حاملہ اور مرضعہ کا روزہ

محمد ضیاء الحق تیمی رمضانیات فقہیات

کسی بھی اختلافی مسئلہ پربحث کرنے سے پہلے محلِ نزاع کی تعیین بہت ضروری ہے، تاکہ جو متفق علیہ مسائل ہیں انہیں اس اختلاف سے خارج سمجھا جائے۔ حاملہ اور مرضعہ کے روزہ کے تعلق سے بھی اہل علم نے کچھ مسائل میں اتفاق نقل کیا ہے، اور کچھ مسائل ان کے نزدیک مختلف فیہ ہیں، پہلے ہم ان مسائل پر غور کر لیتے ہیں جن پر اتفاق نقل کیا گیا ہے۔ تاکہ محل نزاع کی صحیح تعیین ہو سکے۔
• محی السنہ بغوی “شرح السنة” (6/ 316) میں فرماتے ہیں:
«قال أبو عيسى: حديث أنس بن مالك الكعبي حديث حسن، ولا نعرف لأنس بن مالك هذا عن النبي صلى الله عليه وسلم غير هذا الحديث الواحد، والعمل على هذا عند أهل العلم أن الحامل والمرضع، إذا خافتا على ولديهما، تفطران وتقضيان.
واختلفوا في أنه هل يجب عليهما الإطعام أم لا؟ فذهب قوم إلى أنهما تطعمان مع القضاء، يروى ذلك عن ابن عمر، وابن عباس، وهو قول مجاهد، والشافعي، وأحمد، سئل ابن عمر عن الحامل إذا خافت على ولدها، قال: تفطر وتطعم مكان كل يوم مسكينا مدا من حنطة».

“ابو عیسی ترمذی فرماتے ہیں: حدیث انس بن مالک الکعبی حسن حدیث ہے، ان سے اس حدیث کے علاوہ کوئی دوسری حدیث مروی نہیں ہے۔اہل علم کا اِس حدیث پر عمل ہے کہ حاملہ اورمرضعہ کو اگر اپنے بچے پر خطرہ ہو تو روزہ ترک کریں گی اور اس کی قضا کریں گی۔ البتہ ان کے درمیان اس بات پر اختلاف ہے کہ کیا قضا کے علاوہ وہ فدیہ بھی ادا کریں گی یا نہیں؟ بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ قضا کے ساتھ فدیہ بھی ادا کریں گی، یہ قول ابن عمر اور ابن عباس سے مروی ہے۔ یہی مجاہد ، شافعی ، اور احمد کی رائے ہے، ابن عمر سے جب سوال کیا گیا کہ اگر حاملہ کو اپنی اولاد پر خطرہ ہو تو کیا کرے گی؟ تو آپ نے جواب دیاکہ وہ روزہ ترک کرےگی، اور ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو ایک مد گیہوں دے گی”۔
یہاں دو بات قابل غور ہیں: اختلاف بچہ پر خوف کی صورت میں ہے ۔ ایسی صورت میں حضرت ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف جس قول کی نسبت کی گئی وہ یہ ہے کہ ان پر قضا اورکفارہ دونوں ہیں۔
• فقہاء احناف میں جمال الدین رومی بابرتی اپنی کتاب ( العناية شرح الهداية) (2/ 355) میں فرماتے ہیں: «إذا خافت الحامل أو المرضع على نفسها لا تجب الفدية بالاتفاق، وإذا خافت على ولدها فأفطرت وجب القضاء والفدية على أصح أقواله عندهم».
اگر حاملہ یا مرضعہ اپنے نفس پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں تو ان پر بالاتفاق فدیہ نہیں ہے (قضا ہے)۔ اور اگر اپنے بچہ پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں تو ان پر قضا کے ساتھ – راجح قول کے مطابق- فدیہ بھی ہے۔
• فقہاء مالکیہ میں عبد الباقی زرقانی موطا کی شرح (شرح الزرقاني على الموطأ) (2/ 284) میں قضا اور فدیہ کے سلسلے میں اختلاف نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: «ومحلها في خوفهما على ولديهما، أما إذا خافتا على أنفسهما فلا فدية باتفاق أهل المذهب وهو إجماع إلا عند من أوجب الفدية على المريض».

اس نزاع کا محل ایسی حاملہ اور مرضعہ ہے جنہیں اپنے بچہ پر خطرہ ہو، البتہ اگر وہ اپنے نفس پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں تو اس بات پر اہل مذہب کا اتفاق ہے کہ ان پر (صرف قضا ہے) فدیہ نہیں ہے، بلکہ اس پر سب کا اجماع ہے ،سوائے ان کے نزدیک جو مریض پر (قضاکے ساتھ) فدیہ کو واجب کہتے ہیں۔
اس قول میں زرقانی نے اجماع نقل کیا ہے کہ نفس پر خطرہ کی صورت میں قضا ہے۔ اور اس اجماع سے صرف ان کو مستثنی کیا ہے جن کی طرف ایک شاذ قول منسوب ہے۔
• فقہاء شافعیہ میں امام نووی ( المجموع شرح المهذب) (6/ 267) میں فرماتے ہیں: «قال أصحابنا: الحامل والمرضع إن خافتا من الصوم على أنفسهما أفطرتا وقضتا ولا فدية عليهما كالمريض وهذا كله لا خلاف فيه».
ہمارے اصحاب (شافعیہ)کے نزدیک ، اگر حاملہ اور مرضعہ کو روزہ کی وجہ سے اپنے نفس پر خطرہ محسوس ہو تو وہ روزہ ترک کریں گی اور اس کی قضا کریں گی اور ان پر فدیہ نہیں ہے، کیونکہ وہ مریض کی طرح ہیں، اس مسئلہ میں کسی بھی طرح کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔
• فقہاء حنابلہ میں ابن قدامہ (المغنی) (3/ 149) میں فرماتے ہیں: «إن الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما فلهما الفطر. وعليهما القضاء فحسب، لا نعلم فيه بين أهل العلم اختلافا لأنهما بمنزلة المريض الخائف على نفسه».
“حاملہ اور مرضعہ کو اگر اپنے نفس پر خطرہ ہو تو انہیں روزہ ترک کرنے کی رخصت ہے، اور ان پر صرف قضا ہے، میرے علم کے مطابق اس مسئلہ میں اہل علم میں سے کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا ہے، کیونکہ ایسی صورت میں حاملہ اور مرضعہ ایسے مریض کے قائم مقام ہیں جسے روزہ رکھنے سے اپنے نفس پر خطرہ ہو”۔
ابن قدامہ کی اس عبارت میں صراحت ہے کہ اگر حاملہ اور مرضعہ اپنے نفس پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں تو ان پر قضا ہے اور اس بارے میں اہل علم کے درمیان کوئ اختلاف نہیں ہے۔ پھر محل نزاع کی تعیین کرتے ہیں کہ اگر بچہ پر خوف ہو تو اس سلسلے میں اختلاف ہے اور اس ضمن میں ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول آگے ذکر کرتے ہیں۔
• “أحكام القرآن” (1/ 222) میں ابوبکر جصاص کی اس عبارت سے مزید اس کی وضاحت ہو جاتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: «إنما يسوغ الاحتجاج بظاهر الآية لابن عباس لاقتصاره على إيجاب الفدية دون القضاء، ومع ذلك فإن الحامل والمرضع إذا كانتا إنما تخافان على ولديهما دون أنفسهما فهما تطيقان الصوم فيتناولهما ظاهر قوله: {وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين} وكذلك قال ابن عباس; حدثنا محمد بن بكر قال: حدثنا أبو داود قال: حدثنا موسى بن إسماعيل قال: حدثنا أبان قال: حدثنا قتادة، أن عكرمة حدثه، أن ابن عباس حدثه في قوله: {وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين} قال: أثبتت للحامل والمرضع. وحدثنا محمد بن بكر قال: حدثنا أبو داود قال: حدثنا ابن المثنى قال: حدثنا ابن أبي عدي عن سعيد، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس {وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين} قال: كانت رخصة للشيخ الكبير والمرأة وهما يطيقان الصيام أن يفطرا ويطعما مكان كل يوم مسكينا، والحبلى والمرضع إذا خافتا على أولادهما أفطرتا وأطعمتا. فاحتج ابن عباس بظاهر الآية وأوجب الفدية دون القضاء عند خوفهما على ولديهما; إذ هما تطيقان الصوم فشملهما حكم الآية».
“ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول -کہ حاملہ اور مرضعہ پر صرف فدیہ ہے قضا نہیں ہے- کے لیے اس آیت کے ظاہر سے اس وقت استدلال کرنا درست ہوگا جب حاملہ اور مرضعہ کو اپنے نفس پر خطرہ نہ ہو بلکہ اپنے بچہ پر ہو، کیونکہ ایسی صورت میں ہی وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہونگی (کہ جو روزہ کی طاقت رکھتے ہیں ان پر فدیہ ہے)، اور یہی بات ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قتادہ، عن عکرمہ کی روایت میں فرمایا کہ حاملہ اور مرضعہ کے لیے اس آیت کا حکم باقی ہے، اسی طرح عزرہ ، عن سعید بن جبیر کی روایت میں فرماتے ہیں: کہ حاملہ اور مرضعہ کو اپنی اولاد پر خطرہ ہو تو روزہ ترک کریں گی اور فدیہ دیں گی، چنانچہ ابن عباس نےظاہری آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ حاملہ اور مرضعہ پر بچہ کے اوپر خطرہ کی صورت میں فدیہ واجب ہے کیونکہ ایسی صورت میں وہ روزہ کی طاقت رکھتی ہیں اور آیت کے حکم میں شامل ہو جاتی ہیں۔
اس قول میں ابو بکر جصاص نے یہ وضاحت کی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے فدیہ کا حکم ایسی حاملہ اور مرضعہ کے لیے منقول ہے جنہیں اپنے بچے پر خطرہ ہو۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہےکہ کیا واقعی حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایات میں کوئی ایسی قید ہے یا ان تمام اہل علم نے اس مسئلہ میں اتفاق نقل کرنے میں تساہل سے کام لیا ہے؟ اسی سوال کے جواب کے لیے ہم نیچے دونوں صحابہ کی روایات کا تفصیلی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں:
• ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت۔
یحی بن سعید القطان، روح بن عبادۃ، مکی بن ابراہیم، ابن ابی عدی (چاروں) سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، عن عزرة، عن سعيد بن جبير، کے طریق سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں: «والحبلى والمرضع إذا خافتا أفطرتا وأطعمتا كل يوم مسكينًا» وفي رواية ابن أبي عدي: قال أبو داود يعني: «على أولادهما»، وزاد القطان: «ولا قضاء عليهما».
“حاملہ اور مرضعہ کو اگر خطرہ ہو تو روزہ ترک کریں گی اور ہر دن کے بدلہ مسکین کو کھانا دیں گی۔ ابوداود فرماتے ہیں: یعنی اپنی اولاد پر خطرہ ہو”۔ یحی القطان کی روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے، “ا ن پر قضا نہیں ہے ”
جب کہ عبدہ بن سلیمان الکلابی نے اس روایت کو ، سعيد بن أبي عروبة سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ «إذا خافت الحامل على نفسها، والمرضع على ولدها في رمضان، قال: يفطران ويطعمان مكان كل يوم مسكينا، ولا يقضيان صوما».
“یعنی حاملہ کو اپنے نفس پر اور مرضعہ کو اپنے بچہ پر خطرہ ہو تو رہ روزہ ترک کریں گی اور روزہ کی قضا نہیں کریں گی”۔
(یحیی بن سعید القطان کی روایت کی تخریج مسدد نے اپنے مسند میں کی ہے جیسا کہ ” المطالب العالية” (6/ 102، رقم: 1047) میں ہے۔ اور روح بن عبادہ کی روایت کو ابن الجارود نے “المنتقی” (ص: 103، رقم: 381) میں اور بیھقی نے “سنن کبری” (4/ 388، رقم: 8077) میں ، ابن ابی عدی کی روایت کو ابوداود نے اپنے “سنن” (2/ 296، رقم: 2318) میں ، مکی بن ابراہیم کی روایت کو بیھقی نے “سنن کبری” (4/ 388، رقم: 8077) میں ، عبدہ بن سلیمان الکلبی کی روایت کو طبری نے اپنی” تفسیر” ( 2/ 136) اپنی سند سے ذکر کیا ہے۔
عبدہ کی روایت میں “«إذا خافت الحامل على نفسها» اور ” «ولا يقضيان صومًا» دو جملے کا اضافہ ہے، لیکن دوسرے جملہ میں ان کی متابعت یحی القطان نے کی ہے، جبکہ پہلے جملہ میں وہ منفرد ہیں، لہذا یہ جملہ شاذ کے حکم میں ہے، کیونکہ عبدہ اگر چہ ثقہ ثبت ہیں “التقریب” (ص: 635)، اور سعید بن ابی عروبہ سے اختلاط سے پہلے روایت کی ہے لیکن انہوں نے اپنے سے زیادہ ثقہ وثبت اور اکثریت کی مخالفت کی ہے، خصوصا ان میں القطان اور یزید بن زریع شامل ہیں جو سعید بن ابی عروبہ کے سب سے ثقہ اور متقن تلامذہ میں سے ہیں۔ ابن رجب : “شرح العلل” (2/ 188) میں ابن عدی کا قول نقل فرماتے ہیں: «أثبت الناس عنه يزيد بن زريع ، وخالد بن الحارث ، ويحيى بن سعيد».)

“سعید بن عروبۃ کے تلامذہ میں سب سے ثقہ اور متقن یزید بن زریع، خالد بن الحارث اور یحیی بن سعید ہیں”۔
• ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے برعکس ایک دوسرا فتوی۔
عبد الرزق اپنے “مصنف” (4/ 218، رقم: 7564) میں عن الثوري، وعن ابن جريج، عن عطا کے طریق سے روایت کرتے ہیں : عن ابن عباس قال: «تفطر الحامل والمرضع في رمضان، وتقضيان صياما، ولا تطعمان»
“حاملہ اور مرضعہ رمضان میں روزہ ترک کریں گی، روزہ کی قضا کریں گی اور طعام نہیں دیں گی۔ ”
اس سند کے تمام روات ثقہ ہیں، اور اس میں مجھے کوئی علت نہیں ملی۔ ثوری اور عطا کے درمیان انقطاع ہے لیکن ان کو ابن جریج کے ساتھ مقرونا ذکر کیا گیا ہے، اور ابن جریج گرچہ مدلس ہیں اور انہوں نے صیغہ عنعنہ سے روایت کیا ہے لیکن عطا سے آپ کا عنعنہ مضر نہیں ہے۔ جیسا کہ آپ نے خود تصریح کی ہے کہ: «إذا قلت: “قال عطاء” فأنا سمعته منه، وإن لم أقل سمعت». “التاريخ الكبير” (رقم الترجمہ: 858)۔
“اگر میں عطا سے لفظ “قال “کے ساتھ روایت کروں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نے ان سے وہ روایت سنی ہے گرچہ میں سماع کی صراحت نہ کروں”۔ اور “قال” اور “عن “کا ایک ہی حکم ہے۔
اسی طرح امام احمد نے فرمایا: ”«ابن جريج اثبت الناس فی عطاء» “( ) ” الجرح والتعديل” (5/ 357)۔
“ابن جریج عطا کے تلامذہ میں سب سے متقن ہیں”۔
علامہ یحیی معلمی «التنكيل» (ص:865) میں فرماتے ہیں: ابن جريج أعلم أصحاب عطاء، وألزمهم له، جاء عنه أنه قال: لزمت عطاء سبع عشرة سنة،…وكان يدلس عن غير عطاء، فأما من عطاء لا۔
“ابن جریج عطا کے سب سے زیادہ ذی علم اور قریبی شاگرد ہیں، ان سے مروی ہے کہ انہوں نے عطا کی صحبت میں سترہ سال گزارے۔ معلمی فرماتے ہیں: ابن جریج عطا کے علاوہ دوسرے روات سے تدلیس کرتے ہیں”۔
مسند احمد کے محققین نے بھی یہی بات لکھی ہے: وابن جريج تغتفر عنعنته في عطاء-وهو ابن ابي رباح-فقط.

ابن جریج کا عنعنہ مضر نہیں ہے۔ “مسند أحمد” ط الرسالة (3/ 310)
ویسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں عطا سے مراد عطا الخراسانی ہیں لیکن یہ احتمال ضعیف ہے،۔ کیونکہ ابن جریج عطا خراسانی سے تفسیری نسخہ روایت کرتے ہیں جن پر اہل علم نے کلام کیا ہے۔ اور اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فتوی کا ذکر ہے۔
اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قضا اور عدم قضا دونوں طرح کی روایت ثابت ہے۔ واللہ اعلم۔ ویسے اس روایت کو ضعیف ماننے کی صورت میں بھی زیر بحث مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔
• حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت
امام بیہقی “السنن الكبرى ” (4/ 389، رقم: 8079) میں شافعی، عن مالک ، عن نافع کے طریق سے روایت کرتے ہیں: «أنّ ابن عمر رضي الله عنهما سئل عن المرأة الحامل إذا خافت على ولدها؛ فقال: تفطر وتطعم مكان كل يوم مسكيناً (مداً من حنطة».
“ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایسی حاملہ عورت کے بارے سوال کیا گیا جسے اپنے بچہ پر خطرہ ہو تو انہوں نے کہا: کہ وہ روزہ توڑ دے اور ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا دے”۔
اس کی سند صحیح ہے۔ اور اس میں بچہ پر خطرہ کی صورت میں فدیہ دینے کی بات ہے۔
ابن عمر سے ایک دوسری روایت۔
عبد الرزاق “المصنف” (4/ 218، رقم: 7561) میں معمر، عن أيوب، عن نافع کے طریق سے روایت کرتے ہیں: عن ابن عمر قال «الحامل إذا خشيت على نفسها في رمضان تفطر، وتطعم، ولا قضاء عليها».
“رمضان میں حاملہ کو اگر اپنے نفس پر خطرہ ہو تو وہ روزہ ترک کرے گی اور فدیہ ادا کرے گی اور اس پر قضا نہیں ہے”۔
اس روایت کے مطابق اگر حاملہ اپنے نفس پر خطرہ کے سبب روزہ ترک کرتی ہے تو اس صورت میں بھی فدیہ ادا کرے گی ۔ لیکن یہ سند متکلم فیہ ہے۔
ابن رجب “شرح العلل الترمذي” (2/ 219) میں فرماتے ہیں: «معمر كان يضعّف حديثه عن أهل العراق خاصة . قال ابن أبي خيثمة سمعت يحيى بن معين يقول: إذا حدّثك معمر عن العراقيين فخفه إلا عن الزهري، وابن طاوس، فإن حديثه عنهما مستقيم، فأما أهل الكوفة والبصرة فلا، وما عمل في حديث الأعمش شيئاً» “الكبير” (1/ 325).
معمر بن راشد خصوصا جب اہل عراق سے روایت کرتے ہیں تو اس میں ضعف پایا جاتا ہے، ابن ابی خیثمہ التاریخ الکبیر (1/ 325) میں: یحیی بن معین سے نقل کرتے ہیں: معمر جب اہل عراق سے روایت کریں تو محتاط رہو، زہری اور ابن طاوس سے ان کی روایتیں مستقیم ہیں، اہل بصرہ اور کوفہ کی روایتوں میں یہ چیز نہیں ہے۔(یعنی ان میں ضعف ہے)، اور اعمش کی روایتوں میں تو گویا انہوں نے کچھ کیا ہی نہیں۔
اور اس روایت کو انہوں نے ایوب سے روایت کی ہے جو کہ ان کے بصری شیوخ میں سے ہیں۔
• ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے برعکس فتوی۔
ابو عبید القاسم بن سلام ” الناسخ والمنسوخ ” (ص: 62) میں عن ابن أبي مريم،عن أنس بن عياض، عن جعفر بن محمد، عن ابن لبيبة أو ابن أبي لبيبة، عن عبد الله بن عمرو بن عثمان کے طریق سے روایت کرتے ہیں کہ، أنّ امرأة، صامت حاملا، فاستعطشت في شهر رمضان، فسئل عنها ابن عمر، «فأمرها أن تفطر وتطعم كل يوم مسكينا مدا، ثم لا يجزئها ذلك، فإذا صحّت قَضَتْه»۔
“ایک حاملہ عورت کو رمضان میں روزہ کی وجہ سے سخت پیاس لگی، ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس عورت کے بارے دریافت کیا گیا تو آپ نے حکم دیا کہ وہ روزہ ترک کر دے اور ہر دن کے بدلہ ایک مسکین کو کھانا دے، لیکن یہ کافی نہیں ہے بلکہ بعد میں جب صحت مند ہوگی تو اس کی قضا کرے گی۔
اس سند کے تمام روات ثقہ ہیں سوائے جعفر بن محمد اور ابن ابی لبیبہ کے، جعفر صدوق امام فقیہ ہیں ، اور ابن ابی لبیبہ متکلم فیہ ہیں، دار قطنی نے ان کو ضعیف کہا ہے، ا بن معین فرماتے ہیں: “لَيْسَ حَدِيثه بِشَيْء، “تهذيب التهذيب” (9/ 301)،
اور ابن سعد فرماتے ہیں “وكان قليل الحديث”. “الطبقات الكبير” (7/ 522)، اور ابن حبان نے “الثقات” (7/ 369) میں اس راوی کا تذکرہ کیا ہے۔
ابن سعد کے قول سے ابن معین کی عبارت کا مقصد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ان کی مراد قلت حدیث ہے، کیونکہ “لیس حدیثہ بشی ” اور “ليس بشيء” متقارب عبارت ہیں -دیکھئے (مصطلح ابن معین “حدیثہ لیس بشیئ -دراسہ مقارنہ-مجلہ اردنیہ فی الدراسات الاسلامیہ مج (15) ۔ع(7)۔ 1440ھ 2019م) اور علماء نے بیان کیا کہ کبھی ابن معین “ليس بشيء” سے قلت حدیث مراد لیتے ہیں، جہاں تک دار قطنی کی تضعیف ہے تو ہو سکتا ہے کہ ان کا ماخذ ابن معین کا قول ہو۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس سند میں ضعف محتمل ہے، شاید اسی لیے امام بیہقی وغیرہ نے اس روایت پر اعتماد کیا ہے،چنانچہ امام بیھقی باب قائم کرتے ہیں “الحامل والمرضع إن خافتا على ولديهما أفطرتا وتصدقتا عن كل يوم بمد من حنطة ثم قضتا”

اور اس کے بعد ابن عباس رضی اللہ عنہما کی پہلی روایت اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی پہلی اوراس روایت کا تذکرہ کرتے ہیں، جبکہ قضا کی بات صرف ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اسی روایت میں موجود ہے۔
تنبیہ: ابن ابی لبیبہ کی روایت پر شاذ کا حکم لگانا غلط اور مصطلح الحدیث کی خلاف ورزی ہے ، کیونکہ مشہور اصطلاح میں شاذ کا حکم لگانے کے لئے اتحادِ مَخرج اور مخالفت ضروری ہے، جبکہ یہاں دونوں روایت کا مخرج بالکل الگ ہے، اس لیے مخالفت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ہے۔
• ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت کا خلاصہ:
 ابن عباس رضی اللہ عنہما سےجو روایت ثابت ہے اس کی رو سے بچہ پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرنے کی صورت میں فدیہ بدون قضا ہے۔
 ابن عباس رضی اللہ عنہما سے قضا کی روایت بھی مروی ہے، اور اس کی سند میں بظاہر کوئی علت نہیں ہے۔
 ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بچہ پر خطرہ کی صورت میں فدیہ (بدون قضا)کی بات صحیح سند سے ثابت ہے، جبکہ جس روایت میں نفس پر خطرہ کی صورت میں فدیہ کی بات ہے ا س میں ضعف ہے۔
 ابن عمر رضی اللہ عنہما سے فدیہ مع قضا کی بات مروی ہے گرچہ سند میں ضعف ہے، لیکن فقہاء کے علاوہ امام بیھقی نے بھی اس روایت پر اعتماد کیا ہے
 ابن عباس رضی اللہ عنہما کےقول کو ابن قدامہ اور زرقانی کے اجماع کے نقیض میں پیش کرنا درست نہیں ہے۔ اسی طرح ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کو (علی الراجح)۔ واللہ اعلم۔
 ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جب دونوں طرح کی روایتیں منقول ہیں تو ان سے صرف عدم قضا کی بات نقل کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔ راجح اور مرجوح پر بحث ہوسکتی ہے لیکن اختلاف کی سرے سے نفی نہیں کی جا سکتی ہے۔
اس تعلق سے ایک اور مسئلہ ہے جس پر اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے کہ نفساء پر روزہ کی قضا واجب ہے جبکہ نفساء مرضعہ بھی ہوتی ہے۔
• امام نووی فرماتے ہیں:
• لا يصح صوم الحائض والنفساء، ولا يجب عليهما، ويحرم عليهما ويجب قضاؤه، وهذا كله مجمع عليهَ المجموع شرح المهذب (6/ 257).

حائضہ اور نفسا کا روزہ رکھنا درست نہیں ہے اور نہ روزہ ان پر واجب ہے بلکہ حرام ہے، لیکن بعد میں اس کی قضا واجب ہے، اور یہ سب متفق علیہ مسائل ہیں۔
ابن قدامہ فرماتے ہیں: أجمع أهل العلم على أن الحائض والنفساء لا يحل لهما الصوم، وأنهما يفطران رمضان، ويقضيان، وأنهما إذا صامتا لم يجزئهما الصوم “المغني لابن قدامة” (3/ 152)

اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ حائضہ اور نفساء کے لیے روزجائز نہیں ہے، وہ روزہ نہیں رکھیں گی اور بعد میں اس کی قضا کریں گی، او ر اگر وہ اس حالت میں روزہ رکھتی ہیں تو یہ کافی نہیں ہوگا۔
• معاصرین علماء میں شیخ ابو المعز محمد علی فرکوس جزائزی، جو فدیہ کے قائل ہیں اور حضرت ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے اثر سے استدلال کرتے ہیں، وہ بھی فرماتے ہیں:

تنبيهات:
1-المرضعة في زمن النفاس تقضي ولا تَفدي؛ لأنَّ النفاس مانعٌ مِنَ الصوم، وهو أخصُّ مِنْ عذر الرضاع والحمل في الإفطار والفدية، و«الخَاصُّ أَوْلَى بِالتَّقْدِيمِ»، بخلاف زمن الطهر فلا تحدث معه معارضةٌ مع المانع.
٢ـ وإذا أرضعَتْ بالقارورة فيجب عليها الصومُ ـ أيضًا ـ لأنها مُرْضِعةٌ مجازًا لا حقيقةً.
٣ـ إذا بَلَغ الصبيُّ خمسةَ أشهرٍ فما فوق بحيث يتسنَّى له أَنْ يتغذَّى مِنْ غيرِ اللبن مِنْ أنواع الخضر والفواكه فإنَّ الرضاعة الطبيعية لا تكون عذرًا في الإفطار بله الرضاعة الاصطناعي.
(على الموقع الرسميِّ لفضيلة الشيخ أبي عبد المعزِّ محمَّد علي فركوس ـ حفظه الله )

“تنبیہات: مرضعہ نفاس کے سبب سے جو روزہ ترک کرے گی، اس کی وہ قضا کرے گی، فدیہ نہیں دے گی، کیونکہ یہاں مانعِ صوم نفاس ہے۔ اور وہ نفاس رضاعت اور حمل کی نسبت زیادہ خاص عذر ہے ، اور خاص مقدم ہوتا ہے، برخلاف حالت طہر کے، کیونکہ اس صورت میں کسی مانع کے ساتھ رضاع یا حمل کا معارضہ نہیں ہے۔
اگر بچہ فیڈر سے دودھ پیتا ہے تو اس پر روزہ رکھنا واجب ہے، کیونکہ ایسی صورت میں وہ حقیقی معنی میں مرضعہ نہیں ہے۔
اگر بچہ کی عمر پانچ ماہ یا اس سے زاید ہو گئی ہو، اور دودھ کے علاوہ سبزی میوہ وغیرہ بھی کھانے لگے تواس وقت حقیقی رضاعت بھی عذر نہیں ہوگا ، چہ جائکہ مصنوعی رضاعت عذر بنے”۔
گویا جو فدیہ کے قائل ہیں ان کے نزدیک بھی حالت نفاس میں جو روزہ فوت ہوتا ہے اس کی قضا ضروری ہے۔
خلاصہ کلام:
• محل اتفاق:
1-حاملہ اور مرضعہ اپنے نفس پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کرتی ہیں اس کی قضا کریں گی، کیونکہ ایسی صورت میں وہ مریض کے حکم میں ہیں اس مسئلہ میں ابن قدامہ اور زرقانی وغیرہ کا قول زیادہ صریح ہے۔ جبکہ بابرتی اور نووی کے قول میں یہ احتمال ہے کہ وہ اپنے مذہب کا اتفاق نقل کر رہے ہوں۔
2-حالت نفاس میں جو روزہ فوت ہوجائے تو اس کی قضا کرے گی، اور نفساء مرضعہ بھی ہوتی ہے۔ اس مسئلہ میں نووی اور ابن قدامہ کا اجماع بالکل صریح ہے۔
• محل نزاع
محل نزاع یہ ہے کہ اگر حاملہ اور مرضعہ اپنے بچہ پر خطرہ کی وجہ سے روزہ ترک کریں تو کیا وہ قضا کریں گی، یا فدیہ دیں گی، یا دونوں ضروری ہے؟ اس سلسلے میں علماء کے درمیان شدید اختلاف ہے، ان شاء اللہ اگلی قسط میں تمام اقوال کا مع ادلہ جائزہ لینے کی کوشش کریں گے۔ ان شاء اللہ۔

آپ کے تبصرے

3000