کورونا وائرس اور اسلامی تعلیمات

عبداللہ صلاح الدین سلفیؔ

اللہ تعالی نے اس دنیا کو ہمارے لئے دارالامتحان اور آزمائش کی جگہ بنایاہے، تندرستی وبیماری، عافیت ومرض، خوشی اور غم، آسانی اور تنگی سب انسان کی آزمائش اور امتحان کے لئے ہے، مرض اور بیماری دینے والی ذات بھی وہی ہے جس کے ہاتھ میں کائنات کا سارا نظام ہے،جو زندگی اور موت کی مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں ہمارا جسم وجاں، ہماری سانسیں اور دھڑکنیں اور ہماری تمام حرکات سکنات ہیں، وہی بیماری دینے والاہے اور وہی شفا عطاکرنے والا، اس کے سوا نہ کوئی زندگی اور موت کا مالک ہے اور نہ کوئی بیماری اورشفا پر قدرت رکھنے والا، وہ جس کوچاہتاہے مرض میں مبتلا کردیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے مرض کو دور کردیتاہے۔

آج انسان ہر قسم کی نعمتوں کی فراوانی اور فارغ البالی کے باوجود مختلف بیماریوں کا شکار ہے، ہمارے آبا و اجداد نے ان بیماریوں کانام تک نہیں سنا تھا جن سے آج ہم دوچار ہیں، آج ہرشخص عمدہ سے عمدہ کھانا کھانے اور اعلی قسم کے کپڑے پہننے کے باوجود پریشان حال، غم سے نڈھال اورتکلیفوں سے بےحال ہے۔ قدرتی آفات ومصائب اور حوادث کی کثرت ہے، سیلاب، زلزلے اور آئے دن وبائی امراض کاپھوٹ پڑنا معمول بنتاجارہاہے۔

کتاب وسنت کامطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کسی بھی مصیبت وپریشانی اور بیماری ومرض وغیرہ آنے کے عموما تین مقاصد ہوتے ہیں:

(۱) ابتلا و آزمایش میں ڈالنا:

جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں صبر کامادہ پیدا کرنا،ان کے گناہ معاف کرنا اور ان کے درجات بلند کرنا چاہتا ہے۔
(۲) متنبہ اور خبردار کرنا:
تاکہ لوگ اس پریشانی اور مرض کی وجہ سے برائیوں سے توبہ کرلیں،گناہوں سے باز آجائیں،اللہ کی طرف رجوع کرلیں اور ضلالت وگمراہی سے نکل کر صراط مستقیم پر گامزن ہوجائیں۔
(۳) گناہوں پر سزا دینا:
دنیوی مصیبتوں وپریشانیوں اور امراض وبیماریوں کی ایک وجہ انسان کے گناہ بھی ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ بطور سزاانسان کو مختلف قسم کی پیچیدہ بیماریوں کاشکار کردیتا ہے۔

پھر بھی مؤمن کس قدر خوش نصیب ہے کہ خوشی اور غم، صحت ومرض، دکھ اور راحت بیماری اور عافیت ہر حالت میں اس کے لئے خیر ہے بشرطیکہ خوشی، صحت، راحت اور عافیت میں شکر اور غم، مرض، دکھ، اور بیماری میں صبر سے کام لے۔ چنانچہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ”مومن آدمی کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے مومن آدمی کے کہ اگر اسے کوئی تکلیف بھی پہنچی تو اس نے شکر کیا تو اس کے لئے اس میں بھی خیروثواب ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچا اور اس نے صبر کیا تو اس کے لئے اس میں بھی خیروثواب ہے۔(مسلم؛2999)

قارئین کرام! انسانی علم کی اعلی درجہ کی ترقی، میڈیکل سائنس کے بے انتہا عروج، اس کے وسائل کی بے پناہ وسعت اور انسان کی اتھاہ کوششوں کے باوجود بسااوقات میڈیکل سائنس کی دنیا کسی مرض کااحاطہ کرنے سے قاصر نظر آتی ہے اور انسان کی بے بسی اس وقت مزید نمایاں ہوجاتی ہے،جب ایک باریک ترین وائرس انسانی زندگی کے لئے خطرہ، خطرناک قسم کے وبائی مرض کے پھیلنے کا ذریعہ اورباعث ہلاکت بن جاتا ہے۔
ایسے ہی ایک وبائی مرض اور وائرس کانام کرونا وائرس ہے، جس نے آج دنیا میں ہاہاکار مچا رکھا ہے، ساری دنیا اس سے ڈری اور سہمی نظرآتی ہے، ہر کوئی اس سے بچاؤ کے اپائے اور حفاظتی تدابیر کے بارے میں فکرمند ہے اس کے علاج، دواؤں اور ویکسین کے لئے دنیا نے اپنے خزانوں کے منھ کھول دئے ہیں اورکئی ممالک اربوں ڈالر خرچ کررہے ہیں۔
کروناوائرس Corona Virus کیاہے؟:
کروناوائرس کئی طرح کے وائرسوں کے ایک مجموعہ اورگروپ کانام ہے جو دودھ پلانے والے جانوروں اور پرندوں میں روگ اور بیماری کاسبب بنتے ہیں۔یہ RNA وائرس ہوتے ہیں اور انسانوں میں عموما سانس لینے میں دقت کاسبب بنتے ہیں،اور ان کی وجہ سے بہت تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماریاں جنم لیتی ہیں،جب یہ وائرس کسی انسان کے اندر داخل ہوتے ہیں توکم وبیش 14/دنوں میں اس کے اثرات نظر آنے شروع ہوتے ہیں اور متأثرہ شخص کو نمونیہ، شدید بخار، نزلہ، کھانسی اور سردرد و پٹھوں کے درد سے لے کر نہایت خطرناک بیماریوں جیسے MERS اور سانس اور پھیپھڑوں کی بیماریSARS وغیرہ لاحق ہوتی ہیں، جب یہ بیماری پھیپھڑوں پر اثر انداز ہوتی ہے تو مریض سانس لینے میں دشواری اور دقت محسوس کرتا ہے اور پھیپھڑوں میں آکسیجن کی جگہ پانی بھر جاتا ہے، یہی چیز بالآخر موت کا سبب بن جاتی ہے۔
جدید کرونا وائرس کیا ہے؟:
چین کے ووہان Wuhan شہر سے پھیلنے والا موجودہ کروناوائرس جسے” novel coronavirus” بھی کہاجارہاہے،یہ اس فیملی کاساتواں وائرس ہے، یہ ایسا پُر اسرار وائرس ہے جس کی اس سے پہلے انسانوں میں کبھی کوئی شناخت نہیں ہوئی تھی، اس سے ہونے والی بیماری کو “کووڈ 19“ (Covid19) کا نام دیا گیا ہے جو کورونا corcna، وائرس virus اور Disease کے الفاظ کا مخفف ہے اور 19 کا ہندسہ 2019 کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس سے پہلے SARS-CoV سارس (Severe Acute Respiratory Syndrome) ٢٠٠٣ عیسوی میں آیا تھا اور MERS-CoV (Middle East Respirotary Syndrome) ٢٠١٢ میں آیا تھا۔
کیسے پھیلتا ہے یہ وائرس؟:
سائنس دانوں اور اطباء کی اسٹڈی کے مطابق یہ ایک Droplet infection ہے یعنی متأثرہ شخص کے ساتھ قریبی رابطے،اس کے Touchمیں رہنے اور نششت وبرخاست کی وجہ سے، اس کی کھانسی، چھینک اور سانسوں سے نکل کر يا اس سے ہاتھ وغیرہ ملانے اور پھر اس ہاتھ سے اپنے منھ ناک اور آنکھ چھونے سے یہ وائرس دوسرے میں منتقل ہوجاتا ہے اور دوسرا اس کو inheld کر لیتا ہے۔ کچھ ڈاکٹرس کایہ بھی کہنا ہے کہ یہ Air born infection بھی ہوسکتا ہے، یعنی اس وائرس سے متأثر کسی شخص کے کسی جگہ سے گزرجانے کے بعد بھی یہ وائرس ہوا اور فضا میں سات گھنٹے سےچوبیس گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے۔
علامات Symptoms:
نمونیہ، بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری، پٹھوں میں درد، سردرد اور گلے کی سوزش وغیرہ اس کی اہم علامات ہیں،اول وہلہ میں اس کے جو ۹۹/ مریض ووہان شہر میں پائے گئے اس میں کم وبیش 100٪ لوگوں میں نمونیہ، 82٪میں بخار، 81٪ میں کھانسی، 31٪ میں سانس لینے میں دشواری، 11٪ لوگوں میں پٹھوں کادرد،8٪ میں سردرد اور 5٪ میں گلے کی دشواری پائی گئی ہے،ان کے پھیپھڑوں میں تکلیف تھی اور پھیپھڑوں کے اس حصہ میں جہاں سے آکسیجن کاگزر ہوتا ہے وہاں پانی بھرا ہوا تھا۔
کوروناوائرس کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ:

اس خطرناک وبا کامقابلہ کیسے کیاجائے؟  اس سے کیسے نمٹا جائے؟ اس کو کیسے ڈیل کیاجائے؟ اور اسلامی شریعت کی اس سلسلے میں کیا ہدایات اور تعلیمات ہیں؟۔

مذہب اسلام جہاں ایک طرف اپنے ماننے والوں کو تقدیر پر ایمان اور اللہ عزوجل پرتوکل و بھروسہ رکھنے کا حکم دیتا ہے وہیں دوسری طرف اسباب و ذرائع کے استعمال پر بھی زور دیتاہے اور بیماری وغیرہ کی صورت میں دواعلاج کرنے اور کرانے کی تلقین کرتا ہے۔

کسی بھی مرض اور بیماری کامقابلہ کرنے کے لئے عموما Normaly دو طریقے اور Method ہیں:
(۱) بیماری اور مرض لاحق ہونے سے پہلے ہی بچاو اور حفاظت کی تدابیر اختیار کرلی جائیں۔ اس سلسلے میں ہمیں پیارے رسولﷺ کی سیرت اور احادیث نبویہ میں بہترین ہدایات ملتی ہیں، چنانچہ سیدنا سعد بن أبی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا:”جو آدمی صبح کے وقت (مدینہ منورہ کی) سات عدد کھجوریں کھائے گا تو اس آدمی کو اس دن نہ کوئی زہر نقصان پہنچائے گا اور نہ ہی کوئی جادو۔ (مسلم:2047)
اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:” ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو ہر روز صبح و شام تین بار یہ دعا پڑھے اور اسے کوئی چیز نقصان پہنچا دے:

”بِسْمِ اللَّہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْءٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَھوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم“

(میں اس اللہ کے نام کے ذریعہ سے پناہ مانگتا ہوں جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور وہ سننے والا جاننے والا ہے)
معلوم ہواکہ انسان کو مرض اور پریشانی لاحق ہونے سے پہلے ہی دعا اور دوا کے ذریعہ اپنے بچاؤ اور حفاظت کی تدبیریں کرلینی چاہئیں۔
دور حاضر میں مرض سے پہلے ہی بچاؤ اور حفاظت کے دوطریقے رائج ہیں:
(الف) ویکسین (Vaccine)، جسے لیکر انسان اپنے آپ کو بیماریوں سے خصوصا وبائی بیماریوں اور مختلف قسم کے وائرس سے محفوظ کرلیتا ہے، یہ نہایت ہی عمدہ طریقہ ہے،لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ایک نیا کورونا وائرس nCoV (Novel corona virus) ہے، اور اس کی کوئی ویکسین موجود نہیں، سائنٹسٹ کہہ رہے ہیں کہ اس کی ویکسین تین مہینے کے اندر Testing Stage پر پہونچے گی انہوں نے hope to start clinical trial in three months کاجملہ استعمال کیا ہے اور عوام کے لئے اس کا پروڈکشن ہونے میں کم ازکم ایک سال لگ جائیں گے، ان کے الفاظ ہیں:

It could take a year more before a vaccine is ready to public

اس سے پہلے کورونا وائرس فیملی سے جو دوسرے کوروناوائرس آچکے ہیں مثلا SARS-Cov- جس نے 2003ء میں تباہی مچائی تھی اور چین کے 8000/ متأثرہ افراد میں سے  800 /کی موت ہوگئی تھی، اور MERS-CoV جو۲۱۰۲ء میں آیاتھا، ان دونوں کی ویکسین اب جاکر Testing Satge پر پہونچی ہے، ہم امید کرسکتے ہیں کہ سال بھر کے اندر یہ ویکسین آجائے گی لیکن تب تک بہت تباہی مچ چکی ہوگی اور بڑا خسارہ ہوچکا ہوگا۔ لہذا ویکسین کا میتھڈ ابھی کسی کام کا نہیں ہے۔
(ب) دوسرا طریقۂ کار اجتناب واحتیاط اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کاہے،جیسے متأثرہ علاقے کو Lock down کردینا، مریضوں اور ان کے رابطہ Touch میں رہنے والوں کو قرنطینہ کردینا اور متأثرہ علاقے تک ہی محدود کردینا، اس سلسلے میں اسلام کی تعلیمات نہایت واضح ہیں، چنانچہ صحیح بخاری (5728) میں “اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جب تم سن لو کہ کسی جگہ طاعون کی وبا پھیل رہی ہے تو وہاں مت جاؤ لیکن جب کسی جگہ یہ وبا پھوٹ پڑے اور تم وہیں موجود ہو تو اس جگہ سے نکلو بھی مت۔

ظاہر سی بات ہے کہ جس علاقے کو lock down کیاجائے گا اور وہاں کے لوگوں کو اسی علاقے تک محدود کردیاجائے گا وہاں کے سارے لوگوں میں فی الوقت یہ وائرس نہ ہوں گے، ایسے لوگوں کواسلام صبر کرنے کی تلقین کرتا ہے اور انہیں اجرعظیم کی نوید سناتا ہے۔ جیسا کہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ سے طاعون کے متعلق پوچھا۔ تونبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک عذاب تھا، اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا اس پر اس کو بھیجتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے مومنین(امت محمدیہ) کے لئے رحمت بنادیا، اب کوئی بھی بندہ اگر صبر کے ساتھ اس شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون پھوٹ پڑا ہو، اور یقین رکھتا ہو کہ جو کچھ اللہ نے اس کے لئے لکھ دیا ہے اس کے سوا اس کو اور کوئی چیز نقصان نہیں پہونچا سکتی (اور پھر طاعون میں اس کاانتقال ہوجائے) تو اسے شہید جیسا ثواب ملے گا۔ (صحیح البخاری: 5734)
اگر اسلام کی اس تعلیم پرعمل کیاگیا ہوتا تو یہ پورا پرابلم صرف چین کے ایک صوبے Hubei کی ایک City ووہان Wuhan کا پرابلم ہوسکتا تھا، جہاں کی سمندری جانوروں کی ایک مارکیٹ ”Wuhan South China Seafood Wholesale Market“ سے یہ وائرس شروع ہواتھا۔ لیکن اس علاقے کو lock down اور اس شہر کے لوگوں کو اسی شہر تک محدود نہ کرنے کی وجہ سے یہ وبا پہلے Hubei صوبے، پھر پورے چین، اور بعد میں وہاں سے نکل کر تھائی لینڈ، جاپان، ویت نام، تائیوان، جنوبی کوریا، فرانس،سنگاپور، نیپال، آسٹریلیا، اٹلی، ایران، برطانیہ اور ہندوستان سمیت سوسے زائد ممالک بلکہ تقریبا پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔

بیماری اور مرض سے مقابلہ کادوسرا طریقہ ہے، مرض لاحق ہوجانے کے بعد اس کاعلاج کرنا اور دواؤں کواستعمال میں لانا۔ اسلام نے نہ صرف اس کی ترغیب دلائی ہے بلکہ اللہ کے رسولﷺ نے اس کاحکم بھی دیاہے چنانچہ اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ”اعرابیوں (بدوؤں) نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا ہم (بیماریوں کا) علاج کریں؟ آپ نے فرمایا:ہاں، اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ نے فرمایا: بڑھاپا۔ (سنن الترمذی:2038)

یہ اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی رحمت وعنایت ہے کہ اس نے ہر بیماری کی دوا بھی پیدا فرمائی ہے اگر وہ مرض دیتا ہے تو وہی شفایابی بھی عطا کرتا ہے، اس نے اسی کائنات میں مختلف قسم کی دوائیں پیدا فرمائی ہیں، چنانچہ بعض بیماریاں دواسے دور ہوجاتی ہیں، بعض غذا سے دور ہوجاتی ہیں، کچھ کا علاج زمین کے پودوں میں ہے تو کچھ بیماریاں اللہ کی دیگر چھوٹی چھوٹی مخلوقات کے ذریعہ دور ہوتی ہیں۔
لیکن کوروناوائرس کا کوئی بھی علاج، اور کوئی بھی دوا ابھی ڈاکٹرس کی دست رس سے باہر ہے، اور ہاسپیٹلس میں جو ٹریٹمنٹ چل رہاہے وہ Symptomatic treatment ہے، مثلا کسی کو سانس لینے میں دقت ہے تواسے آکسیجن دے رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ جلد ہی ڈاکٹرس کوئی علاج دریافت کرلیں، ایسی صورت میں ناگزیر ہوجاتا ہے کہ احتیاط سے کام لیاجائے اور حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں، چنانچہ عالمی ادارہ صحت WHO نے لوگوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ بہتر ہے کہ جانوروں کے قریب نہ جائیں اور اگر جانا ضروری ہو تو ماسک Mask لگاکر جائیں، اسی طرح گھر سے باہر نکلیں تو ماسک لگا کر نکلیں، کھانسی اور چھینک کے وقت ٹشوپیپر یارومال کا استعمال کریں، گوشت اور انڈوں کو اچھی طرح پکا کر کھائیں، کھانے سے پہلے اپنے ہاتھ اچھی طرح صاف کرلیں اور دھولیں، کسی بھی چیز کو چھونے یا کسی سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنے منھ، ناک اور آنکھوں کو اس وقت تک نہ چھوئیں جب تک کہ اسے اچھی طرح دھل نہ لیں، ہاتھوں کو کم ازکم 20/ سکنڈ تک اچھی طرح صابن سے دھلیں، انٹر نیشنل ٹریولنگ کے دوران ماسک پہننا ہرگز نہ بھولیں۔
غیر مصدقہ باتیں نہ پھیلائیں:

دیکھنے میں یہ آرہاہے کہ لوگ شوشل میڈیا پر اورعام مجلسوں، ہوٹلوں اور چائے خانوں میں بھی غیر مصدقہ معلومات کو پھیلانے کا کام کررہے ہیں، کوئی مرغوں میں کوروناوائرس ہونے کی اطلاع دے رہاہے اور کوئی انڈوں کو کھانے سے کوروناوائرس ہونے کی خبر دے رہاہے، جبکہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں اس تعلق سے دوسروں سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، اسلام تو کہتا ہے:

”وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْم’‘ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَوَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِک َکَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً“(الإسراء:36)

ترجمہ:اور اس چیز کے پیچھے نہ پڑو جس کاتمہیں علم نہ ہو،بے شک کان،آنکھ اور دل ان میں سے ہر ایک کے متعلق سوال کیاجائے گا۔
اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺنے فرمایا:

”کَفَی بِالْمَرْءِ کَذِبًا أَنْ یُحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِع” (مسلم: مقدمۃ:5)

ترجمہ:کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کر دے۔
لہذا ایک مسلمان کوکسی بھی تعلق سے کسی بھی غیر مصدقہ بات کوشیئر کرنا اور لوگوں میں بلا تحقیق کے بیان کرنا قطعا درست نہیں ہے۔ اس طرح کی افواہوں سے لوگوں میں خوف وہراس پھیلتا ہے اس کے علاوہ اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔
اذکار وادعیہ کااہتمام کریں: وبائی امراض کاپھیلنا ایک خطرناک بات ہے،ایسے حالات میں اس سے نجات پانے کی حتی المقدور کوشش کریں،اس سے نجات کے تمام وسائل اور اسباب اختیار کریں،احتیاط کریں،حفاظتی تدابیر اپنائیں، لیکن یہ بھی نہ بھولیں کہ سب کنٹرول اللہ کے ہاتھ میں، قضاوقدر پر ایمان رکھنے کے ساتھ ہی اللہ کے ساتھ حسن ظن سے کام لیں، اللہ پر توکل کریں، اس کے سامنے باادب بنیں، نہ گھبرائیں، نہ جزع فزع کریں، بلکہ صبر سے کام لیں اور اپنی سلامتی کے لئے اللہ سے دعاکریں۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے بڑی ہی قیمتی بات اپنے فتاوی میں لکھی ہے،وہ رقمطراز ہیں:

”کثیر من المرضی یشفون بلاتداو،إمابدعوۃ مستجابۃ أو رقیۃ نافعۃ أوقوۃ للقلب وحسن التوکل“(مجموع الفتاوی:563/21)

یعنی بہت سے مریض بغیر دواعلاج کے ہی شفایاب ہوجایاکرتے ہیں، یاتو دعاکے شرف قبولیت حاصل کرلینے کی وجہ سے یاکسی نفع بخش دم (جھاڑ پھونک) کی وجہ سے یادل کی قوت اور حسن توکل کی وجہ سے۔
ذیل میں ہم چند دعائیں تحریر کررہے ہیں جس کامسلمانوں کو ہمیشہ اہتمام کرنا چاہئے اور بطور خاص موجودہ حالات میں یہ دعائیں نہایت مفید اور مؤثر ثابت ہوں گی۔ إن شاء اللہ۔

(1) بِسْمِ اللَّہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہِ شَیْءٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ۔(ابوداؤد: 5088)

اللہ کے نام سے جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے۔
پچھلے صفحات میں ہم اس دعا کوذکر کرچکے ہیں اور بتلاچکے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺنے اس دعاکے بارے میں یہ ارشاد فرمایاکہ جو شخص اس دعاکو صبح وشام تین مرتبہ پڑھے تواسے کوئی چیز اور ناگہانی آفت وپریشانی نقصان نہیں پہنچاسکتی۔

(2) اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللَّہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَأَہْلِی وَمَالِی،اللَّہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَتِی، وَآمِنْ رَوْعَاتِی، اللَّہُمَّ احْفَظْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ، وَمِنْ خَلْفِی، وَعَنْ یَمِینِی، وَعَنْ شِمَالِی، وَمِنْ فَوْقِی، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی۔(ابوداؤد:5074)

ترجمہ: اے للہ! میں تجھ سے دنیا و آخرت میں عافیت کا طالب ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے عافیت اور عفو و درگزر کاسوال کرتا ہوں، اپنے دین و دنیا،اہل و عیال اورمال میں (بہتری و درستگی کی) درخواست کرتا ہوں، اے اللہ! ہماری ستر پوشی فرما۔ اے اللہ! ہماری شرمگاہوں کی حفاظت فرما، اور ہمیں خوف و خطرات سے مامون و محفوظ رکھ، اے اللہ! تو ہماری حفاظت فرما آگے سے، اور پیچھے سے، دائیں،بائیں اوراوپر سے اور میں تیری عظمت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں اچانک اپنے نیچے سے پکڑ لیاجاؤں۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ ہمیشہ صبح وشام اس دعا کو پڑھتے تھے کبھی ترک نہ کرتے تھے۔ اگرہم اس دعا کے معانی پر غور کریں توہمیں معلوم ہوگا کہ ان کلمات کے ذریعہ دعاکرنے والا بندہ اپنے رب سے ہر طرح کی دنیوی واخروی آفات وبلایا سے خود کو،اپنے اہل وعیال کو اور اپنے مال ومنال کو Secure کرلیتا ہے۔

(3)اللَّہُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی،اللَّہُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اللَّہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ (ابوداؤد: 5090)

ترجمہ: اے اللہ! تو میرے جسم کو عافیت نصیب کر، اے اللہ! تو میرے کان کو عافیت عطا کر، اے اللہ! تو میری نگاہ کو عافیت سے نواز دے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔
یہ دعا صبح وشام تین تین مرتبہ پڑھنی چاہئے،اس سے انسان کو جسمانی عافیت اور سیکیورٹی نصیب ہوگی۔

(4)اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِکَ،وَتَحَوُّلِ عَافِیَتِکَ،وَفُجَاءَۃِ نِقْمَتِکَ،وَجَمِیعِ سَخَطِکَ۔ (مسلم:2739)

اے اللہ میں تیری نعمت کے زوال سے اور تیری عافیت اور صحت کے پلٹ جانے سے اور اچانک مصیبت آجانے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
اللہ کے رسولﷺ کی اس دعا کو بھی برابر پڑھتے رہنا چاہئے۔

(5)اللَّہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُونِ،وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَیِّءْ الْأَسْقَامِ.(ابوداؤد:1554)

ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں برص، دیوانگی، کوڑھ اور تمام بری بیماریوں سے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے بیان کے مطابق اللہ کے رسولﷺ اس دعا کابھی اہتمام کیاکرتے تھے۔
اگر کبھی کسی مریض کی عیادت کے لئے جائیں یاکسی مریض سے ملاقات ہوتو یہ دعاضرورپڑھنی چاہئے۔

الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہِ وَفَضَّلَنِی عَلَی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلًا۔(ترمذی:3432)

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا جس نے کسی (بیماری یامصیبت میں) مبتلا شخص کودیکھ کر یہ دعا پڑھی تواسے وہ بلا نہ پہونچے گی۔
آخری بات: جب کوئی وبا ظاہر ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں توانسان کواپنی کم مائیگی، کمزوری اور اپنی طاقت کی محدودیت کااحساس ہوتا ہے، سچ فرمایا اللہ عزوجل نے:

”وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا“(النساء:28)

اور انسان کمزور پیدا کیاگیا ہے۔اور معلوم ہوجاتا ہے کہ انسان اور اس کاعلم دونوں ہی کتنے ناقص ہیں،یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ کا ہر فیصلہ مبنی برحکمت ہوتا ہے، رات سے دن کی اہمیت کاپتہ چلتا ہے اور بیمای سے صحت کی اہمیت کااندازہ ہوتا ہے۔یقینا تمام اختیارات اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ہر طرح کی عافیت وسلامتی کا دینے والا اور مرض سے شفا عطا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ایک مومن کایہ عقیدہ ہونا چاہئے کہ اللہ کی مرضی اور حکم کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوتا،اسی کی مرضی سے کوئی بیماری لاحق ہوسکتی ہے اور وہی ہر مریض کو شفا عطا کرنے والاہے، اور اللہ پرتوکل اور اس کے فیصلے پر رضا مندی کااظہار ہی ایک مومن سے مطلوب اصلی ہے۔

آپ کے تبصرے

3000