اِدھر بھی ایک نظر۔۔۔۔۔۔۔۔!

ڈاکٹر عبدالرحیم خان سماجیات

تعلیم و ترقی کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند دہائیوں میں انسانوں کی ترجیحات میں بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ ان ترجیحات کے نتیجے میں مثبت منفی دونوں ہی طور پر انسانی زندگی کا کم و بیش ہر پہلو متاثر ہوا ہےاور ازداوجی زندگی ان میں سے ایک ہے۔ ضروریات، امیدیں، ترجیحات، خود مختاری اور خود انحصاری وہ بنیادی عوامل ہیں جن کی وجہ سے ازدواجی زندگی میں اختلافات اورعلیحدگی کا تناسب روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور اعلی تعلیم یافتہ و متمول طبقے میں یہ شرح تشویش ناک حد تک زیادہ ہوچکی ہے۔ اسلامی اقدار کے حامل ممالک بھی اس کی زد میں مکمل طور پر آچکے ہیں جس کا نتیجہ ہے کہ سعودی عربیہ جیسے اسلامی ملک میں بھی سالانہ طلاق اور عمر گزرنے کے باوجود شادی نہ ہو پانے کی شرح نکاح سے بھی بڑھتی جارہی ہے۔
ہندوستان جیسے ملک میں بھی تعلیم و معیشت کے ارتقا کے ساتھ عوام کی ترجیحات میں بڑا بدلاؤ ہوا ہے جس کا براہ راست اثر شادی نہ کرنے، علیحدگی اور طلاق کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ دیگر مذاہب کے ساتھ ساتھ ہندوستانی مسلمانوں میں بھی اس ضمن میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ۲۰۱۱ کی مردم شماری کے مطابق ۲۰ سے ۳۹ سال عمر کے درمیان تقریباً ۳۲ لاکھ مسلم لڑکیاں غیرشادی شدہ پائی گئی تھیں جو اس عمر کی مسلم عورتوں کی مجموعی آبادی کا ۱۲ فیصدی تھا، اور اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد اب کم بیش دوگنا ہوچکی ہے۔ غیر شادی شدہ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے میں بھی طلاق اور علیحدگی کا تناسب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گیا ہے، بیوہ عورتوں کی بھی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔
گرچہ فی الحال کوئی ایسی ٹھوس اسٹیٹسٹکس نہیں موجود ہے جس سے پتہ لگایا جاسکے کہ اس وقت عمر گزرجانے کے باوجود غیرشادی شدہ، مطلقہ، علیحدہ یا بیوہ مسلم عورتوں کی مجموعی تعداد ملک میں کیا ہے، مگر تحقیقاتی اعداد و شمار کے مطابق یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مسلم معاشرے میں شادی کی عمر ہونے کے باوجود کسی بھی شکل میں اکیلے پن کی زندگی بسر کرنے والوں کی مجموعی تعداد کا ۸۰ فیصدی حصہ عورتیں ہیں۔ صحیح تعداد نہ ہونے کے باوجود اس بات کا اندازہ لگانا بالکل بھی مشکل نہیں کہ ہمارے ہر گاؤں، محلے پڑوس اورسوسائٹی میں ہر چوتھے پانچویں گھر میں اس طرح کی کوئی نہ کوئی بہن بیٹی موجود ہے۔ اس طرح کی عورتوں کی زندگیاں دو صورتوں میں گزر رہی ہوتی ہیں، یا تو وہ سسرال اور مائیکے دونوں سے علیحدہ رہ کر خود کفیلی اور خود مختاری کی زندگی جی رہی ہوتی ہیں یا پھر اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی مرہون منت ہوتی ہیں۔ دونوں ہی شکلیں اسلامی تعلیمات کے برعکس اور غیر فطری ہیں لہٰذا اس کے بے شمار عوارض بھی ہوتے ہیں مثلا:
۱۔ اپنے والدین یا بھائیوں یا رشتے داروں کے ساتھ تنہا یا اپنے بچوں سمیت رہنے والی اس طرح کی زیادہ تر عورتیں اپنے ہی گھر میں ایک ثانوی درجے کی شہری کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔شاذ و نادر گھرانے اس سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں مگر اکثر گھروں میں بالخصوص والدین کی وفات کے بعد ان کی حیثیت ایک خادمہ سے ذرا بھی زیادہ نہیں ہوتی۔ دو وقت کی روٹی کے عوض نہ صرف پورے گھر کا کام ان کے ذمہ ہوتا ہے بلکہ صبح و شام کفالت کا طعنہ بھی سنے بغیر چارہ نہیں ہوتا۔
۲۔ خواہ ایسی ماں خود کفیل ہو یا اپنے والدین اور بھائیوں کے زیر سایہ ہو، عموماً بچوں کی تعلیم و مستقبل کا کوئی خاطر خواہ نظم نہیں ہوپاتا۔ باپ کی شفقت و نگہداشت نہ ہونے کی وجہ سے عموماً ایسے بچے بے راہ روی کی زد میں آجاتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر ایک فطری باپ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے بچے پرسنالٹی دیفیسٹ جیسے عارضے کے علاوہ بہت سی محرومیوں کا شکار ہوتے ہیں۔
۳۔ ایک اچھے دماغ اور صحت مند جسم کے لیےجنسی آسودگی بے حد ضروری ہے اور شاید ایک یہ بھی وجہ ہے کہ اسلام رہبانیت اور تصوف جیسی فکر کو بہتر نہیں سمجھتا۔ ایسی بنا شوہر والی عورتوں کو ہدف بنانا یا ان کے قدموں کا خود جسمانی ضرورت کی تکمیل میں ڈگمگاجانا بڑا آسان ہوتا ہے۔ شاید ہمارے لیے قبولیت مشکل ہوگی مگر سچائی یہی ہے کہ ایسی عورتیں خود اپنے رشتے داروں کے گھروں میں بآسانی جنسی استحصال کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔
۴۔ عموماً والدین کی وفات کے بعد ایسی عورتوں کا خود اپنے بھائیوں یا رشتےداروں کے ہاں گزارہ تک ناممکن ہوجاتا ہے اور مجبوراً انھیں مکمل علیحدگی کے ساتھ کسمپرسی اور مفلسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اسی لیے اکثر ایسی عورتیں اور بچے گلی کوچوں یا مسجد و مندر کے باہر بھیک مانگتے دیکھے جاتے ہیں۔
مذکورہ ہندوستانی مسلم عورتوں اور ان کے بے سہارا بچوں کی تعداد موجودہ وقت میں کئی ملین تک ہے۔اس کے نقصانات اور منفی اثرات مسلم معاشرت اور سماج پر جہیز کی لعنت سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں۔ میرے پاس اس کا کوئی حل نہیں البتہ ارباب حل و عقد سے اس ضمن میں کچھ سوالات ضرور ہیں۔
نکاح کی افضلیت، شادی بیاہ کے رسم و رواج، جہیز کی لعنت پر ہمارے منبرومحراب اور جلسے اور کانفرنسوں سے تو بڑی توانائی صرف کی جاتی ہے، اس زیادہ حساس موضوع پر کب کی جائے گی؟ کیا کوئی شرعی جواز یا مصلحت ہے کہ ایک موضوع پر روایتی نہج پر ہر روز بولا اور لکھا جائے اور دوسرے بڑے مسئلے پر کہیں سے کوئی آواز تک نہ اٹھے؟ کیا ان کئی لاکھ عورتوں کو اسلام میں اسی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے کا مکلف کردیا گیا ہے کہ ان کے لیے کبھی کوئی حل تو کیا گفتگو تک کو روا نہ سمجھا جائے؟
ان علیحدگی کی زندگی گزارنے والے مسلمانوں میں ۸۰ فیصدی عورتیں ہیں، ان کی زندگی کو کیسے بہتر بنایا جائے؟ یا ان کی علیحدگی کو ان کا نصیب سمجھ کر چھوڑ دیا جائے؟ جہیز ہی کی طرح ان عورتوں کو شوہر کا سایہ اور بچوں کو تحفظ کی چھت فراہم کرنے پر کیوں نہ گفتگو اور کوشش کی جائے؟
تعدد نہ صرف جواز بلکہ انسانیت اور بالخصوص عورتوں کو گو نا گوں استحصال سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک اسلامی امتیاز بھی ہے پھر بھی میں اس پر بات نہیں کروں گا۔ کیونکہ جب بھی ایسی بے یارو مددگار عورتوں کے حق میں تعدد کے حوالے سے بات ہوتی ہے تو ہمارا مفلوج معاشرہ ’’عدل اور معاشرتی عدم قبولیت‘‘کا بہانہ بناکر اس حل کو سرے سے خارج کردیتا ہے۔ ان زاہد مبلغوں کو اس قدر بھی علم نہیں کہ عدل ایک سماجی نظام ہے جو عوام کی اس میں حصہ داریوں کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے، ان بے چاروں کو یہ تک نہیں معلوم کہ معاشرتی دشواریاں کسی اچھے کام کے رواج پانے کے بعد ہی کم ہو پاتی ہیں۔
کیا حل یہی ہے کہ ان عورتوں اور بچوں کے لیے بیوہ گھر اور یتیم خانے بنادیے جائیں، انھیں زکات و صدقات کے بھروسے چھوڑ دیا جائے۔ کیا اس کا حل یہی ہے کہ باقیوں کو جہیز کی لعنت سے ڈرایا جائے اور کسی ایسی عورت کی بچی کی شادی کے لیے مسجد کے باہر چندے کیے جائیں۔
خیر۔۔۔۔۔۔۔ سوال اب بھی یہی ہے کہ ان لاکھوں عورتوں اور بچوں کو اسلامی تعدد والے خوبصورت نظام کے تحت اپنا لینا درست ہے یا عدل اور معاشرتی دشواریوں کا خوبصورت بہانہ ڈھونڈھ کر انھیں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور چھوڑ دینا بہتر ہے؟ کیا سیکڑوں یا ہزاروں کی تعداد میں ہونے والی جہیز جیسی برائی پر ہی منبرومحراب سے نصیحت ضروری ہے یا لاکھوں کی تعداد میں متاثر ایسی عورتوں کا سہارا بننے اور ان کے لیے موجود اسلامی حل کی منبرومحراب سے ترویج و اشاعت بھی ضروری ہے؟۔۔۔۔۔۔۔ نہ بھولا جائے کہ جس طرح جہیز کے خلاف کھل کر منبرومحراب سے بولنے اور عملی اقدام کے بعد کمی آئی ہے ویسے ہی اس میں بھی گفتگو کرنے اور عملی اقدام سے ہی بہتری کی امید کی جاسکتی ہے۔

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
Noor

ماشاءالله، اللہ تعالی توفیق دے