اتیت کی چاشنی

ابوالمیزان منظرنما

تاریخ دو طرح سے یاد رکھی جاتی ہے۔ اور وہی دونوں طور طرز فکر اور رنگ عمل درشاتے ہیں۔ اور انہی دونوں باتوں سے متعلقہ قوم کی دشا اور دشا معلوم ہوتی ہے۔
تاریخ ریفرینس کے لیے ہو تو صحت کی علامت ہے اور اگر اس کی حیثیت صرف بیانیے کی ہوجائے تو بیماری ہے۔ ایسا اتیت جس کے دردانگیز بیان میں چاشنی ملے وہ یا تو فیبریکیٹیڈ ہے یا پھر آلہ سماعت میں ہی کوئی خرابی ہوگی۔
جس کے باپ دادا پھٹے حال ہوں اس کا بچپن بھی سنجیدگی کا شکار ہوجاتا ہے، جوانی تو خیر وقت سے بہت پہلے آجاتی ہے۔ ایسی سچویشن میں وقت بھٹی بن جاتا ہے اور لوہا کندن۔ لیکن اگر باپ دادا خوش حال ہوں تو اولاد کو فنون لطیفہ، عاشقی اور سیر و تفریح کی سوجھتی ہے۔

وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ (آل عمران:140)

یہ عمومی صورت حال ہے مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ نوح علیہ السلام کے گھر کنعان پیدا ہو اور ابراہیم علیہ السلام آزر کے یہاں جنم لیں۔ پوروائی اور پچھوا ہی نہیں چلتی ہیں ہوائیں۔ ہوا کبھی اتر اور کبھی دکھن سے بھی چلتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یعقوب علیہ السلام کے یہاں یوسف علیہ السلام پیدا ہوتے ہیں اور زکریا علیہ السلام کے گھر یحییٰ علیہ السلام۔
فکر و نظر اور ایمان و عمل کی بات ہے کہ دن رات کیسے گزریں گے اور کیریکٹر کیسا ڈیولپ ہوگا۔

اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّاِمَّا كَفُوْرًا (الدھر:3)

ہر سوچ، ہر لفظ اور ہر عمل علم و یقین کا اظہار ہوتا ہے۔ سوچ، لفظ اور عمل میں تضاد ہو تو نفاق ہوتا ہے۔ ایمان اور کفر کی راہیں تو بڑی روشن ہیں۔ شک، دھوکہ، بیماری، فساد، عیاری اور مفاد پرستی کی راہ نفاق تک لے جاتی ہے۔ اور نفاق دن اجالے کچھ دکھائی نہ دینا ہے، بہرا گونگا اندھا ہوجانا ہے۔

بچے تو بڑوں کو دیکھ دیکھ کر سیکھتے ہیں اور جوان بوڑھوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ لال خون کی بھی ایک ویلیڈٹی ہوتی ہے، پرانا ہوتا ہے تو گاڑھا بھی ہوجاتا ہے اور ڈارک بھی۔ لیکویڈٹی کا بھی ایک دور ہوتا ہے، خون کب کہاں کس نس میں چپک کر جم جائے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ آکسیجن کی بھی ایک لہر ہوتی ہے، سانسیں کب گلے میں اٹکنے لگیں یہ قادر مطلق کو ہی پتہ ہے۔

اتیت عبرت ہو چاشنی نہیں، تاریخ سبق ہو پناہ گاہ نہیں۔ پدرم سلطان بود کی گردان سے حال نہیں بدلتا نہ مستقبل کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔ فرق پڑنا چاہیے، سوچ ایسی ہو۔ سمت غلط ہو تو سفر منزل تک نہیں لے جاتا۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
Abdul Rehman

Artical adhoora hai