ہوئے تم دوست جس کے، دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

ریاض الدین مبارک

ہمارے ملک میں ایک نعرہ ایسا ہے جسے ایک طرف یہاں کا پڑھا لکھا اور دانشور طبقہ بڑے شور سے لگاتا ہے، اس نعرے کو سر بلند کرنے کے لئے ضخیم و گنجلک کتابیں لکھی جاتی ہیں اور ان گنت میگزینوں میں مختلف مضامین نشر کئے جاتے ہیں تو دوسری طرف وہی نعرۂ مستانہ یہاں کا سیاسی طبقہ بڑے زور سے لگاتا ہے، کوئی اسٹیج، کوئی جلسہ اور کوئی پبلک اجتماع ایسا ہو ہی نہیں سکتا جہاں اس نعرے کی رفعت وعظمت اور اس کی بازیابی کی پر زور تائید نہ ہوتی ہو۔ زور وشور کے اس کشمکش میں اکثر یہی دکھائی دیتا ہے کہ شور دب جاتا ہے اور زور غلبہ حاصل کرلیتا ہے۔
اس کی تازہ مثال بروز منگل 30 جولائی 2019 کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میں منعقد دنگل کے نتیجے کی شکل میں دیکھی گئی۔ شور کرنے والے تمام انٹیلیکچول حضرات پارلیمنٹ سے باہر اپنی اپنی آفسوں میں کہنیاں جھکائے اپنی انگلیوں کے درمیان قلم دبائے بیٹھے تھے کہ صفحۂ قرطاس پر سیاہی بکھرا کر نوک قلم سے شبدوں کا رقص کرائیں گے کیونکہ زور لگانے والے سیاست دانوں کی ایوان بالا میں اکثریت ہے اور ان کے ساتھ ان کی گہری مفاہمت بھی ہے، وہ ہمیشہ ان کے اس نعرے کا دم بھرتے اور دنیا کو بتاتے رہتے ہیں کہ ہمارا ملک آج بھی متعصب نہیں ہے یہاں پر ہر کسی کا احترام اور اکرام ہوتا ہے، یہاں انسان کو انسان ہی سمجھا جاتا ہے حیوان نہیں! یہ الگ بات ہے کہ اگر اس انسان نے گائے کا تقدس پامال کیا تو اس کا انجام نا قابل معافی ہوجاتا ہے! یہ بھی الگ بات ہوگی کہ اگر وہ نہتھا اور تنہا ہوگا تو اس کی موب لنچنگ ہوجائے گی! مگر اس بار معاملہ کچھ عجب ہوا کہ زور لگانے والوں نے شور کرنے والوں کو بھنگ پلا دیا، ان کا قلم جنبش کرنے سے پہلے توڑ کر کوڑے دان کی نذر کردیا گیا اور وہ پرورش لوح وقلم بالکل نہ کرسکے کیونکہ ان میں سے اکثر ذرا بھی مخلص نہ تھے۔
بات طویل ہوتی جارہی ہے اور نعرۂ مستانہ ہنوز پردۂ اخفاء میں ہے۔ در اصل وہ نعرہ کچھ اور نہیں بس سیکولرزم کا نعرہ ہے۔ ہمارے یہاں اب تک عوام یہی سمجھتے رہے کہ دانشوروں اور سیاست بازوں کا فرمایا ہوا سیکولرزم کا نعرہ مستند ہے، انہیں احساس ہی نہ ہوسکا کہ وہ آستینوں میں سانپ پال رہے ہیں جو ڈسنے کے لئے کسی مخصوص ساعت کے منتظر ہیں۔ کل سیاست بازوں کی وہ ساعت سعید آ ہی گئی اور انہوں نے بِس کی گانٹھ سے سیکولر جسم کو یکسر مسموم کردیا۔
ہوا یوں کہ مودی اینڈ کمپنی نے اپوزیشن کو ایک ہی جست میں ڈھیر کردیا۔ اتنی بڑی کامیابی اتنی آسان ہرگز نہ تھی۔ چنانچہ اس ناقابل تسخیر مہم کو سر کرنے کے لئے BJP نے اپوزیشن کے ایک ایک فرد سے رابطہ قائم کیا، ان کی رائے لی اور جو ان کے جھانسے میں آسکتے تھے انہیں کسی بھی قیمت پر اپنے اعتماد میں لیا۔ ان کے علاوہ کچھ دوسرے جو سخت جان ثابت ہوتے نظر آئے انہیں غیر حاضر رہنے کی ترغیب دی، باقی مادہ میرا مطلب ہے باقی ماندہ جیسے NCP کے اسٹلوارٹ شرد پوار، پرفل پٹیل، جنتا دل یونائیٹیڈ کے رام جیٹھ ملانی کو دور رہنے کی تلقین کی اور اس طرح اپوزیشن کے مزعوم اتحاد کے چیتھڑے اڑا دئے۔۔

آئینِ نو ؛ تین طلاق کا وار ایک سنگین جرم قرار دے دیا گیا!!
اب ہندوستان میں اگر کسی مسلمان نے ایک ہی بیٹھک میں اپنی بیوی سے تین طلاق کہہ دیا تو اسے جیل کی آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے گا، اسکی بیوی، بچے اور گھر کے دیگر افراد وہ کوئی بھی ہوسکتا ہے ماں ہو، باپ ہو، بھائی ہو یا بہن ہو سب کو در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے وقت اور حالات کے سپرد کردیا جائے گا! مزے کی بات یہ رہی کہ کئی با ضمیر و کچھ بے ضمیروں نے بل مخالفت میں لچھے دار تقریریں بھی کیں لیکن جب وقت آیا تب ان بیچاروں کی عقل پر تالے پڑ گئے اور وہ
اپنا گھر بھول گئے ان کی گلی بھول گئے

آخر کار 84 کے مقابل 99 ووٹوں کے تفوق سے یہ مسلم کُش بل پاس کردیا گیا۔

بی جے پی سے ہمیں کوئی گلہ نہیں کہ وہ نفاق کی خصلتوں سے پاک ہے وہ جو کچھ کر رہی ہے وہ آئینے کی طرح شفاف ہے اب اگر کوئی بصارت سے محروم ہو تو اس میں آئینے کا کوئی دوش نہیں۔ ہمیں تو گلہ نفاق کے ان گلہ بانوں سے ہے، سیکولرزم ہی جن کا اوڑھنا بچھونا ہے، جو اس نعرۂ سیکولرزم کی دہائی دیتے دیتے اپنی زبان خشک کرلیتے ہیں۔ کل پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں منافقت کا جو منظر رونما ہوا وہ سیکولرزم کے ماتھے پہ بدنما داغ ہی نہیں مسلمانوں کے تئیں نفرت کا تازیانہ بھی ہے۔ مسلمانوں کے لئے اب اس سے گلو خلاصی امر محال ہے۔
کل تلک راجیہ سبھا کے بارے میں عوام سے یہی کہا جاتا رہا کہ یہاں نفرتوں کا سیلاب روک دیا جائے گا، فضا کو زہر آلود ہونے سے بچا لیا جائے گا لیکن کچھ نہ ہوسکا اور حقیقت خود بخود واشگاف ہوگئی کہ وہ سب ایک ہی لباس میں ملبوس ہیں ان کا رنگ کوئی اور نہیں صرف نارنگی کا ہے۔ میرے اس خیال سے اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ بتائے کہ جب راجیہ سبھا میں اکثریت مخالفین کی تھی تو بل کیونکر پاس ہوگیا؟ سچ ہی تو ہے:
منافقت کا نصاب پڑھ کر محبتوں کی کتاب لکھنا
بہت کٹھن ہے خزاں کے ماتھے پہ داستان گلاب لکھنا
بیجو پٹنائیک کی سیکولر پارٹی جنتا دل نے بل کا والہانہ استقبال کیا اور بھر پور تائید کی۔ جبکہ بی جے پی کی حلیف پارٹی JD(U) اور AIADMK نے کچھ تنظیمی وجوہات کی بنا پر واک آوٹ کیا۔ ستم تو تب ہوا جب کانگریس، NCP، سماجوادی، بہوجن سماج، TDP, PDP, DMK, CPM, یہاں تک کہ ممتا بنرجی کی TMC اور تو اور مسز تزئین فاطمہ جو جناب اعظم خان کی زوجہ محترمہ ہیں (سنا ہے بیمار تھیں) سیکولرزم کا دم بھرتی ان ساری پارٹیوں کے نمائندوں نے غیر حاضری درج کرائی اور کھلا دھوکہ دیا! غالب نے کتنا سچا شعر کہا ہے:
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
شکر ہے صاحب اقتدار نے بل کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ایوان بالا میں EVM کا استعمال نہیں کیا ورنہ یہ دوغلے صاف بچ جاتے اور عام انتخابات کی طرح یہاں بھی الزام مشینوں پر لگا دیا جاتا۔ عوام کا کیا وہ تو ایک ریوڑ ہیں یہ سیاسی گلہ بان جدھر ہانک دیں وہ چل پڑیں گے!
فی الوقت ہندوستان کا مزاج بدل چکا ہے اب یہاں عوام تو در کنار قانون ساز بھی کھلے عام بے شرمی سے کہتے پھرتے ہیں؛ بولو “جے شری رام” ! نہیں تو بتکدے سے نکال دیں گے، کوئی دوسرا ملک تو قبول کرنے سے رہا لہذا سیدھا ملک عدم روانہ کردیں گے!
یہ سیاسی شعبدے باز بڑے شاطر ہیں، ان کے منہ میں رام اور بغل میں دھار دار چھری ہے۔ یہ قتل بھی کچھ اس ادا سے کرتے ہیں کہ احساس تک نہیں ہوتا۔ یہ لوگ چاہتے تو بل کی حمایت میں کھل کر ووٹ کرسکتے تھے لیکن نہیں انہیں تو مسلمانوں سے ہمدردی بھی ہے اس طرح علی الاعلان مسلم قوم سے جڑے ہوئے مسائل کی مخالفت کرکے وہ مسلمانوں کو برہم نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اگلے الیکشن میں ان کا ووٹ بھی چاہئیے۔ آنے والی ملاقاتوں میں اسی غیر حاضری کو وہ ملمع سازی کرکے پیش کریں گے اور یہ سادہ لوح مسلمان ایک بار پھر بہک کر انہیں اپنا سیکولر رہنما تسلیم کرتے ہوئے قانون ساز ادارے کی دہلیز تک پہونچا دے گا۔ حقیقت میں مسلمانوں کی کج فہمی اور لا شعوری کی حد ہوچکی ہے۔ مسلمان اس قدر کند ذہن ہوچکا ہے کہ وہ اپنی مصلحت اور ضرر میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھا ہے۔
طرفہ تماشہ یہ ہے کہ کچھ نا سمجھ مسلمان اس نازک موڑ پر بھی مسلک مسلک کھیل رہے ہیں! کوئی طعنہ زن ہے تو کوئی فاتح کی فیلنگ کا اظہار کر رہا ہے گویا اس طرح انہیں ایک سنہری موقعہ مل گیا ہے اور وہ ایک دوسرے پر اپنی برتری کا پھریرا اڑا رہے ہیں! شرم تم کو مگر نہیں آتی!

غور کرنا چاہئیے کہ یہ سیاست کا بازار ہے یہاں ہر سیاسی شعبدہ گر بکنے کے لئے تیار ہے۔ جس کا نرخ زیادہ ہوگا وہ خریدا اور بیچا جائے گا۔
بازار سیاست کے اس خرید وفروخت میں کچھ آوازیں با ضمیر لوگوں کی بھی سنائی دے رہی تھیں اور انہوں نے اناؤ شہر کے مسلسل چار ٹرم سے قانون ساز بنے ہوئے کلدیپ سنگر کی ہوس کا شکار اور حالیہ حادثہ کا نشانہ بنی، زخموں کی ٹیس سے تڑپتی بلکتی خاتون جسکا غریب باپ جوڈیشیل کسٹڈی ہی میں مار دیا گیا، اس کی آہ وبکاء کے زمزموں سے اس بل کو کمزور کرنے کی کچھ حد تک کوشش بھی کی لیکن “بیٹی پڑھاؤ بیٹی بچاؤ” کے خوشنما اور گھن گرج نعروں میں وہ آواز دبا دی گئی! سیاست دان سب ایک ہیں، ان کی مصلحت ایک ہے، ان کی دشمنی صرف دکھاوا ہے اور دوستی پائدار ہے!
یہ فتنہ آدمی کی خانہ ویرانی کو کیا کم ہے
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

2
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
1 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
رفیق احمد رئیس سلفی(علی گڑھ)

برادر محترم!اللہ آپ کو مزید ہمت دے کہ حقائق سامنے لاسکیں۔غیر بی جے پی پارٹیاں منافقت کے جس دلدل میں پھنس چکی ہیں،اب ان سے کسی خیر کی امید نہیں کی جاسکتی ۔ملک کی جس پارٹی نے اس ملک پر برسوں حکومت کی ہے ،یہ سب اسی کا کیا دھرا ہے ۔مسلم دشمنی اور مسلمانوں کو دوسرے نمبر کا شہری سمجھنے کا مسئلہ ایک مشترکہ مسئلہ ہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مذہبی رواداری اور عدل ومساوات جو کسی بھی تکثیری سماج کے لیے ضروری ہے ،اس کے لیے آج تک ذہن سازی کی ہی نہیں گئی اور اب تو… Read more »

ریاض مبارک

حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ! میری پوری کوشش رہے گی کہ آپ کی گرانقدر رہنمائی لکھنے والوں ہوشمند جوانوں تک پہونچے اور وہ اپنے قلم کا دھارا صحیح سمت میں موڑ سکیں! جزاکم اللہ کل الخیر