ابوالمیزان

ابوالمیزان روبرو

پیش ہے واٹس اپ گروپ “دبستان اردو” کی سنہری روایت کی اگلی کڑی۔
اس انٹرویو میں گروپ ممبران نے جناب ابوالمیزان صاحب سے ان کی حیات، ان کے افکار وخیالات اور علم وفن کے میدان میں ان کے تجربات نیز فری لانسر کی تاریخ سے متعلق سوالات کئے ہیں۔
ابوالمیزان صاحب کا اصلی نام نصیر خان رحمانی ہے، سدھارتھ نگر یوپی آپ کا آبائی وطن ہے، جامعہ رحمانیہ کاندیولی سے آپ کی فراغت ہے، ایک سال جامعہ عالیہ عربیہ مئو سے بھی تعلیم حاصل کی ہے۔ طالب علمی کے زمانہ سے ہی صحافت سے وابستہ ہیں، ان کے منفرد اسلوب اور کاٹ دار لہجے نے صحافت کی دنیا میں ان کو نمایاں مقام دیا ہے۔ مجلہ دی فری لانسر کے ایڈیٹر ہیں۔ دیگر تفصیلات انٹرویو میں:
انٹرویو کی تاریخ: ۲۸/ستمبر ۲۰۱۸


سرفراز فیضی: آپ کا پورا نام کیا ہے؟ نام کس نے رکھا؟ کس مناسبت سے رکھا؟ اس نام کا اثر اپنی شخصیت پر محسوس کرتے ہیں؟

 ابوالمیزان: نصیر بن نذیر بن بشیر بن حیات اللہ

گاؤں کے مولانا رضوان سلفی صاحب نے نام مشیر رکھا تھا۔ انیس سو چھیانوے میں جب جامعہ رحمانیہ کاندیولی ممبئی میں داخلہ ہوا تو دور کے ایک رشتے دار اور استاد جامعہ مولانا عبد الغنی سراجی صاحب (رحمہ اللہ) نے نصیر کردیا تھا۔(کہنے  لگے، مشیر اچھا نہیں لگتا ہے)

مناسبت کے بجائے قافیہ آرائی معلوم ہوتی ہے دادا بشیر اور والد نذیر کے نام پر کیونکہ پھر میرے بعد انھوں نے چھوٹے بھائی کا نام صغیر رکھا تھا۔

نام کے اثر کا فیصلہ تو وہ احباب کریں گے جو مجھے پرسنلی جانتے ہیں۔

 

زید: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟

 ابوالمیزان: 6 فروری 1985 ۔ گاؤں بڑھے پورا پوسٹ رمواپور تحصیل شہرت گڑھ ضلع سدھارتھ نگر (یوپی)

 

سرفراز فیضی: ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟ کن مدارس سے تعلیم حاصل کی؟کن اساتذہ نے زیادہ متاثر کیا؟

 ابوالمیزان: گاؤں کے مکتب مدرسہ نور العلوم السلفیہ میں ایک کم پانچ جماعتیں۔ چوتھی جماعت پڑوسی گاؤں رمواپور کے مدرسہ شمس العلوم میں۔ پھر ادنی دارالعلوم ششہنیاں سدھارتھ نگر میں۔ اولی تاثامنہ جامعہ رحمانیہ کاندیولی ممبئی میں عالمیت آخر چھوڑ کر، بیچ  میں  ایک  سال   جامعہ عالیہ عربیہ مئو ناتھ بھنجن چلا گیا تھا۔

دارالعلوم ششہنیاں میں مولانا عبد العزیز شاھین النذیری صاحب، جامعہ عالیہ میں مولانا‌ مظہر اعظمی صاحب اور جامعہ رحمانیہ میں مولانا عبد الستار سراجی صاحب میرے پسندیدہ استاد تھے۔

 

شیرخان جمیل: ۱- آپ کی پیدائش کس سن میں اور کہاں ہوئی؟ ۲- دینی اور عصری تعلیم کہاں اور کہاں تک حاصل کی؟ ۲- تعلیم کے بعد کیا کیا اور کہاں کہاں کام کیا اور اب کیا کام کررہے ہیں؟

 ابوالمیزان: ١- سن انیس سو پچاسی ۔ گاؤں بڑھے پوروا ضلع سدھارتھ نگر یوپی

٢- دینی تعلیم جامعہ رحمانیہ کاندیولی میں فضیلت تک – پھر مولانا آزاد یونیورسٹی حیدرآباد سے فاصلاتی تعلیم بی اے

٣- سب سے پہلے صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک وگوا، بنگلور میں بطور آفس سکریٹری  کام  کیا۔ پھر وہی کام مولانا عبد السلام سلفی صاحب کے لیے   ممبرا میں۔ تیسرا کام “معیار حدیث” کی ادارت تھا ۔ چوتھا ایک صاحب خیر اور علم دوست جناب شاکر سکندر صاحب کے زیر اہتمام کچھ کتابوں کی تدوین کی۔

اگلا پڑاؤ فری لانسر کا اجراء اور فلم رائٹر جاوید صدیقی کا اسسٹنٹ ہونا۔ یہ دونوں کام ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ سن دو ہزار چودہ کی فروری میں فلم ڈائریکٹر انیس بزمی صاحب نے ایک فلم لکھنے کے لیے بلایا تو بطور انڈیپینڈنٹ رائٹر اسائن کیا۔ انھوں نے دو اور پروجیکٹ میں شامل کیا۔ اس دوران کچھ سیریل اور فلموں میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر بھی کام کیا۔ ایک شارٹ فلم میں ڈائریکٹر نے ایکٹنگ بھی کروالیا، اس فلم میں میں ڈائیلاگ سپر وائزر تھا۔

پھر ریاض چلا گیا۔ وہاں گیارہ مہینے ملازمت کرکے واپس آیا تو اب یہاں پلاسٹک ریسائکلنگ کے کاروبار میں ہوں۔

 

کاشف شکیل:  شارٹ فلم کی لنک بھیجیں۔

 ابوالمیزان: فلم فیسٹول کے لیے بنائی گئی تھی اور تین کہانیوں والی ایک فیچر فلم کا حصہ بھی تھی اس لیے اس کے پروڈیوسر Flying Saucer نے یوٹیوب پر اپلوڈ نہیں کیا ہے ابھی۔ میرے پاس ہے۔

 

عامر انصاری:  مدارس سے فراغت کے بعد یونیورسٹیز یا خلیجی جامعات میں آپ نے طلب علم کی کوشش کی ہو تو اس پر بھی روشنی ڈالیں؟؟؟

 ابوالمیزان: جامعہ عالیہ کی سند عالمیت کی ایک کاپی مولانا مقتدی حسن ازہری صاحب (رحمہ اللہ) کو کاندیولی سے بذریعہ ڈاک بھیجی تھی ایک درخواست کے ساتھ۔ جوابی لفافہ بھی تھا۔ کچھ دنوں بعد توصیہ مل گیا تھا۔ یہ دوسرا توصیہ تھا، پہلا تو مولانا‌ شریف اللہ سلفی صاحب نے سند کے ساتھ دیا ہی تھا۔ دو اور لکھوالیے تھے اپنے اساتذہ سے، ایک مولانا‌ضمیر احمد مدنی صاحب سے اور ایک مولانا سمیع اختر ازہری صاحب سے۔ پھر سارے کاغذات کی کئی کاپیاں بنواکر رکھ لیں۔ جامعہ اسلامیہ کبھی نہیں بھیجا۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں داخلہ لینے کے دو ارادے بس ارادے ہی رہے۔ پہلی بار محمد اسماعیل محمد یونس فیضی (سیج کنسلٹنٹ) کے ساتھ اور دوسری مرتبہ اپنے عبدالرحمن بھائی یعنی ابن کلیم کے  ساتھ۔ گھر میں رونا پیٹنا شروع ہوگیا تھا کہ ہمارا بیٹا پاگل ہوگیا ہے، اتنا پڑھ لیا ہے، جمعہ کے خطبے میں دھاڑتا ہے پھر بھی اور پڑھنے کی باتیں کررہا ہے۔ دادی، اماں اور پھوپھی کو روتا بلکتا چھوڑ کر ہم گھر سے نکل نہیں پائے۔

 

خلیل سنابلی:  کہتے ہیں کہ تدریس و تعلیم انبیاء کرام کی میراث ہے یا ان کی صفات میں سے ایک صفت ہے۔ کیا آپ نے کبھی اس میدان میں طبع آزمائی کی، اگر ہاں تو کہاں اور کتنی مدت تک؟ اور اگر نہیں تو کیوں؟

 ابوالمیزان: سب سے پہلے صوبائی جمعیت اہل حدیث کرناٹک وگوا کے زیر اہتمام شیواجی نگر بنگلور میں سمر کورس  پڑھایا۔ پھر دوسری اور آخری تدریس جامعہ عبد اللہ ابن ام مکتوم کے آر پورم بنگلور میں کی۔ یہاں حفظ اور ناظرہ کے بچوں کو اردو زبان پڑھاتا تھا۔

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان:  مولانا آزاد سے آپ نے ڈسٹینس موڈ میں بی  اےکی ڈگری لی۔سبجیکٹس کون کون تھے؟؟

 ابوالمیزان: اکانومکس، پبلک ایڈمنسٹریشن، اردو

 

کاشف شکیل: آپ اپنے مولد اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں

 ابوالمیزان: مولد موضع بڑھے پوروا ضلع سدھارتھ نگر (یوپی)

بچے کھچے بزرگوں سے جو تاریخ سنی ہے اس کے مطابق یہ جگہ جہاں صرف ایک بڑھئی رہا کرتا تھا وہاں آکر آباد ہونے والے کل تیرہ مہتو اور تین اسامی تھے۔ انہی تیرہ میں سے ایک خاندان کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا فرد میرا  چھوٹا  بھائی سمیر  نذیر  خان  ہے،  اس  کے  بعد  میرا  ہی  نمبر  ہے۔ دادا جی کسان تاجر تھے، نیپال دھان گیہوں ایکسپورٹ اور لکڑی امپورٹ کرتے تھے۔ والد صاحب ممبئی میں پلاسٹک ریسائیکلنگ کا کاروبار کرتے تھے۔

 

سرفراز فیضی:  آپ نے مضامین میں کئی بار اپنے دادا دادی کا تذکرہ کیا ہے۔ان کے بارے میں کچھ بتائیے۔

 ابوالمیزان:

چھوٹا سا سپنا

ہرے پتوں،پکے پھل سے لدا

(تم دیکھتے ہو)پیڑ یہ امرود کا

کس کو پتہ تھا

ایک دن لدجائے گا

پھولوں سے

اس کی ڈالیاں

جھک جائیں گی

بچے شرارت سے

کبھی ڈھیلا چلائیں گے

کبھی ڈنڈے سے پیٹیں گے

ذرا سا چخ کے کچے پھل کو پھینکیں گے

ہواؤں میں اچھالیں گے

مجھے بھی کیا پتہ تھا

میرے چھوٹے پاؤں کے نیچے

جب آیا تھا

وہ اک چھوٹا سا

دو پتوں کا پوداتھا

بڑی مشکل سے تو

معلوم کرپایا تھا

وہ کیا ہے

ابھی تک یاد ہے

وہ مینڈ پتلی سی

وہ موسم، وہ مہینہ

مینڈکوں نے

پوکھرے کو

پیلے رنگوں سے

سجاڈالاتھا

کمبختوں کو سوجھی بھی تو کیا سوجھی

بناڈالا تھا پارلیمنٹ

اتنا شور کرتے تھے

کہ جیسے پھوٹ کر

ساری زمیں کو

اپنے رنگ میں

رنگ ڈالیں گے

ابھی تک یاد ہے

برسات کا موسم وہ

ٹپ ٹپ کرتی بوندیں

سر ملاتیں

دادی اماں کی بلاؤں سے…

مری دادی کو لگتا تھا

میں چوروں کے لیے

سیڑھی بنانے جارہا ہوں

نہ دادی چپ ہوئیں

نہ ڈانٹنا چھوڑا…

خموشی سے مگر

میں نے بھی اپنا کام کرڈالا

ذرا سی دیر میں

دے دی زمیں دو انچ

گھر کے پاس

اس ننھے سے پودے کو

مجھے بھی کیا پتہ تھا

ایک دن وہ

میرے گھر سے بھی بڑا ہوجائے گا

دادی میری

سائے میں اس کے

سوئیں گی

آرام فرمائیں گی اک دن

ابھی تک یاد ہے

دادی کا اندیشہ

مگر کمبخت کوئی چور توآیا نہیں اب تک

اب اس کے سائے میں

بچے مرے سپنے سجاتے ہیں

اکٹھا کرکے ماٹی

چھوٹے چھوٹے گھر بناتے ہیں!

 

دادی کی ڈہری اور برکت

بچپن میں

اماں کہتی تھیں:

”گھر میں جب قرآن پڑھو تو

روزی میں برکت ہوتی ہے…“

دھان کی خالی ڈہری

پوری بھر جائے

اس نیت سے

ہم روز قرآن پڑھا کرتے تھے…

بڑے ہوئے تو

بڑا سا گھر بھی

بڑا تنگ سا لگنے لگا

کچھ ڈہری گھر سے نکال کے

تو بنیادوں کو کھلادیئے

کچھ گھاری میں رکھوادی تھی…

ایک دن جب شہر سے لوٹے

گھر کے سامنے والا رستہ

تنگ لگا…

ایک صبح جب آنکھ کھلی

تو روشن دان کے نیچے

اک کھڑکی کا سپنا جاگا

کھڑکی کے اس پار

کسی لیموں کے پیڑ کا سایہ کانپا

گھر کے آگے پیچھے

دو اَن دیکھی سی دیواریں تھیں

بائیں اک گھر

کندھے سے کندھا ملائے

کھڑا ہوا تھا

دائیں جانب بوڑھی گھاری

سہم سہم کے دیکھ رہی تھی

کل ہی کی تو بات ہے بھائی

کار…

کسی اور کے دروازے پر رکوائی

تو سوچ میں پڑگئے

سائیکل تک تو ٹھیک تھا

موٹر سائیکل بھی آجا سکتی تھی

لیکن کار…

گرے ہوئے لوگوں کی کچی گری ہوئی دیواریں

ہر بارش میں

دوچار انچ کا رستہ تو کھاہی جاتی تھیں

کل جس راستے سے

لڑھیا بڑی شان سے

گزرا کرتا تھا

وہیں سے اب ہم

موٹر سائیکل کا بمپر بچا کے چلتے ہیں

سوچا ہم نے

کیوں نہ کوئی ترکیب نکالیں

گھاری کو رستے سے ہٹاکر

بڑا سا اک رستہ ہی بنالیں

بیل تو اس میں رہتے نہیں

بس دو چار لکڑیاں کنڈے…

یہ سب تو

گھر کے کسی کونے میں بھی

رکھے جاسکتے ہیں نا

ایک اکیلی دادی ماں کو

دکھ ہے

گھاری نہیں رہے گی

کیا ہوگاپھر

بچی کھچی ڈہریوں کا

اماں بھی دادی کے دکھ میں

کچھ کچھ شریک سی لگتی ہیں…

ویسے بھی اب قرآن نہیں پڑھتے ہیں بچے

جو بھی پڑھنا لکھنا ہے

موبائل میں لکھتے پڑھتے ہیں

ڈہری کا بھی کیا کام ہے

دھان تو اب کھلیان سے سیدھے

سیلر پر لے جاسکتے ہیں

برکت کی بھی فکر کسے ہے

موبائل فون کے چارج پہ اب

ماؤں کا دھیان لگا رہتا ہے

بچے تو چوراہے پر ہی

پیٹ اپنا اب بھرلیتے ہیں

چائے پکوڑی، چنا جلوبی، مٹرسموسہ

سب کچھ تو ملتا ہے وہاں پر

گھر میں چاول دال پکائیں

جتنا بھی کم، زیادہ ہیں…

ڈہری وہری، برکت ورکت

روز شام قرآں کی تلاوت

شاید کل کی باتیں ہیں

 

 

دادا جی کی دل داری

شاید دادی اماں بھی…

دادا جی سے اکثر ہم

فرمائش کرتے ہی رہتے تھے

”ریڈیا لگاؤ…“

دادا جی بھی سیدھے سادے

ہل کدال سے مٹی توڑی

بانس کی سوکھی لگی میں

ہنسوا باندھ کے

نیم کے پیڑ سے داتون توڑا

برکھا میں

بکری کے لیے

بوری کی گھوکی اوڑھ کے

پیپل کے پیڑ سے پتے توڑے

لیکن دل…میرا دل

کبھی بھول کے بھی نہ توڑا

دو چار منٹ کو

ریڈیو آن تو کرہی دیتے تھے

دھیرے سے پھر کہتے:

”بیٹا سوجاؤ

ریڈیو میں جو بول رہے تھے

کھانا کھانے چلے گئے ہیں…“

 

کاشف شکیل:   بچپن میں آپ کا محبوب مشغلہ کیا تھا؟

 ابوالمیزان: سوئمنگ

 

کاشف شکیل:   آپ نے شعور سنبھالتے وقت اپنے اندر کون کون سی ایسی وہبی صلاحیتیں پائیں جو عام لوگوں کے اندر کمیاب یا نایاب ہیں؟

 ابوالمیزان: کسی سے اپنا موازنہ نہ کرنا کسی بھی معاملے میں۔

 

کاشف شکیل:   آپ اپنے اساتذہ میں سے سب سے زیادہ کس سے متاثر ہیں؟ ابتدائی تعلیم متوسطہ کی تعلیم اور ثانویہ تعلیم کہاں حاصل کی؟

 ابوالمیزان: مولانا عبد الستار سراجی صاحب سے۔

نوٹ:باقی باتیں بتاچکا ہوں۔

 

عبداللہ: آپ نے شیخ عبد السّتار سراجی کو پسندیدہ استاد بتلایا ہے، آپ کو شیخ میں کیا خوبیاں نظر آئیں؟

 ابوالمیزان: استاد محترم کے طرز تعلیم میں نفس موضوع کی تسہیل و تفہیم کا گراف سو فیصدی ہوتا تھا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دوران تدریس جو جملہ وہ ادھورا چھوڑ دیا کرتے تھے اس کی تکمیل میں مجھے کوئی دشواری ہوئی ہو۔ تربیت کا بھی انوکھا انداز تھا۔ معاملات پر کڑی نظر رکھتے تھے اس کے باوجود ہر تنبیہ میں والد کی سی شفقت محسوس ہوتی تھی۔ غلطی کا اعتراف کرنے پر عفو ودرگزر اور نصیحت سے ایسا کام لیتے تھے کہ ویسی ہی محبت آج بھی دل میں بسی ہوئی ہے۔

 

 

کاشف شکیل:  عصری تعلیم کی طرف عبقری رجحان نہیں ہوا؟ آپ حافظ ہیں یا نہیں؟

 ابوالمیزان: کئی بار ہوا، اس پر عمل درآمد کی کئی ناکام کوششیں بھی کیں۔ بالآخر استفادہ کے دیگر ذرائع  پر اکتفا کرنا پڑا

حافظ نہیں ہوں۔

 

نورالقمر: اپنے علاقہ میں اکثر بچوں کا نام گھر والے پیار سے بگاڑ دیتے ہیں کیا آپ کا بھی الٹا نام کسی نے رکھا تھا، اگر رکھا تھا تو کیا نام تھا؟

 ابوالمیزان: میرا نام پیار سے نہیں رکھا تھا۔ پاس پڑوس والے سب پریشان رہتے تھے اتنا‌ چیخ چیخ کر روتا تھا میں۔ دادا جی مجھے لے کر رات رات بھر گاؤں میں گھوما کرتے تھے کہ کسی طرح چپ ہوجائے تو واپس لے جاکر سلادوں۔ اریٹیٹ ہوکر ایسے بچے کو گاؤں میں کہتے ہیں کہ یہ تو بہت ننگا ہے۔ ننگوا کہہ کر بلاتے تھے سب۔ وہ تو دینی علم کی برکت ہے کہ اب پیار سے مجھے مولی صاحب کہتے ہیں ورنہ میرے ہم عمر کلو کو آج بھی سب کلو ہی بلاتے ہیں۔ بیچارے کا نام اشتیاق ہے۔

 

نورالقمر: بچپن میں آپ سے بھی سوال کیا جاتا ہو گا کہ بڑے ہو کر کیا بننا چاہتے ہیں آپ کیا جواب دیا کرتے تھے اور پھر بن کیا گئے؟ تفصیل ۔

 ابوالمیزان: ایسا کوئی سوال نہیں کیا گیا کبھی۔ خود ہی بنتے بگڑتے رہے۔ ہم درس، ہم مدرسہ اور ہم پیالہ احباب نے یہ پروسیس دیکھا ہے۔ آج بھی گھر خاندان والوں کو نہیں پتہ کہ کیا بنے اب تک۔ خود کو نہ ابوالکلام آزاد بننا کبھی مشکل لگا نہ اے پی جے عبدالکلام۔ ایہام میں غالب کو ٹکر دینے کا خبط بھی سوار ہوا تھا۔ میرے “فیروزاللغات” میں آج بھی بڑے اکشروں میں “ابوغالب شمس نذیری” لکھا ہوا ہے۔ ستیہ جیت رے بننے کا جنون بھی معنون ہے ایک اچھے خاصے وقت سے۔ اور پھر ہوا یہ کہ ابوالمیزان بن گئے۔

 

سرفراز فیضی: اپنے گاؤں اور گاؤں میں گزرے بچپن میں بارے میں کچھ بتائیں۔ گاؤں کے بچپن میں وہ کون سی چیزیں ہیں جن سے شہر کے بچے محروم رہ جاتے ہیں؟

 ابوالمیزان:

چھوٹی سی نشانی

یاد نہیں آتا ہے

کب یہ

سافٹ ویئر یادوں کا

اپنے سسٹم میں انسٹال ہوا تھا

کون سی پہلی فائل تھی

جو سیو کیا تھا

لیکن گھٹنوں گھٹنوں چلتے

ماٹی جو ہاتھوں میں لگی تھی

اب تک شاید دھلی نہیں ہے

خوشبو آتی رہتی ہے

دھاراوی کی گندی گلیاں

پوچھ رہی ہیں

گاؤں کی کچی گلیوں کی

خوشبوئیں کیسی ہوتی ہیں…؟

پوکھرا، تِلری، بَولی، مَڑیا

پنگھٹ کے یہ روپ

بھلا کیسے ہوتے ہیں

پوچھ رہا ہے

جوہو کا بے شرم کنارا…

ہل جوٹھا،ہینگا اور لیوا

یہ ساون کیسا ہوتا ہے

پوچھے ہے

کرلا کا پائپ روڈ

ہمارے پاؤں سے

جو رنگ برنگے پانی کا

تالاب بنا ہے لمبا سا…

سوچ رہے ہیں

ہاتھوں میں ماٹی کی خوشبو

نہ ہوتی تو

کون پوچھتا

کسے پتہ چلتاکہ…

ہم بھی گاؤں سے آئے ہیں!

 

سرفراز فیضی:  گھر، خاندان، رشتے دار، دوست اور گاؤں والوں کا رویہ آپ کے ساتھ کیسا ہے؟

 ابوالمیزان: اتنی محبت ملتی رہتی ہے کہ بیلنس مسلسل بڑھتا رہتا ہے۔ آپ ایسے دوست ہیں کہ گھر کے لگتے ہیں۔ آپ سے ملتا جلتا ہی رویہ سب کا ہے۔ الحمد للہ

اذان کا وقت ہوگیا تھا۔ سب پیچھے مڑمڑ کر مسجد کے دروازے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ میری طرف بھی کئی چور نظریں اٹھی تھیں۔ آخر ہمت کرکے مولانا عبد السلام سلفی صاحب کے چھوٹی بھائی ابو الوفا صاحب نے مجھ سے کہا:

مولی صاحب! چلو

“تھوریک رکو کے جانے کیہو آئی جائے” میں نے کہا

پانچ منٹ بھی صبر نہ کرپائے دوبارہ کہا۔

میں کچھ دیر اور رکا۔ بارہ چالیس ہوگئے۔ کوئی نہیں آیا تو مجبورا اٹھا اور صرف خطبہ پڑھ کر اترگیا تقریر نہیں کی۔

بعد میں پتہ چلا کہ مسجد کے اوپری حصے میں ساری عورتیں اس جگہ جمع ہوگئی تھیں جہاں سے منبر اور اس پر کھڑا شخص دکھائی دیتا ہے۔ سب بہت خوش تھیں کہ آج کئی سالوں بعد مولانا کی تقریر سننے ملے گی۔

میں تقریر کیسے کرپاتا۔ جینس ٹی شرٹ میں تھا اور کلین شیو بھی

 

جاوید مدنی:  تعلیمی ادوار کے کچھ یادگار لمحات…

 ابوالمیزان:

عربی مدرسے کا پہلا سبق

صبح ساڑھے نو بجے

مارچ 1996ء

ممبئی کا ایک مدرسہ

سانولا سا، گیارہ سال کا ایک بچہ، جس کے پہناوے، چال ڈھال اور بوکھلاہٹ سے دیہاتیت جھلکتی ہے، ممبئی کی ایک گندی سڑک پر دو لوگوں کے ساتھ چلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان میں سے ایک آدمی گہرے کالے رنگ کا ہے۔ اس کے چہرے پر اتنی داڑھی اگ آئی ہے کہ لگتا ہے چار پانچ دنوں سے اس نے شیونگ نہیں کی ہے۔ پھر بھی الجھن صاف جھلکتی ہے۔ البتہ مونچھ ٹکاوٴ لگتی ہے۔ ہلکے کالے رنگ کی پینٹ اور سفید شرٹ، نہ صاف ستھرے ہیں اور نہ ہی بہت گندے۔ سر کے بالوں میں کہیں کہیں سفیدی جھلک رہی ہے۔ ہونٹوں پر جمی سیاہی سے لگتا ہے کہ بیڑی پیتا ہو گا۔ اور چال سے لگتا ہے کہ برابر نہیں چلتا ہے۔

دوسرے آدمی کے ہونٹوں پر کھلی مسکراہٹ اور آنکھوں سے جھلکتے دکھوں سے لگتا ہے کہ وہ گھوڑ سواری کا شوق رکھنے والا ایسا آدمی ہے جس کے دل میں گرنے کا خوف بھی چھپا ہوا ہے۔ بائیں ہاتھ میں ہندی کا اخبار ”یشوبھومی“ ہے، جس کے ایک صفحے پر خالی خانوں میں شبد بٹھا کر وہ جوڑتا گانٹھتا ہوا چل رہا ہے۔ اس کے دائیں ہاتھ میں جو قلم ہے، وہ کبھی کبھی بائیں ہاتھ میں جکڑے ہوئے اخبار کا بوسہ بھی لے لیا کرتا ہے۔ اسے دیکھ کرلگتا ہے کہ وہ بھی کچھ کہنا چاہتا ہے۔ مگر نہ جانے کیا سوچ رہا ہے۔ یا ہوسکتا ہے اسے الفاظ نہ مل رہے ہوں۔چلتے چلتے یکایک وہ تینوں رک جاتے ہیں۔

سامنے ایک ایسا آدمی آکر کھڑا ہوجاتا ہے جس کے بڑے سے سانولے رنگ کے چہرے پر بے شمار چھوٹے چھوٹے گہرے داغ ہیں۔ پہناوا اور چال ایسی کہ لگتا ہے وہ کوئی بڑا سرکاری آفیسر ہوگا۔ رعب ایسا کہ چھوٹے بچے دیکھیں تو سہم کراپنی ماں کے گود میں چھپ جائیں۔

سلام دعا اور خیر خیریت پوچھنے بتانے کے بعد مدعے کی بات کی جاتی ہے۔

آفیسر نما: کہاں آئے رہیو!

کالا آدمی: ای مدرسوا میں (بچے کی طرف اشارہ کرکے)یہی کے داخلہ کرواوک رہا۔

آفیسر نما: ہوئی گوا؟

کالا آدمی : ناہیں!

آفیسر نما: کاہے؟

کالا آدمی:صدر صاحب کہت ہیں جگہ خالی نائیں ہے۔ چار مہینہ گئے آیو۔

آفیسر نما:اچھا․․․․! چلو ہم دیکھی کاہے نائیں داخلہ لِہِن۔

(آفیسر نما آدمی آگے آگے اور دونوں آدمی پیچھے پیچھے، اور سب سے پیچھے آدھا دوڑتا، آدھا چلتا ہوا بچہ․․․)

DISSOLVE

چاچا نہرو سی ٹوپی پہنے،مولانا آزاد سی داڑھی اور کرتا پاجامے میں ملبوس، گاندھی جی کی طرح موٹے مگر گول نہیں، چوکور چشمے کے پیچھے سے صدر صاحب کی آنکھیں دیکھنے سے زیادہ، سمجھنے کی کوشش کررہی ہیں۔ آفیسر نما آدمی کہتا ہے:

آفیسر نما: صدر صاحب یہی لڑکوا کے داخ․․․․․․

صدر صاحب: (بات کاٹ کر) ہاں! ایک منٹ․․․․ رکو․․․ میں ․․․ (اندر جانے لگتے ہیں)

آفیسر نما: جگہ ناہوئے تو رہے دِہا جای․․․

صدر صاحب: (مڑکے دیکھے بنا کہتے ہیں) ارے جگہ کیوں نہیں ہے؟

(آفیسر نما آدمی اشارہ کرتا ہے جیسے کہہ رہا ہو: ”دیکھاآپ لوگوں نے سورس کا پاور․․․ کیسے چٹکی میں کام ہوگیا؟“ ․․․․ پھر وہ دونوں آدمی ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے ہیں۔ یہ سنکی منکی دیکھ کر بچہ بھی کچھ سمجھنے کی کوشش کررہا ہے۔ ہوسکتا ہے وہ عربی مدرسے کا یہ پہلا سبق یاد کررہا ہو)

 

سین نمبر1

صبح نوبجے

جنوری2001ء

بنارس کا ایک مدرسہ

#سخت سردی کی اس صبح ایک 16/سالہ لڑکا میلا کرتا پاجامہ پہنے، سر پر چائنیز ٹوپی لگائے اور پتلی سی چادر اوڑھے مدرسے کا گیٹ پار کرتا ہے۔

#اس سے دس قدم کے فاصلے پر گاندھی جی کی طرح ایک دبلے پتلے عالم، سفید کرتا اور سفید مولانا لنگی پہنے، سر پر جواہر لال نہرو والی ٹوپی لگائے کھڑے ہیں۔ ان کے ساتھ چار لوگ اور ہیں جو ایک ہی ڈریس میں مگر مختلف عمروں والے ہیں۔

#لڑکا مولانا کی طرف بڑھ کر ”السلام علیکم“ کہتا ہے اور پھر مولانا سمیت وہاں کھڑے سارے لوگوں سے مصافحہ بھی۔

#لڑکے کے سلام کا جواب دینے کے بعد مولانا اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر یوں گویا ہوتے ہیں:

مولانا:یہ دیکھو، خالہ بوبو کا گھر سمجھ لیتے ہیں۔ کبھی بھی آجاتے ہیں۔ ٹسٹ تو سات بجے ہی شروع ہوچکا ہے، اب نو بجے یہاں پہنچ کر کیا فائدہ؟… بڑا آیا ہے داخلہ لینے… (پھر لڑکے کی طرف متوجہ ہوکر سوال کرتے ہیں) کون سی گاڑی سے آیا ہے؟

لڑکا:منڈواڈیہہ پسنجر سے…

مولانا:منڈواڈیہہ پسنجر سے آنے کے لیے کس نے کہہ دیا، چورا چوری ایکسپریس پکڑ لیتا تو زیادہ پیسے لگ جاتے کیا۔ بے وقوف کہیں کا … (اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوکر) … ارے ٹسٹ میں شریک ہونا تھا تو ایکسپریس سے آتا، وقت پر پہنچ جاتا نا۔ اب کوئی خالہ بوبو کا گھر تھوڑی ہے یہ، کہ کبھی بھی آگئے… پتہ نہیں کہاں کہاں سے آجاتے ہیں ہونّق لوگ… (لڑکے سے مخاطب ہوکر)… جا! شام کو آنا۔ مئو کے کسی مدرسے کے لیے لیٹر لکھ دوں گا، وہاں داخلہ ہوجائے گا۔

#مولانا کی تقریر سن کر وہ اکیلا لڑکا بنارس جیسے شہر میں دن بھر کے لیے کھوجاتا ہے۔

 

ابو اشعر فہیم: مئو میں گزری ہوئی گزران سے مستفید فرمائیں بلاتکلف کلچر، تہذیب، شہر کے احوال، پسند کی چیزیں، کچھ مشفق اساتذہ، کچھ چٹپٹی وارداتیں، کچھ شرارتیں کچھ علمی باتیں،کچھ ماسٹر اقبال پھٹکر مرحوم کی ریزگاریاں

 ابوالمیزان:مئو پہنچے تو ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ڈسٹوپین ایرا میں آگئے۔ سارا کچھ بڑا روکھا سوکھا سا لگتا تھا۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا سبب کیا ہے۔

گیارہ سال کی عمر تھی جب ممبئی آئے تھے۔ ساون کے مہینے میں مینڈوں پر بیٹھ کر گاؤں کی عورتوں اور لڑکیوں کو دھان کے کھیتوں میں کام کرتے دیکھا تھا۔ پھر سیدھا گنیش نگر کاندیولی پہنچ گئے۔ وہاں سے ہمارے کھیل کا میدان ورلم گارڈن بھی زیادہ دور نہیں تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ گاؤں میں ساڑی اور پاجامہ گھٹنوں تک چڑھالیا جاتا تھا اور یہاں کم بخت اکثر لڑکیاں اور عورتیں بچوں کے لباس میں گھومتی تھیں۔ ایک ہفتہ لگ گیا سمجھنے میں کہ مئو میں اتنا سونا سونا کیوں لگتا ہے۔ ممبئی میں پورے پانچ سال گزار کر آئے تھے نا۔

پردے کا اہتمام اور میراث پر عمل، یہ مئو کی دو ایسی خصوصیات تھیں جو ہم نے کتابوں میں پڑھ رکھی تھیں۔ پردے کا اہتمام ہمارے یہاں بھی تھا مگر ایسا نہیں تھا۔

ہمارے یہاں چائے خانوں پر ہندی اخبار ملتے تھے یہاں اردو اخبار، چلتے چلتے شعراء اس تعداد میں مل جاتے جیسے ہمارے یہاں پردھان جی کے چمچے ملتے ہیں۔ دنیا ہی بدل گئی تھی، صبح قیمہ پوری، شام کھیدوپورہ کا بنیا اور رات‌ میں مرزا ہادی پورہ چوک کی کھڑچولین۔ ایک سلسلہ تھا ذائقے کا جو کبھی کبھار گاجر کے حلوے کا متحمل بھی ہوجاتا تھا۔ باقی مکتبہ نعیمیہ، مکتبہ فہیم، اثریہ، فیض عام اور مدرسہ کھیدوپورہ کے چکر تو لگتے ہی رہتے تھے۔ کھیدوپورہ کے سامنے وہ جنگل بھی ہمارے ذوق سیاحت کا گواہ ہے۔

جامعہ رحمانیہ کی پابندی سے نکل کر سیدھا عالیہ کے اس ہاسٹل میں پہنچ گئے تھے جہاں کوئی دربان تک نہیں تھا۔ وہ احساس ایک شعر میں ڈھل گیا تھا:

محبوس تھے تو راہ نوردی کا شوق تھا

اب بیڑیوں کی یاد ستائے ہے رات دن

بنیا دال موٹ کے ساتھ ایسا لذیذ لگتا تھا کہ ناغہ نہیں ہوتا۔ عصر بعد کا یہی معمول تھا۔ داڑھی والوں کو دیکھ کر گھونگھٹ گرالینے کی ادا پر بھی مزاج شاعرانہ ہوجاتا تھا۔ اسی راستے پر توڑے ہوئے ایک پھول کا ذکر ہے یہ:

کیسی طبع جنون پائی ہے

پھول گلیوں میں لیے پھرتے ہیں

پندرہ اگست سے زیادہ یادگار اس کے بعد آنے والے دن ہوگئے تھے۔ جس گلی سے گزرو شی شی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ اچھا لگتا تھا کیونکہ یوپی والوں کو بھی بہاری سمجھتے تھے قصباتی اور یہ ہم ممبئی والوں کو برا لگتا تھا۔ یوپی کے تھے تو کیا ہوا ممبئی سے گئے تھے۔ جامعہ رحمانیہ میں تو ہم بہاری کو ہی بہاری سمجھتے تھے۔ وہاں ہمیں ہی بہاری گردانا جانے لگا۔ شی شی سن کر اچھا اس لیے لگتا تھا کہ یہ ہوٹنگ نہیں چیرنگ تھی۔

جامعہ عالیہ میں پندرہ اگست کی رات مرکزی لائبریری میں بیت بازی ہوئی تھی۔ بتایا گیا کہ یہ ہر سال کی روایت ہے۔ سارے طلبہ کی دو ٹیم بنادی گئی تھی۔ چار اشعار کے تبادلے میں ہی سامنے والی ٹیم کو ہارا ہوا گھوشت کردیا گیا تھا۔ سامنے سے ایک کے بعد پھر دوسرا شعر ہی نہیں آیا۔ خود ہی گرایا خود ہی اٹھایا۔ اساتذہ نے کہا ہار جیت کا فیصلہ ہوچکا ہے مگر اب یہ لڑکا شعر کہنے کے لیے کھڑا نہیں ہوگا۔ باقی لوگ بیت بازی جاری رکھیں گے۔ اشعار سارے اقبال کے تھے جو میں نے کہے تھے۔

ماسٹر اقبال صاحب کو اللہ جنت دے۔ پتہ نہیں کیوں جب بھی ان کی یاد آتی ہے تو سامنے چارلی چیپلن بھی آکھڑا ہوتا ہے۔ ایک ہاتھ میں جھولا اور کھلی ہوئی پوتھی اور دوسرے ہاتھ میں قلم لے کر اس تیزی اور اسٹائل سے قلم پھراتے تھے کہ اصلاح لینے والے شعراء دیکھ لیں تو عش عش کر اٹھیں۔ ہم تو یہی دیکھنے کے لیے بہت دیر دیر تک کھڑے رہتے تھے۔ ایک بات واضح کردوں کہ میں نے ماسٹر صاحب کو کبھی مٹھائی نہیں کھلائی تھی۔ اور ساٹھ میں سے مجھے اڑتالیس نمبر ملے تھے تو کوئی افسوس بھی نہ ہوا تھا۔

 

عبدالرحمن مئو ی:  نصیر بھائی لگے ہاتھ مئو کے ایک آدھ کلاس میٹ کے نام بھی بتا دیجیے تاکہ انہی کے حافظے سے آپ تک کچھ رسائی ہوجائے؟  سیدھے سیدھے تو ہم محروم رہے کہ آپ سے پہلے دستار لپیٹ دی گئی اور آپ کے بعد مدرسی تک پہنچے۔

 ابوالمیزان: حماد ظفر۔ اس وقت عبد الصبور ندوی اور محمد اظہار اظہر برمپوری صاحبان بھی فضیلت ثانی میں تھے۔

 

احتشام:  مرزاہادی پورہ چوک کی کھڑ چولین؟ یہ کون سی نعمت ہے نصیر بھائی جو ہماری آنکھوں سے اوجھل رہی آج تک… اس چوک سے تقریباً سو میٹر کے فاصلے پر میرا آبائی مکان ہے…مگر یہ نام آج میں پہلی بار سن رہا ہوں…ایک بات اور عالیہ کس سن میں چھوڑا آپ نے… 1998 سے 2003 ہم بھی اسی ادارے کے خوشہ چین رہے ہیں…

ابو اشعر فہیم:  بہیرہ کی سادہ ادرک لیموں والی چائے تو مراد نہیں میزان بھائی؟

 ابوالمیزان: جی وہی مراد ہے۔بہیرہ کی سادہ ادرک لیموں والی چائے۔

یہ سن دو ہزار ایک کی بات ہے۔ پرسنل پر آپ اپنی تصویر بھیجیں پہچاننے کی کوشش کروں۔

 

عبدالغفار سلفی:  ابو المیزان بھائی!  اکثر دیکھا جاتا ہے کہ شادی کے بعد لکھنے پڑھنے کے مشاغل بری طرح سے متاثر ہوتے ہیں (الا ما شاء اللہ)، آپ نے کیسے مینج کیا یا پھر آپ کو بھی فرق پڑا؟

 ابوالمیزان: فرق تو پڑتا ہی ہے جب ذمہ داریاں بڑھتی ہیں۔ مگر یہ فکر کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ تب تک آپ کے مطالعے کا معیار بھی بڑھ چکا ہوتا ہے۔ پہلے اگر آپ کو سو میں سے پچاس کتابیں قابل مطالعہ معلوم ہوتی ہیں تو کچھ دنوں بعد ان کی تعداد گھٹ کر چالیس ہوجاتی ہے۔ یعنی وقت گزرنے کے ساتھ آپ بڑے سلیکٹیو ہوتے چلے جاتے ہیں۔ مصروفیت کے ساتھ ساتھ تجربہ بڑھتا ہے، ضبط کی صلاحیت بڑھتی ہے، استعمال کا ملکہ بڑھتا ہے، مطالعے کے لیے وقت کم بھی پڑے تو کوئی بات نہیں مطالعے کی رفتار تو بڑھ ہی جاتی ہے۔

 

جاوید مدنی: آپ نے رحمانیہ میں کئی اصول بنائے تھے، جیسے مغرب بعد پڑھنے کا وقت ہے، کیا ایسے اصول اب بھی بناتے ہیں؟

 ابوالمیزان: اب ایک ہی اصول ہے۔ جب دنیا سوجائے تو جاگو اور جب تک دل کرے لکھنے پڑھنے کا کام کرو۔ ایسے وقت نہ کوئی فون آتا ہے نہ ملاقاتی۔ ذمہ داریاں بھی ہولڈ پر رہتی ہیں۔

 

شعبان بیدار:  سرفراز بھائی دوسری شادی کی دعوت دیتے ہیں، آپ شنید ہے دوسری شادی کو بہتر نہیں کہتے.. کچھ اور اسی قسم کا شنید ہے.. کیا رائے بدلی یا اب بھی وہی رائے ہے…. پا پھر آپ کی رائے کو غلط معانی پہنائے گئے؟

 ابوالمیزان: دوسری شادی سے زیادہ ضروری ہے نظام میراث پر عمل۔ جب تک یہ نہ ہوگا عورت کو اپلچھ گریرے رہے گی۔ ہمیں تو “خیر متاع الدنیا” کو بھی کسی مرد کے حوالے کرنے کے لیے رشوت دینی پڑتی ہے۔ اپنا سماج دیکھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سماج سوچیں۔ وہاں فرمان جاری کرنا پڑا تھا کہ دوران عدت نکاح کا پیغام نہ بھیجوائیں۔ یہاں کنواریوں کا بھی کوئی پوچھتر نہیں ہے۔

دوسری شادی سے جو مسائل حل ہوتے ہیں اس سے بڑے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ یتیموں اور بیواؤں کے مسائل کا بیشتر حل اسی دوسری شادی میں ہے۔ اس کے باوجود نظام میراث پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے سماج کے حق میں دوسری شادی مفید کم نقصان دہ زیادہ لگتی ہے۔ جب تک عورت کو اس کا حق دینے کا رواج نہ ہو اس کے ساتھ جہیز جیسی رشوت لگی رہے گی۔ اور یہ اتنی بڑی رکاوٹ ہے کہ دوسری تو دوسری پہلی شادی بھی مشکل ہوگی۔ میرا عمومی مشورہ یہ ہے کہ دوسری شادی نہ کریں۔

ہاں اگر کسی کے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں ہے تو وہ اس طوفاں سے آشنا ہونے کا رسک لے سکتا ہے۔

 

ابن کلیم:  تعدد ازدواج کی شرعی حیثیت مسلم ہے…  لیکن میرا سوال موجودہ ہندوستانی معاشرتی تناظر میں ہے…. ایک زمانے میں آپ بھی اس کے علمبرداروں میں شمار ہوتے تھے حتی کہ اپنے گاؤں کی مسجد میں بھی اس موضوع پر خطبہ دے چکے ہیں …. اب  آپ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کوئی تبدیلی آئی ہے یا ابھی بھی فیضی صاحب کی پارٹی میں ہیں؟

 ابوالمیزان: تعدد ازدواج کی تحریک میں نے تین سال تک چلائی تھی۔ سبب میرے گاؤں میں بیواؤں اور یتیموں کے مسائل تھے۔ سماج پر اس کے بہت خطرناک اثرات مرتب ہورہے تھے۔ مجھے ان مسائل کا سب سے مناسب حل تعدد ازدواج ہی میں دکھائی دیتا تھا۔ کسی طرح اگر عورت اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ بھرلے تن ڈھانک لے تو اپنی جنسی ضرورتوں کا کیا کرے۔ اگر اس کا جائز انتظام نہ ہوگا تو بے راہ روی کے امکان سے کون انکار کرسکتا ہے اور میں تو اپنے گاؤں پر اس بے راہ روی کے برے اثرات کو کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔

یہ تب کی بات ہے جب میں کنوارا تھا۔ شادی ہوئی تو دوسری شادی کے دوسرے مسائل کا علم بھی ہوا۔ کامن سینس اس کے خلاف ہے۔ اپنی بیگم سے بات کی اور دوسری عورتوں کے تاثرات جاننا چاہا تو پتہ چلا بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی۔ اگر نیا گھر بنانے کی قیمت پرانے گھر کے انہدام سے چکانا پڑے تو کیا دانش مندی ہے۔

اب ایسا لگتا ہے جن احباب کی سماجی حیثیت معروف ہو وہ اگر یہ کام کریں تو رائے عامہ ہموار ہوسکتی ہے۔ کامن سینس میں موڈی فکیشن ہوسکتا ہے۔ ابھی تک ہمارے سماج نے عام طور پر اس کے سائڈ ایفیکٹس ہی دیکھے ہیں، اس کے فوائد سے آشنا‌ ہوگا تو دھیرے دھیرے بدلے‌ گا۔

البتہ کمزور دل والے یہ رسک لینے سے گریز کریں!

 

سرفراز فیضی:  پڑھنے کی طرف رغبت اور لکھنے کا شوق کیوں ہوا؟

 ابوالمیزان: بچپن میں نئے راستوں پر دور تک اکیلے چلتے رہنا بہت اچھا لگتا تھا۔ جب میری حدوں کے سارے راستے پرانے ہوگئے تو کتابوں نے وہ راہ دکھائی جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ پڑھنے کا شوق دن بدن بڑھتا ہی گیا، اب تک ختم نہیں ہوا ہے۔

ہم درس نظمیں مانگتے تھے ہفتہ واری انجمن میں پڑھنے کے لیے۔ تلاش کے وسائل اور انتخاب کے شرائط دونوں اتنے تنگ تھے کہ معیار پر کھرا اترنے کے لیے لکھنا شروع کردیا۔ حوصلہ افزائی اتنی ہوئی کہ آج بھی بیلنس رہتی ہے۔

 

کاشف شکیل: ادب کا ذوق کب اور کیسے پیدا ہوا؟

 ابوالمیزان: سن دو ہزار میں ماہ نامہ شاعر ہاتھ لگ گیا تھا۔ پڑھنا شروع کیا تو پورا پڑھ ڈالا۔ بڑا اچھا لگا۔ پھر یکے بعد دیگرے چھ شمارے پڑھ ڈالے۔ لگتا‌ نہیں تھا کہ کچھ سمجھ میں آرہا ہے مگر اچھا لگتا تھا۔ مطالعے کا وہ سلسلہ آج تک دراز ہے، اب سمجھ میں بھی آتا ہے۔

 

ابن کلیم:  شنید ہے آپ کی زمانہ طالب علمی کی بعض تحریریں اساتذہ جامعہ بھی نہیں سمجھ پاتے تھے… کہیں اسی شاعر کے مطالعے کا ہی تو دخل نہیں تھا؟

 ابوالمیزان: سن دو ہزار میں میری پہلی منی کہانی مسرور راہی کے نام سے جب روزنامہ اردو ٹائمز ممبئی میں میری تصویر کے ساتھ چھپی تو ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے پورا جامعہ خوش ہے۔ مولانا محمد قاسم سلفی صاحب نے بلاکر پوچھا: جی، وہ کہانی تو نے لکھی ہے کیا؟

“جی” میں نے کہا

بولے: اجی مولانا‌ عدیل صاحب تو کہہ رہے تھے کہیں سے چراکر اپنے نام سے بھیج دیا ہوگا۔ وہ لڑکا تو یہ کہانی سمجھ بھی نہیں پائے گا۔

جامعہ رحمانیہ ہی کے حائطیہ مجلہ الصفا کا جب میں نے “علوم القرآن نمبر” نکالا تو اس کا اداریہ بعینہ ایسے ہی تھا جیسے ابھی “سعودی نیشنل ڈے نمبر” کے لیے میں نے “تیل پنیا” لکھا ہے ۔ مربی انجمن مولانا عبد الحکیم عبد المعبود مدنی صاحب نے مجھے بلاکر کہا:

میں نے تم کو آزادی دی ہے تو کیا اس کا غلط استعمال کروگے؟ مولانا الطاف حسین فیضی صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ اداریہ جس لڑکے نے لکھا ہے وہ خود بھی نہیں سمجھتا ہوگا کہ اس نے کیا لکھ دیا ہے۔ اس سے کہو بدل دے۔ جاؤ ابھی پہلی فرصت میں یہ کام کردو۔

میں نے اسی اداریے کے سائز کا “یہ شمارہ” (سعودی نیشنل ڈے نمبر – 2018) جیسا کچھ لکھا اور اس پر پن کردیا۔ سال کا وہ آخری شمارہ تھا۔ جب چھٹی ہوئی اور سب طلبہ گھر جانے لگے تو واپس نکال لیا اور پہلے جیسا رہنے دیا۔

شاعر، ایوان اردو، آج کل، نیا دور اور کتابی سلسلہ “التغابن” وغیرہ کے مسلسل مطالعے کا‌ اثر یہ ہوا تھا کہ میں اسی جناتی زبان میں لکھنے بھی لگا تھا ۔

میرے ملنے جلنے والے گواہ ہیں کہ میری بولی اور تحریر میں آج بھی وہی زمین آسمان فرق ہے جو پہلے تھا۔ شاید اسی وجہ سے میرے اساتذہ کو سرقے کا شبہ ہوا تھا۔

 

کاشف شکیل:  شاعری آپ نے کب شروع کی؟ شاعری میں آپ کے اساتذہ کون کون سے ہیں؟

 ابوالمیزان: گیارہ سال کی عمر میں۔

ممبئی کے مشہور شاعر عبد الاحد ساز صاحب کو آٹھ تخلیقات بھیجی تھیں، چار حمد، چار غزلیں۔ مسلسل مطالعہ اور مشق سخن کا مشورہ دیا تھا اور حمد میں مستعمل ایک لفظ “تقشف” کو مہمل گردانا تھا۔ یہ پہلی اور آخری کوشش تھی اصلاح لینے کی۔

 

کاشف شکیل:   گیارہ سال کی عمر سے شاعری بہت بڑی بات ہے، جبکہ اس عمر میں عام لوگ مکتب پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ آخر شاعری کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا؟ دوسرا سوال چار حمد کی تخلیق سمجھ میں آتی ہے مگر چار غزلوں کی تخلیق؟ غزلوں کا مرکزی خیال کیا تھا اور کون؟ اس سلسلے میں بچپن کا کوئی دلچسپ قصہ سنائیں۔

 ابوالمیزان: شاعری کا‌ خیال نہیں آیا، اس کی ضرورت محسوس ہوئی جب ہفتہ واری انجمن میں پڑھنے کے لیے ہم درس ساتھیوں کے مطالبے پورا کرنا مشکل ہوگیا۔ سب سے پہلے گانوں کے وزن پر نظمیں گڑھیں، پھر حمد پر آیا، کبھی کبھی نعت کہنے کی کوشش بھی کی۔ ساتھیوں کا نام جوڑ کر ترانہ لکھا۔ اور آخر میں غزلیں۔ حمد اور غزلوں کے ڈھیر سے چار حمد اور چار غزلیں بھیجی تھیں اصلاح کے لیے ۔ چار چار سے بہت آگے بڑھ چکا تھا شاعری کا معاملہ۔ سن دو ہزار اور دو ہزار ایک میں تو روز ایک غزل کہنے کا معمول بنا لیا تھا۔

غزلوں میں خیال سے زیادہ کلاسیکی لفظیات اور تہذیبی روایات برتنے کا غیر شعوری اہتمام ہوتا تھا۔ ہمارے محمد اظہار اظہر برمپوری صاحب کہتے تھے:

تیری غزلوں میں صرف مشکل الفاظ اور تعبیریں ہوتی ہیں۔

دلچسپ قصہ پہلی بار سنانا پڑرہا ہے۔ ہر مرتبہ محنت زیادہ کرتا تھا اور ذرا سی حوصلہ افزائی کی امید باندھ لیتا تھا۔ مگر ہمیشہ نامراد لوٹتا۔ یہ سلسلہ دن بدن امیدیں توڑ مروڑ رہا تھا کہ ایک روز نئی ترکیب سوجھی۔ ایک شعر کہا‌ اور اظہر بھائی کو تھما دیا کہ یہ لو غالب کے اس شعر کا مطلب سمجھاؤ۔ تشریح سن کر اتنا مزہ آیا کہ پھر یہی سلسلہ چل پڑا۔ کسی دن ذوق کا شعر لے کر پہنچ جاتا کبھی آتش کا۔ باری باری سارے اساتذہ کا‌ نام لے لے کر اپنے اشعار کی تشریح سنی اور من ہی من مست ہوتا رہا۔

 

سرفرازفیضی:  اس زمانہ کے کچھ اشعار سنائیں جب آپ پر غالب بننے کا شوق چھایا تھا۔

 ابوالمیزان: نقرئی مو یہ اور میری عمر

میری وقعت بھی وا کرے کوئی

یہ ایک ہی شعر یاد آرہا ہے اس وقت۔ غالب کی اس زمین میں پوری غزل کہی تھی۔

 

سرفراز فیضی : فضا ابن فیضی سے ملاقات کی کیا کہانی ہے؟

 ابوالمیزان: فضا صاحب کے سارے مجموعے پڑھنے کے بعد انہی کے رنگ میں ایک شعر کہا تھا:

ہے اصل تقاضا ہنر صیقل پیہم

یوں سوز دروں شعلہ تسکیں نہیں ہوتا

اپنے ایک ساتھی کو تیار کیا اور چلے گئے فضا صاحب کے پاس اس کا مطلب پوچھنے۔ مطلب تو خیر انھوں نے نہیں بتایا البتہ “شعلہ تسکین” کی ترکیب پر بہت سخت اعتراض کیا۔ حالانکہ ان کے کئی اشعار اس ترکیب کے شواہد کے طور پر موجود تھے۔

فضا صاحب کی شاعری میں جو تعلی ہے اس کا بڑا اثر ہوا تھا۔ جیسے غالب کے ایہام کا ہوا تھا۔ میں نے ایک پوری غزل ہی تعلی سے پر لکھ ڈالی تھی۔ ابھی اس کے تین اشعار یاد آرہے ہیں:

تتبع فن کا لفظ بیشک مری لغت میں نہیں ہے صاحب

علاحدہ آسمان میرا علاحدہ اک زمیں ہے صاحب

 

اڑے گی سورج کو چونچ مارے گی چھین لائے گی روشنی سب

مری حدوں کی منڈیر پر بھی وہ ایک چڑیا ذہیں ہے صاحب

 

تم آؤگے تم ضرور آؤگے آؤگے تم ضرور اک دن

گماں ہے میرا گماں یہ میرا گماں نہیں ہے یقیں ہے صاحب

 

ابن کلیم: ابتدائی شاعری کا ذخیرہ اب بھی محفوظ ہے؟

 ابوالمیزان: افسوس ہے صرف اب۔ سن دو ہزار ایک میں ہی جامعہ عالیہ عربیہ مئو کے ہاسٹل میں تیل کے اس ٹین میں رکھ کر سب جلادیا تھاجس میں کچرا پھینکا جاتا تھا۔

 

سرفراز فیضی:  آپ کی پسندیدہ کتاب پسندیدہ قلمکار پسندیدہ شاعر

 ابوالمیزان:کتابیں: دیواروں کے اندر، دیواروں کے باہراور روشن دان

قلم کار :ندا فاضلی اورجاوید صدیقی

شاعر: گلزار

 

عبدالغفار سلفی: آپ کا پسندیدہ شاعر؟ پسندیدہ کتاب؟ مطالعہ کے لیے پسندیدہ وقت؟ مطالعے کا طریق کار؟؟ ان سب چیزوں پر مختصراً روشنی ڈال دیں۔

ابوالمیزان:

پسندیدہ شاعر : گلزار

پسندیدہ کتاب : دیواروں کے اندر/ دیواروں کے باہر، روشن دان

مطالعہ کے لیے پسندیدہ وقت، مطالعے کا طریق کار: میرے پاس کتاب ہمیشہ رہتی ہے۔ کبھی ہارڈ کاپی، کبھی سافٹ۔ پسندیدہ وقت تو وہی ہے جب دنیا سوتی ہے مگر میں کبھی بھی اور کہیں بھی پڑھ سکتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے کبھی کسی کا‌ انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ کتاب کھولتا ہوں اور پڑھنا شروع کردیتا ہوں۔ مطالعہ کرنے میں وقت کا‌ اندازہ ہی نہیں ہوپاتا۔ ٹرین میں کھڑے ہوکر بھی بہت ساری کتابیں پڑھی ہیں۔ مطالعے کے پہلے دن سے ہی میں نے ایک بات کا التزام کیا ہے، وہی موضوعات پڑھتا ہوں جن میں دلچسپی ہو۔ ضرورت کے اعتبار سے بھی دلچسپیوں کے موضوعات بدلتے رہتے ہیں۔

 

عامرانصاری: ابو المیزان صاحب کی شعر و شاعری والی باتیں پڑھنے کے بعد اسی پس منظر میں ایک سوال ! فضا ابن فیضی اور ذکر اللہ ذاکر ندوی کے بعد سلفی برادران ميں شعر گوئی کے تعلق سے کچھ کہنا چاہیں گے، وہ خلا پر ہوتا نظر آرہا ہے ، ان کا بدَل یا نعم البدل ہے ، موجودہ سلفی / وہابی شعراء کے کلام پر کچھ کہنا چاہیں گے ؟؟

 ابوالمیزان: سراج عالم زخمی صاحب کی شاعری میں بہت آگ ہے ۔ شعبان بیدار صاحب کا بھی اپنا ایک رنگ ہے ۔ کاشف شکیل سے بڑی امیدیں ہیں۔

کچھ دوسرے درجے کی شاعری بھی نظر میں ہے مگر وہ مین اسٹریم ادب میں پیش نہیں کرسکتے۔

باقی ایسے شعراء بھی ہوسکتے ہیں جن کا مجھے علم نہ ہو۔

 

زید: سنا ہے کہ آپ کی تحریریں مختلف ناموں سے ہوتی ہیں کبھی ابو المیزان تو کبھی نصیر رحمانی اس کی کیا وجہ ہے ؟ کسی ایک نام کا انتخاب کیوں نہیں؟

 ابوالمیزان: کچھ مستقل قلمی نام تھے جن میں تبدیلی کا سبب مختلف حادثے تھے۔ بیشتر نام فری لانسر کی ضرورت تھے۔

 

سرفراز فیضی:  آپ نے اب تک کتنے اور کون کون سے قلمی ناموں سے مضامین لکھے ہیں؟

 ابوالمیزان: تعداد یاد نہیں ۔یہ نام یاد آرہے ہیں ابھی: مغموم راہی، مسرور راہی، درد نذیری، شمس نذیری، بوالفکر بن سبیل، ابوالمیزان، نظر راجی، نظیر مفتی، ناظر عجمی، منظور مدنی، منظربشیر، مناظر نذیر، انظر شعور، انتظار رحمانی، منتظر رفیق، نصیر رحمانی، مشیر احمد۔

 

حافظ عبدالحسیب: یہ ابوالمیزان کنیت کیوں اپنائی گئی؟

 ابوالمیزان: سن دو ہزار چار میں عزیز الرحمن بھائی نے میرے تین سال پرانے قلمی نام بوالفکر بن سبیل پر میرے ہی استاد مولانا عبد اللطیف اثری صاحب سے ثقالت اور غرابت کا فتوی لگوادیا تھا اس لیے ایک نیا قلمی نام سوچنا پڑا ۔ مزید استفتاء اور غور وفکر کے بعد ابوالمیزان رکھ لیا جو اب تک باقی ہے۔ کنیت جیسا یہ قلمی نام ہے جو ابن تیمیہ، ابن قیم، ابن الجوزی اور ابوالکلام جیسے ناموں سے لگاؤ کے سبب ذہن میں آیا تھا۔ تب تو شادی بھی نہیں ہوئی تھی ۔

 

خبیب حسن مبارکپوری: فری لانسر سے قبل بھی معیار الحق جیسے مجلہ میں بھی آپ نے کام کیا… اور موجودہ فری لانسر بھی ماشاء اللہ عروج پر ہے۔صحافتی تجربات کے سلسلے میں مختصرا ذکر فرمادیں۔

 ابوالمیزان: مجلہ “معیار حدیث” بنگلور کی کہانی بھی “فری لانسر” جیسی ہے۔ مولانا‌ عبد الجبار رحمانی صاحب نے، جب میرے ساتھ سن دو ہزار تین میں فضیلت سال آخر کے طالب علم تھے، مجھ سے کہا تھا کہ میں ایک پرچہ نکالوں گا اور آپ کو اس کا ایڈیٹر بناؤں گا۔ سن دو ہزار چھ میں انھوں نے جمعیت علماء اہل حدیث بنگلور کی ماتحتی میں یہ پرچہ نکالا جس کے ابتدائی دو شماروں کا میں ایڈیٹر تھا۔ پانچویں مہینے میں تیسرا شمارہ زیر ترتیب تھا جب یہ ملازمت مجھے چھوڑنی پڑی۔ بعد میں سنا کہ “رویت ہلال نمبر” مولانا جلال الدین قاسمی صاحب کی ادارت میں نکلا تھا جو میں نے نہیں دیکھا۔

اگر آپ لکھنے کے لیے لکھتے ہیں تو لکھتے رہیے، انتقال پرملال لکھیے، جلسوں کی رپورٹ لکھیے، پروگراموں پر مثبت ریویو لکھیے۔ لکھتے رہیے بڑھتے رہیے۔ ملازم قلم کاروں کی اپنی ایک روایت رہی ہے مثبت پہلوؤں کی تعریف و ترجمانی کی۔ ایسا یک طرفہ لیکھن کبھی راس نہ آیا اور یاروں نے کبھی دوسرا پہلو دیکھنا گوارا نہ کیا۔ ابوالکلام آزاد کی دار و گیر سے بہت ہی کم لگتی تھی کسی ملازمت سے اپنی چھٹی۔ اس لیے زندہ مسائل پر لکھنے کی قیمت ادا کرتے رہے جس کا صلہ فری لانسر کی صورت میں ملا۔ صحافی کہلانے کے لیے کبھی کچھ نہ لکھا، جب بھی قلم اٹھایا، کچھ کہنا تھا۔ جو کہنا ضروری لگا وہ لکھ دیا۔

 

سرفراز فیضی: معیار حدیث کے کتنے مجلوں کی ادارت کی ہے آپ نے؟ چھوڑنے کی وجہ کیا بنی؟

 ابوالمیزان: صرف دو شمارے میری ادارت میں نکلے تھے، تیسرا زیر ترتیب تھا۔

چھوڑنے کی وجہ یہ تھی کہ مجلے کے مالکان کی نیت خراب ہوگئی تھی۔ بولنے لگے: تم ہماری نوکری کرتے ہو، وہی لکھوگے جو ہم کہیں گے۔ اپنی مرضی سے کچھ نہیں لکھ سکتے۔

تفصیل پوچھنے پر معلوم ہوا کہ کچھ مضامین میں مذکور خرابیاں ان کے اندر بھی ہیں، اس لیے مجبوراََ انھیں ایسا اسٹینڈ لینا پڑ رہا ہے۔

ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اپنے اندر کے قلم کار کو زندہ رکھنے کے لیے اپنا خیال گروی رکھ دیا ہو۔ روزنامہ اخبار میں کام کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے دیا کیونکہ وہاں روز کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہے۔ شروع سے ذہن تھا کہ جب ضرورت ہو تبھی منہ کھولا جائے۔ قلم کا بھی یہی معاملہ تھا، بیچا نہیں کبھی۔ روشنائی سوکھ جانے کے ڈر سے بھی بے جا قلم نہیں چلایا۔ جب لگا کہ یہ لکھنا چاہیے تو اللہ نے توفیق دی اور من کی بات کاغذ پر اتار دی۔فالحمد للہ

مجلّہ دی فری لانسر کے پہلے شماره کا سرورق
مجلّہ دی فری لانسر کے پہلے شماره کا سرورق

 

کاشف  شکیل: دی فری لانسر کی وجہ تسمیہ بتائیں؟

 ابوالمیزان: فری لانس جرنلسٹ اس صحافی کو کہتے ہیں جو کسی متعین اخبار یا رسالے یا ٹی وی یا کسی میڈیا ہاؤس کی نوکری نہ کرے۔ بلکہ وہ آزادنہ طور پر رپورٹ یا مضامین لکھے، کوئی شو یا ڈاکومینٹری بنائے اور پھر اسے کسی چینل کو دے دے یا کہیں اشاعت کے لیے بھیج دے۔

ابن کلیم صاحب ایک ٹرانسلیشن ایجنسی میں مینیجر تھے اور میں جاوید صدیقی صاحب کا اسسٹنٹ۔دوران سفر بس اور ٹرین میں فری لانسر کا کام کرتے تھے۔ میرے بیشتر مضامین سفر میں لکھے ہوئے ہیں، ساری پروف ریڈنگ چلتے پھرتے کسی ٹرین یا کہیں بس اڈے پر ہوتی تھی۔ ممبئی میں بسوں اور ٹرینوں کا سفر کرنے والے جانتے ہیں کہ پیک ٹائم میں سیٹ نہیں ملتی۔ کھڑے کھڑے سفر کرنا پڑتا ہے۔ ایسے وقت میں شاعری ہوئی ہے۔ جھوا بھر غزلیں اور کھانچی بھر نظمیں۔ کیونکہ ایسی سچویشن میں اور کچھ ممکن ہی نہیں ہوتا صرف خیال کے گھوڑے ہی دوڑائے جاسکتے ہیں۔ ہاتھوں سے اوپر بنے ہوئے ہینڈل نہ پکڑو تو کسی کے اوپر گرنے میں جابجا لگنے والے جھٹکے بہت مدد کرتے ہیں۔

اس وقت میرے علم کے مطابق یہ دنیا کا واحد ایسا میڈیا سیٹ اپ تھا جس کا نہ کوئی آفس تھا نہ اسٹاف، اس لیے ابن کلیم اور ابو المیزان ہی نہیں پورا ڈھانچہ ہی فری لانسر تھا۔ ایسے کام کے لیے اس سے بہتر نام اور کیا ہوسکتا تھا۔

فری لانسر پر ہماری پوری ٹیم نے صرف وقت ہی نہیں ہفتے میں ایک دن ملنے والی چھٹی اور اپنا پاکٹ منی بھی خرچ کیا ہے۔ فجزاھم اللہ خیرا

 

ابوالمرجان: کیا دی فری لانسر ایک مذہبی رسالہ ہے؟

 ابوالمیزان: اگر میں مذہبی ہوں تو رسالہ فری لانسر بھی مذہبی ہے۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ رسالہ ایڈیٹر کی تالیف ہوتا ہے۔

 

ابوالمرجان: ایک عام خیال یہ ہے کہ دی فری لانسر علماء، جماعت، جمعیت اور روایات سے بغاوت کرنے والا رسالہ ہے۔ اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔

 ابوالمیزان: یہ عام خیال ان اصحاب ادارہ کا ہے جن پر ہمارے اصولی باتوں کی ضرب پڑی ہوگی۔ ہم نے ہمیشہ علماء کا احترام کیا، جن سے بات یا‌ملاقات ہوئی وہ علماء گواہ ہیں۔ جماعت کو ہم نے کبھی برا بھلا نہیں کہا، علماء کی ایما‌ پر الٹا ہمیں بگڑے ہوئے نوجوان کا لقب دیا گیا۔ جمعیت کے معاملے میں ہم نے جس تحریک کا سپورٹ کیا وہ ہمارے بزرگ شیخ عبد المعید مدنی صاحب کی چھیڑی ہوئی تحریک تھی۔ صرف سپورٹ کرنے کی وجہ سے ہمیں خوارج میں شامل کردیا گیا۔ اور روایت غلط بھی ہوسکتی ہے، اگر غلط روایتوں کو ہم نے اپنے قلم کی نوک پر رکھا تو آج بغاوت سمجھا جاتا رہے، آنے والا کل اسے تجدید کہے گا۔

فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ

 

عبداللہ: فری لانسر کے بارے میں بتائیں، اس کا آئیڈیا کس کا تھا، آپ کا یا کسی اور کا، تنہا ایک آدمی کا یا کسی گروپ؟ یہ آئیڈیا کیونکر آیا اور اس کا تجربہ کیسا رہا؟ اس تعلق سے نوجوان لکھاریوں کے لیے کوئی سیکھ جسے آپ شیئر کرنا چاہیں؟

 ابوالمیزان: ابن کلیم صاحب کرلا سے چل کر ممبرا آئے تھے۔ ملاقات کا مقصد ایک رسالے کا اجراء تھا۔ بات ہوئی، فیصلہ ہوا اور اعلان ابن کلیم صاحب کی ایک تالیف کے پس ورق پر چھاپ دیا گیا۔ ابتدا میں ہم دو ہی لوگ تھے۔ دوران طالب علمی ہی سے ابن کلیم صاحب کا خواب تھا ایک رسالے کا اجراء اور میں تب تک ماہ نامہ “معیار حدیث” بنگلور ایڈٹ کرچکا تھا۔ میرے بیشتر مضامین کہیں شائع نہیں ہوتے تھے۔ مگر جو بھی لکھتا تھا اس کی ایک ایک کاپی انقلاب، اردو ٹائمز، ترجمان اور البلاغ وغیرہ کو بھیج دیتا تھا یہ سوچ کر کہ چھپے نہ چھپے ایڈیٹر دیکھے گا تو پڑھے گا ضرور۔ پڑھ کر میرا ہم خیال ہوگیا تو یہی بہت ہے، کبھی نہ کبھی اپنے الفاظ میں میری بات کہہ دے گا۔ بس میرا مقصد پورا۔ اس طور “فری لانسر” میری ضرورت تھی۔ تجربہ بڑا‌ ایمان افروز رہا، بنا کسی فنڈ اور بیک اپ کے دو نوکری پیشہ افراد نے اردو زبان میں ایسا مذہبی رسالہ شروع کیا اور اب تک الحمدللہ باقی ہے۔ دراصل ابوالمیزان اور ابن کلیم دو ایسے الگ الگ کردار ہیں جو اس کام کے لیے ایک دوسرے کو مکمل کرتے ہیں۔ یہ کمبنیشن ہی فری لانسر ہے اور جن جذبات واحساسات پر فری لانسر کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ پوری فری لانسر ٹیم میں مشترک ہیں۔

لکھنے والا جتنا پڑھ پائے اتنا پڑھے اور وہی لکھے جو لگے کہ کہنا ضروری ہے۔

 

عبدالقدیر: فری لانسر کی پالیسی اور اس کے مقاصد پر کچھ روشنی ڈالیں؟اس میں مضامین شائع ہونے کے لیے کیا شرائط رکھی تھی آپ لوگوں نے؟

 ابوالمیزان: مقصد تھا بین العلماء اور بین المسالک مذاکرات۔ اپنے یہاں تنقید کا رواج نہیں تھا جس کی وجہ سے کچے پکے ہر قسم کے کام ہوتے تھے اور کوئی کچھ نہیں بولتا تھا۔ وسائل کے اس ضیاع پر ہمیں بہت تکلیف ہوتی تھی۔ ایک ہی کام کئی لوگ بیک وقت کرتے تھے۔ جس کو کرنا چاہیے وہ تو کرتا ہی تھا، جو اس لائق نہیں ہوتا تھا‌ وہ بھی کرتا تھا۔ ہر شخص کو اپنا ہی کام کام لگتا‌ تھا، دوسروں کے کام اور کام کرنے کے طریقے‌ میں سو خامیاں نظر آتی تھیں۔ اس رویے کی وجہ سے آپسی اختلاف اور باہمی تصادم بہت تھا۔ ہم نے صحابہ کے سماج کو آئیڈیل بناکر اس معاملے میں ذہن سازی کی کوشش کی کہ صلاحیتیں سماج کو ایمپاور کرنے میں کام آنی چاہئیں نہ کہ ان کی بنیاد پر جاہلی فخر وغرور میں مبتلا ہوکر مقابلہ آرائی کی جائے۔ یہ بنیادی مسئلہ تھا۔ تنقید و تنقیح کا مزاج بنانے کی کوشش کی۔ دیگر قابل اصلاح معاملات پر بھی بہت باتیں ہوئیں۔

بین المسالک ڈائیلاگ کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ تمام مسالک والے اپنی مجلسوں میں اپنے ماننے والوں کے سامنے دوسرے مسلک کی تنقیص کرتے تھے۔ ہمارا بھی یہی معاملہ تھا۔ سماجی رابطے سارے ایسے کٹے ہوئے جیسے الگ الگ پلانیٹ پر رہتے ہوں اور اسٹیج پر اپنی مسجد میں ان کے تذکرے جاری ہیں۔ اس رویے سے نفرت بڑھ رہی تھی، عوام بھی مناظرے پر اتر آئی تھی، ذات کا ٹیلر قینچی کم زبان زیادہ چلاتا تھا۔ ہمیں لگا کہ ہماری باتیں مخالف مسلک والوں تک سنجیدگی کے ساتھ اور منقول ومعقول دلائل کے ساتھ پہنچنی چاہئیں۔ اس مقصد کے مدنظر ہم نے کچھ رجال رشید سے رابطے بھی بنائے اور فری لانسر وہاں دلچسپی سے پڑھاگیا۔ متوقع نتیجے کی طلب میں ہم نے کبھی مواد میں کوئی منافقت نہیں برتی، محض لہجہ مذاکرانہ رکھا۔

ایک صفحے کا خرچہ تھا تین سو روپے ۔ مضامین کے انتخاب میں یہی دیکھتے تھے کہ اس کی قیمت وصول ہوجائے۔ پڑھنے لائق ہے تو چھپے ورنہ چاہے جس کی تحریر ہو احترام کے ساتھ “ناقابل اشاعت” کہہ دیا جائے۔

 

عبدالقدیر: کہنے کو بہت سارے رسالے روایتی انداز سے ہٹ کر ہوتے ہیں… لیکن فری لانسر کا انداز مزید ہٹ کر رہا… اس طرز کے انتخاب کا کیا مقصد تھا اور اس میں کتنا کامیاب رہے؟

 ابوالمیزان: اچھوتے موضوعات دلچسپی بڑھاتے تھے، زبان میں کوئی تکلف نہ تصنع۔ کبھی شعوری کوشش نہیں کی کہ سب سے ہٹ کر رہے۔ بس ایک فطری معاملہ یہ تھا کہ صحافتی منظرنامے میں کہنے کی جو بات نظر انداز کردی جاتی تھی یا کسی ذاتی مفاد اور ممکنہ نقصان کے ڈر سے دبادی جاتی تھی ہم اس کو کہتے تھے۔ کیونکہ ہماری کوئی مجبوری نہیں تھی۔ نہ کسی ادارے کی ترجمانی کا مسئلہ تھا۔ سارا چندہ بیچارے ابن کلیم کرتے تھے۔ ادارت میرے ذمہ تھی، میں ہاتھ نہیں پھیلاتا‌ تھا کسی کے سامنے نہ کبھی زبان کھولتا تھا ۔ کبھی کسی مجلس میں روبرو بھی ہوا تو ابن صفی کے عمران کی طرح نصیر بن کر شانتی سے گزر گیا۔ کیونکہ ہم دونوں نے ابوالمیزان کو ایکس ٹو بناکر فری لانسر چلانے کے لیے کرلا کے ایک کمرے میں بند کررکھا تھا۔ وہ وہاں سے کبھی نہیں نکلتا تھا۔ فری لانسر کے زمانے میں ایسا بھی ہوا ہے کہ قارئین نے نصیر سے ابوالمیزان کو سلام کہلوایا ہے۔ ابوالمیزان نے نصیر کے ہاتھوں قلم کاروں تک فری لانسر کے شمارے بھی پہنچائے ہیں۔

کسی طرز کے انتخاب سے زیادہ یہ بہتی ہوا سا کیس تھا۔ مزاج پانی جیسا تھا جہاں سے راستہ ملا چلتا رہا۔ طبیعت میں یہی طرز تھا، بول چال کی‌ زبان میں ڈھلتا رہا۔

 

ابن کلیم: چندہ ….؟ چندہ کی شکل کیا ہوتی تھی… وضاحت کردو… نہیں تو عام مچندین میں شمار ہونے لگے گا؟

 ابوالمیزان: ابتدائی دو سالوں میں ہر مہینے چھپائی کے لیے ایک اچھی  رقم ہمارے ایک دوست جناب پرویز شاکر صاحب دے دیا کرتے تھے۔ باقی تعاون بھی عموماً وقت پر مل جایا کرتا تھا۔ کسی سے مانگنے کی نوبت نہیں آتی تھی۔ کئی مرتبہ مولانا عبدالسلام سلفی صاحب نے بلاکر دیا تھا۔ اگر کبھی ایسا ہوا کہ کہیں سے کوئی تعاون نہیں ملا یا کچھ رقم کم پڑگئی تو ابن کلیم صاحب اپنی جیب سے بھی لگا دیتے تھے۔ ہمارے ایک سینیر مولانا رضوان احمد رحمانی صاحب بھی ایک اچھی رقم دیتے تھے۔

ممبرا کے دوستوں کی ایک پوری ٹیم ہے جنھوں نے تیسرے سال یہ فیصلہ کیا کہ باہری تعاون نہ لیا جائے۔ وہی احباب ہر مہینے ایک ایک ہزار دے دیا کرتے تھے۔ محمد‌ اسماعیل سلفی، منا بھائی سپریم، محب الرحمن، شاہد ندوی، ارشد کمال، نیاز احمد، عبدالمبین، ندیم فیصل، محمد‌ اظہار، محمد یوسف، عبد العلیم۔ فری لانسر کی یہ وہ ٹیم ہے جس نے ہمیں چندے سے بے نیاز کردیا تھا۔ فجزاھم اللہ خیرا

 

ریاض الدین مبارک: آپ نے ابن کلیم کی رفاقت میں فری لانسر کے روپ میں اس قدر مؤثر اور معیاری میگزین لانچ کیا بہت حد تک شہرت بھی ملی یہ بتائیں اس میگزین کے ذریعے آپ کی جو منشا تھی وہ پوری ہوئی یا نہیں؟ اگر ہاں تو بتائیں کہ سماج پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوئے؟ دوسری بات وہ کون سے اسباب تھے جن کی بنا پر آپ کو فری لانسر بند کرنا پڑا؟  تیسری بات ایک لمبے وقفے کے بعد میگزین کو دوبارہ لانچ کرنے میں کس چیز نے آپ کو اکسایا اور یہ مرحلہ کیسے طے پایا؟

 ابوالمیزان: فری لانسر سے پہلے ہماری صحافت تعلقات کی پالنہار، مفادات کی اسیر اور تحفظات کی شکار تھی۔ ہم نے اس متھ کو توڑ دیا۔ ہمارا پہلا مقصد یہی تھا۔ ہم سے پہلے پیکنگ کی بڑی اہمیت تھی، جتنا لمبا چوڑا کرتا پاجامہ ہوتا اتنی ہی اہمیت دی جاتی تھی قلم کو، چاہے وہ صرف ناڑا ہی ڈالنے لائق ہو۔ ہم نے اس روایت پر تو سب سے گہرا وار کیا۔ “مضمون نگار کے لیے عمر دراز ہونا شرط نہیں ہے” ہر شمارے کے کسی نہ کسی صفحے پر یہ اعلان ٹنگا ہوتا تھا۔ اس گمبھیر مسئلے سے متعلق ایک کہانی ویب پورٹل کے افتتاحیے میں لکھی تھی میں نے۔ میگزین کے ذریعے صحافت کو جو رخ دینا چاہا تھا اس میں بڑی حد تک کامیابی مل گئی تھی۔ صحافتی گوریلا وار کے یہ جو سرفراز فیضی اور شعبان بیدار نامی کمانڈر آپ دیکھ رہے ہیں فری لانسر کو انھوں نے بھی اپنے خون جگر سے سینچا ہے۔

ہمارا ٹارگیٹ مولوی سماج تھا، ان کی ٹوپی سیدھی کرنے میں ہی جی جان لگا دی تھی ہم نے۔ ہم نے سوچا آگے چلنے والوں کو ٹھونک بجاکر دیکھ لیں اور جہاں ضرورت محسوس ہو رپیرنگ کردیں تو اپنے پیچھے چلنے والوں کو یہ خود سنبھال لیں گے۔

دوسری بات یہ کہ جیسے موسم بدلتا ہے، زندگی سرد و گرم کا شکار ہوتی ہے، ایمان گھٹتا بڑھتا ہے، اسی طرح ہماری زندگی میں بھی ذرا سی اتھل پتھل مچ گئی تھی ورنہ فری لانسر کوئی اضافی کام نہیں ہماری زندگی کا ایک وظیفہ ہے۔ بنا اس کے ایسا لگتا ہے جیسے زندگی عوام کی طرح ہوگئی ہو، اٹھو کھاؤ پیو کماؤ اور بتی بجھاکر سو جاؤ۔ اتنی بے چینی بہت ہے فری لانسر جیسی کسی تحریک سے جوڑے رکھنے کے لیے۔

دی فری لانسر کے آخری شمارہ کا سرورق

 

مغیرہ: مولویوں کی ٹوپی سیدھی کرنے کا جو طریقہ کار فری لانسر کا تھا اس سے اصلاح ممکن ہے؟

 ابوالمیزان: مابال اقوام یفعلون کذا وکذا والا طریقہ تھا۔ اصلاح کی توفیق دینے والا تو اللہ ہے۔

سرفراز فیضی: وہ واقعہ بھی نقل کردیں عمر دراز والا؟

 ابوالمیزان: سن دو ہزار ایک کی بات ہے۔ ایک مشہور مدرسے کے ترجمان اردو مجلے میں میری ایک نظم شائع ہوئی۔ بڑی حوصلہ افزائی ہوئی۔ بیک کور کے اندرونی صفحے پر رنگین روشنائی میں چھپی تھی۔ اوپر ایک کونے میں قلمی نام (شمس نذیری) کے ساتھ پورا پتہ لکھا ہوا تھا۔ نذیری والد صاحب کے نام کی طرف نسبت تھی اور دادا کے ذکر کی گنجائش پتے میں نکال لی تھی (بشیر منزل) اور پھر اس کے بعد گاؤں کا مکمل پتہ۔

یہ اچیومنٹ اس وقت میرے لیے بڑی بات تھی۔ بہت مشکل بھی پیش آئی تھی۔ پانچ سو کی صورت میں جو جیب خرچ بڑے شدید انتظار کے بعد موصول ہوتا تھا اس میں سے آدھا تو ادھار چکانے میں چلا جاتا تھا۔ باقی جو روپئے بچتے تھے انہی میں سے مکتبہ فہیم یا مکتبہ نعیمیہ سے کتابیں خریدنا، جامعہ عالیہ کے دروازے کے پاس جو مٹھائی کی دکان ہوا کرتی تھی اس سے لگی ہوئی اسٹیشنری کی دکان سے ہر مہینے ایوان اردو اور امنگ لینا، بسااوقات ناشتے میں دو یا تین پوڑیاں کھانا، حسب توفیق عموماً عصر بعد کھیدوپورہ جاکر بُنیا چکھنا، عشاء بعد مرزا ہادی پورہ چوک پر کھڑچولین پینا اور پھر ڈاک ٹکٹ اور لفافے جو اسٹاک میں رکھنے پڑتے تھے وہ الگ۔ اتنے بہت سارے اخراجات کے بعد وہ ڈھائی سو روپئے جو سو عدد لیٹر ہیڈ چھپوانے میں خرچ ہوگئے تھے ان کی اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

نظمیں اور مضامین جو ہم اخباروں اور رسالوں میں بھیجتے تھے نہ ان کی کبھی رسید ملتی تھی اور نہ یہ پتہ چلتا تھا کہ ایڈیٹر صاحب نے انھیں قابل اشاعت سمجھا ہے یا پھاڑ کر پھینک چکے ہیں۔ ہر نیا شمارہ دیکھ دیکھ کر جب تھک جاتے تھے اور انتظار کمزور پڑنے لگتا تھا تو عجیب عجیب خیالات آتے تھے۔ انہی خیالات میں وہ ترکیب بھی تھی جس کا نتیجہ لیٹر ہیڈ کی شکل میں سامنے آیا تھا جس پر ڈھائی سو روپئے کی خطیر رقم خرچ کی جاچکی تھی۔

جب وہ نظم شائع ہوئی تو ایسا لگا جیسے پورے ڈھائی سو ایک ساتھ وصول ہوگئے۔ ایک اور لیٹر ہیڈ نکالا اور فوراً دوسری نظم لکھ کر شکریے کے ساتھ بھیج دی۔وہ بھی چھپ گئی۔ تیسری بھیجی، سترہ سال بیت چکے ہیں وہ نظم اب تک شائع نہیں ہوئی۔

انتظار کرتے رہے اور سوچتے رہے شاید کچھ وقفے کے بعد ہماری تیسری نظم کا بھی نمبر آئے کیونکہ اور بھی تو شاعر ہیں ۔

مگر ایک دن وہ انتظار بھی ختم ہوگیا۔ فضیلت ثانی کے ایک طالب علم اورپرائیویٹ حائطیہ ’’غازی‘‘ کے ایڈیٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ بڑے خوش تھے۔ چھٹی میں گھر گئے ہوئے تھے تو وہ مذکورہ مجلہ کے ایڈیٹر سے ملے تھے۔ ان کے رسالے میں میری چھپی ہوئی نظم دیکھ کر انھوں نے بتادیا تھا کہ ’’ارے! یہ لڑکا تو ہمارے عالیہ میں عالمیت آخر کا طالب علم ہے‘‘۔

اس طرح لیٹر ہیڈ والی ترکیب وہاں دوبارہ کام ہی نہ آئی۔ ہماری طالب علمی کا بھید کھل چکا تھا۔

’’مضمون نگار کا عمر دراز ہونا شرط نہیں ہے‘‘ فری لانسر کے اکثر شماروں میں چھپنے والا یہ صرف ایک جملہ نہیں ہے پوری کہانی ہے اس رویے کی جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

 

حافظ عبدالحسیب: اس پس منظر نے فری لانسر کی “اندیشوں سے بالاتر ہوکرسوچنے لکھنے اور بولنے والی دعوت” سمجھا دیا ۔مگر یہ سوال ضرور پوچھنا چاہوں کہ انسانی دماغ میں کلبلانے والے ہر سوال کے سلسلے میں آپ اسی طرز کو بہتر تصور کرتے ہیں یا کہیں کچھ استثناءات بھی ہیں؟؟

 ابوالمیزان:

Everything comes in mind is not able to talk — بہت دنوں تک واٹس اپ پر یہ میرا اسٹیٹس تھا۔

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان: اب تک فری لانسر کے کتنے خصوصی شمارے پبلشڈ ہوئے ہیں؟؟

 ابوالمیزان: “علماء بیزاری نمبر” زیادہ معروف ہوا تھا۔

کئی دوسرے موضوعات پر بھی خصوصی گوشے ہوا کرتے تھے۔ جلسوں پر ایک مستقل اور مفصل مکالمہ ہوا تھا۔

ابتدائی ادوار میں عام طور پر ایک صفحے کے مضامین کی بہار تھی۔ ایلین قلم کاروں کی ایک کھیپ مل گئی تھی فری لانسر کو۔ تب واٹس اپ جیسی سہولتیں نہیں تھیں نا، فیس بک کا استعمال بھی محدود تھا، قلم کار اور قاری دونوں انتظار کر لیتے تھے۔ اب حالات بدل گئے ہیں اور ضرورتیں بھی۔ مضامین ٹویٹ اور اسٹیٹس کے فارم میں بھی لکھے جاتے ہیں اس لیے اب رسالوں میں شائع کی جانے والی تحریروں کا سیاق ہونا چاہیے، اس کی ویلیڈٹی اگر کم ہوگی تو رسالے کا معیار متاثر ہوگا۔

جاویدمدنی: فری لانسر کے لیے آپ لوگوں نے بالکل ابتدامیں  ایک مضمون نگاری پر مسابقہ کیا تھا، اس کے بعد شاید اس طرح کا پروگرام نہیں ہوا۔اس مسابقہ کی مختصر تفصیل بیان کریں؟اور کیا آئندہ اس طرح کا کوئی خصوصی تحریری مسابقہ رکھنے کا ارادہ ہے؟

 ابوالمیزان: ایسا‌ مسابقہ کم از کم ہر سال ہونا چاہیے۔ جامعہ رحمانیہ میں مولانا عبدالستار سراجی صاحب کے مسابقے بہت مفید ہوتے تھے۔ ایسے ہی ایک مسابقے کی وجہ سے ھدایۃ النحو یاد ہوگیا تھا مجھے۔ ٹیسٹ میں سارے جوابات میں نے بعینہ لکھ دیے تھے، ترجمے میں مزہ نہیں آتا تھا۔

دعا کیجیے ہمیں ایسے مزید مسابقوں کے انعقاد کی توفیق ملے۔ اسپائرنگ قلم کاروں کی اس سے بڑی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ صلاحیت تو وہبی ہوتی ہے مگر اس کے نکھار میں ایسے مشقوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔

سلمان ملک: آپ کی کی زندگی میں صحافت کا کیا کردار رہا ہے؟

 ابوالمیزان: جب ناطہ صرف مدرسے، مسجد اور اپنے سماج سے تھا تو محض اپنا قلعہ ہی نظر کے سامنے تھا۔ اسی کے مسائل دکھائی دیتے تھے اور خطاب کی زبان اور موضوع دونوں محدود اور مخصوص تھے۔ مطالعے میں اردو زبان تھی، حوالے میں عربی زبان تھی اور مشاہدے میں مسلم سماج۔

انگریزی اخبار پڑھنا شروع کیا تو دنیا بہت بڑی ہوگئی۔ سرحدیں صرف نشان رہ گئیں، اسلام کی آفاقیت کے مظاہر مزید روشن ہوگئے۔ پھر پوری دنیا کو بیک وقت خطاب کرنے کا جذبہ ہی ایک چھوٹے سے صحافی کو فلم میکنگ کی طرف لے گیا۔ میڈیا کے ایسے ٹول کی طرف جہاں زبان کوئی بیریر نہیں ہوتی، چلتی پھرتی تصویریں بات کرتی ہیں۔ جہاں بنگالی سنیما کے ستیہ جیت رے کو بھی ہندی بھاشا والے ملک کا نمائندہ فلم ساز مانا جاتا ہے۔

 

عامر انصاری: جماعتی اداروں سے نکلنے والے پرچوں / میگزین کے بارے میں کچھ گفتگو کریں گے ، نوازش ہوگی ۔

 ابوالمیزان: سب سے زیادہ میں البلاغ پڑھتا تھا۔ اس کا خریدار بھی تھا میں۔ نوائے اسلام بھی ایک بار ضرور دیکھتا تھا۔ مجلہ طوبی بھی ایک عرصے تک دیکھتا رہا، اب اس کا کیا حال ہے نہیں معلوم۔ مرکزی جمعیت کا ترجمان بھی نظر سے گزرتا رہا۔ ابن احمد نقوی صاحب کی تحریریں ترجمان میں ملیں یا التوعیہ میں پڑھ کر دم لیتا تھا۔ مولانا عبد السلام سلفی صاحب کے مکتبے میں الاحسان کے جتنے شمارے تھے میں نے سب پڑھ ڈالے تھے۔ ان میں اکثر مضامین و مقالات شیخ عبد المعید مدنی صاحب کے ہی رہتے تھے۔ التبیان بھی کچھ دنوں تک مسلسل مطالعے میں تھا۔

اب سب سے زیادہ البلاغ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کے مختصر مضامین نصیحت آموز بھی ہوتے تھے اور معلومات افزا بھی۔

 

عامر انصاری: سلفی برادران کی میڈیا میں نمائندگی / میڈیا پر تسلط سے متعلق کچھ روشنی ڈالیں گے؟   میڈیا میں ہماری نمائندگی مفقود یا بہت کم ہے اس کو کیسے دور کرسکتے ہیں؟

 ابوالمیزان: “یداللہ علی الجماعۃ” کا درس دینے والی یہ جماعت مولانا عبد الحمید رحمانی اور مولانا مختار احمد ندوی رحمھم اللہ کی انفرادی اچیومنٹ سے اتنا‌ مرعوب ہوئی ہے کہ جا بجا انفرادی سرگرمیوں کی تحسین میں لگی رہتی ہے۔ یہ انفیکٹڈ رویہ ہے۔ مذکورہ دونوں شخصیتوں کے ساتھ ایک پوری جماعت کا یوگدان ہے ان کے عزم کی تشکیل میں۔

میڈیا میں ہماری نمائندگی انفرادی ہے جو وقتا فوقتا مصلحتوں کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے اور تسلط تو تب ہوگا جب اپنا کوئی سیٹ اپ بنایا جائے گا۔ ہمارے بزرگوں کو میڈیا کی اہمیت کا اب پورا اندازہ ہوگیا ہے مگر اجتماعی شعور اتنے اندیشوں کا شکار ہے کہ جماعت کے نمائندہ ماہ نامے ایک بار کچھ دیر کو رکے تو دوبارہ چلنے سے قاصر ہیں۔ یہ وسائل کا مسئلہ نہیں ہے نہ ہمارے یہاں صلاحیتیوں کی کوئی کمی ہے۔ جس جماعت میں شعبان بیدار جیسے افراد ہوں اسے کوئی بھی شکوہ شوبھا نہیں دیتا۔

میڈیا کا علاحدہ سیٹ اپ بنایا جائے چاہے کتنا ہی چھوٹا کیوں نہ ہو۔ ضروری ہدایات کے ساتھ ہر ٹیم کو ساکریہ کردیا جائے۔ “ید اللہ علی الجماعۃ”

 

شعبان بیدار: اس دور میں کیا لکھنا کوئی ضروری ہے… اگر ضروری ہے تو کیا لکھنا چاہیے اور لوگ کیا لکھ رہے ہیں؟ موجودہ مذہبی صحافت کو کیسا دیکھتے ہیں… کیا اس سے باہر نکلنا چاہیے اگر ہاں تو کیسے..  کیا ملک کا کوئی مذہبی رسالہ مذہبی ضروریات سلیقے سے پورا کرتا ہے….. ملک کا کون سا مذہبی رسالہ بہتر لگا……. رسالہ کیوں نکالا جائے اور کس طرح؟

 ابوالمیزان: اس دور میں لکھنا‌ پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ ضروری ہے تیز لکھنا، وقت پر لکھنا۔ کیونکہ کسی بھی موضوع پر پہلا تاثر ہی اہم ہوتا ہے۔ بہت کم ہی لوگوں کو تمیز ہے کہ کیا لکھنا چاہیے اور کس طرح لکھنا چاہیے۔ لیکھن اگر سسٹمیٹک ہو، سبجیکٹ اورینٹیڈ ہو، ضرورت کا ہو تو کم بھی ہوگا تو اس کا افادہ عام ہوگا۔ جو جتنا جیسے لکھ پاتا ہے لکھ مارتا ہے۔ اگر لیکھن کی ضرورت معلوم کرنے کے لیے کسی ٹیم کا گٹھن نہیں ہوپارہا ہے تو سنجیدہ اور نام ور قلم کاروں کو مذاق عام کی تربیت کرنا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ہم خیال قلم کاروں کے تعاون سے ضروری موضوعات پر کتابی سلسلہ یا‌ سالنامہ جیسا کچھ منظر عام پر لانا‌ چاہیے۔ اس سے باقی قلم کار بھی انسپائر ہوں گے اور کچھ بھی لکھنے کا رجحان ختم تو نہیں کم ضرور ہوگا۔

جیسے اسلام ساری دنیا کے لیے ہے، اسی طرح مسلمان کی دعوتی ذمہ داری بھی دنیا بھر کے تئیں ہے، کسی مسلمان کی صحافت کو مذہبی کہنے کی ضرورت بالکل بھی نہیں ہے۔ اپنی صحافت کرنی چاہیے ٹارگیٹ آڈینس کی زبان، ذہنی سطح اور ضرورت دیکھ کر۔ آپ کا‌ مخاطب کون ہے، وہ کون سی زبان سمجھتا ہے، اس سے کیا کہنا ہے، یہ سوالات آپ کی صحافت کا رخ متعین کرتے ہیں۔ مذہب سیاست و معیشت کی طرح کوئی شعبہ حیات نہیں ہے، اپنے نبی کے ذریعے انسانوں کے لیے اللہ کی طرف سے اتارا ہوا لائحہ عمل ہے جو دنیا کے تمام موضوعات کو محیط ہے۔

البلاغ سب سے زیادہ پڑھا جاتا تھا۔ نوائے اسلام کا السلام علیکم پڑھتے تھے لوگ۔ باقی رسالوں کی فہرست دیکھ کر اور ذرا دیر الٹ پلٹ کر رکھ دیتے ہیں۔

کرنٹ ایشوز کے لیے اب ویب پورٹلس کی ضرورت ہے۔ رسالے کے پرنٹ ایڈیشن میں خصوصی نمبروں کی اہمیت ہے، ریگولر شماروں میں تحقیقی مقالات اور تنقیدی مضامین کی شمولیت ہونی چاہیے۔

 

شعبان بیدار: کچھ دنوں تک بلکہ سالوں تک آپ نے کچھ نہیں لکھا کیا اس درمیان کچھ بھی لکھنے کی آپ نے ضرورت نہیں محسوس کی؟ نہیں تو کیوں…… کہ سماج مسائل کا انبار ہے کچھ نہ کچھ کہنے اور لکھنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے انبیاء کا بھی یہی طریقہ رہا ہے۔

 ابوالمیزان: خطبہ میں منبر پر ہی دینا پسند کرتا ہوں۔ لکھنا میرے لیے خطبہ دینے جیسا تھا اور فری لانسر منبر جیسا۔ منبر نہیں رہ گیا اور دوسری طرف لکھنے والے اتنے ہوگئے تھے کہ کوئی موضوع چھوٹتا نہیں تھا بلکہ ایک ایک موضوع کے کئی پہلووں پر بیک وقت متعدد تحریریں آجاتی تھیں۔ اس لیے ضرورت نہیں محسوس ہوئی۔ فرض کفایہ ادا ہورہا تھا۔

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان: میزان! میگزین اور جرائد کی بھیڑ میں البلاغ آپ کا اکلوتا پسندیدہ مجلہ تھا ۔کیا آپ کو کبھی اس کی ادارت کی تمنا نہیں ہوئی اور آپ نے کبھی اس میں کوئی لیکھنی بھیجی؟

 ابوالمیزان: ایک بار موقع ملا تھا۔ میٹنگ ہوئی تو پتہ چلا یہ ادارت کا کم ٹائپنگ اور پروف ریڈنگ کا کام زیادہ ہے۔ منع کردیا۔

راشد شاز صاحب کا ایک مضمون شائع ہوا تھا “عورت کی امامت”۔ اس پر رد لکھا تھا میں نے۔ مولانا مختار احمد ندوی رحمہ اللہ تک ہتھن پہنچایا تھا میرے ایک بزرگ نے۔ صرف وہی ایک مضمون  شائع ہوا تھا بس۔

 

ابن کلیم: آپ کی تحریریں عموما تنقیدی ہوتی ہیں…. ایک سوال اس سے متعلق… تنقید کا دائرہ کیا ہو…؟  اور جب آپ پر تنقید ہوتی ہے تو آپ کا رویہ کیا ہوتا ہے؟

 ابوالمیزان: جراحت کی ضرورت زخم کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ مگر کچھ پھوڑے ایسے ہوتے ہیں جنھیں کاٹنا ہی پڑتا ہے۔ جو قوم جتنی زوال آمادہ ہوگی اتنے ہی زخموں سے چور ہوگی۔ جس طرح جنگل میں بھیڑوں بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت چرواہا کرتا ہے اسی طرح ریوڑ کو ایک سیدھ میں چلانے کے لیے کچھ کتوں کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ یہ کتے ایسا زخم ہوتے ہیں جن پر نہ کوئی جراحت کام آسکتی ہے اور نہ ہی پھوڑا سمجھ کر انھیں کاٹا جاسکتا ہے۔ سارا ریوڑ ایک سیدھ میں چلے اس لیے انھیں برداشت کرنا پڑتا ہے۔ تنقید کوئی تخریبی شے نہیں ہے۔ ہر قسم کے ری ڈیولپمنٹ کے لیے ایک ڈیمولیشن ضروری ہوتا ہے۔ تنقید کے شعبے میں یہ جو کم ظرف لوگ دکھائی دیتے ہیں ان کے سامنے مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ کا نام لے لو تو ان کی آنکھوں میں تعظیم کی لکیریں صاف دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہ مولانا کے زمانے میں ہوتے تو موسیقی سے ان کے شغف کی بنیاد پر کم از کم ان کا کرتا ضرور پھاڑ دیتے۔ تنقیدی مزاج رکھنے والوں کو کچھ لوگ نظر بند کردینا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں، جب کہ خود کسی کے دین اور منہج پر بڑی آسانی سے سوالیہ نشان لگاکر شور مچاتے رہتے ہیں۔ تنقید ہو یا  کوئی اور اصلاحی عمل حسب ضرورت ہونا چاہیے۔ زیادہ نمک اور شکر بھی ذائقہ خراب کردیتے ہیں۔

مجھ پر تنقید اگر معقول ہو تو میں بچوں یا پاگلوں جیسی حرکتیں نہیں کرتا، اپنی اصلاح کرلیتا ہوں، غیر معقول ہو تو مسکرا لیتا ہوں۔ کوا کان لے گیا تو لے جائے۔

 

سرفراز فیضی: آپ کی گفتگو اور تحریر میں دیہاتی لب ولہجے کا رنگ کیوں ہوتا ہے؟

 ابوالمیزان: گفتگو تو اپنی بولی میں ہی کرتا ہوں۔ لب و لہجہ تحریر میں اس لیے آجاتا ہے کہ کہیں کہیں اردو عربی فارسی ہندی اور انگریزی زبان کے ایکسپریشنز مفہوم کی ویسی ادائیگی نہیں کرتے جیسی مقصود ہوتی ہے۔ مسکراؤ کو کیا لکھتا میں۔ کچرگھان کا متبادل کیا ہوسکتا ہے۔ کرواسن کا بدل بھی نہیں ملا کچھ…

 

عامر انصاری: غیر اردو صحافت ميں اپنی حصہ داری سے متعلق کچھ بتائیں۔

 ابوالمیزان: یہ کچھ زیادہ نہیں چلا۔ انگریزی اور عربی میں عموما نظمیں ہی کہیں۔ جامعہ عالیہ کے سالانہ مجلہ تہذیب میں شائع بھی ہوئی تھیں دو نظمیں۔ ہندی میں بھی لکھنا شروع کیا تھا مگر اس کا بھی وہی حشر ہوا جو ٹائمس آف انڈیا کے لیے لکھے میرے مراسلوں کا ہوا تھا۔ یہ سب کچھ دنوں بعد کہیں بہت پیچھے چھوٹ گیا۔

 

خلیل سنابلی: آپ اپنے کچھ قابل فخر مضامین/کتابچوں/غزلوں کی جانب رہنمائی کریں اور وجہ بھی بتائیں کہ یہ آپ کے لیے قابل فخر کیوں ہیں؟

 ابوالمیزان: یہ کام وقت کو کرنے دیں۔ جو مفید ہوگا باقی رہ جائے گا۔

 

عبدالوحید سلفی: میزان صاحب آپ اسلامی صحافت کے درخشندہ ستارہ ہیں اور نو واردان صحافت کے لیے قابل اسوہ بھی۔کبھی ایسا خیال نہیں آیا کہ ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کریں جہاں عملی طور پر فارغین مدارس کے لیے صحافتی اسکل ڈیولپمنٹ کا انتظام ہو، جسے خود آپ ہینڈل کریں، اپنے تجربات سے آگاہ کریں، نوجوانوں میں اچھے قلم کار کی ٹیم تیار ہو اور کسی بھی موضوع پر جرأت کے ساتھ لکھنے کا ہنر فراہم کریں۔ادب و صحافت کی ان گوناگوں خصوصیات کے آپ ایک انسٹیٹیوشن معلوم ہوتے ہیں۔الحمداللہ فارغین مدارس کے لیے آپ کے پاس بہت کچھ ہے۔کوئی پلان ذہن میں ہو تو شیئر فرمائیں۔

 ابوالمیزان: کاغذی کانفرنسیں کرتے تھے فری لانسر میں۔ ایک لیول اور بڑھ کر صحافت کانفرنس بھی کی تھی حج ہاؤس ممبئی میں۔ ممبئی کے نمائندہ اردو اخباروں کے مدیر، صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی کے امیر اور ایک اسلامسٹ صحافی کو بلایا تھا۔ اس کانفرنس کے دوسرے حصے کا پوسٹر بھی چھپ گیا تھا مگر وہ ایک حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس سمت مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ آپ کا آئیڈیا بہت مفید ہے، اگر عمل میں لایا جائے تو نتائج بہت دور رس ہوسکتے ہیں۔ جزاک اللہ خیرا

حماد اکرم مختار: ابو المیزان بھائی اگر کوئی لکھنا چاہتا ہوتو کیا کرے؟؟

 ابوالمیزان: پڑھے۔ جو موضوع اچھا لگے وہی پڑھے۔ اور جتنا پڑھ پائے اتنا پڑھے۔ زبردستی کچھ نہ پڑھے۔ جب دماغ کی ہانڈی بھر جائے گی تو خود بخود ابل پڑے گی۔ قلم کے راستے یا زبان کے…

 

حماد اکرم مختار: تب پھر یہ بتائیے کہ معاشرہ کے لیے لکھنا ہوتو کیا پڑھے؟؟

 ابوالمیزان: زبان سنوارنے کے لیے نئے پرانے کسی بھی صاحب طرز ادیب کو پڑھیں۔ اور معلومات کے لیے تاریخ، اخبار اور چلتا پھرتا سماج۔ مسائل کا ادراک اور حل کی ترکیب دونوں ہاتھ نہیں آئیں گے بنا یہ تینوں جانے…

 

حماد اکرم مختار: بعض دفعہ اپنی بات سلیقہ سے نہ کہہ پانے کا ڈر ابلنے نہیں دیتا یا یوں کہہ لیں کہ مقابلہ آرائی کا ڈر کیسے نکالیں؟؟

 ابوالمیزان: خود نوشت اور سوانح پڑھیں۔ یہ ڈر خود بخود نکل جائے گا۔

حماد اکرم مختار: لگے ہاتھوں کچھ سوانحات کے نام بتا دیں جو مفید ہوں۔

 ابوالمیزان: تذکرہ، آپ بیتی (دریابادی)، حیات شبلی اور حیات جاوید

 

عبدالرحیم (مدثر رحمانی): کیا ہر کوئی اپنے اندر لکھنے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے؟ ایک اچھا لکھاری بننے کے لئے کن کن چیزوں کا خیال کرنا بے حد ضروری ہے؟
ابوالمیزان: ہاں! جو نہیں بول سکتا ہے وہ بھی۔ شرط یہ ہے کہ اس نے کسی رسم الخط میں لکھنا سیکھا ہو۔ کیونکہ بولنا اور لکھنا اظہار کے یہی دو طریقے ہیں۔ دنیا‌ میں کسی بھی نارمل انسان کے لیے اپنی بات کہنا مشکل نہیں ہے نہ لکھنا۔ لکھنا مشکل اس لیے لگتا ہے کہ انسان عام طور پر اپنی ضرورتوں کے لیے بولتا ہے لکھتا نہیں۔ جو کام روٹین کا حصہ ہو اس کے لیے سوچنا نہیں پڑتا اسی لیے وہ آسان ہوتا ہے اور جو کام کبھی کبھی کرنا پڑے وہ ذرا مشکل لگتا ہے۔ صرف لکھنا ہی نہیں اور دوسرے کام بھی۔ ہر کوئی لکھ سکتا ہے۔
لیکن اچھا لکھنے کے لیے اہتمام کرنا پڑے گا۔ جیسے ہر کام میں کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی کام کو اچھا بنانے کے لیے اہلیت، ضرورت، مناسبت، ریاضت اور سلیقہ بہت اہم رول ادا کرتے ہیں۔ لکھنے کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ اچھا لکھنا ہے تو جس زبان میں لکھنا ہے اس زبان میں اچھا لکھنے والوں کو پڑھنا ضروری ہے تاکہ الفاظ کا استعمال پتہ چلے، جملوں کے دروبست کا علم ہو اور اچھی تحریر کا سینس ڈیولپ ہو۔ اتنا ہی نہیں کان آنکھ سب کھلے رکھنا ہے، کب کیا لکھنے کی ضرورت ہے یہ جاننے کے لیے۔ لکھتے رہنا ہے، بنا مشق کوئی بھی علم صرف ایک منتر ہوتا ہے جب تک نہ پڑھو پتہ نہیں چلتا کیا اور کتنا اثر ہوگا۔ اور سب سے اہم سلیقہ ہوتا ہے لکھنے کا۔ یہ سلیقہ کردار ہوتا ہے۔ سلیقہ انسان کے ہر اظہار ہر حرکت میں ہوتا ہے۔ جیسے آپ ہوں گے ویسی آپ بات کریں گے۔ ہر انسان منفرد ہے، صرف شکل ہی نہیں اس کے عادات و اطوار بھی، افکار و اعمال بھی۔ آپ جتنا اچھا لکھنا چاہتے ہیں اتنا اچھا اپنا سلیقہ رکھیں۔ سب سے اچھا سلیقہ سیکھنے کے لیے اللہ کی کتاب پڑھیے، مختصر لکھنے کا ہنر بھی آجائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں پڑھیے، ایک موقعے پر ایک ہی بات پر فوکس کرنے کا شعور پیدا بھی ہوگا۔

 

احتشام: لکھنا زیادہ ضروری ہے یا یہ زیادہ ضروری ہے کہ کچھ ایسا کیا جائے کہ لکھے جائیں……؟ سوال ہے آپ سے ایک چھوٹا سا….میں آپ سے ذاتی طور پر واقف نہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ سوال skip کر جائیں…😀

 ابوالمیزان: لکھنے سے زیادہ ضروری ہے کچھ ایسا کیا جائے کہ لکھے جائیں۔

 

عبدالقدیر: جیسا کہ معلوم ہے اسکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں آپ… اور رسالے کے لیے مضامین بھی لکھے اور ایڈٹ بھی کیا… ان سب کا تجربہ کیسا رہا…اور ان دونوں میں کیا فرق محسوس کیا آپ نے؟اور ان دونوں کے لیے وہ کون سی الگ الگ چیزیں ہیں جو قلمکار کے لیے ضروری ہیں؟

 ابوالمیزان: انسان بناکر اس کے منہ میں زبان فٹ کرنے اور کسی جیتے جاگتے انسان سے بات کرنے میں فرق تو ہوتا ہی ہے۔ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا کہ زمین پر چلتا پھرتا کوئی منفرد کردار مل جائے اور اسکرپٹ رائٹر اسے اپنی کہانی کا ایک پاتر بنالے۔ اکثر کیریکٹر بنانے پڑتے ہیں، ان کی پسند ناپسند، طرز گفتگو، پہناوا، سب طے کرنا پڑتا ہے۔ کیونکہ صحافی کی طرح دو چار جملے میں تعارف کرواکر آپ آگے نہیں جاسکتے۔ دکھانے کے لیے ساری ڈیٹیلنگ پر کام کرنا پڑتا ہے۔ اسکرین پر جو نظر آنا ہے اس کی تفصیل لکھنا اسکرپٹ رائٹنگ ہے۔ ڈائیلاگ کی ضرورت تو تب پڑتی ہے جب تصویریں بولنا بند کردیتی ہیں۔ اس کے برعکس صحافت میں ضروری حوالوں کی مدد سے کوئی پیغام دینا مقصود ہوتا ہے، جسے ہر قاری اپنے اپنے تصور کے مطابق دیکھ سمجھ لیتا ہے۔ اسکرپٹ رائٹنگ کی وجہ سے میری زبان سلیس ہوتی چلی گئی، یہ اور بات ہے کہ ندا فاضلی کی نثر (جیونی) پڑھنے کے بعد ہی سے یہ سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ادبی رسالوں کے مطالعے سے جو گاڑھی زبان سیکھی تھی وہ فلم رائٹنگ کے پریکٹس سے دن بدن آسان ہوتی گئی۔ صحافت کے لیے تو ایک عدد زبان میں مافی الضمیر کی ادائیگی کا ملکہ اور حالات زمانہ پر گہری نظر رکھنا کافی ہے۔ مگر فلم رائٹنگ کے لیے سنیما کی ٹیکنکل معلومات بھی ضروری ہے اور آبزرویشن جتنا گہرا ہوگا کردار نگاری اتنی حقیقت سے قریب تر ہوگی۔ کامیابی کا انحصار بھی اسی پر ہے۔ کہانی اور اس کے کردار جتنے حقیقی ہوں گے اسکرپٹ رائٹنگ میں اتنی کامیابی ملے گی۔

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان: اسکرپٹ رائٹنگ کب سے شروع کی؟ اس شعبے میں آپ کو کتنی کامیابی ملی؟؟ کوئی ایسی کہانی جو مشہور بھی ہوئی؟؟

 ابوالمیزان: چودہ سال کی عمر سے جب میں جامعہ رحمانیہ کاندیولی میں جماعت ثالثہ کا طالب علم تھا۔ دو سال چلا تھا وہ اسٹرگل۔ پھر دوبارہ دو ہزار نو میں جاوید صاحب کے ساتھ کام شروع کیا۔ دو سال میں تقریبا دس فلموں پر کام ہوا۔ پاکٹ مار، تم‌ ملو تو سہی، رجو، شوقین وغیرہ۔ ایک ریلیز ہوئی،تم ملو تو سہی۔ شوقین کے رائٹس کا مسئلہ تھا وہ کسی اور نے بنالی۔ رجو کے ساتھ بھی یہی حادثہ ہوا۔

پھر انیس بزمی کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ مشہور ہونے والی کہانی تھی اور اس کا پروڈیوسر ایکٹر بھی سپر اسٹار۔ دو سال میں جہاں تک کام ہوا تھا وہیں رکا پڑا ہے۔ انیس بزمی صاحب کے ساتھ کام کا موقع بڑا تھا، اس کا نتیجہ اور بھی بہت بڑا ہوتا اگر وہ فلم بنتی اور ریلیز ہوتی۔

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان: ایک بات، آج کل ہر کوئی مسلم خاص طور سے علماء شدت کے ساتھ کسی مضبوط میڈیا کی تلاش میں ہیں جو مسلمانوں کے مسائل کو مسلسل لوگوں کے سامنے لائے۔توکیا اچھی فلموں سے بھرپائی کی جاسکتی ہے یا نہیں؟

 ابوالمیزان: علماء پہلے اپنے مسائل حل کرلیں پھر سوچیں کہ مسلمانوں کے مسائل کیسے حل کیے جائیں۔

 

راشدحسن مبارکپوری: آپ کا سابقہ سماج کے مختلف طبقات کے ساتھ پڑا ہے۔ علماء،فلمی شخصیات،تاجر۔ کون سا طبقہ کشادہ دل ہے اور کون سا آپ کے دل کے قریب؟

 ابوالمیزان: دل‌ کے قریب علماء ہیں اور کشادہ دل فلمی شخصیات

مولانا عبد السلام سلفی صاحب کی نوکری چھوڑ میں جامعہ ملیہ میں داخلے کے ارادے سے نکلا تھا۔ اور گھر والوں کا رونا پیٹنا دیکھ پھر ممبئی واپس آگیا تھا۔ مولانا‌ سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کیا کرنے کا ارادہ ہے۔ میں نے کہا سوچ رہا ہوں کسی اخبار میں پروف ریڈنگ کا کام کرلوں۔ اگلے دن یہ کہہ کر بلایا کہ سہارا کے آفس چلیں گے۔

وعدے کے دن نریمن پوائنٹ کے سہارا اردو آفس میں مقصود بھائی، میں اور مولانا ایڈیٹر سعید حمید کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ مولانا‌ نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

“یہ میرے گاؤں کے ہیں کچھ لکھتے پڑھتے ہیں”

“روشن دان” چھپ کر آئی تو ایک دن جاوید صاحب نے گلزار سے ملنے کا ارادہ کیا۔ نکلنے لگے تو سمیر بھائی (جاوید صاحب کے چھوٹے بیٹے) نے مجھ سے پوچھا:

“چلوگے بے؟”

میں نے کہا: “ایک شرط پر چلوں گا…”

“وہ کیا”

“گلزار صاحب کے ساتھ اگر میرا فوٹو کھینچو تو…”

بولے چلو۔ وہاں پہنچے تو سب سے پہلے دونوں رائٹر ایک دوسرے سے گلے ملے۔ پھر گلزار صاحب سے گلے ملنے کی میری باری آئی تو جاوید صاحب نے میرا تعارف کراتے ہوئے کہا:

” یہ نصیر خان صاحب ہیں، بہت‌ اچھے رائٹر ہیں مگر لکھتے نہیں ہیں”

“کیوں؟” گلزار صاحب نے حیرت سے پوچھا

جاوید صاحب بولے: ڈائریکٹر بننا چاہتے ہیں

“مٹی کے موتی” یہ اسکرپٹ کا ٹائٹل تھا۔ مکھیہ بھومیکا میں نصیر الدین شاہ کو سائن کرنے کا ارادہ تھا۔ جاوید صاحب کو گلوکوما تھا اس لیے نریشن کی ذمہ داری میری تھی۔

لال رجسٹر میں رکھی ہوئی اسکرپٹ نکال کر جیسے ہی کھولا نصیر صاحب نے پوچھا:

آپ کا نام کیا ہے؟

میں نے کہا: نصیر

تو مسکرانے لگے۔

(نام پوچھنے کی ضرورت اس لیے پڑی کہ میرا تعارف کراتے ہوئے جاوید صاحب نے صرف اتنا ہی کہا تھا کہ یہ میری آنکھیں ہیں)

پھر جاوید صاحب کی طرف مڑے اور بولے:

اچھا جاوید صاحب یہ بتائیے کہ نصیر اور ناصر میں کیا فرق ہوتا ہے؟

جاوید صاحب میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگے:

“یہ پورے مولانا ہیں انھوں نے عربی فارسی دونوں پڑھی ہے ان سے پوچھیے”

اور تاجروں کو ہمیشہ حساب کتاب ہی کرتے پایا چاہے وہ جتنے شریف النفس ہوں…

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان: میزان کیا تم کو عالم کے اس نئے فری اسٹائل ورژن میں عام علماء نے آسانی سے قبول کرلیا تھا؟؟ مجھے لگتا ہے کہ شاید اسی لیے تم نے اتنے سارے ہیلمیٹس لگا کے ان کے جھنڈ پر تاک تاک کے نشانہ سادھا؟؟

 ابوالمیزان: عام علماء کے رد و قبول کی پرواہ نہیں رہی کبھی، درد‌ میں اخلاص تھا تو رابطہ بنا‌ رہا۔ آج بھی جامعہ رحمانیہ جانا ہو تو کسی تبدیلی کا احساس نہیں ہوتا۔ وہی نصیر طالب جامعہ اپنے پورے رنگ و روپ کے ساتھ سراپا تواضع ہوتا ہے۔

ہیلمیٹس بدلنے کا ہنر نہ آتا تو کوئی ناظم یا متولی میرے پر کاٹ کر اپنے دربے میں بند کرلیتا۔ کندھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دیا کسی کو، اسی لیے اب تک آزاد ہوں۔ بہت سارے پرندوں کی حد پرواز معلوم ہے جو ٹھاکر جی کے جھانسے میں آکر اپنی چرکی کٹاچکے ہیں۔ جب بھی ان کا خیال آتا ہے دکھ ہوتا ہے۔

 

کاشف شکیل: سعودی پلٹ ہونے کے بعد آپ کے افکار میں کس قدر تغیر رونما ہوا ؟ قیام سعودیہ کا تجربہ کیسا رہا؟

 ابوالمیزان: سب سے بڑا تغیر یہ ہوا کہ میں پہلے جیسا تو نہیں پھر بھی قریب قریب ویسا ہی مسلمان ہوگیا۔ گیارہ مہینے کے اس اعتکاف کا مقصد بھی یہی تھا۔

کئی اور تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔ مسلسل ایک ہنگام سی ہوگئی تھی زندگی یہاں، ایک طرف آسکر دکھائی دیتا تھا تو دوسری طرف سرفراز فیضی صاحب کا سوال: اچھا چلو یہ بتاؤ شاہ رخ خان بھی بن گئے تو کیا؟ اظہر برمپوری صاحب بڑے بھائی کی طرح موقع بموقع آخرت کی یاد دلاتے رہتے تھے اس سے بڑی بے چینی ہوتی تھی۔ مگر کوئی ایسا سرا ہاتھ نہیں آتا تھا جس سے نئی زندگی شروع ہو۔  بار بار غیر ملک میں اعتکاف کا خیال آتا تھا۔ بالآخر اس کی توفیق ملی جس کا آغاز عمرے سے ہوا۔الحمد للہ

ایک ایسی جگہ جہاں کوئی میرا ماضی نہیں جانتا تھا بلا روک ٹوک جیسی چاہا ویسی زندگی جینے میں آسانی ہوئی۔ اپنی گزشتہ سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ سعودی سماج کا مشاہدہ کیا۔ اسلامی حکومت کی برکتیں دیکھیں۔ اس معاشرے میں پھیلے سکون کو محسوس کیا اور تمنا کی کہ کاش ہمارے اپنے ملک میں عقیدے کی طرح اخلاق ومعاملات بھی کتاب وسنت کے مطابق ہوتے تو کتنی بے چینیوں کا علاج آٹومیٹک ہوجاتا۔

 

مکرم نیاز: ایک چھوٹا سا سوال میرا بھی: میں نے  2013 یا 14 میں آپ سے ملاقات کی تھی تو آپ بنا ریش تھے، اب سرفراز بھائی کی ٹائم لائن کی ایک تازہ تصویر میں آپ ماشاءاللہ شرعی ڈاڑھی کے ساتھ نظر آئے ۔ ڈاڑھی کب سے اور اس کے پس پردہ سبب؟

 ابوالمیزان: جب آپ نے ریاض چھوڑا تھا تبھی میں نے داڑھی رکھی تھی۔ سبب پہلے جیسا مسلمان ہونا تھا۔ ویسے 2008 تک میں باریش ہی تھا۔

 

راشد حسن مبارکپوری: ابوالمیزان بھائی! سیمینار کی اہمیت وافادیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟ کیا موجود حالات میں اس کی ضرورت ہے؟ اگر آپ کو موقع ملے، وسائل مہیا ہوں تو آپ کس موضوع پر سیمینار کریں گے؟ اولیت اور ترجیح کن موضوعات کو دیں گے، کچھ موضوعات کی نشاندہی کریں۔

 ابوالمیزان: رویت ہلال کے موضوع پر۔ اس سال رمضان اور عید کے موقعے پر جو دیکھا اس نے بہت بے چین کردیا۔ اس سے پہلے کہ اگلا رمضان آجائے سیمینار کرکے اس سمسیا کا سمادھان کرلینا چاہیے۔ اور یہ سیمینار ایسا نہ ہو کہ صرف مقالے ہی پڑھے جائیں اور پھر سب اپنے گھر کی راہ لیں۔ سوال و جواب کا سیشن بھی رہے، ڈبیٹ بھی کرایا جائے اور اختتام کا اعلان کرنے سے پہلے زیر بحث موضوع کو کسی نتیجے تک پہنچا دیا جائے۔

سیمینار کی‌ اہمیت و افادیت آج بھی اپنی جگہ مسلم ہے۔ پروپیگنڈے کے لیے اس کا استعمال کیا جائے تو یہ سیمینار کے کنسپٹ کا استحصال ہے۔

 

حافظ عبدالحسیب: کیا آج بھی ایسا ہوتا ہے کہ بہت سے انوکھے خیال (مذہب کے تناظر میں) آتے ہیں اور آپ ان کو خیالات کی حد تک رہنے دینا بہتر سمجھتے ہیں؟

 ابوالمیزان: ایسے خیالات عموما تنظیمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ کرنے کے کام کو لکھنے سے کیا ملے گا۔

تدریسی سطح کا ایک بہت انوکھا خیال زمانے سے خیال ہی ہے۔ کچھ استثناءات کے ساتھ میں دیکھتا ہوں کہ تدریس وامامت کے شعبے میں آنے والے اکثر ایسے ہوتے ہیں جن کی اہلیت کم یا نہ کے برابر ہوتی ہے۔ سرمایے کے ضیاع، انتظام کی کاوش اور مستقبل کی تعمیر میں اس بے رخی اور کوتاہی پر بڑی تکلیف ہوتی ہے تو خیال آتا ہے کہ بی ایڈ جیسا کوئی نظام ہمارا بھی ہوتا تو اس مسئلے پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا تھا۔

 

ابوالمرجان: کہنا یہ چاہتے ہیں کہ مدرسین و ائمہ میں کوالٹی کا فقدان ہے۔تو آپ کے مطابق اس کا علاج کیا ہے؟صرف نصاب یا کچھ اور بھی..

 ابوالمیزان: ہارڈویئر منصورہ جیسا ہو۔ اور سافٹ ویئر اپڈیٹ ہوتا رہے۔ ظاہر سی بات ہے نصاب ہی سافٹ ویئر ہے۔ اس سے کوالٹی بہتر ہوگی۔ مگر بی ایڈ جیسا ایک اور کورس بڑھایا جائے۔ ادارے والے تدریس یا امامت کے لیے ریکروٹمنٹ کو وہ کورس لازمی قرار دے دیں۔ اس کا دوہرا فائدہ ہوگا۔ مذکورہ پیشے میں اہل افراد آئیں گے اور تعلیم اور اقتدا دونوں دن بدن بہتر ہوتے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ

 

ابوالمرجان: اتنے سارے کورس اور کوالٹی کے بعد صرف آخرت میں اجر کی امید لیے ائمہ و مدرسین مساجد و مدارس میں اچھا کام کرسکتے ہیں؟ ہمارا بیس پبلک ہے، وہ بھی غیر منظم پبلک۔جن ملکوں میں علماء کی بنیاد حکومت ہوتی ہے وہاں کوالٹی اچھی ہوجاتی ہے۔ جہاں غیر منظم پبلک ہے وہاں کوالٹی کیسے بہتر ہو؟ اس پر کچھ روشنی؟

 ابوالمیزان:

Excellence comes with self respect and self confidence and don’t sell yourself short

ایک بار جب کوالٹی آجائے گی تو سیلری اسکیل بھی بڑھوالے گی۔ نکاح پڑھوائی کھانے والے عالم کی امیج میں بہتری آئی ہے۔ مسائل اب بھی ہیں مگر سارے ایمپلایر کی طرف سے نہیں ہیں۔ میرا تجربہ مختلف رہا ہے۔ سن دو ہزار چار میں جو دو ہزار تنخواہ دے رہا تھا وہ اب چالیس تک میں راضی ہے، یعنی چودہ سال میں بیس گنا۔سن دو ہزار چھ میں جس نے پانچ ہزار آفر کیا تھا وہ اب بلینک چیک دینے کے لیے تیار ہے۔

کوالٹی نہ ہونے کی وجہ سے نااہل افراد نے بھی تدریس اور امامت کے رتبے کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ آج سے دس سال پہلے میرے گاؤں کے مکتب میں پندرہ سو ماہوار پر تدریس کا فریضہ انجام دینے والے کو جب برخاست کیا جارہا تھا تو انھوں نے کہا:

“ہمیں کھالی کھنوپ رکھ لیو نہ نکارو – ہم بنا پگار پڑھائب”

واقعہ یہ تھا کہ وہ مولوی صاحب روزانہ پانچ بچوں سے سر پر رکھنے کے لیے تیل منگواتے تھے۔ سو سے اوپر طلبہ تھے۔ دوبارہ باری آتے آتے اتنا وقت بیت جاتا تھا کہ گھر والوں کو بھی زیادہ فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی شبہ گزرتا تھا۔ مدرسے میں بنے ہوئے ایک کمرے میں جہاں وہ حاضری رجسٹر اور اپنی بیٹھنے کی چٹائی وغیرہ رکھواتے تھے وہیں ایک شیشی بھی رکھی تھی۔ سر پر رکھنے کے لیے منگایا جانے والا سب تیل وہ اسی میں انڈیل دیا کرتے تھے اور جب بھر جاتی تھی تو لے کر اپنے گھر چلے جاتے تھے۔

انکم کا ایک اور ذریعہ تھا ان کا۔ ممبئی سے جب بھی کوئی آتا تو ایک بار حاضری ضرور دیتے تھے۔

میرا خیال یہ ہے کہ ہمارا جو بیس ہے غیر منظم پبلک، اس کو کچھ حد تک منظم کیا‌ جاسکتا ہے۔ ہمارے بنیادی دینی شعائر تنظیم ہی سکھاتے ہیں۔ حکومت اپنی نہ ہو تو بھی کسی حد تک اس سسٹم سے مستفید ہونا مشکل نہیں ہے۔ ید اللہ علی الجماعۃ۔ اسی لیے کہا کہ تدریس و امامت سے متعلق یہ تنظیمی نوعیت کا مسئلہ ہے۔

 

سرفراز فیضی: آپ نے جامعہ عالیہ عربیہ اور جامعہ رحمانیہ دونوں مدارس میں تعلیم حاصل کی ہے۔دونوں جامعات کی تعلیم اور نظام میں کس طرح کے فرق نوٹ کیے؟

 ابوالمیزان: جامعہ عالیہ وارد ہوئے تو ایسا معلوم ہوا جیسے ابھی کسی کنویں سے باہر نکلے ہیں۔ جامعہ رحمانیہ میں اول دوم سوم کا کھیل تھا اور یہاں نوے پنچانوے فیصد کا آنکڑا۔ یعنی ایکسپینشن کا استر بڑا تھا۔ مولانا ضیاء الحسن صاحب نے ترمذی اس طرح پڑھائی کہ پہلی بار رجال میں ایسی دلچسپی ہوئی رواۃ کے مختصر کوائف سورہ فاتحہ کی طرح زبان پر رہتے تھے۔ مولانا شفیق ندوی صاحب نے دیوان المتنبی دیوان غالب کی طرح پڑھادی۔ جامعہ رحمانیہ میں ازھار العرب پڑھتے ہوئے ایسا مزہ نہیں آیا تھا۔ وہ تو ایک ہی یادگار مصرع ہے جو ایم آئی ڈی سی اندھیری ایسٹ کی اہل حدیث مسجد کے امام صاحب سے سنا تھا: لنا لحم وللجھال آلو

منطق جیسا خشک موضوع مولانا مظہر اعظمی صاحب ایسا مسکرا کر پڑھاتے تھے کہ لگتا تھا القراۃ الرشیدۃ پڑھارہے ہیں۔ تفسیر نسفی اور عقائد نسفی پر تو ہم سے رہا نہ گیا۔ جب دیکھا کہ آفیشیل حائطیہ “تہذیب” کا ابھی ایک بھی شمارہ نہیں نکلا اور چھ مہینے گزرچکے ہیں تو اپنے دس ساتھیوں سے دس دس روپئے لیے اپنا دس ملایا اور پورے شان سے سالانہ امتحان تک اپنا پرائیویٹ حائطیہ “لوح وقلم” نکالتے رہے۔ ہمارے ساتھ مولانا عبد الصبور ندوی صاحب نے “غازی” نکالا تھا۔ “لوح وقلم” کا نصاب پر ایک خصوصی شمارہ تھا۔ اس میں ایک مضمون حماد ظفر نے “احمد اعوان” کے نام سے لکھا تھا۔ جب مولانا مجاز اعظمی رحمہ اللہ کو کئی بار دیر تک “لوح وقلم” کے پاس کھڑا دیکھا گیا تو باون طلبہ پر مشتمل ہماری کلاس میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں۔ ایک ساتھی نے کہا اب تم کو آفس میں بلایا جائے گا۔ جامعہ رحمانیہ میں یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ کئی بار آفس بلائے گئے تھے۔ جب اس ساتھی نے دیکھا کہ آفس میں بلائے جانے کی بات سن کر مجھے ڈر نہیں لگا ہے تو اس نے ڈسکرائب کرنا شروع کیا۔ کہنے لگا: ایک کام کرو ابھی جب ہاسٹل جانا تو اپنا سب سامان پیک کرلینا ہم تمھیں اسٹیشن چھوڑ آئیں گے۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولا: یہاں آفس بلائے جانے کا مطلب ہے کہ تمھیں جامعہ سے نکال دیا جائے گا۔

واقعی اگلی صبح مجھے ذکی صاحب کے آفس بلالیا گیا۔ وہاں مولانا مجاز اعظمی رحمہ اللہ کے علاوہ مولانا ضیاء الحسن اور مولانا شریف اللہ سلفی صاحبان بھی تھے۔ میں سلام کرکے داخل ہوا اور ادب سے بیٹھ گیا۔ من میں کوئی ڈر نہیں تھا، شاید چہرے پر بھی وہی بھاؤ رہا ہو۔

“تم ہی شمس نذیری ہو؟”

سر اٹھاتے ہوئے ” جی” کہہ چکا تھا۔ پھر اسی طرح کچھ دیر انتظار کیا اگلے سوال کا۔ مجھے کیا معلوم تھا اب اور کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔

“بہت اچھا لکھتے ہو ماشاء اللہ۔ ایسے ہی لکھا کرو۔ وہ جو نصاب کے بارے میں تم نے لکھا ہے وہ ہم بھی سمجھتے ہیں۔ مگر کیا کریں، الہ آباد بورڈ سے الحاق ہونے کی وجہ سے کچھ مجبوریاں ہیں۔ ورنہ ہمیں اس کا احساس‌ بہت پہلے سے ہے۔”

جامعہ رحمانیہ کی اساسی تعلیم بہت مضبوط تھی۔ اولی میں ہی مولانا ضیاء الحق صاحب نے نحو اور مولانا عبد المبین پرتاپگڑھی صاحب نے صرف بہت اچھا پڑھا دیا تھا۔ شرح شذور الذھب پڑھانا تو کوئی مولانا عبد الستار سراجی صاحب سے سیکھے۔

سن دو ہزار تین میں پہلی بار ایسا ہوا کہ سند عالمیت و فضیلت کے لیے مقالے سبمٹ کرنا لازمی قرار دے دیا گیا۔ میرا موضوع تھا ” استشراق اور مستشرقین”۔ عالمیت اور فضیلت کے ساتھیوں کو دیکھا کہ متعلقہ کتابوں سے بس سرپٹے نوٹ کرتے جارہے ہیں۔ بہت تکلیف ہوئی کیونکہ تب تک میں گیان چند جین کی کتاب “تحقیق کا فن” پڑھ چکا تھا۔ مقالہ لکھنے کا یہ طریقہ جتنا برا لگا اس سے زیادہ تکلیف اس بات پر ہوئی کہ انھیں کوئی رہنمائی بھی میسر نہیں ہے۔ مقالہ سبمٹ کرنے کا وقت قریب آیا تو پتہ چلا جو لکھ کر جمع نہیں کرے گا اسے امتحان میں بیٹھنے ہی نہیں دیا جائے گا۔ جلدی جلدی میں نے اپنے بھائی اور اس کے دوست کو بلایا اور مقالہ مکمل کرکے جمع کردیا۔ مگر اس پر جو مقدمہ لکھا تھا اس میں اپنی تکلیف بیان کردی تھی۔ اگلے دن میرے مشرف مولانا عبد الجبار سلفی صاحب جب “بدایۃ المجتھد” پڑھانے آئے تو میرے مقدمے پر ہی بات کرنے لگے۔ آدھے گھنٹنے کی وہ گھنٹی منٹوں میں ختم ہوگئی۔ مقدمہ مجھے دیا اور کہا دوسرا لکھ کر جمع کردو۔ میرے ساتھی چھینا جھپٹی میں لگ گئے۔ باری باری پڑھنا شروع کردیے۔ تب تک ایک طالب علم آیا اور اس نے کہا: صدر صاحب مقدمہ مانگ رہے ہیں۔ میں نے اسی کے سامنے پھاڑ کر کچرے کی بالٹی میں پھینک دیا اور اس سے بولا:

جا کہہ دے پھاڑ کر پھینک دیا

جامعہ رحمانیہ کے ابتدائی پانچ سال تو کھیل کود اور شاعری میں گزر گئے۔ کلاس اٹینڈ کرنے سے امتحان میں بہت اچھے نمبر آجاتے تھے۔ مطالعے کا ذوق رحمانیہ میں ہی “شاعر” کے مطالعے سے شروع ہوچکا تھا۔ پھر عالیہ میں وہ موقع میسر آیا کہ لائبریرین کے مطابق کسی ایک سال میں ایک طالب علم کے نام اتنی کتابیں نہیں ایشو ہوئیں۔ ہر دن (رات ملاکر) اوسطا کم ازکم چار سو صفحات پڑھنے کا اہتمام تھا میرا۔ ہاسٹل کے باہر اسٹریٹ لائٹ بھی گواہ ہے اس کا۔

 

عامر انصاری: مولانا مسلم كى دیوان گلشن ہدایت پر کوئی تبصرہ کرنا پسند فرمائیں گے؟؟

 ابوالمیزان: وہ بچپن میں پڑھی تھی جب ٹھیک سے اردو بھی نہیں آتی تھی۔

 

حافظ عبدالحسیب: آپ کب سے دبستان کے ممبر ہیں؟  اور دبستان سے متعلق بالعموم اور بالخصوص یہاں زیر بحث آنے والے موضوعات اور مواد سے متعلق کیا رائے ہے؟

 ابوالمیزان: دبستان گروپ کی یہ میری دوسری ممبرشپ ہے۔ دبستان سے جو انٹرویو فری لانسر میں اشاعت کے لیے موصول ہوئے وہ بہت مفید معلوم ہوئے۔ یہاں ہونے والے باقی مباحثوں کا مجھے کوئی علم نہیں ہے، کیونکہ ایسے واٹس اپ گروپس میں مشارکت کا ابھی تک تجربہ نہیں ہے۔

 

کاشف  شکیل: آپ دبستان میں اتنا خاموش کیوں رہتے ہیں؟؟حالانکہ نطق کو سو ناز ہیں تیرے لب اعجاز پر

 ابوالمیزان: واٹس گروپس میں مشارکت کا سلیقہ نہیں آیا ہے ابھی مجھے۔ مجلسوں میں بھی استفادے کا مزاج ہے شاید اس لیے بھی طبیعت ادھر نہیں آتی۔

 

سرفراز فیضی: آپ مجلس پسند ہیں یا تنہائی پسند؟

 ابوالمیزان: تنہائی پسند۔ مجلس اگر مفید ہو تو کسی کونے میں بیٹھ کر استفادہ کرنا اچھا لگتا ہے۔

 

شیرخان جمیل: آپ اپنے کام منصوبہ بندی کے بعد کرتے ہیں یا حالات اور ہوا کے جھونکے ادھر ادھر لے جاتے ہیں؟

 اسی ضمن میں دوسرا سوال یہ ہے کہ آپ اب تک مختلف کام مختلف جگہوں پر کرچکے ہیں۔ان کاموں اور تجربات کی روشنی میں آگے کسی کام کی تعیین اور اس کی منصوبہ بندی ہوئی ہے یا اپنے آپ کو زمانہ کے حوالہ کر رکھا ہے؟

 ابوالمیزان: میرے اساتذہ کہتے تھے نصیر مستقل مزاج نہیں ہے۔ یہی سن سن کر میرے کچھ ساتھی بھی کہنے لگے تھے۔ شاید آج بھی کچھ لوگ ایسا ہی سوچتے ہوں۔ استقلال مزاجی کی میری اپنی سمجھ ذرا الگ سی تھی۔ اگر اس سے لوگوں کی مراد کسی ایک ہی جگہ نوکری تھی تو مجھے اس میں کوئی بھلائی نظر نہیں آتی تھی۔ مشاہرہ جس رفتار سے بڑھتا ہے وہ دن بدن تنگ حالی کی طرف ہی لے جاتا ہے۔ اور جس پیشے سے آپ وابستہ ہیں اس میں آپ کی ترقی بھی ذہنی پریشانیوں کی وجہ سے متاثر ہوتی ہے۔ جامعہ رحمانیہ میں جب میرا داخلہ ہوا تھا اس وقت اساتذہ کی تنخواہیں اٹھائیس بتیس سو روپئے ہوا کرتی تھیں۔ جب فراغت ہوئی تب تک پانچ ہزار کے آس پاس پہنچ چکی تھیں۔ میں نے پہلی نوکری دو ہزار روپئے ماہوار پر کی۔ دوسری بھی اسی مقدار میں۔ اور تیسری نوکری میں مجھے ماہانہ پندرہ ہزار روپئے ملتے تھے۔ میں نے تب دیکھا مستقل مزاجی کیا ہے۔ ایک ہی جگہ ٹکے رہنے کے لیے ہر طرح کے سمجھوتے کرکے اپنا من مار کے پڑے رہنا مجھے استقلال مزاجی نہیں لگتا تھا۔ مجھے لگتا تھا پڑھنے لکھنے کا کام پسند ہے یہ مستقل کرتا رہوں اور آگے بڑھتا رہوں تو یہی مستقل مزاجی ہے۔ کیونکہ جو اساتذہ مجھے مستقل مزاج نہیں سمجھتے تھے تین ہی سال میں میری تنخواہ ان سے تین گنا زیادہ تھی۔ اور بائیس سال کی عمر میں ہی میں مجلہ “معیار حدیث” بنگلور کا ایڈیٹر بن چکا تھا۔ جگہ کوئی بھی ہو، شہر کوئی بھی ہو اور ایمپلایر بنگلور والے اسلم بھائی ہوں، مولانا عبد السلام سلفی صاحب ہوں یا شیخ احمد اللہ قریشی صاحب، میں سوچتا تھا روٹی حلال ہو بس۔ وہ کھانا بھی مجھے ذلت کا معلوم ہوتا تھا جس کے حصول میں اپنے ضمیر کا سودا کیا گیا ہو چاہے سوداگر کتنا ہی شریف کیوں نہ ہو۔ لکھنے پڑھنے کی میری مستقل مزاجی مجھے فری لانسر تک لے آئی۔ ویسے بھی مجھے ہمیشہ سے اسائنمنٹ بیس پر کام کرنا پسند تھا۔ ڈیوٹی بجاکر وقت کاٹ کر کبھی کوئی تنخواہ نہیں لی۔ دوران ملازمت جتنے کام کیے سب اپنا کام سمجھ کر کیے۔ یعنی ہوا کے جھونکے سے نہ کبھی دوستی ہوئی نہ دشمنی۔ کچھ سوجھا تو غور کیا، منصوبہ بنایا اور چل پڑا۔

ابھی میں حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں مصروف ہوں، فری لانسر جیسی ایک سرگرمی ہے اور تنظیمی نوعیت کے کچھ منصوبوں کو ٹیسٹنگ کے مراحل سے گزار رہا ہوں۔ دعا کیجیے اگر ان میں کوئی خیر ہو تو اللہ کامیاب کرے۔

 

حافظ عبدالحسیب: آپ کے انٹرویو کی روشنی میں میرا تاثر یہ ہے کہ آپ جب بھی کوئی کام کرتے ہیں تو پوری شدت سے کرتے ہیں ۔۔۔ نیم دلی والے کام سے آپ کی طبیعت اوب جاتی ہے ۔۔۔ کیا حقیقت یہی ہے ؟

 ابوالمیزان: جی سو فیصد۔ طبیعت ہی ایسی ہے۔

 

کاشف شکیل: آپ کی زندگی کا سب سے خوش بخت لمحہ اور سب سے افسوس بھرا وقت؟

 ابوالمیزان: کعبے پہ پڑی جب پہلی نظر۔

اور افسوس بھرا وقت شاید کبھی نہ آئے۔ کیونکہ جب بھی ایسا کچھ ہوتا ہے جہاں لوگ افسوس کرتے ہیں میں وہاں سوچتا ہوں جو متوقع تھا وہ اس لیے نہیں ہوا کہ اس سے بھی زیادہ کچھ اچھا ہونے والا ہے۔

 

ڈاکٹر نصیرالحق خان: میزان! چلتے چلتے امت اور نوجوانوں کے نام کوئی پیغام جو آپ ریکارڈ کرانا چاہتے ہوں؟

 ابوالمیزان: عزت اور ذلت دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ نفرت اور محبت بھی فرشتوں کے ذریعے وہ دنیا والوں کے دل میں ڈالتا ہے۔ کتاب و سنت اور سیرت صحابہ کی روشنی میں جو اصول مستفاد ہوتے ہیں ان پر جمے رہیں۔ اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں، سارے معاملات آرڈر میں رہیں گے۔ اللہ ہی سے ڈریں، کسی بندے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر معاملے میں اپنا آئیڈیل بنائیں، سودے کھرے رہیں گے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں، دل و دماغ صحت مند رہیں گے۔ تقدیر پر یقین رکھیں، افسوس نہیں کریں گے۔ آخرت کی کامیابی مد نظر رکھیں، دنیا کی ناکامیاں نہیں کھلیں گی۔ خود نوشت اور سوانح پڑھا کریں، غلطیاں کم کریں گے۔

2
آپ کے تبصرے

3000
2 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
2 Comment authors
newest oldest most voted
Rahee travels

نصیر صاحب آپ نے ریاض کی بہت یادوں کو ذکر نہیں کیا

عبید زاہد بن عبد الباری ندوی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

شیخ محترم!! اس سائٹ پر مضامین ارسال کرنے کے لئے کیا کرنا ہوگا؟ برائے مہربانی بتائیں گے۔ جزاکم اللہ خیرا

والسلام