گاؤں گاؤں نگر نگر باتیں

شمشاد شاد شعروسخن

گاؤں گاؤں نگر نگر باتیں

اب نہ کرنا ادھر ادھر باتیں


سائے میں پیڑ کے تسلی سے

آؤ کرتے ہیں بیٹھ کر باتیں


میرا دعویٰ ہے بے ضمیروں کی

جھوٹ ہوتی ہیں بیشتر باتیں


اس سے آتا ہے گفتگو میں مزہ

جس کی ہوتی ہیں پر اثر باتیں


دل شکستہ کبھی نہیں ہوتے

وہ جو کرتے ہیں درگزر باتیں


یاد کر ابتدا میں ہم اور تم

کتنی کرتے تھے رات بھر باتیں


سب کو لگتا ہے زعم ہے مجھ میں

جب میں کرتا ہوں مختصر باتیں


کل کی کس کو خبر ہے شاؔد مجھے

آج فرصت ہے آج کر باتیں

آپ کے تبصرے

3000