مردوں کی فطرت اور پردے کے سخت احکامات

سعیدالرحمن سنابلی سماجیات

اپنے حسن اور جسم کی نمائش یا چھپانے کو لے کر لڑکیاں تین طرح کی ہوتی ہیں۔ پہلی وہ لڑکیاں جو اپنے پورے جسم کو چھپا کر رکھنا چاہتی ہیں۔ ایسی لڑکیاں مکمل طور سے حجاب کرتی ہیں۔ جسم کو چہرے سے پیر تک ڈھانپنے کے لیے ڈھیلا ڈھالا نقاب پہنتی ہیں۔ بہت سی لڑکیاں تو ہتھیلی، پیر کے پنجے اور آنکھوں تک کو چھپا کر رکھتی ہیں۔ اس میں وہ لڑکیاں ہرگز نہیں آتی ہیں جو کسی دباؤ میں حجاب کرتی ہیں اور موقع پا کر نقاب اتار دیتی ہیں۔
دوسری قسم ان لڑکیوں کی ہے جو اپنے پورے جسم کو نمائش کا سامان سمجھتی ہیں۔ وہ بالکل حجاب نہیں کرتی ہیں۔ چہروں اور بالوں کی زینت پر خوب خرچ کرتی ہیں۔ اوپر کے کپڑے ایسے پہنتی ہیں جن سے ان کے جسم کے نشیب وفراز دور سے ہی نظر آ جائیں۔ اگر انھیں ماحول ملے تو یہ صرف بکنی اور ٹاپ میں گھومیں۔ لیکن کم از کم ہندوستانی سماج میں ان کے لیے کھلے عام یہ ممکن نہیں ہے۔
لڑکیوں کی تیسری قسم وہ ہے جو جسم کی نمائش پر یقین تو نہیں رکھتی ہیں لیکن چہرے کے بارے میں ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ دیکھیں۔ خاص طور پر جب لڑکی تھوڑی حسین ہو تو اس کے لیے چہرہ چھپانا اور مشکل ہوتا ہے۔ یہ لڑکیاں چہرہ چھوڑ کر باقی جسم کا حجاب کرتی ہیں۔ ایک کلاس میٹ کہتا تھا یہ جو لڑکیاں حجاب میں چہرے کو کھلا چھوڑ دیتی ہیں ان کا چہرہ اور زیادہ گلاب کی طرح کھل جاتا ہے اور ان کا اٹریکشن بالکل حجاب نہ کرنے والیوں کے مقابلہ میں بڑھ جاتا ہے۔ چہرہ کھلا رکھنے کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ کوئی انھیں آنٹی نہ سمجھ لے۔ یا کچھ تو اس لیے نہیں چھپاتی ہیں کہ لوگ انھیں کنزرویٹیو نہ سمجھ لیں۔ لیکن کچھ اتنی بھولی ہوتی ہیں کہ شلوار قمیص کو عصمت کا محافظ سمجھتی ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے فیگرز تک لڑکوں کی رسائی بالکل آسان رکھتی ہیں۔ وہ لڑکیاں بھی انہی میں آتی ہیں جو ڈھیلے جینس اور شرٹ کے ساتھ اسکارف میں رہتی ہیں۔ مردوں کی ذہنیت کو سب سے بہتر پہلے اور دوسرے نمبر کی لڑکیاں ہی سمجھتی ہیں۔ اور ان کی ذہنیت کے حساب سے خود کو مینٹین رکھتی ہیں۔ تیسرے نمبر کی لڑکیاں بالکل بھولی ہوتی ہیں یا بھولی بنتی ہیں۔

ایک بار میں نے تیسرے نمبر کی ایک شریف اور بھولی بھالی لڑکی سے پوچھا تم صرف شلوار قمیص کیوں پہنتی ہو؟ ٹائٹ جینس اور ٹی شرٹ کیوں نہیں پہنتی ہو؟ اس نے جواب دیا “لڑکے گھورتے ہیں”۔ میں نے کہا لڑکے اپنی آنکھوں سے تیز اپنے رنگین ذہن چلاتے ہیں۔ اگر کسی لڑکی نے شلوار قمیض کے اوپر ڈھیلا نقاب بھی پہنا ہو تب بھی۔ گرچہ ایسی لڑکی کا معاملہ ذرا سا الگ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لڑکی جو پورے نقاب میں بھی ہو تب بھی مردوں کی ہوس سے بچنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ گرچہ نقاب والی کے ساتھ اس کے چانسز انتہائی کم ہوجاتے ہیں۔ لیکن نقاب میں بھی ایک عورت مرد کے ذہن رسا کی پہنچ سے باہر نہیں ہے۔ وہ عورتیں خوش فہمی میں ہیں جو آدھا ادھورا نقاب پہن کر خود کو محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ اتنا سن کر اس نے کہا تب عورتیں کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ میں نے کہا ایک باحیا عورت کے لیے گھر کی چہار دیواری سے محفوظ کوئی جگہ نہیں ہے۔ اور قرآن کی آیت سنا دی “وقرن بھی بیوتکن” یعنی اپنے گھروں کے سب سے اندر والی کوٹھری میں چھپ کر رہیں۔ مطلب غیر محرم مردوں کی نگاہوں سے جتنا زیادہ ہو سکے دور رہیں۔ اور انتہائی سخت ضرورت نہ ہو تو چہار دیواری کی سیکورٹی کو توڑ کر باہر نہ نکلیں۔ اور اگر کوئی غیر محرم مرد کسی آڑ سے یا فون پر بات بھی کرے تو اتنے روکھے اور سخت لہجے میں بات کریں کہ کوئی ٹھرکی دل نہ دے بیٹھے۔ اور اگر کسی عورت کو مجبوراً باہر نکلنا بھی پڑے تو خود کو مکمل طور سے پردے میں چھپا کر نکلے۔ یہ ڈھیلا ڈھالا، زیب و زینت سے خالی نقاب مرد کی فطرت کو بدل تو نہیں سکتا لیکن اس کی ذہنی پرواز میں روڑا ضرور بن جاتا ہے۔ یا وہ مرد جس میں تھوڑی بھی شرافت باقی ہو اس کی کے دل میں احترام ضرور پیدا کر دیتا ہے۔ چونکہ مردوں کی نگاہیں عورتوں کے بند نقابوں کو بھی چیر کر اندر چلی جاتی ہیں اس لیے عورتوں کے حجاب میں ہونے کے بعد بھی مردوں کو حکم دیا گیا کہ نظریں جھکا کے رکھیں۔ اور عمر کے جس بھی مرحلہ میں شہوت عروج پر پہنچ جائے کسی من پسند لڑکی سے شادی کر لیں۔ ایک نہیں دو چار سے کر لیں لیکن پاکباز لڑکیوں پر غلط نگاہ نہ ڈالیں۔ اپنی محفلوں میں ان کی عزتوں سے کھلواڑ نہ کریں۔ یہ پاک باز بچیاں تمھاری اگلی جنریشن کی معمار ہیں۔ اللہ کے واسطے ان کا احترام کریں۔

 مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ پورن دیکھنے والی جنریشن کو شریف اور باحیا لڑکیاں اتنا بھولا کیوں سمجھتی ہیں؟ اسی لیے نا کہ لڑکے جب ان سے ملتے ہیں تو شرافت سے بات کر لیتے ہیں۔ لیکن کوئی لڑکا یہ نہیں بتاتا کہ لڑکوں کی نجی محفلوں میں کن کن شریف لڑکیوں پر گفتگو ہوتی ہے، قہقہے لگتے ہیں۔ جو لڑکے شریف بن بن کر زیادہ کلوز ہونے کی کوشش کریں ان سے اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ لڑکے اس معنی میں شریف ہو ہی نہیں سکتے کہ انھیں لڑکی سے دلچسپی نہ ہو۔ کوئی لڑکا ایسا کہتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ جھوٹوں سے اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ کئی دفعہ لڑکے کسی لڑکی کو اس نظر سے نہ دیکھتے ہوں۔ ایسا عام طور پر اس وقت ہوتا ہے جب لڑکے کسی ذہنی تناؤ میں ہوتے ہیں یا کسی دلچسپ کام میں مصروف ہوتے ہیں۔ جن بدصورتوں کو لڑکیاں زیادہ لفٹ نہیں دیتیں وہ ہوس کے مارے ایسی لڑکیوں سے چپکے پھرتے ہیں جن کو وہ کبھی شادی کے لیے پسند نہ کریں۔ یاد رکھیں ہر لڑکا ٹھرکی ہوتا ہے۔ جو جتنا بڑا ٹھرکی ہوتا ہے اتنی ہی چالاکی اور شرافت سے لڑکیوں کو گھیرتا ہے۔

مردوں کے اس نفسیاتی پہلو کو جاننے کے بعد بھی وہ شریف لڑکیاں جو بلا شدید ضرورت کے آدھے ادھورے پردوں کے ساتھ گھروں سے نکلتی ہیں کیا وہ اپنے پردے کو مکمل سمجھتی ہیں؟ آپ اللہ کے حکم پر اعتراض تو کر سکتی ہیں لیکن مردوں کی اس فطرت کا کیا کریں گی جو ایک حقیقت ہے؟ گھروں میں رہ کر اپنے گھر کو رہنے لائق بنانا اتنا برا کام بھی نہیں ہے۔ لاک ڈاؤن میں دنیا بھر کی خاک چھاننے والا مرد خود کو گھر میں مہینوں کے لیے بند کر سکتا ہے تو کیا اللہ کے حکم پر عورتیں گھروں کو اپنی اصل جگہ نہیں بنا سکتی ہیں؟ جب اللہ نے اہل ایمان مردوں پر اپنی بیویوں کی ذمہ داریاں فرض کر دی ہے تو پروفیشنل تعلیم کے نام پر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مارے مارے پھرنا اتنا بھی کیا ضروری ہے؟ گھر بیٹھ کر اپنے بچوں کو ایک اچھا، رحم دل، ذمہ دار، عورتوں کا احترام کرنے والا مرد بنانا کیا برا کام ہے؟ اہل ایمان بہنیں کیوں دنیا کو اوروں کی نگاہ سے دیکھ رہی ہیں۔ وہ کیوں زندگی کو آخرت کی زندگی سے کاٹ کر دیکھتی ہیں۔ یقیناً جن کے ہاں آخرت کا کوئی کانسپٹ نہیں ہے ان کے لیے دنیا ہی سب کچھ ہے۔ ان کے نزدیک گھروں میں بیٹھے رہنے کا حکم نا انصافی کے مترادف ہے۔ لیکن اہل ایمان کے نزدیک یہ حکم تو بس عارضی دنیا کے لیے ہے جہاں عورتوں پر گھر کے اندر رہ کر گھر کو سکون کی جگہ بنانے کی ذمہ داری سے باندھا گیا ہے تو مردوں کو کسی بھی طرح سے اپنے بیوی بچوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی ذمہ داری سے باندھا گیا ہے۔ اہل ایمان کی نگاہ میں کوئی آزاد نہیں ہے اس دنیا میں لیکن جو آخرت کو نہیں مانتے ان کے نزدیک دنیا میں وہی مرد عورت کامیاب ہیں جو ساری بندشوں سے آزاد دنیا سے جتنا زیادہ لطف اندوز ہو سکیں۔ پھر یہ لوگ اپنے پلان اور زندگی کے گول بھی اپنے اسی عقیدے کے حساب طے کرتے ہیں۔ لیکن اہل ایمان کیوں اپنے گول اور لائف اسٹائل کو اُن سے میچ کرنے کی کوشش کریں۔ جب ہم ایمان کی نگاہ سے ہر چیز کو دیکھیں گے تو ہمیں اللہ کے احکامات بہت مناسب معلوم ہوں گے۔ لیکن جب ہماری زبان پر کچھ، دل میں کچھ اور نگاہوں میں کچھ اور سمایا ہوگا تو ہم نہ تو ادھر کے رہ جائیں گے نہ ادھر کے۔ بڑے تعجب کی بات ہوگی کہ دنیاوی زندگی کے بارے میں ہمارا تصور یہ ہو کہ دنیا بس ایک عارضی امتحان گاہ ہے۔ لیکن دنیا کے گول اور ہدف اُن کو دیکھ کر بنائیں جو دنیا ہی کو اول اور آخر سمجھتے ہیں۔ کتنی غیر دانشمندانہ بات ہے؟ 
کہنے کا مطلب صرف اتنا ہے کہ پردے کے بارے میں مردوں اور عورتوں کے لیے اللہ کے جو احکامات ہیں ان کی ویسی ہی پابندی ہونی چاہیے جیسی شدت کے ساتھ اللہ نے حکم دیا ہے۔ اس میں تین پانچ کر کے راہ نکالی جائے تو ضرور نکل جائے گی لیکن شاید ہم اللہ کی منشا کو نہیں پاسکیں گے۔ ہاں کچھ شدید ضرورتوں میں اگر گھر سے نکلیں تو مردوں کی اس فطرت کو کبھی نگاہ سے اوجھل ہونے نہ دیں۔ پورے نقاب کا اہتمام کریں اور لڑکوں سے وہ دوری بنا کر رکھیں جس کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ اور لڑکوں کے لیے بھی جو احکامات ہیں مومن لڑکے بھی ان کی پاسداری کریں۔

تلخ لگے تو بھی یہی حقیقت ہے۔ مرد اور عورت کی یہی فطرت ہے۔ اس سے آپ نظریں چرا سکتے ہیں اور بالکل آپ نظر چرا کر گزر جائیے۔ لیکن اس سے انکار نہیں کر سکتے ہیں۔ عقلمند ہیں وہ لوگ جو اللہ کے حکموں پر اعتراض کرنے کے بجائے ان احکام سے مختلف انسانوں کی سائیکالوجی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ خود سے انسانوں کی سائیکالوجی سمجھنے بیٹھیں گے تو پوری زندگی بیت جائے گی لیکن انسان کی سائیکالوجی کے بارے میں دسیوں نظریات میں ایک نظریہ کا اضافہ کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکیں گے۔ زندگی بہت مختصر ہے اسے چاہیں تو اللہ کے احکام کے آگے سر تسلیم خم کر کے گزار کر آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی نعمتوں میں داخل ہو جائیں۔ یا پھر اللہ کے احکام پر اعتراضات کرتے ہوئے آخرت کی ناکامیاں مول لے کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

2
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
1 Thread replies
1 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
ابن فیاض

میں تو سعید الرحمن صاحب کو ٹھرکی ہی سمجھتا تھا..😊😊 لیکن بندہ تو ماشاء اللہ بالکل میری طرح ہے.. باہر سے کچھ بھی ہو اندر سے شریف ہے..
اللہ تعالی جزائے خیر دے

سعید الرحمن چودھری

😅😅
یہاں تو آپ کو پہچاننا مشکل ہو رہا. تعارف ہو جائے تو “خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو”🤣