عورت مارچ اور ہم

ام حبان بہاولپوری سماجیات

یہ ہفتہ عورت کے نام سے منسوب کیا گیا ہے تو ہم مشاہدات کی روشنی میں اس حوا کی بیٹی کو مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کر کے ان کا زندگی گزارنے کے طریقے پر بات کریں گے ۔ہماری گزارش ہے مزاح کو مزاح ہی رہنے دیجئے گا جس میں ذوق کی کمی ہے وہ اگنور کر کے آگے بڑھ جائے ۔
تو ہم بتاتے ہیں یہ پہلی قسم واقعی مظلوم خواتین ہیں جو بے جا قدغن لگاتے بھائیوں سے دکھی رہیں اب شادی بھی ایسے ہی بھائی نما کزن سے خاندان میں ہی ہورہی ہے ان کے لیے شادی کا مطلب ایک زندان سے نکل کر دوسرے میں جانا ہے
اس لیے یہ بے تاثر ہی رہتی ہیں ۔
اور کچھ کو والدین کے گھر پابندیاں تھیں مگر شوہر نے بے جا آزادی دے دی تو اب ان کی کوشش ہوتی ہے گاڑی خود ڈرائیو کریں، سکارف سے نجات حاصل کریں، جینز پہننے کو ترجیح دیں کبھی ایسے ہی حلیے میں والدین کے گھر آجائیں تو ابا کی ڈانٹ سن کر جاتی ہیں ابا دبنگ اعلان کردیتے ہیں “بیٹی ایسے حلیہ میں ہمارے گھر مت آیا کرو، چار آدمیوں میں ہماری عزت بنی ہوئی ہے” اور یہ بیچاری اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ہیں ۔
اور کچھ شادی کے ایک دو سال تک میکے سے فون آنے پر پہلے دس منٹ رو کر گزارتی ہیں وہ تو اللہ کا شکر ہے موبائل پیکجز سستے ہیں ورنہ صورتحال بہت گھمیر بنا رکھی ہےان خواتین نے اور انتہاء تو تب ہوجاتی ہے جب سسرال میں ان کی سالگرہ منانے کا فل ماحول بنا ہوتا ہے اور کیک کٹنے سے پہلے میکے سے فون آگیا اور ان کا دھواں دار رونا شروع اور یہ ہیں کہ روتے ہوئے اداکاری میں مینا کماری کو بھی مات دے دیں ۔
اور وہ جن کی نبض شاپنگ سے چلتی ہے جی ہاں یہ پہلے جائیں گی خریداری پر ان کے مسائل میں سر فہرست یا کلر ان کی مرضی کا نہیں ہوتا یا فیبرک ، سمجھوتہ کرنا انھوں نے سیکھا نہیں ہوتا۔ ایسی شاپنگ کی کریزی خواتین دوکان دار کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوتی ہیں، دکان دار چاپلوسی کر کر کے تھک جائیں گے باجی یہ کلر آپ پر بہت سوٹ کرے گا ” ان کا جواب یہ ہی ہوگا مگر میری جٹھانی یہ کلر پہلے پہن چکی ہے “۔
کچھ بیوٹی سیلون صرف اس لیے جاتی ہیں کہ سب جارہی ہیں ہم نہیں جائیں گے تو کتنا برا لگے گا بی کاز اٹس ٹرینڈنگ۔
بعض شادی کے بعد والدین کے جانا حرام سمجھتی ہیں ان کا میکہ عموماً اسی شہر میں ہوتا ہے یہ میکے جا کر دو گھنٹے بعد ہی شوہر کے ساتھ واپسی کا کرتی ہیں ماں کو یہ بول کر یہ ہمارے بغیر کھانا نہیں کھاتے ؟ جیسے ان کے شوہر نامدار پہلے پچیس تیس سال فاقہ زدہ رہے ہیں ۔
عموماً یہ خاندان کی ان ساس امیوں کی پسندیدہ ہوتی ہیں جو بہو کے دو دو ماہ میکے کے قیام سے بہت دکھی ہوتی ہیں ایسے میں دکھی ساسو مائیں ان اپنی بہووں کو میکے جانے سے ڈائرکٹ روکنے کے بجائے ایسی میکے نہ جانے والی کی تعریف کر کے بہووں پر جتانا چاہتی ہیں دیکھو جی آتے ہی گھر سنبھال لیا میکے تو جاتی ہی نہیں، بہو بھی کہاں متاثر ہوتیں ترنت جواب دیں گی امی جان رہنے دیجئے جو عورت والدین کی نہیں وہ کسی کی نہیں، جس ماں نے اتنا عرصہ پالا اسی ماں سے نہیں بنا کر رکھ سکی ۔
اور ساسو ماں ٹھنڈی آہ بھر کر بیٹے سے امید باندھ لیتی ہیں کہ شاید بیٹا ہی اس بے لگام کو لگام ڈال لے مگر بیٹا ازلی ڈھیٹ بچپن سے رن مریدی کے خواب دیکھتا آیا ہے ” الٹا ماں کو تسلی دے گا امی آپ اس دوران باجی کو گھر بلوا لیا کیجئے نا ”
ان میں سے بیشتر کے شوق صبح مارننگ شو دیکھنا ہوتا ہے یہ ان مارننگ شوز میں گھر بسانے کے طریقوں پر کم رنگ گورا کرنے کے ٹوٹکوں پر زیادہ فوکس رکھتی ہیں ۔
رات آٹھ سے گیارہ بجے کا وقت ٹی وی چینلز پر پاکستانی و انڈین ڈرامے دیکھ کر گزرتا ہے اور ان کی اس مستقل مزاجی پر داد دینا بنتی بھی ہے۔
ان کے وٹس ایپ عبارت پر عموماً ایسے فقرے درج ہوتے ہیں ” عورت وہ سستا مزدور ہے جسے یہ کہہ کر کہ تم اس گھر کی مالکن ہو عمر بھر مزدوری کرائی جاتی ہے ” جبکہ یہ سستا مزدور چھوٹی عید پر پچاس ہزار اور بڑی عید پر تیس ہزار کی شاپنگ کرتی ہے۔
انھی میں ایسی باپ کی شیرنیاں بھی ہیں ابا نے کہا ہوتا ہے بیٹا خاوند سے زرا سا جھگڑا ہو گڈی میں بیٹھنا اور میرے پاس چلی آنا ساتھ دو چار جذباتی جملے ابا جی ٹانک ضرور ٹانک دیتے ہیں”دو وقت کی روٹی بیٹی کے لیے بھاری نہیں ”
بیٹی چاہے کھاتے ہوئے روٹی کا پہاڑ ختم کردے، ان کی مائیں بھی ہلا شیریاں دیتی ہیں اور شادی شدہ بہنیں کمک پہنچاتی رہتی ہیں بس سسرال میں اپنی پرانی روش پر قائم رہنا، ایسی کسی خاتون کو ہم نے بول دیا اماں جی آپ بچی بسانے کی فکر کریں نہ کہ الٹے سیدھے مشورے دیا کریں،اور جواباً اماں جی ہمیں گھور کر رہ گئیں ۔
کچھ کا خاص موضوع گفتگو میکے اور سسرال میں موسم کا تقابل ، موسم سرما ہو گرما سسرال میں گزرا ہر موسم شدت لئے اور نا قابلِ برداشت ہوتا ہے۔ میکے چاہے چند گھنٹے کی مسافت ہو مگر ان کے بیانیے کے مطابق وہاں کا موسم ہمیشہ خوشگوار ہوتا ہے اور weather اپڈیٹ کا ہوم ورک مکمل رکھتی ہیں ۔ان کو بندہ جیو نیوز موسمیات میں نوکر رکھوا دے چار پیسے تو کما کر لائیں گی ۔
کچھ وہی بے حد باتونی بقول مفتی طارق مسعود صاحب فوتگی میں بھی بات کرتی رہتی ہیں ایسی ہی ایک خاتون ہمارے عزیز کے ہاں میت پر ہم سے دریافت کرنے لگیں حبان کی مما آپ کا گھر بن گیا؟ شفٹ کب ہونا ہے؟ قبل اس کے وہ مکان کا تخمینہ لاگت کھنگالتیں ہم نے نماز کی نیت باندھنے میں عافیت جانی۔
کچھ مذہبی مگر ان کا مذہب صرف مختلف خود ساختہ وظائف تک رہتا ہے یا ان کی زندگی میں واحد ایکسائٹمنٹ خواتین جمع کرکے قرآن خوانی کروانا ہے یا دردو تنجینا پڑھوا لی، ایسی محافل میں شریک خواتین کو قرآن پڑھنے سے کم اپنے ڈیزائنر کپڑے شو آف کرانے سے دل چسپی ذیادہ ہوتی ہے، ایسی محافل کثیر المقاصد ہوتی ہیں، اور ان میں واحد مذہبی نصیحت “اذان ہورہی ہے خاموش ہوجاؤ ” ہوتی ہے اور ساتھ محلے کے ہر گھر کی اپڈیٹ شئر کر لی جاتی ہے ۔

کچھ سٹیٹس کانشس خواتین جن کی بات کا آغاز ہوتا ہے یو کے میں خالہ رہتی ہے، کینیڈا میں ماموں، لندن میں پھپھو۔
غلطی سے کبھی ایسے عزیز کوئی تحائف بھیج دیں یہ اس کا پرائس ٹیگ نہیں ہٹاتیں، مزید وہ تحائف لوگوں کو دکھاتے ہوئے اس کی قیمت ڈالر یا پاؤنڈ میں بتاتی ہیں ۔

کچھ کو انگلش لویریا ہوتا ہے مگر یہ بی اے کے امتحانات میں تیسری بار فیل ہوکر گھر بیٹھ کر انگریزی بولنے کا شوق پورا کرتی ہیں ” میری فنگر پر نا فلائی نے بائٹ کر لیا، ”
ان سے غلطی سے مسٹیک ہوجاتی ہے۔
کچھ میں سینس آف ہیومر نام کو نہیں ہوتا اپنے جوکس پر خود ہی انجوائے کرتی ہیں، اگر یہ ٹیچر ہوں انھیں بولا جائے ” بچے کی کتاب کا صفحہ جام شہادت نوش کرگیا ہے آپ پلیز کسی بچے سے اس صفحے کی فوٹو کاپی کروادیں جواباً ایک قہقہے کے ساتھ کہیں گی کلاس میں کسی بچے کی کتاب سلامت نہیں ملے گی ۔بچے کی ماں بھی سن کر کنفیوژ ضرور ہوگی اس میں ہنسنا کہاں تھا؟

اور پھر آتی ہیں ہم جیسی وہ لیجنڈز جو فطرتاً کاہل سست الوجود مگر کتابی کیڑا ہوتی ہیں مگر اماں کو کتابوں سے چڑ اور ہم جیسی بیٹیوں کو گھر کے کاموں میں الجھائے رکھنے کا شوق ذیادہ ہوتا ہے ہم جیسی خواتین امی کی گالیوں سے بچنے کے لیے والدین کے گھر مارے باندھے کام کرتی تھیں اور مدد طلب نظریں ابا پر شاید وہ ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے کام کا بوجھ ہلکا کرا دیں مگر ابا بھی بیگم سے خوف کھا کر حالات سے سمجھوتہ کر چکے ہوتے ہیں یا اماں ابا کو یہ کہہ کر خاموش کرا دیتی ہیں ” انھوں نے اگلے گھر جانا ہے کوئی آسمان سے شہزادہ نہیں اترنے والا “🤦🏼‍♂ایسے میں یہ خواتین والدین کو لے کر عورتوں کی شیخ محسن بن چکی ہوتی ہیں۔
کبھی بہن کہہ دے امی بیٹے کی وجہ سے رو رہی تھیں تو ایسی خواتین سفاکیت سے کہتی ہیں ” ہمارے والدین کے اعمال بھی کوئی اتنے اچھے نہیں ہوتے ، ساری تربیت بیٹیوں کے لئے اور بیٹوں کو اوور Facilitate کر کے بگاڑنے میں ان والدین کا ہی ہاتھ ہے جبکہ خود یہ بھائیوں سے زیادہ بگڑ چکی ہوتی ہیں ۔
شادی شدہ زندگی میں یہ خواتین اگر سالن میں نمک ڈالنا بھول جائیں اور انھیں بطورِ طنز لقمہ ٹھنسا کر باور کرایا جائے آج پھر سالن میں نمک نہیں ہے یہ یہ اثر لئے بغیر بولتی ہیں “ایزی ہوجائیں، کچن میں جائیے حسب ذائقہ نمک سالن میں ڈالیں یا نمک میں سالن ۔ گھریلو زندگی پر ہوم ورک مکمل رکھتی ہیں کب شوہر کو جذباتی بلیک میل کرنا ہے، طعنوں کی فہرست ہمہ وقت جیب میں رکھنی ہے یہ بھی کہ موقع کی مناسبت سے کون سا طعنہ کب دینا ہے۔
اور اگر کبھی خاوند بول دے ملک شیک میں بناتا ہوں کم از کم جگ تو دھو دیا کرو تو مشورہ دیتی ہیں ” ملک شیک پی کر ساتھ ہی جگ دھو دیا کیجئے تاکہ اگلے دن کوفت نہ ہو ”
کیونکہ ہم نے سوشل میڈیا پر عورت کے حقوق پر آواز اٹھانی ہوتی ہے ” ظالم معاشرہ کب عورت کو اس کا حق دے گا۔

آپ کے تبصرے

3000