ولی کون؟

عبداللہ صلاح الدین سلفیؔ

بسم اللہ والحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وعلی آلہ وأصحابہ ومن والاه وبعد

اللہ رب العالمین ہی معبود برحق ہے اور ا س نے انس وجن کو صرف اور صرف اپنی عبادت وبندگی کے لئے ہی پیدا فرمایاہے، جو بندہ جس قدر اخلاص وللہیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی کرتااور اس سے رابطہ وتعلق مضبوط ومستحکم بناتاہے وہ اسی قدر اس سے قریب ہوتاجاتاہے ،اور قربت کے منازل طے کرتے کرتے بندہ اللہ تعالیٰ کاخصوصی قرب حاصل کرلیتاہے اور اس کا محبوب، دوست اور ولی بن جاتاہے، ایسے بندے کواللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے، اوراللہ کی طرف سے اس کو خصوصی تائید ونصرت حاصل ہوجاتی ہے، اور یہی وہ مقام ہے جس کو ولایت کہاجاتاہے، اور جس شخص کویہ مقام حاصل ہوجاتاہے ،اس کو ولی کہاجاتاہے۔

ولی کی تعریف:
ابن منظور افریقی ’’لسان العرب‘‘ (411/15، طبع دار صادر بیروت) میں لکھتے ہیں:

’’الولی : الصدیق النصیر….‘‘

یعنی ولی کے معنی دوست اور مددگار کے ہوتے ہیں۔

قرآن مجید میں ولی کالفظ دوست، محبوب، قریبی، مددگار، حمایتی، اور متولی وکارساز وغیرہ معانی میں استعمال ہواہے ، (دیکھئے! سورۃ البقرۃ: 282,107، آل عمران: 122,68، النساء: 89,75,45، سورۃ العنکبوت وغیرھا من الآیات)
اس کامادہ Root Word و ل ی ہے، اور ولایت کے معنی محبت ونصرت، تائیدوقربت اور حفاظت ونگہبانی کے ہوتے ہیں۔
اولیاء کا لفظ ولی کی جمع Plural ہے، جب اس کی اضافت اللہ کی طرف کرتے ہوئے اولیاء اللہ بولاجاتاہے تو معنی ہوتے ہیں :اللہ تعالیٰ کے وہ مقرب ومحبوب اور دوست بندے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی دوستی، محبت اورتقرب کے شرف سے نوازاہے۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَ لَھُمُ الْبُشْرٰی فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاوَفِی الْاٰخِرَۃِ لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم (سورۃ یونس: 62_64)

ترجمہ: آگاہ رہو! بے شک اللہ کے اولیاء پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے، (یعنی ) وہ لوگ جوایمان لائے اور ( اللہ سے)ڈرتے رہے، ان کے لئے دنیاوی زندگی میں خوشخبری ہے اور آخرت میں (بھی)، اللہ کی باتوں میں تبدیلی نہیں ہوتی، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
اس آیت کریمہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایاکہ اولیاء کے لئے ہے کیا؟
“اللہ کے اولیاء پر کوئی خوف نہ ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے”-
اور پھر ارشاد فرمایاکہ:
“اولیاء ہیں کون ؟”
جوایمان لائے اور (اللہ سے)ڈر رہے‘‘
اور آخر میں ان کے لئے بشارت اور خوش خبری کابیان ہے۔

ہمارے معاشرے میں اولیاء کے فضائل ومناقب کا بکھان کرتے ہوئے پہلی آیت کو بڑے پرزور انداز میں جوش وخروش کے ساتھ بلکہ نمک مرچ لگاکر بیان کیاجاتاہے لیکن دوسری آیت کو نظر انداز کردیاجاتاہے، حالانکہ اس موضوع پر گفتگو کرنے کے لئے اس کی وضاحت نہایت ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر نہ تو موضوع واضح ہوگا اور نہ ہی اس کاحق اداہوگا بلکہ بات نہایت ہی ناقص رہے گی ۔
آیئے ان آیات کے معانی ومفاہیم کو دیگر آیات واحادیث اور فہم سلف کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اولیاء کی صفت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’الذین آمنوا وکانوا یتقون‘‘

(جولوگ ایمان لائے اور اللہ سے ڈرتے ہیں)
معلوم ہواکہ ولی ہر وہ شخص ہے جو صاحب ایمان اور صاحب تقویٰ ہو۔

ایمان کیاہے؟:
لغت میں ایمان کے معنی ہوتے ہیں :یقین ،تصدیق اور اقرار، جبکہ شریعت میں :زبان سے اقرار کرنے ، دل سے یقین و تصدیق کرنے اور اعضاء وجوارح سے عمل کرنے کوایمان کہاجاتا ہے، جو اعمال صالحہ کرنے سے بڑھتاہے اور برائیوں وسیئات کے ارتکاب سے کم ہوتاہے۔

ایمان قرآن کی نظر میں:
ارشاد الہی ہے:

قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ھُمْ فِیْ صَلَا تِھِمْ خَاشِعُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِلزَّکٰوۃِ فَاعِلُوْن وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِفُرُوْجِھِمْ حٰفِظُوْنَ اِلَّا عَلآ اَزْوَاجِھِمْ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُمْ فَاِنَّھُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَ فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْعٰدُوْنَ وَالَّذِیْنَ ھُمْ لِاَمٰنٰتِہِمْ وَعَھْدِھِمْ رَاعُوْنَ(المومنون :1_8)

ترجمہ: مومن یقیناًفلاح پاگئے، جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں ،اور جو لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں ،اور جو زکوۃ اداکرنے والے ہیں ،اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ،سوائے اپنی بیویوں یا ان (کنیزوں) کے جن کے مالک ہوئے ان کے دائیں ہاتھ، تو بلاشبہ (ان کی بابت) ان پر کوئی ملامت نہیں ،پس جو شخص ان کے علاوہ تلاش کرے تو ایسے لوگ ہی حد سے گزرنے والے ہیں ،اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی حفاظت کرنے والے ہیں۔

مذکورہ بالاآیات میں اللہ رب العزت نے صاحب ایمان لوگوں کے اوصاف بیان کئے ہیں کہ جس کسی میں یہ اوصاف پائے جائیں وہ کامیاب وکامران ہوگیااور اس نے سعادت وفلاح حاصل کرلی۔
ان آیات کی روشنی میں جب ہم سورۂ یونس کی آیتوں پر غورکرتے ہیں(کیونکہ القرآن یفسر بعضه بعضا یعنی قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کی تفسیر کرتی ہے) تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ :
اللہ کاولی نمازوں کا پابند ہوتا اور خشوع وخضوع کے ساتھ نمازیں اداکرتاہے۔
اللہ کاولی لغو اور بے ہودہ باتوں سے اعراض کرتا اور دور رہتاہے۔
اللہ کاولی زکاۃکی ادائیگی کرتاہے۔
اللہ کاولی اپنی بیویوں اور کنیزوں کو چھوڑ کرکسی کے سامنے بے پردہ نہیں ہوتااور اپنی شرمگاہ کو بے ستر نہیں ہونے دیتا۔
اللہ کاولی اپنی جنسی خواہش صرف اپنی بیویوں اور کنیزوں سے پوری کرتاہے۔
اور اللہ کاولی اپنے عہد و پیمان کی حفاظت کر نے والاہوتاہے۔

جس کامفہوم یہ ہواکہ:
بے نمازی اللہ کاولی نہیں ہوسکتا۔
لغو اور بیہودگی میں ملوث رہنے والا اللہ کاولی نہیں ہوسکتا۔
جس کے پاس نامحرم عورتوں کا میلہ لگارہتاہو یاجو نامحرم عورتوں کے ساتھ خلوت اختیار کرتاہو وہ اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا۔
کوئی زانی اور بدکارشخص اللہ کاولی نہیں ہوسکتا۔
اسی طرح جھوٹا،بے ایمان، بدعہد، اور خائن شخص بھی اللہ کاولی نہیں ہوسکتا۔

ایمان حدیث کی روشنی میں:
کتاب وسنت میں ’’ایمان ‘‘کالفظ جب’’اسلام‘‘سے الگ کرکے مستقل بالذات بولاجائے تواس سے ارکان ایمان اور ارکان اسلام دونوں مرادہوتے ہیں،مگر جب دونوں کو ایک ساتھ بولاجائے تو’’ایمان ‘‘سے اس کے چھ ارکان اور ’’اسلام‘‘ سے اس کی پانچ بنیادیں مراد ہوتی ہیں،آیئے ہم آپ کے سامنے حدیث جبریل کاوہ حصہ پیش کرتے ہیں جس میں ایمان و اسلام کی وضاحت کی گئی ہے:

عن عمر بن الخطاب …وقَالَ : يَا مُحَمَّدُ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلًا “. قَالَ : صَدَقْتَ. قَالَ : فَعَجِبْنَا لَهُ، يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ. قَالَ : فَأَخْبِرْنِي عَنِ الْإِيمَانِ. قَالَ : ” أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَرُسُلِهِ، وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ، خَيْرِهِ وَشَرِّهِ “. قَالَ : صَدَقْتَ ….الحدیث
(صحیح مسلم ، کتاب الایمان ،باب بیان الإیمان والإسلام والإحسان….رقم الحدیث[93 ]1۔(8))

ترجمہ: عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ……اور اس (جبریل علیہ السلام) نے کہا:اے محمد (ﷺ) مجھے اسلام کے بارے میں بتایئے!رسول اللہﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دوکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں،اور محمدﷺ اس کے رسول ہیں، نمازکی پابندی کرو، زکاۃ اد ا کرو ، رمضان کے روزے رکھو،اور اگر اللہ کے گھر تک راستہ (طے کرنے) کی استطاعت ہو تواس کاحج کرو‘‘ اس نے کہا : آپ نے سچ فرمایا۔ (حضرت عمرؓ نے) کہا:ہمیں اس پرتعجب ہوا کہ آپﷺ سے پوچھتاہے اور (خودہی) آپﷺکی تصدیق کرتاہے۔ اس نے کہا:مجھے ایمان کے بارے میں بتایئے! آپ ﷺ نے فرمایا:’’یہ کہ تم اللہ تعالیٰ اس کے فرشتوں،اس کی کتابوں،اس کے رسولوں،اورآخری دن (یوم قیامت ) پر ایمان رکھواور اچھی اور بری تقدیر پر بھی ایمان لاؤ‘‘ اس نے کہا آپﷺنے درست فرمایا…‘‘

اس حدیث نبوی کی روشنی میں سورۂ یونس کی مذکورۃ الصدر آیت کریمہ پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ:

اللہ کاولی کبھی اس کی عبادت وبندگی میں کسی غیر کواس کا شریک نہیں بناسکتا۔
اللہ کاولی غیر اللہ کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہوسکتا۔
اللہ کاولی کسی غیر کومددکے لئے نہیں پکار سکتا۔
اللہ کاولی کسی غیر کو حاجت روا،مشکل کشا،فریادیں سننے والا، بگڑی بنانے والااور غوث وغیرہ نہیں قراردے سکتا۔
اورجب ولی خودہی اللہ کے سامنے سجدے کرتا، اسی سے دعائیں کرتا، اسی کوپکارتا، اسی کی بارگاہ میں قربانیاں کرتا ، اور اسی کے لئے نذر ونیاز پیش کرتاہو، تو پھر کسی ولی کو سجدہ کیسے کیاجاسکتاہے، اس کو کیونکر مدد کے لئے (مافوق الأسباب طریقے پر) پکارا جاسکتاہے؟ اس کے لئے نذر ونیاز اور قربانیاں کیسے پیش کی جاسکتی ہیں؟ کیونکہ عابد معبود نہیں ہوسکتااور ساجد مسجودنہیں ہوسکتا ۔

اسی طرح اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایک ولی نماز، روزہ، حج اور زکوۃ وغیرہ کی مکمل پابندی کرتاہے،یعنی کسی ولی سے نماز معاف نہیں ہے، کسی ولی سے روزے ساقط نہیں ہوتے، اگر کوئی صاحب استطاعت ہونے کے باوجود زکاۃ کی ادائیگی نہیں کرتا، سفر حج کاخرچ ہونے کے بعدبھی حج کے لئے نہیں جاتاتوایساشخص ہرگزولی نہیں ہوسکتا۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ ولی کاایمان کے ہر رکن پر پختہ عقیدہ ہوتاہے۔

آیئے اب آیت کریمہ کے دوسرے جزء ’’وکانوا یتقون‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تقویٰ کیاہے؟:
لفظ ’’تقوی‘‘ ’’وقایة‘‘ سے ہے، جس کے معنی ہیں: بچنا، پرہیز کرنا اور جس چیز سے انسان کو خطرہ لاحق ہواس کے اور اپنے درمیان حائل وفاصل اور رکاوٹ کھڑی کرنا۔
حضرت علیؓ نے تقویٰ کی وضاحت کرتے ہوئے یوں فرمایاہے:

’’التقوی ھی الخوف من الجلیل والعمل بالتنزیل والإستعدادلیوم الرحیل و القناعة بالقلیل‘‘ (فرائدالکلام ص:334)
ترجمہ: اللہ سے ڈرنا، قرآن وسنت پر عمل کرنا، کوچ کے دن (آخرت)کے لئے تیاری کرنا اور کم رزق پر قناعت کرنا تقویٰ ہے۔

یعنی دل میں اللہ تعالیٰ کا اس طرح اور اس قدرخو ف ہوکہ ہر قدم اٹھانے سے پہلے انسان کو سوچنے پر مجبور کردے کہ اللہ تعالیٰ اس عمل سے خوش ہوگا یاناراض، اور اپناہر عمل تنزیل یعنی کتاب وسنت کے مطابق انجام دے، اس کے عقائد، اس کی عبادتیں، اور اس کے معاملات غرضیکہ ہر ایک عمل کتاب وسنت کی تعلیمات کے مطابق ہو ، یوم الرحیل یعنی آخرت کی زندگی کے لئے تیاری کرتارہے، اس کا ہر ہر عمل آخرت رخی ہو، جو بھی کام کرے اس میں آخرت میں کامیاب ہونے کی سوچ کار فرما ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسے تھوڑابہت جو بھی دے رکھاہے اس پر قانع اور راضی وخوش رہے، اس کایہ مطلب نہیں کہ آدمی مزید ترقی اور اضافے کی جائز کوشش ہی نہ کرے، بلکہ اس کامطلب یہ ہے :جو کچھ اس کو ملاہواس پر شکوہ وشکایت اپنی زبان پر نہ لائے بلکہ اللہ کاشکر اداکرتارہے۔

تقویٰ قرآن کی نظر میں:
جب ہم قرآن مجید میں متقین کی صفات پر غور کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتاہے کہ ’’تقویٰ‘‘ ایک جامع لفظ ہے ،جس کامطلب ہے: اللہ تعالیٰ کے تمام احکام و اوامر پر عمل کرنا، تمام محرمات ونواہی سے بچنااور پورے دین پر عمل کرنا۔
یہاں طوالت سے بچنے کے لئےصرف سورۂ بقرہ کی ابتدائی آیات ذکر کرنے پر اکتفا کرتا ہوں ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

الم ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ اُولٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّہِمْ وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (سورۃالبقرۃ:۱۔۵)

ترجمہ: الم، یہ کتاب ہے جس (کے نازل ہونے) میں کوئی شک نہیں ، ہدایت ہے متقین کے لئے، جوغیب پر ایمان لاتے ہیں اور وہ نمازکو (اس کے آداب کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایاہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ پر نازل کیا گیااور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہ لوگ ہدایت پر ہیں اپنے رب کی طرف سے اور یہی فلاح پانے والے ہیں۔

اس آیت کریمہ سے معلوم ہواکہ غیب پر ایمان رکھنا (اور حدیث جبریل کے حوالے سے جن ارکان ایمان کا ذکر کیاگیاوہ سب غیب سے تعلق رکھتی ہیں) نمازیں قائم کرنا، اللہ کی راہ میں صدقہ وخیرات کرنا اور قرآن وسنت (بماانزل الیک)پ ایمان رکھنا تقویٰ ہے (معلوم ہواکہ منکر حدیث اللہ کا ولی نہیں ہوسکتا) ایسے ہی دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان رکھنااور آخرت پر ایمان ویقین رکھناتقویٰ ہے۔

مذکورہ بالا گفتگو سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ایک ولی کے لئے اس کا مؤمن ومتقی ہوناضروری ہے اورہر مؤمن اور متقی شخص اللہ کاولی ہے، اورولی سے کرامت کا صادر ہونا ضروری نہیں، اس کے یہ معنی نہیں کہ سارے اولیاء برابر ہیں یاہم نے سارے متقی مؤمنوں کو برابر کردیاہے، بلکہ ان کے درمیان فرق مراتب ہے، ان کے ایمان وتقویٰ میں فرق کے اعتبار سے ،جو ایمان وتقویٰ کے جتنے اونچے مقام پر فائز ہوگاوہ اتناہی بڑا ولی ہوگا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب اللہ کے ولی تھے (حالانکہ چند ہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے کرامتوں کا ظہور ہواہے) سب سے بڑے ولی ابوبکر، پھر عمر، پھر عثمان،  پھرعلی رضی اللہ عنہم اجمعین،پھر عشرۂ مبشرہ اور اس کے بعد دوسرے صحابہ اپنے مراتب میں فرق کے اعتبار سے تھے ۔

حجۃ الإسلام ابوجعفرطحاوی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

’’والمؤمنون کلہم أولیاء الرحمن وأکرمہم عند اللہ أطوعہم وأتبعہم للقرآن‘‘(العقیدہ الطحاویۃ ص:45)

یعنی مؤمنین سب کے سب اللہ کے ولی ہیں اور ان میں اللہ کے نزدیک اس کا مرتبہ اتناہی اونچا اور بلند ہے جو جتنا قرآن کی اتباع اور اطاعت کرنے والاہے۔

ولی اور ولایت حدیث کی روشنی میں:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” إِنَّ اللَّهَ قَالَ : مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ يَكْرَهُ الْمَوْتَ، وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ “.
(صحیح البخاری،کتاب الرقاق،باب التواضع:6502)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اس کے خلاف میری طرف سے اعلان جنگ ہے،اور میرا بندہ جن جن عبادتوں کے ذریعہ سے میرا تقرب حاصل کرتاہے، ان میں سے کوئی عبادت مجھے اتنی پسند نہیں جس قدر وہ عبادت پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے، میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے برابر مجھ سے قریب ہوتارہتاہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتاہوں ، جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتاہوں تو میں اس کا کان بن جاتاہوں جس سے وہ سنتاہے، اس کی آنکھ بن جاتاہوں جس سے وہ دیکھتاہے، اس کا ہاتھ بن جاتاہون جس سے وہ پکڑتاہے اور اس کا پاؤں بن جاتاہوں جس سے وہ چلتاہے ، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے دیتاہوں ،اگر وہ مجھ سے پناہ کا طالب ہو تواس کو پناہ دیتاہوں ، میں کسی چیز میں اتنا تردد نہیں کرتا،جس کو میں کرنے والا ہوتا ہوں ،جتنامجھے مومن کی جان نکالتے وقت تکلیف ہوتی ہے، وہ موت کو بوجہ تکلیف پسند نہیں کرتا اورمجھے بھی اسے تکلیف دینا اچھا نہیں لگتاہے‘‘۔

اس حدیث نبوی سے ہمیں معلوم ہواکہ اللہ کے بعض بندے اس کے ولی،مقرب اور محبوب ہوتے ہیں ، جو اولیاء اللہ سے دشمنی کرتاہے، ان کو کسی طرح کی ایذاء پہونچاتا ہے،یا ان کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کرتا ہے یا دل میں ان کے خلاف بغض و عداوت رکھتاہے تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کرتاہے۔
اللہ کاولی فرائض کا پابند ہوتاہے یعنی جو فرائض کا تارک ہو وہ اللہ کاولی نہیں ہوسکتا۔
اللہ کاولی بندہ ہوتاہے اور جو خود بندہ ہواسکی عبادت نہیں کی جاتی، وہ حاجت روا اور مشکل کشانہیں ہوتا، وہ بگڑی بنانے اور فریادیں سننے والانہیں ہوتا۔
کوئی شخص مادرزاد ولی نہیں ہوتا یا یوں کہہ لیں کہ کوئی بچہ ولی نہیں ہوتاہے، کیونکہ ولی فرائض کا پابند ہوتاہے، اور فرائض کے مکلف وہ لوگ ہوتے ہیں جو عاقل وبالغ ہوں ۔
مجذوب یعنی پاگل ولی نہیں ہوسکتاکیونکہ وہ فرائض کا مکلف نہیں ہوتا۔
اولیاء اللہ نوافل کااہتمام کرتے ہیں اور جو جتنا زیادہ نوافل کا اہتمام کرتاہے اس کا مقام ومرتبہ ولایت میں اتنا ہی اونچاہوتاہے۔
ولی اللہ کا محبوب ہوتاہے ، سورۂ آل عمران (31) میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے:

’قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ‘‘

یعنی آپ کہہ دیجئے! اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتومیری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔

اولیاء کے مختلف مراتب ہیں ، جتناایمان وتقوی اور اعمال صالحہ میں اضافہ ہوتاہے اتناہی دوستی، ولایت اور تقرب کادرجہ بلند ہوتاجاتاہے، سب اولیاء برابر نہیں ہیں۔
اولیاء ،اللہ ہی سے مانگتے اور اسی سے پناہ کے طالب ہوتے ہیں اور جو خود سائل ہو، اپنے نفع ونقصان کا مالک نہ ہو بلکہ دوسرے سے پناہ کا طالب ہو وہ اس لائق نہیں کہ اس سے مانگا اور سوال کیاجائے، یا اس سے پناہ چاہی جائے یا اس سے دفع ضرر اور نفع کے حصول کی خواہش کی جائے ، اگر اس کے اندر اتنی ہی طاقت ہوتی تو وہ اللہ سے سوال نہ کرتااور نہ ہی پناہ کا طالب ہوتا۔
خلاصۂ کلام:
اولیاء کرام اللہ تعالیٰ کے وہ برگزیدہ ومقرب ،دوست اور محبوب بندے ہیں جن کے فضائل ومناقب کتاب وسنت میں واضح طور پر بیان ہوئے ہیں ، ایمان وتقویٰ، خوف وخشیت، پر ہیزگاری وللہیت، اور اطاعت واتباع کتاب وسنت ان کے نمایاں اوصاف ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو فرائض کے پابند ، نوافل پر گامزن، محرمات سے گریزاں، مکروہات سے متنفر اور اپنے تمام اعمال میں صرف اور صرف اللہ کی رضاکے طلبگارو خواستگار ہوتے ہیں، ان پر اللہ کی نوازشات ہوتی ہیں ،یہ جب دست سوال درازکرتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں عطافرماتاہے،جب اس کی پناہ ڈھونڈتے ہیں انہیں پناہ میں لے لیتاہے۔
اولیاء اللہ اپنی شکل وصورت میں عام مسلمانوں سے ممتاز نہیں ہوتے ،نہ ہی ان کا کوئی مخصوص لباس ہوتاہے ،اور نہ ہی کوئی مخصوص رنگ،وہ امت محمدیہ کی تمام صفوں میں پائے جاتے ہیں ،علماء و عبادت گذاروں کی صفوں میں بھی اور تاجروں ، صنعت کاروں، کسانوں، اور مزدوروں میں بھی ،جو بھی صاحب ایمان وتقوی ہیں اللہ کے ولی ہیں، ان کا کوئی مخصوص لقب نہیں ہوتا ، معیار ولایت کتاب وسنت کی اتباع ہے نہ کہ کرامت اورخرق عادت، کتاب وسنت ہی وہ پیمانہ ہے جس سے اقوال ورجال دونوں کو پرکھاجاتاہے۔

آپ کے تبصرے

3000