مولانا مقیم فیضیؒ کی یاد میں

ظفرالحسن مدنی تاریخ و سیرت

ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات تقریبا بارہ بجے عزیزم ڈاکٹر عبد الحمید اور عزیزم سعد ظفر طالب ماجستر شارجہ یونیورسٹی سلمہما اللہ نے اطلاع دی کہ شیخ مقیم فیضی کا انتقال ہوگیا۔یہ خبر ایک بجلی کی طرح گری، دل غمزدہ آنکھیں اشکبارتھیں، کچھ دیرتک سکتہ طاری رہا مگر اس خبر پر ’’إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم أجرنى فى مصيبتى واخلف لي خيرا منها ‘‘کے کلمات زبان پر بار بارجاری رہے، کیونکہ ایسے مواقع پر ان کلمات کے پڑھنے کے علاوہ مومن کے لیے کوئی اور سبیل نہیں باقی رہتی۔
مولانا مقیم فیضی صاحب سے ہمارے تعلقات:
مولانا مقیم صاحب فیضی سے ہمارے اورہمارے بھائیوں ( مولانا ابو الحسن اثری، قاری نجم الحسن فیضی ، شیخ مقصود الحسن فیضی حفظہم الله من الفتن وشرور الدھر) کے تعلقات ایک تو عمومی تھے جوکہ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ‘‘[الحجرات:۱۰] کا تقاضا ہے۔
دوسرے خصوصی تعلقات تھے جو کئی قسم کے ہیں، جن میں سے دو نہایت اہم ہیں۔ ایک یہ ہے کہ شیخ مقیم کو تقریبا ہمارے تمام بھائیوں سے کسی نہ کسی اعتبار سے علمی استفادہ حاصل ہے بالخصوص ہمارے چھوٹے بھائی شیخ مقصود الحسن حفظہ اللہ سے ۔ دوسرا خصوصی اور نہایت اہم تعلق خاندانی ہے اور خاندانی رشتے میں بھی بھا ئی کا رشتہ ہے، کیونکہ نسب کے اعتبار سے چند پشت اوپر آبائی واجدادی رشتہ ایک ہوجاتاہے جو ہمارے آبائی گاؤں بہرا پور ضلع پرتاب گڑھ میں موجودہے اور مولانا مقیم کےاکثراعزہ واقربا ابھی تک اسی گاؤں میں آباد ہیں اور تقریبا پورا گاؤں اہل حدیث ہے۔
اور یہ خاندانی تعلق شیخ مقیم کے گھرسے اس وقت اور مضبوط ہوگیا جب غالبا سن۱۹۶۵م میں ان کے والد حامد صاحب نے اپنے والد یا والدہ کے حج بدل کے لیے ہمارے والدصاحب کو منتخب کیا اوراس کے بعد سے دونوں گھروں کے تعلقات بڑے گہرے ہو گئے جو کہ آخر تک باقی رہے۔ اور انھی تعلقات کے سبب شیخ مقیم کے گھر کا دینی ماحول بھی بہ نسبت دوسرے لوگوں کے بہت اچھا اور بہتر تھا۔
شیخ مقیم فیضی کے عالم بننے کا واقعہ:
ویسے تو ہر چیز اللہ تعالی کی مشیئت اور اس کے حکم سے ہوتی ہے مگر اس کے ساتھ اس کے کچھ ظاہری اسباب وعوامل بھی ہوتے ہیں ، کسی کا عالم بننا بھی اللہ کی مشیئت اور حکم پر موقوف ہوتا ہے۔ الله تعالی فرماتے ہیں:
يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَن يَشَاءُ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ
[البقرۃ:۲۶۹]
اسی طرح رسول الله ﷺ نے فرمایا:
من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين

شيخ مقيم کے عالم بننے کا سبب اللہ کی مشیئت اور حکم الہٰی تو تھا ہی، مگر ظاہری سبب یہ بنا جو غالبا کسی کو معلوم نہیں ہوگا یا بہت کم لوگوں کو معلوم ہو گا، وہ یہ ہےکہ ان کے والد دنیاوی اعتبار سے بڑے خوشحال لوگوں میں سے تھے، کیونکہ کلکتہ میں بہترین ملازمت تھی اور عام طور پر خوشحال لوگوں کا رجحان دنیاوی اور انگلش میڈیم اسکولوں کی طرف ہوتا ہے، ان کے والد نے بھی ان کو دنیاوی تعلیم کے لیے اسکول میں داخل کر دیا، تعلیم جاری ہوگئی، ایک عرصہ تک اسکول میں تعلیم حاصل کرتے رہے، دینی تعلیم دلانے کا تصور نہ تو والدین کا تھا اور نہ ہی خود شیخ مقیم کے وہم وگمان میں تھا۔ دینی تعلیم حاصل کرنے اورعالم بننے کا شوق اور خیال کیسے پیدا ہوا خود شیخ مقیم کی زبانی:
غالباً ۲۰۰۴م جن دنوں شیخ دہلی میں مقیم تھے، میں مولانا محمد شوکت رحمہ اللہ اور دیگر اراکین جماعت کی دعوت پرسرینگر کشمیر کے اجلاس عام میں شرکت کی غرض سے سرینگرجا رہا تھا، دہلی ہوکرہی سرینگرجانا تھا۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ذمہ داروں کو اس کا علم ہوا تو اصرار کیا کہ آج جمعہ پڑھا کر پھر سرینگر جائیں، میں نے ان کی دعوت قبول کرلی، جمعہ اہل حدیث کمپلکس کی مسجد میں پڑھایا ، جمعہ کے بعد کھانے اور آرام کا انتظام کمپلکس کے دارالضيافہ میں رکھا گیا تھا، جمعہ سے فارغ ہو کر ملاقات کی غرض سے دسترخوان پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے، اس وقت سب کے میزبان شیخ مقيم فیضی رحمہ اللہ ہی تھے، اس مجلس میں لوگ خطبہ جمعہ کی تعریف اور بڑے اچھے تاثرات کا اظہارکرنے لگے تو شیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ نے اس وقت ہمارے سامنے لوگو ں سے کہا کہ شیخ کی تقریر طالب علمی ہی کے زمانے سے بہت اچھی اور موثرہوتی ہے، میں تو پہلے انگلش میڈیم اسکول میں پڑھتا تھا، مگر جب اپنے گاؤں کی جامع مسجد میں شیخ کا خطبہ جمعہ سنا تو میرےاندریہ شوق پیدا ہوا کہ میں بھی شیخ کی طرح عالم بنوں اور میں بھی ایسا ہی خطیب اورمقرربنوں ، اسی دن میں نے دنیاوی تعلیم ترک کرکے دینی تعلیم حاصل کرنے اور عالم بننے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ تاریخی واقعہ جو کہ شیخ مقیم کے دل ودماغ اور زندگی میں انقلاب اور سوچ وفکر میں تبدیلی پیدا کرنے کا سبب بنا، یہ میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ اس واقعہ کی حقیقت یہ ہے کہ غالبا جامعہ سلفیہ بنارس میں فضیلت اول کا میں طالب علم تھا، گرمی کی چھٹی گزارنے کے لیے وطن آیا تھا، تو والد محترم حاجی احمد اللہ رحمہ اللہ جن کا اپنے آبائی وطن بہرا پور اور گاؤں کے تمام لوگوں سے گہرا تعلق تھا اور سب سے رشتہ رکھتے تھے، وہ مجھے اپنے ساتھ لے کر جامع مسجد بہرا پور (جو کہ شیخ مقیم رحمہ اللہ کے گھرکے بالکل قریب ہے )خطبہ جمعہ دلانے کے لیے لے کر گئے، اس مسجد کے خطیب گاؤں اور علاقہ کے مشہور عالم مولانا بشیراحمد صاحب شاگرد علامہ شیخ الحدیث مولانا احمد اللہ پرتاپ گڑھی رحمہ اللہ تھے، اس مسجد میں ہمارے خطبہ جمعہ میں شیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ بھی موجود تھے جس کا تذکرہ عرصہ دراز کے بعد شیخ رحمہ اللہ نے دہلی میں کیا۔
شیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ کی زندگی کا بڑا حصہ متعدد قسم کی دینی خدمات میں گزرا ہے، تعلیمی وتدریسی خدمات انجام دیں ، دعوتی و تبلیغی سرگرمیاں بھی آخری دم تک جاری رہیں ، جماعتی تنظیم وتنسیق میں بھی وقت گزارا ، متعدد اہم موضوعات پر تصنیفی و تالیفی مشغولیت بھی رہی ، اہل بدعات اور اہل باطل کی تردید میں بھی پیش پیش تھے۔
اللہ تعالی سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی ان ساری خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، اوران کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔
اخیر میں صوبائی جمعیت اہل حدیث بمبئی اور خصوصا جمعیت کے امیر محترم مولانا عبد السلام سلفی حفظہ اللہ اوران کے رفقائے خاص بھی شیخ مقیم فیضی رحمہ اللہ کے اہل و عیال اورپوری جمعیت کی طرف سے شکر اور مبارک بادی کے مستحق ہیں، جنھوں نے بیماری کی ابتدا سے لے کر آخری دم تک کما حقہ اپنی ذمہ داری ادا کی ، دامے درمے قدمے سخنے ہر اعتبار سے تعاون کرتے رہے اور ہر موقع پرپورا پورا ساتھ دیتے رہے ، فجزاھم اللہ خیرا۔

آپ کے تبصرے

3000