مدارس دینیہ میں اساتذہ وقتا فوقتا طلبہ کو اس جانب متوجہ کریں، ان کے سامنے اسلاف کے کارناموں کا ذکر کریں اور اس تعلق سے رہنمائی کریں۔ ورنہ زیادہ غفلت کانتیجہ بہت ہی بھیانک ہوگا ؎
یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

2
آپ کے تبصرے

3000
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
Abdul Rehman

اہل حدیث کب تک اپنے اسلاف کے کارناموں کقو زیب قرطاس کرتے رہیں گے۔۔۔اج کیا کرنا ہے ۔اور کیا کر رہے ہیں ۔۔۔اس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے

محمد نسیم اختر سلفی

masha allah