ہم گاندھی جی کے بندر ہیں

حافظ عبدالحسیب عمری مدنی سیاسیات

آج مؤرخہ۳۰؍ستمبر۲۰۲۰م بابری مسجد انہدام کے مجرموں کا مقدمہ اپنے’’متوقع‘‘ انجام کو پہنچا۔ جج صاحب کو اس بات کے ثبوت نہ ملے کہ ’’یہ منصوبہ بند سازش تھی‘‘۔ لہذا یہ مجرم ملزم ہی رہے۔
سچ کہیں تو ان مجرموں کی ’’اس بے گناہی‘‘ کا جج صاحب سے زیادہ ہمیں یقین تھا۔ مگر عدالت چونکہ افراد کی رائے، مقتدرہ کی خواہش یا عوام کی آستھا پر فیصلہ نہیں دیتی۔اور اس لیے بھی کہ عدلیہ کو قومی مفاد (نیشنل انٹرسٹ) کو پیش نظر رکھنا ہوتا ہے کیونکہ یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور عدلیہ اس کا ایک بنیادی ستمبھ ہے اور ساری دنیا کی نظر میں ملک کا وقار داؤ پر لگا ہوتا ہے۔اس لیے عدالت اور اس سے متعلق اداروں نے ثبوت کے حصول اور ان کے جائزے میں بیش قیمت ۲۸ ؍سال تک اپنا سب کچھ جھونک دیا اور بالآخر اس نتیجہ پرپہنچے کہ سازش کے ثبوت نہیں ملتے۔
شاید مقدمہ ذرا اور طول پکڑتا تو فیصلہ یہ ہوتا کہ جس مسجد کا مقدمہ آیا ہے اس کا وجود ہی نہیں ہے۔ وہاں تو مندر قائم ہے۔ لہذا پہلے مسجد کے وجود کو ثابت کیا جائے۔مگر کیا کرتے جج صاحب کو ریٹائر ہونا تھا اور جانے سے پہلے ان کے کاندھوں پر انصاف کے تقاضے پورے کرکے تاریخ میں ’’زعفرانی انصاف‘‘ کی ’’سنہری فہرست‘‘ میں نام درج کروانے کی بھاری ذمہ داری تھی اور دوسری طرف اپنا ریٹائرمنٹ بھی پلان کرنا تھا۔ریٹائرڈ لائف کو بوجھل نہیں بناسکتے تھے۔اس لیے مجبوراً صرف کلین چٹ پر اکتفا کرنا پڑا۔
البتہ جاتے جاتے انھیں امید ہوگی کہ ابھی راج دھرم نبھانے والی مقتدرہ باقی ہے جن کی چھتر چھایہ میں ان کے نقش قدم پر چلنے والے اور لوگ آئیں گے جو ان کے نام اور کام کو زندہ رکھیں گے۔ ویسے بھی نہ یہ پہلے تھے نہ یہ آخری ہوں گے؎
اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف
ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا(امیرقزلباش)
اب ہمارے سامنے دو ہی راستے ہیں یا تو ضمیر کا سودا کرلیں اور عدلیہ کے فیصلے کی پذیرائی کریں بلکہ واہ واہی کریں یا پھر گاندھی جی کے نئے بندر بن جائیں۔جو برا نہیں سنتے، برانہیں دیکھتے، برا نہیں بولتے۔
ہم نے سوچا کہ ضمیر کا سودا ذرا مشکل ہے کیونکہ ضمیر کے سوداگر انسانیت کے مجرم ہوتے ہیں ۔ اور جب ضمیر مردہ ہو تو سب بِکنے لگتے ہیں بَکنے لگتے ہیں۔
اس لیے یہی صحیح لگا کہ خیر سے ابھی بابائے قوم کے آدرش کا حوالہ معتبر ہے اس لیے بابائے قوم کے بھکت ہی بن جائیں ، ویسے بھی آج کل دیش کو درپیش خطرات کے پیش نظر ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ قوم کے نام پر ہم اپنا سب کچھ قربان کریں پھر چاہے وہ انصاف ہی کیوں نہ ہو۔
انصاف کا ایسا بول بالا دیکھ کر ہمارا دل تو کرتا ہے اگر ہم ان ملزمان میں ہوتے تو آج ہی ایک مقدمہ یہ بھی دائر کردیتے کہ ۲۸؍سال تک ہم بے گناہوں کو بحیثیت ملزم ذہنی طور پر اذیت دی گئی جس کا ہرجانہ دیا جائے اور بہتر ہوگا کہ اس مدعے کی آڑ میں سیاست کے ذریعے کمائی گئی حکومتی دولت کے بجائے ملک کی عوام میں سے ہر اس شخص سے بطور ہرجانہ وصول کیا جائے جو ہمیں مجرم سمجھتا رہا ہے۔
خیالات کا کیا ہے، کبھی زمین پر تو کبھی آسمان پر ہوتے ہیں۔ اس لیے اب یہی صحیح لگتا ہے کہ آسمان والے کو وہ سب سنائیں جو زمین والے سننا نہیں چاہتے ، دیکھنا نہیں چاہتے بولنا نہیں چاہتے اور ہم سنائیں گے اور وہ سنے گا ضرور۔ ان کی بھی جو دھکے کھا رہے ہیں اور ان کے بارے میں بھی جو کہتے تھے ’’ایک دھکا اور دو‘‘!

7
آپ کے تبصرے

3000
7 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
7 Comment authors
newest oldest most voted
عبدالغفار سلفی

جزاک اللہ خیرا شیخ، یہ دل کی آواز ہے جو تحریر بن کر صفحۂ قرطاس پر وجود میں آئی ہے

عبدالرحمن فائز

بروقت اور برحق تحریر،پتہ نہیں حالات کے بحال ہونے تک اور کیا کیا گل کھلائے جائیں گے ،اللہ حفاظت فرمائے آمین

Muhammad Abdullah Hussaini

Jazakallah khaira

Hafiz Abdur Rasheed Umri

ماشاءاللہ! فاضل مضمون نگار کے سیاسی تجزیہ پر مبنی مضمون نے علماء کے تئیں پائی جانے والی اس بات کو غلط ثابت کر دیا ہے ” قوم کیا چیز ہے،قوموں کی امامت کیا ہے اس کو کیا جانیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام” الحمدللہ ہندوستانی علماء کرام ہندوستانی مسلمانوں کی دینی رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی سیاست میں بھی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کی کامل اہلیت رکھتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کو عہد نبوی کی طرف رجوع ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اللہ کی نصرت و تائید کے مستحق بن سکیں۔ اللہ تعالٰی مؤلف کو جزائے خیر عطا… Read more »

عبدالرحمن محمد صادق العمري النذيري( مدهوغري)

جزاك الله خيرا يا شيخنا الحبيب وبارك فيكم

عاصم حمید

ماشاءاللہ ، جزاکم اللہ خیرا و بارک فیکم !!! یہ صرف ایک مضمون نہیں در حقیقت ہمارے دل کی آواز ہے ، ہم اپنے دل کی کیفیت کیا بیان کریں جب ہر مسلم کی یہی حالت ہے ، ہر ایک درد سے کراہ رہا ہے اللہ ہمیں عہد اول کا مسلمان بنائے آمین
مشورتا یہ بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ شیخ لوگوں کو قرآن کی جانب ابھارئیے قرآن کی تلاوت ، تعلیم تعلم اور اس پر عمل کے بغیر ہمارا سارا شکوہ بے سود ہے

Nyamathullah

ماشاءاللہ بہت خوب ،اللہ جزائے خیر عطا فرمائے،زبان اورقلم میں مزیدطاقت عطا فرمائے۔