مولانا سجاد نعمانی كا شاخسانہ اور ان كے نام كھلا پروانہ

ڈاکٹر آر کے نور محمد عمری مدنی عقائد

الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی رسولہ الأمین وعلی آلہ وصحبہ أجمعین
محترمی ومکرمی حضرت مولانا سجاد نعمانی!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امیدہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوں گے، الله سےدعا والتجا بھی ہےکہ ہم اور آپ کو حق کو حق کی حقيقی شکل میں دیکھنے اوراختيار كرنےاور باطل کو باطل کی اصلی شکل میں پہچاننے اور اس سے اجتناب كرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ آمین
فیس بک پر مجھے آپ کا ایک خطاب بعنوان’’برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش کے علماءکرام کی خدمت میں ایک طالب علمانہ گزارش‘‘سننے کا موقع ملا،جس میں آپ نے بر صغیر کے ارباب علم ودانش کے نام ايك پیغام دیا، اس پيغام كو آپ نے ایک بہت ہی اہم طالب علمانہ گزارش سے تعبیر کیا،جاری كرده بيان باقاعدہ تحریری شکل میں تیار کيا اور امت سے خطاب کیا۔
خطاب کے آغاز میں آپ نے اپنے والد ماجد مولانا محمد منظور نعمانی کی تاريخ ساز، حق كی آواز، ممتاز ومایہ ناز کتاب (ایرانی انقلاب، امام خمینی اور شیعیت) کا تذکرہ کرنے کے بعد 1985ء میں رابطۂ عالم اسلامی کی دعوت پر اپنے والد صاحب کے ہمراه سعودیہ کے دورے اور شريك اجلاس رہنے کا ذکر کیا، جس میں والد ماجد نے اكابرين عرب وعمائدين امت کو ایران کے خطرے سے آگاہ کرنے کی سنجيده کوشش کی اور ہر اہم وذی اثر شخصيت کو اپنا گراں قدر مضمون پڑھ کر سنایا۔ والد ماجد کی بڑی خواہش تھی کہ شیعہ کے تعلق سے یہ جامع مضمون سعوديہ کے کسی ایک موقر اخبار میں چھپ جائے، مگر اخبارات کے تمام ذمہ داران نے شائع کرنے سے معذرت کی اور كہہ ديا كہ انھیں ایران کے خلاف ایک جملہ بھی لکھنے کی اجازت نہیں۔
پھر آپ نے برسر اقتدار سعودی حکومت کی خارجہ پالیسیوں اور بيرونی منصوبوں میں غير معمولی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے كہا:
یہ ہے وہ سعودی حکومت جس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں کے بارے میں نت نئے انکشافات روزانہ سامنے آرہے ہیں۔(مولانا سجاد نعمانی کا خطاب8:30)
آپ کے بقول :اب یہ خبریں آ رہی ہیں كہ وہ (موجودہ سعودی حکمران ) بر صغیر کے بعض علاقوں میں شیعوں کے خلاف مسلح جد وجہد کے ليے سنی علما کو آمادہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔یہاں تک کہ اس کے ليے ان طاقتوں سے معاہدے بھی کررہے ہیں۔اور اللہ کرےیہ خبر غلط ثابت ہوجائےکہ جن سے مقابلے کی فوج کی انھیں قیادت کرنی چاہیے۔ (مولانا سجاد نعمانی کا خطاب 11:20)
محترمی!
آپ بخوبی واقف ہیں کہ باطل پرست عناصر آج کس مكاری وعیاری سے میڈیا وديگر ذرائع ابلاغ کا غلط استعمال کررہے ہیں اور کس برق رفتار ی سے بیشتر مظلوم کو ظالم اور ظالم کو مظلوم ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہےہیں، ايسے سنگين ناگفتہ بہ حالات ميں يہ جان کر بڑا تعجب ہوا کہ آپ جیسے جہاں دیدہ عالم دین کو کیسے کسی کی اڑی اڑائی خبر پر ایمان کی حد تک یقین ہوگیا؟اور کیسے آپ نے توحید وسنت اور تعليمات سلف امت کے مضبوط ترين قلعے حرمین شریفین اور ان كے ذمہ داران پر لگی اتنی بڑی تہمت اور غیر معمولی الزام تراشی کی بلا تامل اور بغير تحقیق پورے وثوق وذمہ داری کے ساتھ تصدیق کرڈالی۔
حیرت ہے کہ آپ نے اس بھونڈی اور بے بنیاد خبر کو در خور اعتنا سمجھا کہ امت کو اس کی سنگینی وخطرناکی پر تنبیہ کی ضرورت پڑ گئی ہے۔
اگر واقعتاً اس خبر میں ذرہ برابر بھی صداقت ہوتی تو سعودیہ خود اپنی حکومت کے حدود میں موجود رہائش پذیر شیعہ کے ساتھ بھی وہی نا روا سلوک کرتاجس کاذکر آپ کی موہوم ومزعوم خبرپر خطر، بے اثر و بے ثمر میں ہے! جب کہ سعودیہ کے شیعہ اپنے ملک میں سارے سرکاری حقوق ومراعات کے ساتھ عزت وامان کی زندگی گزار رہے ہیں،کیا یہ بات معقول ہوگی کہ ايك جانب سعودی حکمران اپنے ملک میں موجود مخالفین کو تو تمام تر سہولیات مہیا کرے اور ملک کی وسیع فضا میں سعودی نظام كے دائرے میں انھیں کھلی آزادی دے تو دوسری جانب دوسرے ملک میں اپنے مخالفین کے خلاف ان کی ہزیمت وشكست کے ليے فوجی قیادت کے اقدامات کرنے لگے؟
اور یہ بھی يكسر بعيد از عقل ہے کہ فوجی كارروائی کے ليے سعودی حکومت اپنے ملک کے علماء کرام سے تو بے نیا ز ہوجائے اور ديگر ممالک کے بيرونی علما کی خدمت کا محتاج ہوجائے؟اور اس سے بھی زياده اچھنبے كی بات تو یہ ہے کہ مسلح جد وجہد کے ليے علماء کرام کا سہارا لیا جائے؟
اور مجھے افسوس صد افسوس ہےکہ ایران جیسی ظالم وجابر حکومت جس نے شام،عراق اور بہت سارےمسلم ممالک میں باقاعدہ مسلح جنگجوؤں كے ذريعے لاکھوں بے قصورمسلمانوں کو برباد كیا اور کررہی ہےاور مسلم دنیا میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرکےقتل وغارت گری کا ماحول پیدا کر رہی ہے، بے شمار مسجدوں کو مسمار کررہی ہے۔ اس كی ان انسانيت سوز سفاكانہ حركتوں پر تو ہماری زبانیں مجرمانہ حد تک گنگ ، دماغ شل، قلم خشک ، حوصلے پست ، لہجے سرد ، ملالائیں مدہوش ، میڈیا خاموش اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بے ہوش ہیں جب کہ یہ سب ایسے چشم کشا حقائق وحالات اور ہوش رباواقعات ہیں جن کا انکار ممکن نہیں اور جو ملک اپنے روز اول ہی سے پورے عالم اسلام کے ليے امن وامان کا پیغامبر بنا ہوا ہواور دوسروں کے داخلی معاملات میں دخل اندازی اس کا شیوہ قطعاً نہ رہا ہو اس کے بارے میں ایسی غير حكيمانہ ، غیر منطقی،غير منصفانہ بلكہ بچكانہ باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔سبحانک ھذا بھتان عظیم !
حرمین شریفین کی پاک سرزمین اور اس کی بے لوث خدمات کی سعادت مند حکومت کے تئيں بلا تحقیق وبغيرثبوت ایسی كھوٹی بلكہ سراسر جھوٹی اور نا قابل یقین خبر شائع کرنا یقیناً بڑے خطرناک اور سنگین نتائج کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس افواه اوراس کے نتائج كے متعلق آپ سے عند اللہ ضرور بازپرس ہوگی، كيوں كہ ايسی غير ذمہ دارانہ حركت بالخصوص آپ جیسے معروف عالم دین کے شایان شان ہرگز نہیں،جب کہ اس سلسلے میں آپ اللہ کے حکم سے بخوبی واقف ہیں:
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
[الحجرات: 6]
مولانا محترم!
آپ نے اشارہ کیا كہ سعودیہ كا 35 سالہ طویل عرصہ شیعہ کے ليے غير معمولی تبدیلی کا رہا ، يہ اشاره درحقيقت ايك شراره ہے جس كو بجھانے كے ليے برسات نہیں دلائل كی سوغات چاہيے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ شیعہ کے تعلق سے – آپ کے والد ماجدمولانا منظور نعمانی کی وفات کے بعد سے تا ہنوز- جو غیر معمولی تبدیلی آپ کی فکر ونظر میں در آئی ہے وہ تو آپ کے اس خطاب سے عالم آشکار ہے۔آپ نے شیعان دوراں کے حوالے سے اپنی نئی فکر کو درست قرار دينے کےليے دو تمہیديں باندھی ہيں:
ایک تو یہ کہ والد محترم نے شیعہ کے بارے میں اپنی طرف سے کسی تبصرے یا اظہار خیال سے حتی الامکان گریز کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں فرمايا:
اس کتاب میں خمینی صاحب کے افکار ونظریات، ایرانی انقلاب کی حقیقت اور شیعیت کے بارے میں اپنی طرف سے کسی تبصرے یا اظہار خیال سے حتی الامکان گریز کیا گیا تھا ، صرف ہر موضوع سے متعلق اس كے مستند ترين مآخذ کے اقتباسات پيش کیے گئے تھے۔(مولانا سجاد كا خطاب6:13)
پھر آپ نے اپنی فکر ونظر کی اس تبدیلی کو صحیح ثابت کرنے کے ليے اپنے اکابر واسلاف کا سہارا لیا اور فرمایا:
ہم نے اکابر واسلاف کی ایک خصوصیت یہ بھی دیکھی کہ وہ امت کی رہبری اپنے ذوق ومزاج کی روشنی میں نہیں بلکہ بدلتےحالات، امت کی بدلتی ضروریات، بدلتی ہوئی مصلحتوں اور بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق کرنے کی کوشش کرتے تھے۔(مولانا سجاد نعمانی کا خطاب 13:20)
چليے ہم نے مانا کہ دین میں ثوابت واصول کے علاوه بعض مسا‏ئل کے احکام حالات کے پيش نظر كبھی كبھار بدل سكتے ہيں تاہم يہ سوال تو ا ٹھتا ہے کہ کیا آپ کے والد ماجد نے خمینی صاحب کے افکار ونظریات، ایرانی انقلاب کی حقیقت اور شیعیت کے بارے میں اپنی طرف سے کسی تبصرےیا اظہار خیال سے حتی الامکان واقعتاً ًٍگریز کیا؟ اور اپنی طرف سے تبصرہ كيے بغير محض ان کے مستند ترین مآخذ سے اقتباسات پیش کرنے پر اکتفا کیا ؟
آپ کے والد ماجد مولانا منظور نعمانی نے خمینی ،شیعیت اور ایرانی انقلاب پر مفصل ومدلل، تشفی بخش وسير حاصل بحث كی اور خمینی کے متعلق بطور خلاصہ فرمايا:
ا۔وہ (خمینی)پوری صراحت کے ساتھ ائمہ کو انبیاء ورسل اور ملائکہ سے افضل قرار دیتے ہیں بلکہ انھیں صفات الوہیت کا حامل بھی مانتے ہیں۔
ب۔خمینی صاحب صحابۂ کرام بالخصوص خلفاء ثلاثہ کے بارے میں انتہائی گھناؤنی اور ناپاک رائے رکھتے ہیں،وہ ان کے ایمان واسلام کے بھی منکر ہیں اور ان کا تذکرہ آخری درجے کے پست کردار،اغراض کے بندے،اقتدار کے بھوکےاور خالص سازشی ذہن اور سیاسی ہتکھنڈوں والے منافقین کے ایک ٹولے کی حیثیت سے کرتے ہیں،اور ان سے عقیدت ومحبت ہی کے جرم میں وہ اولین وآخرین اہل سنت کو ناقابل معافی مجرم،اللہ ا ورسول کا باغی اور جہنمی قرار دیتے ہیں۔۔۔۔ وَمَا تُخْفِي صُدُورُهُمْ أَكْبَرُ(ایرانی انقلاب ص 291-292)
اور شیعیت کے بارے میں فرمايا:
شیعیت،اسلام کی اندرسے تخریب کاری اور مسلمانوں میں اختلاف وشقاق پیدا کرنے کے ليے یہودیت ومجوسیت کی مشترکہ کاوش سے اس وقت وجود میں آئی تھی جب یہ دونوں قوتیں طاقت کے بل پر اس کی برق رفتاری سے پھیلتی ہوئی دعوت کو روکنے میں ناکام رہی تھیں اور اسی ليے شیعیت کا تانا بانا پولوس کی تصنیف کردہ مسیحیت کے تانے بانے سے بہت کچھ ملتا جلتا ہے،جس نے عیسائی بن کر اندر سے عیسائیت کی تحریف اور حضرت عیسی علیہ السلام کے لائے ہوئے دین حق کی تخریب کی کامیاب کوشش کی تھی،جس کا نتیجہ موجودہ عیسائی مذہب ہے۔(ایرانی انقلاب ص 292-293)
اور پھر آخر میں فرمايا:
بہر حال ہمارے جن بھائیوں سے خمینی صاحب کے بارے میں غلطی ہوئی جو یقیناً سنگین غلطی تھی،اللہ ان کو توفیق دے کہ وہ سیدنا آدم علیہ السلام کی سنت کو اپنائیں اور رب کریم کی مغفرت ورحمت اور جنت کے مستحق ہوں۔(انقلاب ایران ص 296)
مولانا!
اب آپ ہی بتائیں کہ کیا اتنی وضاحت وصراحت کے بعد بھی آپ کے والد ماجد کے متعلق یہ کہنا درست ہوگا کہ آپ نے شیعہ،خمینی یا انقلاب ایران کے بارے میں کچھ بھی تبصرہ نہیں کیا؟
پھر آپ نے مولانا محمد انوری رائے کوٹی صاحب کی معرفت ووساطت سے ان کے استاذ گرامی مولانا انورشاہ کشمیری کا قول بحوالۂ کتاب ” مجالس حضرت رائے پوری “نقل کیا:
مسلمان اور عیسائی آپس میں لڑتے رہیں گے، اس فتنے کو مٹانے کے ليے کوئی ایسی ہستی چاہیے جس کو دونوں فریق حکم عدل مانیں،تو وه حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے، جو نزول فرما کر اس جنگ کا ہمیشہ کے ليے خاتمہ کردیں گےاور مسلمانوں میں داخلی طور پر شیعہ اور سنی دو فرقے رہ جائیں گے جن کے اتحاد کے ليے حضرت امام مہدی علیہ السلام کا ظہور ہوگا۔(مولانا سجاد کا خطاب 14:30)
پھر آپ نے مولانا عبید اللہ سندھی کا قول بھی نقل کیا کہ آپ نے فرمایا :
ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ تمام دنیا اسلام پرمتفق ہوجائے گی اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ عیسائیوں کے اسلام پرمتحد ہونے کے ليے کسی ایسی ہستی کا ظہور ہو جس کو عیسائی مانتے ہوں اور وہ اسلام کی دعوت عیسائیوں کو دیں گےاور شیعہ فرقے کو متحد کرنے کے ليے بھی کسی ایسی ہستی کے ظہور کی ضرورت ہے جسے شیعہ بھی مانتے ہوں اور وہ ان کو اہل سنت مسلمانوں سے متحد کردیں گے،اس ليے امام مہدی کا ظہور ہوگا۔(مولانا سجاد کا خطاب17:30)
پھر آپ نے بتایا کہ آپ کو یقین ہوچلا ہےیہ وقت آکر رہے گا اور یہ عظیم اتحاد، یہ خوب صورت اتحاد حقیقت واقعہ بن کر یقیناً سامنے آئے گا۔ اور مزید یہ بھی عرض کیا كہ وہ دور تیزی کے ساتھ قریب سے قریب تر آتا چلا جارہا ہے۔(مولانا سجاد کا خطاب19:10)
آپ نے عیسی علیہ السلام اورمہدی کے ظہور کے وقت کو قریب سے قریب تربتاکر امت کے نام ایک پیغام دیا جو غالباً اس خطاب سے اصل مقصود ہے، آپ نے فرمایا:
اس ليے اس پہلوکا،آنے والے مستقبل کا،ان اشارات کا تقاضا یہ ہے کہ ایک طرف تو ہم صحیح عقائد اور افکار کی تعلیم وتبلیغ اور تمام فرزندان توحید کو غلط افکار ونظریات سے محفوظ کرنے اور محفوظ رکھنے کے ليے اپنی اصلاحی وتعلیمی کوششیں پوری حکمت اور سنجیدہ انداز گفتگو کے ساتھ جاری رکھیں۔
اور دوسری طرف حدود وقیودکا خیال رکھتے ہوئے اپنے اپنے حلقے اور مکتب فکر سے وابستہ مردو خواتین، خصوصاً نوجوانوں کی ایسی ذہن سازی کریں کہ آنے والے اُس وقت اور اُس کے تقاضوں کے ليے ان کے ذہن ودماغ میں آمادگی پیدا ہو، امید کہ آپ میرے اشارے کو سمجھ رہے ہوں گے؟۔۔۔ جب ان شاء اللہ سنی اور شیعہ سب راہ حق پر متحد اورمجتمع ہو جائیں گے۔ (خطاب مولانا سجاد نعمانی 19:54)
ميری دعابھی یہی ہے کہ سارےاختلافات ونزاعات اور الزامات وخدشات ختم ہوں اور سب كے سب حق پر متفق ہو جائیں۔لیکن کیا میں سوال کرسکتا ہوں کہ اس طرح كی ذہن سازی سے آپ كا منشا كيا ہے؟جس کی طرف اشاروں ہی اشاروں میں آپ نےدعوت دی اوررضاکارانہ طور پر اسے دہراتے ہوئے كہا کہ آپ میرے اشارے کو سمجھ رہے ہوں گے؟
میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اتحاد امت کے ليے یہ دعوت ِذہن سازی كيا صرف یک طرفہ عمل ہے؟ یا طرف ثانی اور مد مقابل کو بھی آپ نے اس کی دعوت دی ہے؟
اور تیسرا سوال یہ ہے کہ جس طرح عیسی علیہ السلام کےنزول کے بعدنصاری اسلام میں داخل ہوجائیں گے، اسی طرح کیا مہدی کے ظہور کے بعد شیعہ بھی راہ حق یعنی راہ اہل سنت وجماعت پر جمع ہوجائیں گے؟ جیسا کہ آپ نے مولانا عبید اللہ سندھی کے حوالے سے نقل كیا؟
اس میں دو رائے نہیں کہ ُاس وقت ساری دنیا جس راہ حق پرمتحد ہوگی یہ وہی اسلام ہوگا جو قرآن وسنت رسولﷺ كا ترجمان اور جوصحابہؓ اور سلف صالحین کا طرہ امتیاز رہا ہے۔اور اگر بات ایسی ہی ہے توظہورمہدی کی تیاری کی اصلی صورت تو یہ ہوني چاہیےکہ آپ اب اپنی ساری جد وجہد کا مرکز ومحور ایران کو بنا دیں اور انھیں حقیقت اسلام سے آگاہ کریں تاکہ امت متحد ہوجائے۔
میں یہاں سردست مزید تین باتیں ذکر کردینا مناسب سمجھتا ہوں:
(۱)موجودہ حالات میں آپ کی اس دعوت اتحاد کا مقصد اگر وطن عزيز میں موجود فرقہ پرستی کی بنیادوں پر نفرتیں پھیلانے والوں کے خلاف انسانيت نواز امت کی یک جہتی، حقوق انسانیت اور بےقصوروں کی حفاظت ہے تو فی الحال ہمارے درمیان مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے،جس میں ہرمکتب فکر کے نمائندے موجود ہیں اور اسی ملی پليٹ فارم کومزید مضبوط،مستحکم،متحرک اور فعال بناکربورڈ کے اہداف ومقاصد کو بروئے کار لا يا جاسكتا ہے۔یہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں میں ہر وہ شخص جو انسانیت نواز اور انصاف پرور ہے -جن کی تعداد وطن عزيز میں کچھ کم نہیں – ان سب کو ظلم وبربریت کے خلاف ایک صف میں لاکر انسانیت اور ملک کی بہتري و سالميت کے ليے تير بہدف تابڑ توڑ متحدہ جد وجہد کرنا وقت کا تقاضا ہے۔
اور اس حل کے ليے ہمارے روبرو سنت وسيرت سے بہترین مثال ہے، رسول اللهﷺ نے فرمايا:
لقد شهدت في دار عبد الله بن جدعان حلفا ما أحب أن لی بها حُمُرَ النَّعَم ولو أدعى به في الإسلام لأجبتُ

ترجمہ: میں نے عبد الله جدعان كے باڑے/ صحن دار مكانات میں جاری ایک ایسے معاہدہ ٔاتحاد میں شركت كی جس کے عوض میرے يہاں سرخ اونٹ بھی عزیز نہیں اور اگر اسلام میں بھی ایسے معاہدۂ اتحاد کی دعوت دی جائے تو میں ضرور شرکت کروں گا۔
لیکن كيا اس دعوت اتحاد کا مقصد وہی ہے جو سیریا،عراق اور یمن میں ہو رہا ہے،جہاں سنیوں پر جبر وقہر كی لہر دوڑگئی، انھیں تختہ مشق بلكہ مشق ستم بنایا گیا، ان پر ظلم وزيادتی کے پہاڑ توڑے گئے،ہزاروں لاکھوں بے قصور بڑی بے دردی سے موت کے گھاٹ اتار دیے گئے،انھیں ملک بدر کیا گیا، ان ممالک میں ایرانی سامراجيت واستعمار(نوآباديت)کے خون آشام پنجے گاڑے گئے،مساجد کو حسینیات وعاشور خانوں میں بدل دیا گیا،مقدسات کی بے حرمتی کی گئی،وہاں کے نصابِ تعلیم میں رافضیت اور سب وشتم صحابہ کو ٹھونسا گیا،اور وہاں کی حکومتیں اشاروں پر ناچنے والی ایران کی کٹھ پتلی بن کر رہ گئیں۔ اسی طرح سنی آبادی اور سنی ممالک کو رافضیت میں تبدیل کرنے میں ایران کاخواب شرمندۂ تعبیر ہوگیااور آج بھی اس خواب کو پورے عالم اسلام میں پورا کرنے کا ایرانی دستور کا ایک بنیادی اور اہم حصہ ہے؟
آپ کے والد ماجد مولانا منظور نعمانی خمینی کی ولایت فقیہ کے نظریہ پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں :
جہاں تک ہمارا مطالعہ اور ہماری اطلاع ہے انھوں نے اپنی اس حیثیت پر پردہ ڈالنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی اور ان کی اس حیثیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ پورے عالم اسلام بلکہ ساری دنیاکو اپنے زیر حکومت اور تحت اقتدار لانے کی جد وجہد کریں۔(ایرانی انقلاب ص 32)
اور خود آپ نے اپنے اس خطاب میں فرمایا :
والد ماجد مولانا منظور نعمانی قدس اللہ سرہ کو اپنے طویل مطالعے کی وجہ سے یہ یقین ہوگیا تھا کہ خمینی صاحب اور ایرانی قیادت حرمین شریفین پر قبضہ کرنے کی کوشش لازماً کرےگی۔(مولانا سجاد نعمانی کا خطاب 7:22)
آپ ذرا غور کریں اور امت کو یہ بتائیں کیا اس دعوت کا مقصد واقعی اتحادواتفاق پیدا کرنا ہے؟
(۲)میں یہاں آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ دعوت اتحاد وتقریبِ سنی اور شیعہ کو بعض عرب علما خصوصاً ایک مکتب فکر سے منسلک علما نےخوب آزمایا،ماضی میں اس کی دعوت دیتے رہے،لیکن انھوں نے ایک طویل مدت کے تلخ تجربہ کے بعد اس حقیقت کو بھانپ لیا کہ یہ دعوت ِاتحاد وتقریب مسالك درحقیقت دعوت الی الرفض وتخریب السنۃ ہےاور اس اتحاد کا نعرہ صرف سنیوں کے علاقوں میں لگایا جاتا ہےتاکہ ان کو دھوکے میں رکھا جائے،باقی رہے شیعہ تو انھیں سنیوں کو مارنے اور ان کی جائداد لوٹنے کی تعلیم دی جاتی ہے،پھر اس تقریب واتحاد کے داعی علما نے ذاتی تجربات و مشاہدات کے بعد برملا اعلان کیا کہ یہ ایک کھلا دھوکا اور كھوكھلا جھانسا ہے،اس کا مقصد امت کو اپنے سچے دین سے برگشتہ کرنا ہے۔
اس کی ایک بڑی زندہ مثال علامہ یوسف القرضاوی کی معروف شخصیت ہے جنھوں نے مسلسل دس سال تک سنی اور شیعہ کو قریب لانے کی انتھک کوشش کی پھر جب تہران کے حکمرانوں کے سامنے تین درخواستیں رکھیں:
۱۔شيعہ سنیوں کو تہران میں اپنی مساجد بنانے کی اجازت دیں۔
۲۔شيعہ امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کے قاتل ابو لؤلؤ المجوسی کے مزار کو ختم کردیں اور اس کی تعظیم و تکریم کرنا چھوڑ دیں تاکہ سنیوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے۔
۳۔شيعہ اپنی کتابوں اور میڈیا میں صحابۂ کرام کو لعن طعن اور برا بھلا کہنے سے گریز کریں۔
تو ایران نے ان تینوں درخواستوں كو يك لخت مسترد کردیا، بعد ازاں علامہ قرضاوی نے اس تخریبی فکر سے اپنی مکمل برأت ولا تعلقی کا اظہار کیا اور بین الاقوامی مسلم علما كونسل کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام بعنوان -شامی عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی- بتاریخ2/6/2013 ء فرمایا:
کئی سالوں سے میں تقريب بين المذاهب فرقوں کے مابین اجتماعیت کا مطالبہ کرتا رہا ہوں اور میں نے سابق صدر محمد خاتمی کے دور میں ایران کا سفربھی کیا اوراس تناظر میں زور دیا کہ یہ متعصب اور متشدد لوگ ایران میں سنیوں کو کھا لينا چاہتے ہیں ليكن ان شيعوں نے مجھے اور مجھ جیسے بہت لوگوں کو بےوقوف بنایا۔اور کہاكرتےتھے کہ وہ مختلف فرقوں کو اکٹھا کر کے ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں۔
میں سعودی عرب کے كبار مشايخ کے خلاف ایک زمانے تک نبرد آزما تھا اور برسوں پہلے حزب اللہ کی حمایت کا مطالبہ کررہا تھا ، لیکن سعودی عرب کے مشايخ ان كی حقيقت سے واقف رہنے كی بدولت مجھ سے زیادہ ذہین، دور انديش اور زمانہ شناس نكلے اور انھيں پتا چل گياتھا كہ یہ لوگ (ایرانی اور حزب اللہ) جھوٹے ہیں۔(ملاحظہ ہو: الحیاۃ روزنامہ بحوالۂ دنیا الوطن روزنامہ بتاریخ 6/6/2013)
ڈاکٹر وہبہ الزحیلی نے کہا کہ یہ تو سراسر آنکھوں میں دھول جھونکناہے اور اس کا مقصد سنیوں کو شیعہ بنانا ہے۔
اور علامہ محب الدین الخطیب نے فرمایا:
سارے مسلمان تخریب کاری کے مرکز سے علیحدہ ہو گئے ، جسے مرکز تقریب (قربت ومصالحت کا گھر) کہا جاتا تھا اس پر تو ایک طویل مدت گزر گئی ليكن اس کے خالی کمروں میں ابھی بھی صرف صدائے بازگشت آ رہی ہے اور ہواؤں کی سائیں سائیں اس کے کرایے كے ٹٹوؤں پر سوگ منا رہی ہیں۔
اکابر دیوبند کی بہت ساری شہادتیں اس سے ملتی جلتی ہیں :
علامہ علی شیر حیدری کا فتوی ہے کہ شیعہ کے ساتھ اتحاد مداہنت فی الدین ہے۔
بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی کو ایک بار اہليان علی گڑھ نے اپنی کسی تعلیمی کمیٹی کے اجلاس ميں دعوت دی تو انھوں نے دعوت محض اس بنیاد پر ٹھکرادی کہ اس اجلاس میں ہم اس ليے شریک نہیں ہو سکتے كيوں کہ اس میں ایسے لوگ بھی آرہے ہیں جو شیعہ کے ساتھ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔
عطاء اللہ شاہ بخاری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے شیعہ سے اتحاد کیا، پر بعد میں انھوں نے برسر عام بھرے جلسے میں ندامت کا اظہار کرليا۔(ملاحظہ ہو قاضی مظہر حسین کی کتاب کشف خارجیت صفحہ نمبر106)
حيف صد حيف کہ علماءعرب وعجم نے اس پرفريب اتحاد وتقریب کا دسیوں سال تجربہ کرليا اور بالآخر اسےمحض ایک دھوکے سے تعبیر کیا، علاوه ازيں آج ہم سب کے سامنے عراق ،سیریا اور یمن کی مکمل تخریب کاری اور ان ممالک میں وسیع پیمانے پرتشیع کے فروغ اور بڑے منظم طریقے سے اس کی ترویج و اشاعت روز روشن کی طرح عياں ہے۔کہیں یہ دعوت اتحاد بارہا آزموده اسی اندوہ ناک تجربہ کو دوہرانے کے لیے تو نہیں؟
۳۔تیسری اور آخری بات عرض کردوں کہ شیعہ کے خودساختہ مہدی اور سنیوں کی احاديث ميں بيان كرده مہدی میں زمین آسمان کا فرق ہےجيسے :
(۱)سنیوں کےمہدی کا نام محمد بن عبد اللہ ہے جب کہ شیعہ کا مہدی منتظر محمّد ابن الحسن العسكری ہے۔
(۲)شیعہ کا مہدی جب آئے گا تو شیخین ابو بکروعمر ؓکو قبروں سے نکالے گا، انھيں زندہ کرکے ہزاروں بار سولی پر چڑھائے گا، ام المومنین حبيبہ حبيب الله صديقہ بنت صديق عائشہ رضی اللہ عنہا کو سزا دے گا اورکافروں سے پہلے سنیوں کا قتل کرے گا۔(ايرانی انقلاب ص 179-180 اور 214)
آپ ہی بتائیں كہ جب شيعہ كےمنظور نظرمہدی موعود ومنتظر ہی اختلاف كی نذر ہے تو کیا شیعہ اب بھی آپ سے اور آپ شيعہ سے اتحاد کے ليے تیار ہوں گے؟ جب كہ بعض فتنہ پرور اس پرفتن دور ميں سنیوں کا لَبادہ اوڑھ کر صحابہ ؓکے بارے ميں طعن وتشنيع اورفتنہ انگیزی ميں مشغول ہيں، اور آل بيت سے محبت کی آڑ ميں صحابہ کرام ؓ كومنافقین كی صف ميں لا كھڑا كر رہے ہيں اور اس ناعاقبت انديشی كی بدولت بعض ساده لوح دين سے برگشتہ ہوچكے ہیں۔
مولانا محترم!
الله نے آپ کے والد ماجدكے ذريعے 35 سال قبل لاكھوں لوگوں كو فتنۂ خمينيت سے بچاليا، اسی طرح مجھے آپ سے قوی اميد ہے کہ آپ بھی خير خلف بن كر والد ماجد كے نقش قدم پر چل كر فتنۂ وقت كو جڑ سے اكھاڑ پھينكنے كی پوری كوشش كريں گے اور اپنی اس آبائی مہم میں نمايا ں کردار اداكريں گے۔
قبل از اختتام كلام آں محترم سے بطور مخلصانہ گزارش دو اقتباسات نقل کرنا عين مناسب سمجھتا ہوں:
(۱)آپ کے والد ماجدکی کتاب پر لکھا مولانا سید ابوالحسن ندوی کا مقدمہ جس ميں انھوں نے فرمايا:
حقیقت میں اسلام کی حقیقی تعلیم اور صحیح عقیدہ وہ دریا ہے جو کہ کبھی اپنا رخ نہیں بدلتا اور کبھی پایاب نہیں ہو سکتا۔سیاسی طاقتیں، وقتی انقلابات، حکومتوں کا قیام و زوال، اور دعوتیں اور تحریکیں موجیں ہیں، جو آتی اور گزر جاتی ہیں، دریا اگر صحیح رخ پر بہہ رہا ہے اور آب جاری ہے تو کوئی خطرہ نہیں، لیکن اگر عقیدے میں فساد آگیا، تو گویا دریا نے اپنا رخ بدل دیااور اس میں آب صافی کی بجائے گدلا اور نا صاف پانی بہنے لگا۔
اس ليے فساد عقیدہ اور زیغ وضلال کے ساتھ کوئی دعوت و تحریک، کسی ملک کا عروج و اقبال، کسی معاشرے کی جزئی اصلاح، یا کسی فساد وخرابی کو دور کرنے کا دعوی یا وعدہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔
یہ وہ حقیقت ہے جس میں اس ملت کی بقا اور دین کی حفاظت کا راز مضمر ہے، اور یہی وہ حقیقت ہے جو اپنے اپنے دَور کے علما، خادمینِ دین اور محافظینِ شریعت و سنت کو اس دشوار اور بعض اوقات ناخوش گوار فرض کو ادا کرنے پر مجبور کرتی رہی ہے ۔(مقدمہ ایرانی انقلاب ص 15)
(۲) آپ کے والد ماجدکی کتاب ایرانی انقلاب کے آخری صفحے سے پیش خدمت ہے، جس کا عنوان آپ جیسے خواص اور بیدارمغزوں کے ليے – حضرات علماء کرام کی خدمت میں- لکھا اور پھر عرض کیا:
اس کتاب میں آپ نے شیعہ اثناعشریہ کی مستند ترین کتابوں اور ان کے مسلَّم علما ومجتہدین کی واضح تصریحات کی روشنی میں ملاحظہ فرمایا کہ ان کے اساسی عقیدۂ امامت کی حقیقت کیا ہے ، اور یہ کہ اس کا درجۂ نبوت سے برتر اور ائمہ کا مقام ومرتبہ انبیاء و مرسلین سے بالاتر ہے، اور وہ خداوندی صفات و اختیارات کے بھی حامل ہیں، اور یہ کہ حضرات خلفائے ثلاثہ ؓاور ان کے رفقا تمام اکابر صحابہ، منافق،اللہ و رسول کے غدار، جہنمی اور لعنتی ہیں، اور ام المومنین عائشہ و حفصہ رضی اللہ عنہن منافقہ تھیں، انھوں نے زہر دے کر حضور ﷺ کو ختم کیا اور قرآن مجید محرَّف ہے۔ان کے علاوہ بھی اثناعشریہ کے جو معتقدات آپ کے سامنے آئے، امید ہے کہ اس کے بعد آپ اس مذہب اور اس کے پیروؤں کے اسلام سے تعلق کے بارے میں کتاب وسنت کی روشنی میں قطعیت کے ساتھ فیصلہ کرسکیں گے۔ آپ دین کے امین ہیں اور زیغ وضلال سے امت کی حفاظت آپ کا فریضہ ہے، وَاللهُ يَقُولُ الْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ۔ محمَّد منظور نعماني عفا الله عنہ۔(ايرانی انقلاب ص 296)
شاعر مشرق نے كيا ہی خوب كہا:
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہم
قصۂ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم
ساز خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم
نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم
اللہ سے دعا گو ہوں کہ الہ العالمین ہم سب کو توحید وسنت اور منہج سلف امت پر جمع کردے:
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
[آل عمران: 8]

4
آپ کے تبصرے

3000
4 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
4 Comment authors
newest oldest most voted
Nasim

بہت بہترین رد
جزاکم اللہ خیرا

مطرف بن خالد

زادك الله علما و عملا و توفيقا

محمد انعام الحق عمري

ماشاءاللہ،
دینی و جماعتی خدمات کی مصروفیات کے باوجود وقت نکال کر مدلل و مفصل رد بیان کرنا، واقعی قابل تعریف ہیں، اور یہ وقت کی سب سے ضرورت بھی ،،
جزاكم الله خيرا و احسن الجزاء

Abu Su'ayd Raziq Soudager

MashaAllah, very very nicely crafted, to the point, and covered every point with such beauty and grace. It’d , be so good if we continue to get such crafty work from the very learned Shaikh RK. May Allah preserve him, Ameen