دلِ رقیب میں کس درجہ کھوٹ ہے دیکھو

شمشاد شاد شعروسخن

دلِ رقیب میں کس درجہ کھوٹ ہے دیکھو

لگائی پشت پہ پھر چھپ کے چوٹ ہے دیکھو


ہر ایک جزوِ بدن اس کے حکم کا ہے غلام

دماغ ہی تو بدن کا ریموٹ ہے دیکھو


جو دل میں آتا ہے بے فکر ہو کے کرتا ہوں

میسر اس کے تغافل کی اوٹ ہے دیکھو


بچاتا ہے مجھے موسم کی ناگہانی سے

مرے بدن پہ ارادوں کا کوٹ ہے دیکھو


خریدے جاتے ہیں اب تو یہ چند سکوں میں

بہت ہی سستا رعایا کا ووٹ ہے دیکھو


سوا بھبوت کے ان سادھوؤں کے جسموں پر

کوئی قبا نہ حیا کی لنگوٹ ہے دیکھو


ہمیں گناہوں کا دریا ڈبو نہیں سکتا

ہمارے پاس یہ تقویٰ کی بوٹ ہے دیکھو


جو دیکھ پاؤ تو اے شاؔد دل کی آنکھوں سے

کتاب زیست میں ہر بات نوٹ ہے دیکھو

آپ کے تبصرے

3000