یہ قوم اپنے ہی ایسٹس کے وناش پہ ہے

ابوالمیزان منظرنما

یہ قوم اپنے ہی ایسٹس کے وناش پہ ہے

وقت خرچ کرنا‌ ہو یا وسائل ہر انسان کو ایک آپشن چننا پڑتا ہے۔ اس انتخاب یا اختیار کا عمل شعوری ہو یا غیر شعوری ہر طے شدہ مصرف کی ایک منطقی توجیہ ہوتی ہے۔ عام حالات میں انسان بہت زیادہ غور و فکر نہیں کرتا۔ البتہ اگر ایسی صورت حال درپیش ہو جس میں وقت یا وسائل کم پڑجائیں تو ترجیحات طے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ترجیح کا یہ پروسیس اہم، کم اہم یا غیر اہم جیسی درجہ بندیوں کا محتاج ہوتا ہے۔

ہر قسم کے استعمال کے بعد بھی اگر پانی بچ جاتا ہو تو بندہ بے فکر ہوکر خرچ کرتا ہے۔ پانی کم ہو محدود ہو تو انسان پینے پکانے نہانے دھونے میں خرچ ہونے والے پانی کا اندازہ لگاتا ہے پھر اپنے تمام کاموں کو ایک ترتیب کے مطابق انجام دیتا ہے تاکہ ضروری کام پہلے ہو، جو کام چھوٹ جائے اس سے بہت زیادہ فرق نہ پڑے، زندگی نہ رکے۔ پانی صرف پیاس ہی نہیں بجھاتا زندہ بھی رکھتا ہے۔ بھوک مٹانے میں بھی پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ انسان کا بدن اوور ہیٹ ہوتا ہے تو کبھی کبھار مشین کا کوئی پرزہ کام کرنا بند بھی کردیتا ہے، اس سے باڈی کی فنکشنگ ہی نہیں رکتی کبھی کبھی مشین ہی کام کرنا بند کردیتی ہے۔ ایرر عارضہ ہے اور ڈس ایبلٹی موت۔ پانی یہاں بھی بہت کام آتا ہے ہیومن باڈی کو اوور ہیٹنگ سے بچاتا ہے۔ پانی باڈی کو کور کرنے والی چیزوں کو ہی فریش نہیں رکھتا اندر باہر سے باڈی کی بھی ریفریشنگ کرتا رہتا ہے۔ یعنی پانی بنا زندگی ہی نہیں۔

پانی سے کم نہیں ہیں ہمارے ائمہ اور اساتذہ۔ وائرس کو روکنے کے لیے اکثر ملکوں سمیت ہمارے دیش میں جو لاک ڈاؤن کیا گیا اس کے زیر اثر ہونے والی بدحالی نے سب کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے بھی بند ہیں۔ رمضان میں سالانہ بجٹ کے زیادہ تر فنڈ کا کلیکشن ہوتا تھا۔ وہ بھی اس بار نہ کے برابر ہوا۔ یعنی دیگر معاملات کی طرح ان کا مستقبل بھی اندیشوں سے گھرا ہوا ہے۔

رمضان میں نیکی کرنے کا جذبہ تھا یا کیا تھا مسلم قوم نے اکثر مساجد یا دیگر اداروں کی طرف سے مسکینوں محتاجوں تک راشن پہنچانے کا فریضہ بڑی ذمہ داری سے ادا کیا۔ اللہ رب العالمین سب کو دونوں جہان میں اچھا بدلہ دے۔ آمین

دوسری طرف مسجدوں، مکتبوں اور مدرسوں میں امامت، خطابت اور تدریس کا کام کرنے والے کئی افراد اپنی تنخواہوں کے انتظار میں ہیں۔ کچھ تو ایسے بھی ہیں جن کی تنخواہ لاک ڈاؤن سے پہلے کی ہے رکی ہوئی ہے۔ حالانکہ انہی اداروں کی آمدنی اور خرچ کا حساب جاننے والوں کا کہنا ہے کہ اگلے ایک سال تک بنا کلیکشن تمام اسٹاف کو پوری تنخواہ دی جاسکتی ہے۔

جن عمارتوں میں یہ سرگرمیاں چلتی تھیں وہ بند ہیں صرف ان کے مینٹیننس کا مسئلہ ہے لائٹ بل پانی بل صاف صفائی وغیرہ۔ اتنا اہتمام رہے تو یہ عمارتیں ایک سال بعد بھی قابل استعمال رہیں گی۔ مصلی اور متعلم سب اپنے اپنے گھروں پر ہیں، سب کا اپنا اپنا زندہ رہنے کا انتظام ہوچکا ہے یا ہورہا ہے یا کیا جارہا ہے۔ یعنی عمارتیں اور وہاں حاضری دینے والے افراد اپنے سرپرستوں کی دیکھ ریکھ میں ہیں۔ لیکن ائمہ اور اساتذہ….

ائمہ اور اساتذہ انہی اداروں میں کام کرکے اپنے ماتحتوں کی ہر ضرورت پوری کیا کرتے تھے۔ اگر ان کی تنخواہ روک لی جائے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے نئے کلیکشن نہ ہونے کی وجہ سے اگر ان ائمہ اور اساتذہ کو تنخواہ نہ دی جائے تو سوال یہی نہیں ہے کہ ان کا گھر کیسے چلے گا؟

سوال یہ بھی ہے کہ یہ رویہ تنخواہ روک لینے یا نہ دینے کا اور وہ جذبہ راشن بانٹنے کا دونوں ایک دوسرے سے ٹکراتے کیوں ہیں۔ دونوں ایک ہی کمیونٹی کے اعمال‌ ہیں۔ مسجد، مکتب اور مدرسے کے ذمہ داروں کے کھاتے میں دونوں ہی متضاد رویے درج‌ کیے گئے ہیں۔

عمارتیں دیکھ ریکھ کے سبب محفوظ ہیں، مصلی اور طلبہ اپنے اپنے گھروں میں سلامت ہیں مگر یہ ائمہ اور اساتذہ، ان کا حال تباہ ہے۔ ان کے زندہ رہنے کا مسئلہ بڑا نہیں ہے ان کے کمٹمنٹ کا مسئلہ بڑا ہے۔ اپنے حالیہ پیشے پر باقی رہنے کا مسئلہ بڑا ہے۔ اگر ان کی امامت، خطابت اور تدریس موجودہ کرائسس میں ان کو چھوڑ دیتی ہے اور پھر اپنے سروائیول کی یہ کوئی نئی راہ چن‌ لیتے ہیں تو جب لاک ڈاؤن کھلے گا، یہ مسجدیں مدرسے پھر سے آباد ہوں گے تو انھیں واپس کون لائے گا کس منہ سے لائے گا۔

پانی نہیں ہوگا تو کھانا گلے میں اٹک جائے گا۔ یہ ائمہ اور اساتذہ مسجدوں اور مدرسوں کے لیے پانی ہیں۔ انھیں استعمال‌ کرنے‌ میں احتیاط کرو۔ یہ جو نیند میں وقت گزر رہا ہے یہ جب گزر جائے گا اور سوکر اٹھوگے تو اپنا ہاتھ بھی دھونے کے لیے پانی کی ضرورت پڑے گی جو نیند کی حالت میں تمھارے بدن کے پتہ نہیں کس کس ایریے میں پھرا ہوگا۔ خود ہی سوچو پانی بنا پھر کیا کروگے؟ پیاس روک لوگے، بھوک روک لوگے، کیا کیا روک لوگے؟ پانی بنا کیسے جیوگے؟

3
آپ کے تبصرے

3000
3 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
3 Comment authors
newest oldest most voted
ابو تحسين خان

ہیٹس آف ٹو یو ابوالمیزان سر!
لفظ لفظ آئینہ ہے!
پانی ہے تو لائف ہے!
پانی جس طرح بدن کو ایکٹیو رکھتا ہے یہ دین کے غازی اسی طرح ہماری روح کو تازگی پہنچاتے ہیں!
سماج دونوں کے بغیر ہرگز ہرگز نہیں جی سکتا!
کاش کہ ذمہ داران مساجد ومدارس ہوش کے ناخن لیتے!
کاش کہ بہی خواہان مدارس اس طرف اپنی بھرپور توجہ مبذول فرماتے!
لعلهم يفقهون!
لعلهم يرجعون!
لعلهم يعلمون!

عثمان غنی

اللہ آپ کی اس تحریر کے ذریعے سے مسلمانوں کے اندر موجود اس بے حسی کو دور فرمائے ، امت کی اصلاح فرمائے آپ کے قلم کو مزید طاقت بخشے

عبدالمتين

بہت أہم باتیں ہیں. موجودہ حالات میں سب سے زیادہ جو طبقہ متأثر ہوا ہے وہ ان اساتذہ کا طبقہ ہے جس کی آمدنی کا انحصار الله پاک کی توفیق کے بعد مکمّل طور پر تنخواہ پر تھا. یہ اساتذہ نہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے اور نہ ہی ہماری قوم میں اتنی سمجھ ہے کی انکی ضرورت سمجھ سکے. سب نفسی نفسی کے عالم میں ہیں. مسلم قوم کےایک فرد کی حيثيت سے ہماری ذمّہ داری ہے کی ہم میں سے ہر فرد اپنے اپنے گاؤں کی مسجد اور مدرسے کی ضروريات کو پورا کرنے کی کوشش… Read more »