سفر حج؛ چند ناقابل فراموش یادیں

ڈاکٹر شمس کمال انجم سفریات

۱۹۹۳ء میں ہمیں پہلی مرتبہ سفر حج کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ ہمارے عنفوان شباب کا زمانہ تھا۔اس زمانے کو کم وبیش تین دہائی کا عرصہ گذر گیا۔ بہت کچھ یادیں ذہن سے محو ہوگئی ہیں مگر کچھ یادیں ابھی بھی انمٹ نقوش کی طرح صفحۂ ذہن پر مرتسم ہیں جو آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔

سفر حج سے قبل ہمیں تقریبا دو بار عمرے کی سعادت حاصل ہوچکی تھی۔ حرم مکی کے درودیوار سے ہمیں کچھ کچھ واقفیت ہوگئی تھی۔ باب الفتح، باب الملک عبد العزیز اور خاص طور سے ایک منارے والے باب بلال سے تو بڑی مانوسیت سی ہوچکی تھی۔ باب بلال ہندوپاک کے لوگوں کا مستقر ہوا کرتا تھا۔دوست واحباب سے ملاقات کے لیے لوگ یہیں آیا کرتے تھے۔ شناسا غیر شناسا سب سے ملاقات ہوجاتی تھی۔ کہیں کھوجانے کی صورت میں ایک منارے والے باب بلال کے سامنے آجانے کی تنبیہ کی جاتی تھی۔صفا مروہ کوبھی ہم قدرے پہچان چکے تھے۔ مروہ کے بغل میں حجاموں کی جو دکانیں تھیں اور ان کے بائیں جو دورۃ المیاہ (باتھ روم) تھا اور جس کے اوپر سے وہ نفق (سرنگ) گذرتی تھی جس سے بعد میں کئی بار حرم شریف سے منی اور منی سے حرم شریف پیدل جانے اور آنے کاحسن اتفاق ہوا۔ ان سب مقامات مقدسہ کے ہلکے ہلکے نشانات ذہن ودماغ میں محفوظ ہوچکے تھے۔اس لیے ہمیں سفر حج میں کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ سے جب ۱۹۹۳ء پہلی بار سفر حج کے لیے ہم نے رخت سفر باندھا تو جو لوگ اس وقت ہمارے ساتھ تھے ان میں شیخ نورالہدی سنابلی (سعودی ایمبسی نئی دہلی)، شیخ نورالدین (بیت نار) اور شیخ مقیم الدین (جھنڈا نگر) صاحبان ہی کے نام یاد ہیں۔ اور لوگ بھی تھے لیکن ان کے نام یاد نہیں۔ہم نے چھوٹے سے جھولے میں سامان سفر رکھا اور مدینے سے جی ایم سی پکڑ کر مکہ مکرمہ کے لیے نکل پڑے۔اس سفر میں ہمارے کل تین سو ریال خرچ ہوئے تھے۔ ہم نے حج تمتع کیا تھا۔البتہ قربانی الراجحی بینک کے ذریعے کی تھی۔بینک نے اسکیم نکالی تھی کہ جو حجاج ٹوکن کٹوائیں گے بینک ان کی قربانی کا انتظام کرے گا۔ ہم نے بھی پیسہ جمع کردیا تھا اورہمیں یقین ہے بینک نے قربانی کردی ہوگی۔

آٹھ ذی الحجہ یعنی یوم الترویہ کو ہم نے باب بلال سے اپنا ہلکا سا جھولا لیا جس میں دو جوڑی کپڑے ،پانی کا ایک تھرماس ، ایک چٹائی اور ایک چھتری تھی۔ کل یہی ہمارا زاد سفر تھا۔ ہم نے باب بلال سے احرام باندھا اور مروہ کے ساتھ والی نفق (سرنگ) سے پیدل منی کے لیے نکل پڑے۔ مسجد خیف میں آٹھ کو قیام کیا۔ اور نو کی صبح عرفات کے لیے نکل پڑے۔ہم تو مقامی حاجی تھے۔ نہ گاڑی تھی نہ سواری، نہ قیام گاہ نہ خیمہ۔ لہٰذامیدان عرفات میں بھیڑ نے جہاں پھینک دیا وہیں ہم نے قیام کرلیا۔وہاں کے مصنوعی فواروں سے گذرنے کا لطف ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ میدان عرفات میں لگائے گئے نیم کے درخت ابھی چھوٹے چھوٹے تھے۔جن کا سایہ ابھی قابل ذکر نہیں تھا۔ دو جی ایم سی گاڑیوں کے بیچ تھوڑی سی جگہ ہمیں نظر آئی اور وہیں ہم لوگ بیٹھ گئے۔ احرام کو دونوں گاڑیوں کے اوپر لگادیا جس سے تھوڑا سا سایہ ہوسکے۔اور پھر کچھ لوگ عبادت میں ، کچھ دعا میں اور کچھ ذکر واذکار میں مصروف ہوگئے۔ دھوپ بہت شدید تھی۔ پانی تھا مگر بہت گرم ہوگیا تھا جس کے پینے سے پیاس کی شدت ختم ہونے والی نہیں تھی۔ ہمارے سامنے ایک سعودی فیملی تھی۔ ان کا اپنا چھوٹا سا خیمہ تھا۔اور اس میں ساز وسامان بھی تھے۔ برف کا ایک چھوٹا سا بکس بھی تھا۔ ہم نے ان کے بکس کو دیکھا تو لالچ بڑھ گئی۔ ہم نے ایک ساتھی کو برف مانگنے کے لیے بھیجا۔ انھوں نے جاکر فرمایا:لو سمحت ارید شوی سلج (برائے مہربانی !مجھے تھوڑا سا سلج یعنی برف دے دیجیے) ہم ہندوستانیوں کا لہجہ ’’سین‘‘اور ’’ث ‘‘اور ان جیسے حروف حلقی کے معاملے میں شروع شروع میں ذرا کمزور ہوتا ہے۔ اس لیے اس آدمی نے شاید سمجھ کر ناسمجھی کردی۔ اور پوچھا: ترید سلج (تمھیں سلج چاہیے؟)
ایش السلج (یہ سلج کیا ہوتا ہے؟)
وہ صاحب سمجھ گئے کہ ث کا تلفظ ذرا سین میں بدل گیا ہے۔ لہٰذا انھوں نے اپنا لہجہ درست کیا اور کہا:
نعم ثلج ثلج (جی ثلج ثلج)
پھر ان صاحب کو سمجھ میں آیا کہ یہ غریب ثلج مانگ رہا ہے۔ بہر حال انھوں نے ہماری مدد کی۔ ہمیں برف دیا۔ ہم نے پانی میں ڈالا اور ایسا محسوس ہوا جیسے زندگی میں پہلی بار ٹھنڈے پانی سے ملاقات ہوئی ہو۔ یہی ہے عربی زبان کی نزاکت۔ عربی کا ہر حرف ایک خاص مخرج سے ممتاز ہوتاہے۔ عربوں کے یہاں اس کا مکمل اہتمام پایا جاتا ہے۔عرب جب بولتے ہیں تو ان کے یہاں کبھی بھی حاء اور ہاء، سین اور ث، قاف اور کاف میں کوئی غلطی نہیں ہوتی۔ ان کا ہر حرف خاص مخرج سے بغیر کسی اہتمام کے نکلتا ہے۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز آل الشیخ نے خطبہ ٔ حج دیاتھا۔ اس وقت وہ مفتی مملکہ نہیں تھے۔ لیکن ان کی آواز بہت اچھی طرح مجھے یاد تھی۔ کیونکہ سعودی ریڈیو کے مقبول عام پروگرام ’’نور علی الدرب‘‘ میں شیخ اکثر آتے تھے۔ان کے جواب دینے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ سائل کے سوال کو مکمل دہراتے تھے اور پھر اس کا جواب دیتے تھے۔خیر!

عرفات کا دن بخیر وخوبی گذارنے کے بعد شام کوتمام حجاج کے ساتھ ہم لوگ مزدلفہ آئے۔ مشعر حرام کے پاس ہم اپنی چٹائی بچھارہے تھے تاکہ رات کے قیام کی جگہ نصیب ہوجائے۔ بغل میں ایک مصری نوجوان بھی تھا۔ وہ بھی ہماری طرح تھا۔سعودی عرب کے کسی شہر سے حج کے لیے آیا ہوا تھا۔ وہ بھی اپنی چٹائی بچھا رہا تھا۔ہم چار پانچ لوگ تھے۔ ایک بالشت یا اس سے زیادہ جگہ کم پڑ رہی تھی۔ ہمارے ایک ساتھی نے اس مصری سے کہا یا اخی لو سمحت شوی (بھائی صاحب تھوڑا سا اپنی چٹائی کو ادھر کرلیں) ہرچند کہ حج میں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ اخوت ومحبت اور شفقت واحترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ مقدور بھر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ مگر کبھی کبھی سفر حج میں پیش آنے والی پریشانیوں سے انسان جز بز ہوجاتا ہے۔ چنانچہ اس مصری نے جو جملہ کہا وہ آج بھی میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ اس نے کہا لا شویّ ولا واحِد سِنتی مِتر (میں تھوڑا سا کیا۔ ایک سنٹی میٹر بھی ادھر کا ادھر نہیں ہونے والا) پہلی بار میں نے لفظ سِنْتی متر کا لفظ عربی میں سنا تھا۔ بہر حال مغرب اور عشاء کی نماز جمع کرکے پڑھی گئی اورکھلے آسمان کے نیچے سو گئے۔ پہلی بار اس مشعر حرام کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جس کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔

ہم لوگ علی الصباح اٹھے فجر پڑھی اور منی کے لیے روانہ ہوگئے۔ مسجد خیف میں تین دن قیام کیا۔ اسی مسجد میں رہتے اور مسجد میں ہی سوجاتے۔کبھی کچھ خرید کر کھاتے تو کبھی بڑے بڑے ٹرکوں میں جو سامان آتے تھے اور جسے ٹرک والے ٹرک پر چڑھ کردور پھینکتے تھے۔ کبھی کبھی اس کھانے اور پانی کو کیچ کرنے میں ہم لوگ بھی کامیاب ہوجاتے تھے۔ تو اس سے بھی سیر ہوجاتے تھے۔ یہ مسجد خیف حج کے ایام میں تین چار دن مسلسل ایک اسلامی یونیورسٹی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ہر گوشے میں علماء کے دروس ہوتے ہیں۔ لوگوں کے مسائل کا جواب دیا جاتا ہے۔ یہیں پہلی مرتبہ شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کو دیکھا اور سنا۔

اگلے سال پھر حج کا موسم آیا۔ ارادہ پختہ تھا کہ حج کے لیے تو نکلنا ہی نکلنا ہے۔ مگر مشکل یہ تھی کہ سعودی حکومت وہاں مقیم حضرات کو پانچ سال میں صرف ایک مرتبہ حج کا پرمیشن دیتی ہے۔ ہم گذشتہ سال حج کرچکے تھے۔ پرمیشن کا سوال ہی نہیں تھا۔ بہر حال ارادہ پختہ ہو تو اللہ کی مدد شامل حال ہوتی ہے۔ ہم پرانی تصریح (پرمیشن پیپر) لے کر نکل گئے۔غالبا کسی جی ایم سی میں بیٹھ کر مکے کے لیے روانہ ہوئے۔ مکے کے قریب چیک پوسٹ آیا تو ہم نے نئے طلبہ کی تصریح کو اوپر اور نیچے رکھا اور درمیان میں پرانی تصریح رکھ دی۔ اور دعائیں پڑھنی شروع کردی۔پولیس والا آیا۔ پہلے اس نے گنا کہ گاڑی میں کتنے لوگ ہیں۔ واحد، اثنین، ثلاثہ، اربعہ ، خمسہ، ستہ، سبعہ۔ اس کے بعد تصریح مانگی۔ اس نے کسی کی تصویر دیکھے بغیر گننا شروع کیا: واحد اثنین، ثلاثہ، اربعہ ، خمسہ، ستہ، سبعۃ۔جتنے لوگ گاڑی میں تھے اتنے اوراق بھی تھے۔ ایک سانس میں واحد اثنین، ثلاثہ، اربعہ ، خمسہ، ستہ، سبعہ گننے کے بعد اس نے ڈرائیور سے کہا یاللہ روح (جاؤ) پھر ہم لوگوں کی جان میں جان آئی۔ہم لوگ سجدۂ شکر بجالائے کہ چلو چیک پوسٹ پار ہوگئے۔آئندہ سال اور اس کے بعد ایک اور برس ہم نے یہی تدبیر اپنائی۔ یعنی پہلے سال کے علاوہ تین سال ہم نے پرانی تصریح کے ذریعے ہی چیک پوسٹ کو پارکیا اور حج کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔ الحمد للہ!غالبا حکومت کی طرف سے ہدایت بھی ہوتی ہے کہ اتنی سختی نہ کی جائے کہ ایک ایک تصریح کو پوری سختی سے چیک کیا جائے کہ اگر کوئی تصریح Valid نہیں ہے تو عازم کو اتار دیا جائے۔ اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب ہم نے ہیئۃ الامر بالمعروف بالمسجد النبوی میں کام کرنا شروع کیا۔ رئیس الہیہ نے جو تقریرکی تھی اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر کسی نے کسی بھی حاجی کو زک پہنچانے اور تکلیف دینے کی کوشش کی تو سعودی عرب میں اس کا وہ آخری دن ہوگا۔ انھوں نے بتایا کہ اوپر سے ایسی ہدایت ہے اور اس میں کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔کیونکہ تمام حجاج اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ اچھے سے پیش آیا جائے۔ ان کی رہنمائی کی جائے ، ان کی خدمت کی جائے۔

اس بار ہم ذرا پرانے ہوچکے تھے۔ منی مزدلفہ اور عرفات کے سارے مقامات جانے پہچانے سے ہوگئے تھے۔ سو ہم نے اس بار راجحی کے ذریعے قربانی نہیں کی بلکہ منحر (قربان گاہ) جاکر اونٹ کو دیکھا اورخریدکر قربان گاہ کے حوالے کیا۔اور سات لوگوں نے مل کر پورا اونٹ قربان کیا۔ غالبا ڈھائی ہزار میں ملا تھا۔ اس بار بھی وہی لوگ ساتھ تھے جو پہلے سال تھے۔اس بار بھی ہم نے کم وبیش تین سو ریال میں حج پورا کرلیا۔ اور اسی طرح اگلے دو برسوں میں بھی کرتے رہے۔ اس سفر میں میری چپل کھوگئی۔ طلبا علماء کی رفاقت تھی۔ ایک سے ایک دینی موشگافیاں۔ سبحان اللہ! کسی ساتھی نے فرمان جاری کیا کہ یہ جو ساری چپلیں وضو خانے کے باہر یا دروازوں کے باہر پڑی رہتی ہیں اگر ان میں سے کوئی آپ کی نہیں ہے تو آپ اپنی کھوئی ہوئی چپل کے بدلے انھیں پہن نہیں سکتے۔ چنانچہ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ میں منی سے بغیر چپل کے اسی مروہ والی نفق سے مکہ مکرمہ آیا۔ طواف حج کیا اور دو یا پانچ ریال کی چپل خریدی۔ باقی ایام اسی کے سہارے گذارے اور مدینے تک اسی میں سفر کیا۔

ایک اور واقعہ یاد آرہا ہے اور وہ یہ کہ ظہر کا وقت تھا۔ ہم لوگ باب الفتح کی طرف سے وضو کرکے پہلی منزل کو جانے والی سیڑھی سے چڑھ رہے تھے کہ ظہر کی اقامت ہوگئی۔ بھیڑ اتنی تھی کہ لوگ ’’بنیان مرصوص‘‘ کی طرح کھڑے تھے۔ اب جب اقامت ہوئی تو سب نے نیت باندھ لی۔ غالبا کھڑے کھڑے ہی نماز ادا کی گئی۔ رکوع اور سجدہ ایک دوسرے کی پیٹھ پر کیے گئے۔

حج در اصل عبارت ہے مکہ منی ، مزدلفہ اور عرفات میں ارکان حج کی ادائیگی سے۔ حرم شریف سے منی تک، منی سے میدان عرفات تک، عرفات سے مزدلفہ تک، مزدلفہ سے منی اور منی سے جمرات تک صرف اور صرف عبادتیں کی جاتی ہیں۔ ان عبادتوں میں سے کچھ کا تعلق نمازوں سے ہے تو کچھ کا ارکان حج سے۔ لیکن لاکھوں کی تعداد میں عازمین کے ایک ساتھ اکٹھا ہونے سے جو ازدہام اور بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے اس کی وجہ سے حجاج کو تھوڑی سی جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ورنہ غیر حج کے ایام میں محض گھنٹوں میں ان مقامات کی زیارت ختم ہوجاتی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پورے اخلاص وللہیت کے ساتھ عبادت کی توفیق ارزانی کرے۔آمین

آپ کے تبصرے

3000