حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب

عامر انصاری

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی بن صحابی ہیں ، کیونکہ ان کے والد ابوسفيان رضي اللہ عنہ بھی صحابی ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی آنکھوں نے پیارے نبی کو دیکھا .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے کانوں نے پیارے رسول صلى الله علیہ وسلم سے بلاواسطہ حدیثیں سنیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کاتب وحی رب العالمین ہیں . [مسلم رقم الحديث 2501 . والبداية والنهاية 11 / 401]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ محرر قرآن ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مبارک انگلیوں نے قرآن لکھا .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مغفور لہ ہیں . فرمان رسول ہے:

“أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم”.

فريابي – جو آجرى كے شیخ ہیں – کہتے ہیں:

“وكان أول من غزا معاوية في زمن عثمان بن عفان “. [البخاري : كتاب الجهاد . باب ما قيل في قتال الروم . رقم الحديث ٢٩٢٤ . والشريعة عن أم حرام بنت ملحان. رقم الحديث ١٩٢٢]
قال ابن حجر: قال المهلب: “في هذا الحديث منقبة لمعاوية لأنه أول من غزا البحر ، ومنقبة لولده يزيد لأنه أول من غزا مدينة قيصر”. [فتح الباري. شرح الحديث ٢٩٢٤. ٦ / ١٢٥]

يعنى ابن حجر فتح الباري میں مہلب کا قول نقل کرتے ہیں “اس حدیث میں معاویہ اور ان کے لڑکے یزید کی فضیلت و منقبت وارد ہے”.

ابن کثیر کہتے ہیں:

” فسار معه خلق كثير من كبراء الصحابة حتى حاصر القسطنطينية ” [البداية والنهاية 11 / 421] .

يعنى غزوہ قسطنطنیہ میں آپ کے ساتھ کبار صحابہ کی ایک بڑی تعداد شامل تھی ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہادی اور مہدی ہیں ، ان کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی دعا کی:

” اللهم اجعله هاديا مهديا ، واهدِه ، واهدِ به ” . [سنن الترمذي : كتاب المناقب . باب مناقب معاوية بن أبي سفيان . رقم الحديث ٣٨٥١ . والشريعة . رقم الحديث ١٩١٥ . والسنة للخلال . رقم الحديث ٦٩٧] .

فائدہ : اس حدیث کے طرق کو ابن عساکر نے تاریخ دمشق 59 / 80 – 86 میں جمع کیا ہے ۔ ابن کثیر نے ابن عساکر کے اس عمل کی بڑے مسجع ومقفی الفاظ میں تحسین کی ہے . وه کہتے ہیں:

” وقد اعتنى ابن عساكر بهذا الحديث ، وأطنب فيه وأطيب وأطرب ، وأفاد وأجاد ، وأحسن الانتقاد ، فرحمه الله ، كم له من موطن قد برز فيه على غيره من الحفاظ والنقاد ” . [البداية والنهاية 11 / 408] .

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:

” اللهم علِّم معاوية الكتابَ والحسابَ ، وقِهِ العذابَ ” . [الشريعة . رقم الحديث ١٩١٠ – ١٩١٣ . والسنة للخلال . رقم الحديث ٦٩٦ . والصحيحة رقم الحديث 3227]

يعنى اے اللہ معاویہ کو کتاب وحساب کا عالم بنا اور عذاب سے بچا .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حبر الامہ ، مفسر قرآن عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ” فقیہ ” کہا . [البخاري : كتاب فضائل أصحاب النبي . باب ذكر معاوية . رقم الحديث ٣٧٦٥ ] .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ جب معاویہ رضی اللہ عنہ کو دیکھتے تو کہتے یہ عرب کا کسری ہے:

كان عمر بن الخطاب إذا رأى معاوية قال : هذا كسرى العرب . [تاريخ دمشق 59 / 114 – 115 . والبداية والنهاية 11 / 417] .

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عظیم قائد مانا ۔ ابن عمر کہتے ہیں:

“ما رأيت أحدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أسودَ من معاوية ” . [تاريخ دمشق 59 / 173 – 174 . والبداية والنهاية 11 / 438] .

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ محبتِ صحابہ کا معیار ہیں ۔ ابن عماد حنبلی کہتے ہیں:

“وهو الميزان في حب الصحابة ، ومفتاح الصحابة ” . [شذرات الذهب في أخبار من ذهب لابن العماد الحنبلي 1 / 270] .

أبو توبة ربيع بن نافع الحلبي کہتے ہیں:

“معاوية سِترٌ لأصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، فإذا كشفَ الرجل السِّتر اجتَرَأ على ما وراءه ” . [تاريخ دمشق 59 / 209 . والبداية والنهاية 11 / 450] .

يعنى معاویہ صحابہ کرام کے لئے پردہ ہیں ، جب کوئی پردہ چاک کردے گا تو اس کے پیچھے کی چیزوں کو چاک کرنے پر بھی جری ہوجائے گا۔
إبراهيم بن ميسرة کہتے ہیں:

“ما رأيت عمر بن عبد العزيز ضرب إنسانا قط إلا إنسانا شتم معاوية فإنه ضربه أسواطا ” . [البداية والنهاية 11 / 451] .

يعنى حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے حضرت معاویہ پر سب وشتم کرنے والے کو کوڑا مارا ۔

قول بعض السلف: بينا على جبل بالشام إذ سمعت هاتفا يقول: “من أبغض الصديق فذاك زنديق ، ومن أبغض عُمَر فإلى جهنم زُمَر، ومن أبغض عثمان فذاك خصمه الرحمن ، ومن أبغض علي فذاك خصمه النبي ، ومن أبغض معاوية سحبتْه الزبانية ، إلى جهنم الحامية، ويُرمَى به في الهاوية ” . [البداية والنهاية 11 / 451] .

يعنى ایک آدمی اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں شام میں ایک پہاڑ پر تھا کہ ایک غیبی آواز سنی ” جو صدیق سے بغض رکھے وہ زندیق ہے ، جو عمر سے بغض رکھے وہ واصل جہنم ہوگا ، جو عثمان سے بغض رکھے رحمان اس کا خصم ہوگا ، جو علی سے بغض رکھے نبی اس کا خصم ہوں گے ، اور جو معاویہ سے بغض رکھے فرشتے اس کو جہنم رسید کریں گے ” ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خال المؤمنین (مسلمانوں کے ماموں) ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ام المومنین ام حبیبہ بنت ابي سفيان رضی اللہ عنہما کے بھائی ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خال المؤمنین (مسلمانوں کے ماموں) ہونے کے دلائل :

1 – ذكر الخلال رحمه الله (ت ٣١١ هـ) بسنده في كتابه ” السنة ” أن أبا طالب سأل أبا عبد الله : أقول معاوية خال المؤمنين ؟ وابن عمر خال المؤمنين ؟ قال : نعم معاوية أخو أم حبيبة بنت أبي سفيان زوج النبي صلى الله عليه وسلم ، وابن عمر أخو حفصة زوج النبي صلى الله عليه وسلم . قلت : أقول معاوية خال المؤمنين ؟ قال : نعم . [السنة للخلال . رقم الحديث ٦٥٧] .
2 – قال الآجري رحمه الله (ت ٣٦٠ هـ) في الشريعة: “… وصاهره النبي صلى الله عليه وسلم بأن تزوج بأم حبيبة أخت معاوية – رضي الله عنهما – فصارت أم المؤمنين، وصار هو خال المؤمنين….” . [الشريعة : كتاب فضائل معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما ٥ / ٢٤٣١]
3 – زاد الحافظ أبوعلي الحسن بن أحمد بن البناء البغدادي (ت 471 هـ) ثلاثة أبيات في قصيدة ابن أبي داؤد الحائية ومنها:

وعائش أم المؤمنين وخالنا
معاوية أكرم به ثم أمنح

[العلو للذهبي 2 / 1222 . ولوائح الأنوار السَّنية ولواقح الأفكار السُنية شرح قصيدة ابن أبي داؤد الحائية للسفاريني 2 / 74 و 105]
4 – قال أبو يعلى الفراء الحنبلي رحمه الله (ت ٥٢٦ هـ) في خاتمة كتابه ” الاعتقاد ” مبينا عقيدة أهل السنة والجماعة في الصحابة الكرام رضي الله عنهم : ” ….ثم الترحم على جميع أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، أولهم وآخرهم ، وذكر محاسنهم . ومعاوية خال المؤمنين ، وكاتب وحي رب العالمين ” . [كتاب الاعتقاد ص ٤٣]
5 – قال ابن عساكر (ت 571 هـ) : “خال المؤمنين، وكاتب وحي رب العالمين” . [تاريخ دمشق 59 / 55]
6 – قال ابن قدامة المقدسي (ت 620 هـ) : ” ومعاوية خال المؤمنين، وكاتب وحي الله ، أحد خلفاء المسلمين رضي الله عنهم ” . [لمعة الاعتقاد ص 155]
7 – قال ابن كثير (ت 774 هـ) : “معاوية بن أبي سفيان خال المؤمنين، وكاتب وحي رسول رب العالمين”. [البداية والنهاية 11 / 396]

حاصل کلام یہ ہے کہ خلال نے سُنہ میں ، آجری نے شریعہ میں ، بغدادی نے حائیہ میں، ابو يعلى حنبلی نے اعتقاد میں ، ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ، ابن قدامہ مقدسی نے لمعة الاعتقاد میں اور ابن کثیر نے بدایہ ونہایہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو صراحت کے ساتھ خال المؤمنین (مسلمانوں کا ماموں) کہا ہے ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ امير المؤمنین ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اسلام کے چھٹے حاكم وخلیفہ ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اموى خلافت کے بانی ہیں .
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پہلے بادشاه ہیں . وہ کہتے تھے ” أنا أول الملوك ” یعنی میں پہلا بادشاہ ہوں . [تاريخ دمشق 59 / 177 . والبداية والنهاية 11 / 439] .

فائدة: جاء في بعض الروايات أن معاوية كان يقول: أنا أول الملوك وآخر خليفة. يقول ابن كثير: “قلت: والسنة أن يقال لمعاوية: ملِك. ولايقال له: خليفة. لحديث سفينة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: “الخلافة بعدي ثلاثون سنة، ثم تكون مُلكا عضوضا”. [البداية والنهاية 11 / 439] .

يعنى بعض روایتوں میں ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے “میں پہلا بادشاہ ہوں اور آخری خلیفہ ہوں”۔ ابن کثیر کہتے ہیں: سنت یہ ہے کہ معاویہ کو بادشاہ کہا جائے نہ کہ خلیفہ ۔ کیونکہ حدیث میں ہے “خلافت میرے بعد تیس سال تک ہوگی اس کے بعد بادشاہت ہوگی”۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بِیس سال (حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں) شام کے امیر (گورنر) رہے، اور بِیس سال حاکم وقت اور خلیفہ المسلمین رہے. [تاريخ دمشق 59 / 116 و 220 و 223 و 235 و 237 و 239. والبداية والنهاية 11 / 415 و 420 و 435]
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے41 ہجری میں تنازل کرلیا تھا، حکومت سے دستبردار ہوگئے تھے. اس سال کو مؤرخین “عام الجماعہ” کے نام سے یاد کرتے ہیں. [تاريخ دمشق 59 / 119، 148. والبداية والنهاية 11 / 400 و429]
اس طرح حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبوی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی جو حدیث کی کئی کتابوں میں موجود ہے:

“ابني هذا سيد، ولعل الله أن يصلح به بين فئتينِ من المسلمينَ”. [البخاري: كتاب فضائل أصحاب النبي. باب مناقب الحسن والحسين. رقم الحديث ٣٧٤٦]

يعنى میرا یہ بیٹا (نواسہ) سردار ہے، اللہ تعالی اس کے ذریعہ مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا.
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جہاد جاری وساری تھا، اللہ کا کلمہ بلند تھا، مال غنیمت آپ کے پاس چہار جانب سے آتا تھا، مسلمان عدل وانصاف اور راحت وسکون کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ ابن کثیر فرماتے ہیں:

“والجهاد في بلاد العدو قائم، وكلمة الله عالية، والغنائم ترِدُ إليه من أطراف الأرض، والمسلمون معه في راحةٍ وعدلٍ، وصَفحٍ وعَفوٍ”. [البداية والنهاية 11 / 400]

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں سال میں دو مرتبہ رومیوں سے جہاد کرتے تھے۔ ایک مرتبہ گرمی میں، ایک مرتبہ ٹھنڈی میں۔ آپ نے رومیوں سے سولہ (16) غزوات کئے۔ [تاريخ دمشق 59 / 158. والبداية والنهاية 11 / 421 و435]
معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں افريقہ، خراسان، قبرص، اصطخر، قسطنطينہ، ملطيہ، قيساريہ وغیرہ علاقے فتح ہوئے۔ [تاريخ دمشق 59 / 116، 117، 120. والبداية والنهاية 11 / 420]
وہ صحابہ کرام جو معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں موجود تھے۔

قال الأوزاعي: أدركتْ خلافةَ معاوية عدةٌ من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم منهم: سعد، وأسامة، وجابر، وابن عمر، وزيد بن ثابت، ومسلمة بن مخلد، وأبو سعيد، ورافع بن خديج، وأبو أمامة، وأنس بن مالك، ورجال أكثر ممن سمَّينا بأضعاف مضاعفة، كانوا مصابيح الهدى، وأوعية العلم، حضروا من الكتاب تنزيله، وأخذوا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم تأويله……. لم ينزعوا يدا عن مجامعة في أمة محمد صلى الله عليه وسلم. [تاريخ دمشق 59 / 158]

يعنى اوزاعی کہتے ہیں معاویہ کے دور خلافت میں کئی صحابہ کرام موجود تھے مثلا سعد، اسامہ، جابر، ابن عمر، زيد بن ثابت، مسلمہ بن مخلد، ابو سعيد، رافع بن خديج، ابو امامہ، انس بن مالک وغيرہم یہ لوگ ہدایت کے چراغ اور علم کے خزانے تھے، نزول قرآن کے وقت حاضر تھے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کی تفسیر سیکھیں، اور سمع وطاعت سے کبھی ہاتھ نہیں کھینچا۔
معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات: سن ساٹھ ہجری میں آپ کا انتقال ہوا۔ [تاريخ دمشق 59 / 237. والبداية والنهاية 11 / 458]

معاویہ رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ میں موازنہ:

ابو اسامہ حماد بن اسامہ سے سوال کیا گیا “معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبدالعزیز؟” تو انہوں نے کہا:

” أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم لايقاس بهم أحد”

“صحابہ کرام کے برابر کسی کو نہیں کیا جاسکتا”. [الشريعة . رقم الحديث ١٩٥٤. واللفظ له. و السنة للخلال. رقم الحديث ٦٦٣]
حضرت عبد اللہ بن مبارک سے سوال کیا گیا ” معاویہ بہتر ہیں یا عمر بن عبدالعزیز؟ “تو عبداللہ بن مبارک نے فرمایا:

“تراب في أنف معاوية خير من عمر بن عبد العزيز”.

معاویہ کے ناک کی مٹی بھی عمر بن عبدالعزیز سے بہتر ہے”. [الشريعة . رقم الحديث ١٩٥٥ واللفظ له . والبداية والنهاية 11 / 449]
اسی طرح ابن مبارک کا یہ بھی فرمان ہے:

“معاوية عندنا محنة ، فمن رأيناه ينظر إليه شَزرا اتهمناه على القوم . يعني الصحابة ” . [تاريخ دمشق 59 / 209 . والبداية والنهاية 11 / 449 . واللفظ له] .

يعنى معاویہ آزمائش ہیں ، لہذا جو بھی انہیں بری نظر سے دیکھے گا ہم اس کو متہم سمجھیں گے ۔

سُئل المُعافَى بن عمران أيهما أفضل معاوية أم عمر بن عبد العزيز ؟ فغضب وقال للسائل : ” تجعل رجلا من الصحابة مثل رجل من التابعين ؟ معاوية صاحبه ، وصهره ، وكاتبه ، وأمينه على وحي الله ” . [البداية والنهاية 11 / 450].

يعنى مُعافَی بن عمران سے پوچھا گیا معاویہ افضل ہیں یا عمر بن عبد العزیز؟ اس سوال پر مُعافَی بن عمران خفا ہوئے اور سائل سے کہا: “تم ایک صحابی کو ایک تابعی کی مانند بناتے ہو؟ معاویہ اللہ کے رسول کے صحابی ہیں ، ان کے برادر نسبتی ہیں، ان کے کاتب ہیں، اور وحی الہی کے امین ہیں”۔

معاویہ رضی اللہ عنہ کا تواضع اور عظمتِ حدیث کی ایک مثال:

معاویہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ تشریف لائے تو کچھ لوگ آپ کی تعظیم میں کھڑے ہوگئے، معاویہ رضی اللہ نے فرمایا:

“اجلس، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: “من سره أن يتمثل له الرجال قياما فليتبوأ مقعده من النار”. [سنن الترمذي: كتاب الأدب. باب ما جاء في كراهية قيام الرجل للرجل. رقم الحديث ٢٧٥٥. واللفظ له. والشريعة أرقام الحديث ١٩٤٨-١٩٥١ والصحيحة رقم الحديث 357].

يعنى بیٹھ جاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے “جو یہ پسند کرتا ہو کہ لوگ اس کے لئے کھڑے رہیں تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالے”.
نوٹ: مزید تفصیل کے لئے آجری کی “شریعہ”، لالکائی کی “شرح اصول اعتقاد اہل السنہ” اور خلال کی “السنہ” کا مطالعہ مفید ہوگا.

حديث ” لا أشبع الله بطنه ” اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت:

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كُنْتُ أَلْعَبُ مَع الصِّبْيانِ فجاءَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَتَوارَيْتُ خَلْفَ بَاب. قَال فَجَاءَ فَحَطأَنِي حَطْأَةً، وقال: “اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ “. قال فَجِئْتُ فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ. قال لي: “اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيةَ”. قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: هُوَ يَأْكُلُ. فقال: “لَا أَشْبَع اللَّهُ بَطْنَهُ”. [مسلم: كتاب البر والصلة والآداب. باب من لعنه النبي صلى الله عليه وسلم أو سبه أو دعا عليه وليس هو أهلا لذلك كان له زكاة وأجرا ورحمة. رقم الحديث 2604]۔

یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں دروازہ کے پیچھے چھپ گیا، آپ نے ازراہ شفقت مجھے مارا، اور فرمایا جاؤ معاویہ کو بلاؤ، میں نے دیکھا وہ کھانا تناول فرما رہے ہیں، آپ نے فرمایا جاؤ معاویہ کو بلاؤ، میں نے دوبارہ آکر کہا وہ کھانا تناول فرمارہے ہیں، آپ نے فرمایا “اللہ ان کے پیٹ کو آسودہ نہ کرے”۔
امام نووی اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

“وأما دعاؤه على معاوية أن لا يشبع حين تأخر ففيه الجوابان السابقان: أحدهما أنه جرى على اللسان بلا قصد. والثاني: أنه عقوبة له لتأخره . وقد فهم مسلم رحمه الله من هذا الحديث أن معاوية لم يكن مستحقا للدعاء عليه، فلهذا أدخله في هذا الباب، وجعله غيره من مناقب معاوية لأنه في الحقيقة يصير دعاء له”.

یعنی اس حدیث کے دو جواب ہیں:
1 – یہ الفاظ غیر ارادی طور پر زبان پر آگئے۔ (جیسے تربت يداك، تربت يمينك، ثكلتك أمك اور عقرَى حلقَي وغيره الفاظ حدیث میں وارد ہیں، مگر ان کا حقیقی مفہوم مراد نہیں ہوتا )
2 – معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاخیر کی وجہ سے بطور سزا یہ کلمات وارد ہوئے ۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث سے سمجھا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ اس دعا کے مستحق نہیں تھے اسی لئے انہوں نے مذکورہ حدیث کو اس باب میں ذکر کیا ۔ اور دیگر علماء ومحدثین نے اس حدیث کو معاویہ کے فضائل میں شمار کیا ہے ۔
اس حدیث سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے . ذہبی کہتے ہیں:

“لعل أن يقال : هذه منقبة لمعاوية لقوله صلى الله عليه وسلم : اللهم ! من لعنته أو سببته فاجعل ذلك له زكاة ورحمة ” [سير أعلام النبلاء – ترجمة الإمام النسائي – 14 / 130].

یعنی یہ حدیث معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں وارد ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے “الہی میں نے جس پر لعنت یا بد دعا کی اس کو باعث رحمت بنادے”۔
ابن كثير فرماتے ہیں :

“وكان من خصائصه أنه إذا سب رجلا ليس بذلك حقيقًا، يُجعلُ سَبُّ رسول الله صلى الله عليه وسلم كفارة عنه، ودليله ما أخرجاه في الصحيحين عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ” اللهم إني اتخذت عندك عهدا لن تُخلفه، إنما أنا بشر، فأي المؤمنين آذيته، أو شتمته، أو جلدته، أو لعنته، فاجعلها له صلاة وزكاة وقربة تُقرِّبه بها إليك يوم القيامة”. ولهذا لما ذكر مسلم في صحيحه في فضل معاوية أورد أولا هذا الحديث، ثم أتبعه بحديث: “لا أشبع الله بطنه”، فيحصل منهما مزية لمعاوية رضي الله عنه. وهذا من جملة إمامة مسلم رحم الله تعالى”. [الفصول في سيرة الرسول صلى الله عليه وسلم- خصائص رسول الله صلى الله عليه وسلم، القسم الرابع – ص 337]۔

یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ آپ جب کسی ایسے انسان پر بددعا کریں جو اس کا اہل نہ ہو تو آپ کی بددعا اس کے لئے کفارہ بن جائے گی ۔ دلیل صحیحین میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ جس کسی مسلمان کو میں نے تکلیف دی ، یا مارا ، یا بددعا دی تو اس کو باعث قربت بنادے ۔ اسی لئے امام مسلم نے ” لا اشبع الله بطنه ” والی روایت سے پیشتر یہ حدیث ذکر کی ہے ۔ اس طرح ان دونوں حدیثوں سے معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے ۔ اور یہ امام مسلم کی امامت پر بھی دال ہے ۔
علامہ البانی فرماتے ہیں:

“وقد يستغل بعض الفرق هذا الحديث ليتخذوا منه مطعنا في معاوية رضي الله عنه، وليس فيه ما يساعدهم على ذلك، كيف وفيه أنه كان كاتب النبي صلى الله عليه وسلم! ولذلك قال الحافظ ابن عساكر ( 16/349/2 ): “إنه أصح ما ورد في فضل معاوية” [الصحيحة 1 / 165].

یعنی علامہ البانی فرماتے ہیں” بعض لوگ اس حدیث کو معاویہ پر طعن و تشنیع کے لئے استعمال کرسکتے ہیں حالانکہ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جس سے ان کی مقصد براری ہوسکے ۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ معاویہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ہیں ۔ ابن عساکر اسی لئے کہتے ہیں: “معاویہ کی فضیلت میں یہ صحیح ترین حدیث ہے”۔ (اس حدیث پر علامہ البانی نے مزید گفتگو کی ہے)

اس حدیث سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی قربت وصحبت کا پتہ چلتا ہے ، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب تھے ۔
اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تعلق سے جو بات کہی اس کا تعلق دنیوی امور (خورد و نوش) سے ہے ۔ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا تعلق دینی یا اخروی امور سے ہو ۔
اس حدیث میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ ابن عباس نے معاویہ سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو بلا رہے ہیں اس کے باوجود انہوں نے آنے میں تاخیر کی . اس میں صرف اس بات کی وضاحت ہے کہ ابن عباس نے معاویہ کو کھانا تناول فرماتے دیکھا تو جاکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی ۔ بددعا کھانا تناول کرنے پر نہیں بلکہ عدم قبولیت پر ہوتی ہے ، اور عدم قبولیت اس حدیث میں ثابت نہیں ہے ۔ فافہم وتدبر ۔
نوٹ: تفصیل کے لئے ابن حجر ہیتمی مکی کی “تطهير الجنان” کی تیسری فصل، عبد العزیز ملتانی کی “الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية” ص 68 – 70 اور ذياب بن سعد الغامدي كى “تسديد الإصابة فيما شجر بين الصحابة” ص 148 – 149 کا مطالعہ مفید ہوگا ۔

معاویہ رضی اللہ عنہ پر عربى نظم

قال أبو الخطاب الحنبلي في قصيدته الدالية :

ولابنِ هِنٍد في الفؤادِ محبةٌ

ومَودَّةٌ فليرغَمنَّ مُفنِّدِي


ذاكَ الأمينُ المُجتَبَى لكتابَةِ الوَحْي

المُنزَّل ذو التُّقًى والسُّؤدَدِ

[إتمام المنة بشرح اعتقاد أهل السنة لإبراهيم البريكان ص 212]

شعر کا مفہوم :
معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے دل میں محبت ہے ، وہ امین ہیں ، کاتب وحی رب العالمین ہیں ، متقی ہیں ، سردار ہیں ۔

معاویہ رضی اللہ عنہ پر اردو نظم

شانِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ از: عبدالغفار زاہد، بنارس

ایمان و دیں کی شان ہیں حضرت معاویہ

امت کے ماموں جان ہیں حضرت معاویہ


یوں تو ہر اک صحابی کا اپنا مقام ہے

رکھتے الگ ہی شان ہیں حضرت معاویہ


“یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا”

ہاں کاتبِ قرآن ہیں حضرت معاویہ


بحری جہاد جن کی قیادت میں چل پڑا

وہ قائدِ جوان ہیں حضرت معاویہ


قبرص کی سرزمین ہو یا ارضِ شام ہو

اسلام تیری شان ہیں حضرت معاویہ


حضرت حسن کی صلح نے ثابت یہ کر دیا

امت کے نگہِ بان ہیں حضرت معاویہ


حسنین نے امیر جنہیں اپنا چن لیا

بے مثل حکمران ہیں حضرت معاویہ


فاروق جن کی ذات پہ کرتے تھے اعتماد

عظمت کا وہ نشان ہیں حضرت معاویہ


ہے سطوت و جلال بھی، امت کا درد بھی

اک آن بان شان ہیں حضرت معاویہ


ابنِ سبا کے آگ لگانے کے بعد بھی

حیدر کے قدر دان ہیں حضرت معاویہ


امت کی خیر خواہی ہے ان کو عزیز تر

شفقت کا اک نشان ہیں حضرت معاویہ


خوش خلق وخوش مزاج ہیں، میٹھی زبان ہے

حد درجہ مہربان ہیں حضرت معاویہ


ان سے کٹے تو سمجھو صحابہ سے کٹ گئے

اک سخت امتحان ہیں حضرت معاویہ


بکواس کوئی کرتا ہے، کرتا رہے میاں

محبوبِ انس و جان ہیں حضرت معاویہ

حضرت معاوية رضي الله عنه کی حیات وخدمات اور فضائل ومناقب پر عربی کتابیں:

(کتابیں زمنی ترتیب پر مرتب کی گئی ہیں)

1 – حلم معاوية . عبد الله محمد عبيد البغدادي أبو بكر ابن أبي الدنيا ت 281 هـ . (ابن أبي الدنيا) . تحقيق: إبراهيم صالح.

متبادل لنک

2 – فضائل أمير المؤمنين معاوية بن أبي سفيان (مخطوط) . أبو القاسم السقطي ت 406 هـ. ( أَبُو القَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بنُ مُحَمَّدِ بنِ أَحْمَدَ بنِ جَعْفَرٍ البَغْدَادِيُّ، السَّقَطِيُّ)

متبادل لنک

3 – تنزيه خال المؤمنين معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه من الظلم والفسق في مطالبته بدم أمير المؤمنين عثمان رضي الله عنه . القاضي أبو يعلى الفراء الحنبلي ت 458 هـ.

متبادل لنک

متبادل لنک

4 – سؤال في معاوية بن أبي سفيان . شيخ الإسلام بن تيمية الحراني ت 728 هـ . تحقيق : صلاح الدين المنجد .

5 – تطهير الجنان واللسان عن ثلب معاوية بن أبي سفيان . ابن حجر الهيتمي ت 973 هـ .

فائدہ أ – یہ کتاب ابن حجر ہیتمی مکی نے بادشاہ ہمایوں کے طلب پر لکھی چنانچہ مقدمہ میں لکھتے ہیں:

“دعاني إلى تأليفها الطلب الحثيث من السلطان همايون أكبر سلاطين الهند، وأصلحهم، وأشدهم تمسكا بالسنة الغراء.….”.

فائدہ ب – کتاب ایک مقدمہ، تین فصل اور ایک خاتمہ پر مشتمل ہے۔
تین فصلوں کی تفصیل:
پہلی فصل معاویہ رضی اللہ عنہ کے اسلام کے بارے میں ہے۔
دوسری فصل معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب پر مشتمل ہے۔
تیسری فصل میں چند شبہات کا جواب ہے۔
خاتمہ میں موضوع سے متعلق کچھ متفرق مسائل بیان کئے گئے ہیں۔
فائدہ ج: ابن حجر ہیتمی کی اس کتاب کا سليمان بن صالح خراشی نے اختصار کیا ہے جو درج ذیل لنک پر دستیاب ہے .
فائدہ د: سليمان خراشی نے اپنی ” مختصر ” کے مقدمہ میں آٹھ کتابوں کا تذکرہ کیا ہے جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور ان کے دفاع میں تالیف کی گئی ہیں ۔ (دیکھیں صفحہ 13 – 14)
فائدہ هـ: ابن حجر مکی ہیتمی کی اس کتاب کا عبد الشکور فاروقی لکھنوی (مترجم أسد الغابة في معرفة الصحابة لابن الأثير الجزري) نے ” مناقب سیدنا امیر معاویہ ” کے نام سے اردو ترجمہ کیا ہے ۔ اس کتاب کا ایک دوسرا ترجمہ بھی ہے جس کا تذکرہ اردو کتابوں میں آئے گا ۔

6 – الناهية عن طعن أمير المؤمنين معاوية . عبد العزيز بن أحمد بن حامد . (عبد العزيز الملتاني ت 1239 هـ تقريبا ۔ صاحب نزهة نے ملتانی صاحب کو تیرہویں صدی ہجری کے علماء میں ذکر کیا ہے)

فائدہ: نزهة الخواطر ص 1018 پر آپ کے ترجمہ میں مرقوم ہے:

“وكان شديد الميل إلى اتباع السنة ، و رفض التقليد”.

یعنی اتباع سنت اور ترک تقلید کی جانب آپ کا زیادہ میلان تھا ۔

7 – معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما وأسرته . محمود شاكر ت 1418 هـ .

8 – من أقوال المنصفين في الصحابي الخليفة معاوية رضي الله عنه . شيخ عبد المحسن العباد (المدرس في المسجد النبوي الشريف) .

فائدہ: یہ کتاب شیخ کے ایک لیکچر کا مجموعہ ہے جو آپ نے جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے لیکچر ہال میں دیا تھا ۔ کتاب جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے مطبوع ہے ۔
کتاب شیخ محترم کی ویب سائٹ پر “المجلد السادس” میں 33 نمبر پر موجود ہے ۔

9 – الأحاديث النبوية في فضائل معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه . محمد الأمين الشنقيطي . تحقيق : عَمرو عبد المنعم سليم.

 

10 – معاوية بن أبي سفيان شخصيته وعصره . علي محمد الصلابي .

فائدة : کتاب کا اردو ترجمہ بھی ہوا ہے .

11 – فضائل خال المؤمنين معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنهما . أمير بن أحمد قروي . تقديم : علي ناصر الفقيهي .

12 – خال المؤمنين معاوية رضي الله عنه . أبو عبد الله حمزة النايلي .

فائدة : مختصر اور نافع کتاب ہے ۔ صرف 55 صفحات ہر مشتمل ہے ۔

13 – إسكات الكلاب العاوية بفضل خال المؤمنين معاوية . أبو معاذ محمود بن إمام بن منصور.

14 – معاوية بن أبي سفيان رضي الله عنه صحابي كبير وملك مجاهد . منير محمد الغضبان.

15 – معاوية بن أبي سفيان أمير المؤمنين وكاتب وحي النبي الأمين صلى الله عليه وسلم – كشف شبهات ورد مفتريات . شحاتة محمد صقر.

 

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب اور دفاع پر لکھی گئی چند اردو کتابیں:

[حروف تہجی پر مرتب ہیں]
1 – الأربعين في مناقب أمير المؤمنين (سیدنا حضرت امیر معاویہ کے فضائل ومناقب پر چالیس احادیث کا مجموعہ) . رب نواز صاحب ۔
2 – امیر معاویہ پر اعتراضات کے جوابات ۔ مفتی محمد فیض احمد اویسی رضوی ۔
3 – تذکرہ حضرت امیر معاویہ ۔ ابو عاصم غلام حسین ماتریدی ۔
4 – تعارف سیدنا امیر معاویہ ۔ محمد علی نقشبندی ۔
5 – حضرت امیر معاویہ پر اعتراضات کے مدلل جوابات ۔ پیر محمد مقبول احمد سرور ۔
6 – حضرت امیر معاویہ ۔ قاضی عبد الرزاق ۔
7 – حضرت امیر معاویہ اور تاریخی روایات ۔ محمد ثاقب ۔
8 – حضرت امیر معاویہ پر ایک نظر ۔ مفتی احمد یار خاں نعیمی ۔
9 – حضرت امیر معاویہ دشمنوں اور دوستوں کے نرغے میں ۔ ملک محمد اکرم ۔
10 – حضرت امیر معاویہ خلیفہ راشد ۔ ہاشمی میاں ۔
11 – حضرت معاويہ اور تاريخی حقائق . جسٹس تقی عثمانی .
12 – خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ ویزید ۔ محمود احمد عباسی ۔
13 – خلیفہ راشد سیدنا معاویہ کی سیاسی زندگی ۔ علی احمد عباسی ۔ تعلیق وحواشی : محمد فہد حارث ۔ ناشر : مکتبہ الفہیم ۔
14 – دشمنان امیر معاویہ کا علمی محاسبہ ۔ محمد علی نقشبندی ۔
15 – دفاع حضرت معاویہ رضي الله عنه. قاضی مظہر حسین .
16 – دفاع سیدنا امیر معاویہ ۔ ڈاکٹر محمد اشرف جلالی ۔
17 – سيدنا معاویۃ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ۔ شخصیت اور كارنامے . ڈاکٹر علی محمد الصلابی . اردو ترجمه : پروفيسر جار الله ضياء .
18 – سیدنا معاویہ کے بارے میں گمراہ کن غلط فہمیوں کا ازالہ ۔ محمد ظفر اقبال ۔
19 – سیدنا امیر معاویہ اہل حق کی نظر میں ۔ محمد عرفان مشہدی ۔
20 – سیدنا امیر معاویہ ۔ محمد سردار احمد قادری ۔
21 – سیدنا امیر معاویہ کے حالاتِ زندگی ۔ حکیم محمود احمد ظفر ۔
22 – سیدنا معاویہ شخصیت وکردار . حکیم محمود احمد ظفر .
23 – سیرت امیر معاویہ اور ان کے دلچسپ واقعات ۔ محمد ظفر اقبال ۔
24 – سیرت حضرت امیر معاویہ . محمد نافع .
25 – شان امیر معاویہ احادیث وآثار کی روشنی میں (کتب شیعہ کے 53 / حوالہ جات کے ساتھ) ۔ غلام مرتضی مجددی ۔
26 – صحابہ میں حضرت معاویہ کا مقام ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ ۔ اردو ترجمہ : محمد رفیق اثری ۔
27 – فضائل امیر معاویہ اور مخالفین کا محاسبہ ۔ محمد صدیق ضیاء نقشبندی ۔
28 – مقام صحابہ اور سیدنا معاویہ . پروفیسر اظہر محمود .
29 – من هو معاوية ؟ . قارى محمد لقمان .
30 – مناقب سیدنا امیر معاویہ ۔ مفتی شفقات احمد .
31 – مناقب سیدنا امیر معاویہ ۔ عبد الشكور فاروقی لکھنوی ۔
(ابن حجر مكى ہیتمی کی عربی کتاب ” تطهير الجنان واللسان عن الخوض والتفوه بثلب معاوية بن أبي سفيان ” کا اردو ترجمہ ہے . نیز مفتي عبد المصطفى محمد مجاهد القادری نے بھی ” شان حضرت امیر معاویہ ” کے نام سے ترجمہ کیا ہے ) .
32 – النار الحامية لمن ذم معاوية . محمد نبی بخش ۔

معاویہ رضی اللہ عنہ کا ذکر خیر تاریخ وتراجم کی کتابوں میں:

[کتابیں زمنی ترتیب پر مرتب ہیں]

1 – التاريخ الكبير (7 / 326 – 328 رقم الترجمة 1405) . البخاري ت 256 هـ . طبع دائرة المعارف العثمانية ، حيدرآباد ، الهند .
2 – تاريخ بغداد (1 / 574 – 578) . خطيب بغدادي ت 463 هـ . تحقيق : بشار عواد معروف . طبع دار الغرب الإسلامي .
3 – تاريخ دمشق (59 / 55 – 240 رقم الترجمة 7510) . ابن عساكر ت 571 هـ .
4 – تاريخ الإسلام – الجزء الرابع كاملا (4 / 306 – 317) . الذهبي ت 748 هـ . تحقيق : عبد السلام تدمري . طبع دار الكتاب العربي .

فائدة : تاریخ اسلام کے محقق نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے تراجم پر بہت کتابیں ذکر کی ہیں ۔

5 – سير أعلام النبلاء (3 / 119 – 162) . الذهبي ت 748 هـ . تحقيق : شعيب الأرنؤوط . طبع مؤسسة الرسالة .
6 – البداية والنهاية (11 / 391 – 465) . ابن كثير ت 774 هـ تحقيق : التركي .

فائدہ : ابن کثیر نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ترجمہ میں تاریخ دمشق سے خوب استفادہ کیا ہے ۔

7 – تاريخ ابن خلدون (2 / 647 – إلى الأخير وبداية الجزء الثالث) . ابن خلدون ت 808 هـ . تحقيق : خليل شحادة . طبع دار الفكر .
8 – تاريخ الخلفاء (ص 323 – 338) . جلال الدين السيوطي ت 911 هـ . طبع وزارة الأوقاف قطر .

مصادر ومراجع:

1- إتمام المنة بشرح اعتقاد أهل السنة. إبراهيم البريكان . طبع دار السنة، الخُبر.
2 – الاعتقاد. أبو يعلى الفراء الحنبلي. تحقيق: محمد عبد الرحمن الخميس. طبع دار أطلس الخضراء، الرياض .
3 – البداية والنهاية. ابن كثير. تحقيق: عبد الله بن عبد المحسن التركي. طبع: دار هجر .
4 – تاريخ دمشق. ابن عساكر. تحقيق: عمر بن غرامة العمروي . طبع: دار الفكر.
5 – سنن الترمذي مع شرحه تحفة الأحوذي. طبع دار الحديث القاهرة.
6 – السنة . الخلال . تحقيق: الدكتور عطية الزهراني . طبع دار الراية.
7 – سير أعلام النبلاء . الذهبي. تحقيق: شعيب الأرنؤوط. طبع مؤسسة الرسالة.
8 – شذرات الذهب في أخبار من ذهب. ابن العماد الحنبلي. تحقيق: عبد القادر الأرنؤوط. طبع دار ابن كثير ، بيروت.
9 – الشريعة . الآجري. تحقيق: الدكتور عبد الله الدميجي. طبع: دار الوطن الرياض.
10 – صحيح البخاري مع شرحه فتح الباري . طبع دار السلام الرياض .
11 – صحيح مسلم مع شرح النووي . طبع دار الخير ، بيروت.
12 – الصحيحة . الألباني . طبع مكتبة المعارف، الرياض.
13 – العلو . الذهبي . تحقيق: عبد الله البراك. طبع دار الوطن.
14 – فتح الباري . ابن حجر . طبع : دار السلام.
15 – الفصول في سيرة الرسول. ابن كثير . تحقيق: محمد العيد الخطراوي. طبع مؤسسة علوم القرآن، بيروت.
16 – لمعة الاعتقاد مع شرح ابن العثيمين . ابن قدامة المقدسي. تحقيق: أبو محمد أشرف بن عبد المقصود. طبع أضواء السلف.
17 – لوائح الأنوار السَّنية ولواقح الأفكار السُنية شرح قصيدة ابن أبي داؤد الحائية. السفاريني. تحقيق: عبد الله البصيري. طبع مكتبة الرشد، الرياض.

4
آپ کے تبصرے

3000
4 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
4 Comment authors
newest oldest most voted
سعد احمد

ماشاء اللہ. اتنی تفصیل سے ایسے موضوعات پر یا تو ڈاکٹر فواز صاحب (فواز سر جے این یو والے) سے چیزیں سنی ہیں یا آپ کی پڑھیں ہیں. یقین کریں اس طرح کی ببلیوگرافی کو دیکھ کر لفظ “نظر” کا تعلق “بحث” سے کیا ہے اس کا اندازہ ہو تا ہے. بہت شکریہ مضمون کے لئے.

عامر انصاری

شکریہ سعد بھائی ان ہمت افزا کلمات کا ۔
فواز رحمانی ہمارے محترم ہیں ۔ ان سے دور رہ کر بھی استفادہ کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ جماعت کی تاریخ اور بزرگوں کے بارے میں آپ کے سینے میں بڑی معلومات ہیں ۔ جزاكما الله خيرا .

حافظ وسیم اختر

ماشاءاللہ بہت خوب صحابی رسول سیدناامیرمعاویہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے حالات ومناقب بارے بہت مدلل تحریرہے۔اللہ تعالی آپ کوجزائے خیردے اورآپ کی نجات اخروی کاذریعہ بنائے۔

امتیاز چودہری

امام نسائی رح کا واقعہ شہادت ۔ محدثین میں سے ایک جلیل القدر محدث امام نسائی بھی ہیں جنکی سنن نسائی صحاح ستہ میں بھی شامل ھےاور یہی کتاب امام کی حدیث میں انکی جلالت و علمی منزلت اوران کے عظیم المرتبہ مقام کا اندازہ لگانے کیلیئے کافی ھے امام نسائی کو بھی مناقب علی [ع] بیان کرنے کے جرم میں سر عام تشدد کا نشانہ بنایاگیا یہاں تک کہ آپ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے امام نسائی کے واقعہ شہادت کی تفصیل کتب تراجم میں یوں ملتی ھے کہ آپ زندگی کے آخری ایام میں حج… Read more »