استاد اور شاگرد کے رشتوں میں کمزوری: اسباب و علاج

شہاب الدین کمال

رمضان کی چھٹی ختم ہوئی، اسلامی مدارس میں داخلے شروع ہیں، والدین اپنے بچوں کو علم دین سیکھنے کے لیے مدارس میں داخل کر رہے ہیں تاکہ قرآن و حدیث کا علم سیکھ کر خود اس پر عمل کریں اور دوسرے کو شرک و بدعات کی تاریکی سے نکال کر قرآن و حدیث کی روشنی میں لا کھڑا کریں۔
والدین ایسے مدارس کا انتحاب کر رہے ہیں جہاں کا ماحول خوشگوار ہو، ماہر اساتذہ موجود ہوں اور جہاں علم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت بھی ہو سکے۔ لیکن آج ماحول ایسا ہے کہ استاد و شاگرد کے رشتوں میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے۔ یہ کمزوری کیوں اور کیسے پیدا ہوتی ہے اور اسے دور کیسے کیا جاسکتا ہے، انہی تمام سوالوں کا جواب طے کرنے کی اس مضمون کوشش کی گئی ہے۔
استاد و شاگرد کے رشتوں میں کمزوری اس وقت پیدا ہوتی ہے، جب استاد و شاگرد دونوں یا کوئی ایک اپنا حق ادا کرنے میں کوتاہی برتتا ہے اور اسے کما حقہ ادا نہیں کرتا۔
اس کمزوری کے متعدد اسباب ہیں ان میں سے چند اہم اسباب درج ذیل ہیں:
(۱) شاگرد سے کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو استاد اسے برا بھلا کہتا ہے اور مذاق اڑانے والے اور تحقیر آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے جس سے شاگرد کی شخصیت پامال اور اس کی نفسیات ذلت سے دوچار ہوجاتی ہے۔ اس ناطے شاگرد کے دل میں استاد سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جو محبت وقار، تعظیم و تکریم ہونی چاہیے وہ کافور ہوجاتی ہے۔
علاج: شاگرد سےاگر کوئی غلطی سرزد ہوجائے تو استاد کو برا بھلا کہنے کے بجائے شفقت و محبت کے دائرے میں رہتے ہوئے اسے سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ طلبہ کے جذبات مجروح نہ ہوں اور ان کی عزت نفس پر حرف نہ آئے۔ طلبہ کا مذاق اڑانے سے پرہیز کرنا چاہیے اللہ عزوجل نے فرمایا:

“یاایھا الذین امنوا لا یسخر قوم من قوم عسی ان یکون خیرا منھم” (سورۃ الحجرات: ۱۱)

اے ایمان والو! کوئی قوم دوسری قوم سے مسخرا پن نہ کرے ممکن ہے کہ یہ اس سے بہتر ہو۔
اساتذہ کو ایسا انداز اپنانا چاہیے کہ طلبہ کو خود اپنی غلطی کا احساس ہو جائے جیسا کہ معلم انسانیت جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دیہاتی کے ساتھ برتاؤ کیا جس نے مسجد کے اندر داخل ہو کر پیشاب کرنا شروع کردیا تھا۔
(۲) استاد، شاگرد کی کسی غلطی پر اگر خفا ہوتا ہے اور اس غلطی سے باز رکھنے کے لیے تنبیہ کرتا ہے اور اس پر بقدر ضرورت سختی کرتا ہے تو شاگرد اسے اپنے حق میں ظلم سمجھ بیٹھتا ہے اور اس غلطی کی اصلاح کے بجائے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیتا ہے اور اسی پر ڈٹا رہ کر استاد کی مخالفت کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ استاد کے دل میں شاگرد کے تئیں نفرت پیدا جاتی ہے۔
علاج: غلطی پر خفا ہونا ایک فطری چیز ہے ایک دفعہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو لمبی لمبی نمازیں پڑھانے کے باعث معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر شدید ناراض ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا: “أفتان أنت یامعاذ؟” کہ اے معاذؓ! تو لوگوں کو فتنے میں ڈالنے والا ہے؟
اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں:

“باب الغضب فی الموعظه والتعلیم اذا رای ما یکره”

یعنی وعظ و تعلیم میں ناپسندیدہ بات دیکھنے پر غصہ ہونے کا باب قائم کیا ہے اور ناپسندیدہ عمل پر تنبیہ کو صحیح قرار دیا ہے، تو شاگرد کی غلطی پر استاذ کا خفا ہونا انہونی بات نہیں ہے۔ اس لیے شاگرد کو چاہیے کہ اگر استاد کسی بات پر خفا ہو جائے یا سختی کرے تو بھی اپنی شفیق استاد کی سختی کو ظلم نہ سمجھے بلکہ اس میں اپنی بھلائی تصور کرے اور اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔
(٣) بعض اساتذہ کا انداز کلام اور طرز تخاطب بالکل بھدا ہوتا ہے، اس وجہ سے وہ طلبہ کو الٹے سیدھے القاب سے پکارتے ہیں، مثلاًجاہل، گدھے، بے ایمان، گھامڑ اور داڑھی والے طلبہ کو بڈھے جیسے القاب سے پکارتے ہیں، اس وجہ سے طلبہ ایسے اساتذہ سے نفرت کرتے ہیں اور ان سے دور دور رہتے ہیں۔
علاج: استاد کی ذات طلبہ کے لیے اسوہ اور نمونہ ہوتی ہے۔ لہذا اسے ہمہ وقت محتاط رہنا چاہیے، خواہ درس گاہ میں ہو یا درس گاہ سے باہر، طالب علم سے ایسے انداز میں گفتگو کرنی چاہیے جو دل کو موہ لے اور الٹے سیدھے القاب سے اجتناب کرنا چاہیے، اللہ عزوجل نے فرمایا :

{ولا تنابزوا بالالقاب} (سورہ الحجرات:۱۱)

کسی کو برے القاب نہ دو۔ اس لیے اساتذہ کو اچھے القاب سے شاگرد کو پکارنا چاہیے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے شاگردوں کو اچھے القاب اور نام سے پکارتے تھے:

“یا غلام سم اللہ” (صحیح بخاری: کتاب الاطعمه ،باب الاكل مما يليه،ح:٥٣٧٨) “یا ابا سعید” (صحیح مسلم، ح:۱۸۸٤)

(٤) طلبہ اپنے اساتذہ کی تعظیم و تکریم نہیں کرتے اور انھیں وہ عزت و توقیر نہیں دیتے جو ایک استاد کا حق ہوا کرتا ہے بلکہ فی زمانہ وہ اخلاق حسنہ سے عاری ہوچکے ہیں، اپنے اساتذہ کے سامنے نازیبا حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ان کے مقام و مرتبہ کو بالائے طاق رکھ کر ان کے ادب و احترام کو پامال کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ بھی استاد و شاگرد کے رشتے میں کمزوری کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔
علاج: طلبہ کو استاد کی ادنیٰ سی بھی بے ادبی اور بے عزتی سے پرہیز کرتے ہوئے استاد کا ادب و احترام اور تعظیم و تکریم کرنی چاہیے، جیسا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں:

“لم یوقر کبیرنا” (جامع ترمذی،ح:۱۹۱۹)

جو ہمارے بڑوں کی تعظیم و توقیر نہ کرے۔
استاد معلم ہونے کے لحاظ سے باپ کے درجے میں ہوتا ہے۔ اس لیے بھی شاگرد کو اپنے اساتذہ کی تعظیم وتوقیر کرنی چاہیے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“إنما انا لكم بمنزلة الوالد أعلمهم”(سنن ابو داؤد،ح:٨)

میں تمھارے لیے بھی منزلہ والد ہوں اور تمھیں تعلیم دیتا ہوں۔
(٥) اب استاد و شاگرد میں وہ خلوص نہ رہا جو دین کو سیکھنے اور سکھلانے میں ہونا چاہیے۔ آج دین کا سیکھنا، سکھانا ایک تجارتی مشغلہ بن کر رہ گیا ہے۔ اساتذہ اسے بجائے عبادت کے ذریعہ معاش سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس رجحان کا اثر یہ ہوا کہ استاد و شاگرد میں جو الفت و محبت ہونی چاہیے وہ مفقود ہوچکی ہے اور اساتذہ و شاگرد دونوں سست و کاہل ہوکر رہ گئے۔ طلبہ صرف امتحان میں پاس ہونے کے لیے پڑھتے ہیں جبکہ اساتذہ کا سارا دھیان نصاب ختم کرنے پر ہوتا ہے اور اساتذہ کے دل و دماغ میں یہ بات سرایت کر چکی ہے کہ تنخواہ کم ملے تو کم پڑھاؤ۔ یہ بھی استاد و شاگرد کے رشتوں میں کمزوری کے اسباب میں سے ہے۔
علاج: علم کو بجائے تجارت کے عبادت سمجھتے ہوئے سیکھنا اور سکھانا چاہیے اور استاد و شاگرد دونوں کو وقت گزاری کے لیے حاضری دینے کے بجائے اپنے فرائض کماحقہٗ پورا کرنا چاہیے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ علم کو امانت سمجھتے ہوئے “بلغو عنی ولو آیہ” (سنن ترمذی ،ح:۲٦٦٩) کے تحت اپنے شاگردوں تک پہنچائے اور طلبہ کو اپنے اندر حصول علم کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے جو جذبہ اسلاف میں ہوا کرتا تھا کہ ایک حدیث کے حصول کے لیے سیکڑوں میل کا سفر طے کرتے تھے۔
خلاصہ کلام: استاد و شاگرد کے رشتوں کی کمزوریاں اس وقت ناپید ہوں گی اور الفت و محبت کی کلیاں کھلیں گی جب استاد و شاگرد دونوں اپنے فرائض کماحقہٗ ادا کریں گے اور علم کو دین سمجھ کر سیکھیں اور سکھائیں گے نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسوہ اور نمونہ بنا کر آپ کے فرمان کے مطابق تعلیم و تعلم کا فریضہ انجام دیں گے اور پھر وہی ماحول ہو گا جو ہمارے اسلاف کے دور میں استاد و شاگرد کے درمیان ہوا کرتا تھا۔
آخر میں دعا ہے کہ الٰہی استاد و شاگرد میں جو دوری پیدا ہوگئی ہے اسے دور کرنے اور دونوں کو اپنے حقوق ادا کرنے اور نبی کے فرمان کے مطابق تعلیم و تعلم کا فریضہ انجام دینے کی توفیق بخشے۔ آمین

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
عبدالعزيز سلفی فلاحی

ماشاء اللہ بہت موثر تجزیاتی اور تجرباتی مضمون ہے. اس وقت تمام شعبہ ہائے علم وفن میں یہ دردناک صورتحال پائی جاتی ہے مگر دینی مدارس اور جامعات میں ایسی حالت کا پیدا ہونا اندوہ گیں ہے. اس کی بنیادی وجہ اساتذہ کی تربیت کا نہ ہونا ہے. مدارس کے علاوہ بہ غیر تدریسی وتدریبی تربیت کے کہیں تعلیم کی اجازت نہیں دی جا تی ہے. مدارس میں اب تک اس کی کوئی ضرورت محسوس ہی نہیں کی گئی ہے. نہ ٹریننگ کا کوئی پیٹرن ہے. علماء کی مایوس نسلیں ہی مدرسوں میں قیام کرتی ہے. اول، دوم، اور سوم… Read more »