لوگ تیرے نام سے گھبرا گئے

ثناء اللہ صادق تیمی شعروسخن

لوگ تیرے نام سے گھبرا گئے

اور ہم انعام سے گھبرا گئے


عشق میں کرتے رہے وعدے بہت

ایک بس پیغام سے گھبرا گئے


جانے وہ کس حال میں وارد ہوا

ہم نوا گل فام سے گھبرا گئے


ایسا بھی اک وقت آيا مے کشو

مے کدہ سے جام سے گھبرا گئے


ہم نہیں وہ اور ہوں گے زندگی!

جو کبھی بھی کام سے گھبرا گئے


ویسے تو الفت میں تھے پختہ بہت

ہاں مگر الزام سے گھبرا گئے


آپ جو حاکم تھے خاص الخاص کے

کیا ہوا جی عام سے گھبرا گئے


ہم نے اک دن بات میں ساگر کہا

اور وہ اس نام سے گھبرا گئے

آپ کے تبصرے

3000